اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 22:19
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال

Advertisements

ہلال اردو

بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں 

جون 2024

بانگ درا علامہ اقبال کا اولین اردو شعری مجموعہ ہے جو 1924 میں منظر عام پر آتے ہی شہرت کی بلندیوں کو چھونے لگا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی شہرت میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ موجودہ سال میں یہ اپنی اشاعت کے سوویں سال میں داخل ہو چکا ہے اور آج بھی اہل وطن کے قلب و ذہن کو مسحور کیے ہوئے ہے۔یہ معرکة ا لآراء کتاب آج بھی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہے،بچے اور بڑے اس کی نظمیں یاد کرتے ہیں،سکولوں اور کالجوں میں بچے اس کی نظموں پر مبنی خاکے اور تماثیل پیش کرتے ہیں۔باذوق بزرگ اسے تحفے میں بچوں اور نوجوانوں کو دیتے ہیں اور علمی و ادبی مقابلوں میں انعام کے طور پر عطا کی جاتی ہے۔شاعری کی اس شاہکار کتاب پر کئی تحقیقی مقالوں پر ایم۔اے،ایم۔فل اور پی۔ایچ ڈی کی اسناد دی جا چکی ہیں۔اس بے مثل کتاب پر کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں بلکہ اس کی صرف دو نظموں یعنی 'شکوہ" اور "جواب شکوہ"ہی پر کئی کتابیں وجود میں آ چکی ہیں۔اردو کی تاریخ میں کسی دوسرے  شاعر کے دیوان کی ایسی پذیرائی اور قدر ومنزلت دیکھنے میں نہیں آئی۔منصہ شہود پر آتے ہی یہ کتاب اہل فکر و نظر کی توجہ کا مرکز بن گئی تھی اور بڑے بڑے نقادوں اور اہل علم و ادب نے اس کی انقلاب آفرین شاعری،چونکا دینے والے جدید  انداز اور اثر آفرینی تحسین کے حوالے سے مضامین لکھنے شروع کر دیے تھے اور یہ سلسلہ اس کی اشاعت کے سو سال کے دوران جاری رہا اور تا حال جاری و ساری ہے۔ 



علامہ اقبال نے بانگ درا کا دیباچہ معروف  ادیب اور صحافی شیخ عبدالقادر سے لکھوایا تھا۔ سر شیخ عبدالقادر15مارچ 1874 کو لدھیانہ میں پیدا ہوئے تھے۔ سرسید احمد خان کی تحریک سے مسلمان نوجوانوں کی جو جماعت پیدا ہوئی تھی، سر شیخ عبدالقادر اس میں پیش پیش تھے۔1898 میں وہ پنجاب کے پہلے انگریزی اخبار' آبزرور' کے مدیر ہوئے اور 1901 میں انہوں نے اردو کا ادبی جریدہ' مخزن 'جاری کیا۔ دنیائے ادب میں 'مخزن' کو یہ اختصاص حاصل ہوا کہ علامہ اقبال کی بیشتر نظمیں پہلی مرتبہ' مخزن' ہی میں شائع ہوئی تھیں ۔1904 میں سرشیخ عبدالقادر بیرسٹری کے لیے انگلستان روانہ ہوئے، 1907 میں انہوں نے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا پہلے دہلی پھر لاہور میں وکالت کی، 1921 میں ہائی کورٹ کے جج اور 1935 میں پنجاب کے وزیر تعلیم بنے، 1939 میں وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن اور 1942 میں بہاولپورکے چیف جج بن گئے۔ سر شیخ عبدالقادر لاہور میں میانی صاحب کے قبرستان میں آسود خاک ہیں۔ 
شیخ عبدالقادر بانگ درا کے دیباچے میں لکھتے ہیں:۔
''یہ دعوے سے کہا جا سکتا ہے کہ اردو میں آج تک  اشعار کی کوئی ایسی کتاب موجود نہیں ہے جس میں خیالات کی یہ فراوانی ہو اور اس قدر مطالب و معانی یکجا ہوں اور کیوں نہ ہوں، ایک صدی کے چہارم حصے کے مطالعے اور تجربے اور مشاہدے کا نچوڑ اور سیر و سیاحت کا نتیجہ ہے۔بعض نظموں میں ایک ایک شعر اور ایک ایک مصرع ایسا ہے کہ اس پر ایک مستقل مضمون لکھا جا سکتا ہے۔''
(دیباچہ بانگ درا)
بانگ کی اشاعت کے ساتھ ہی مشہور و معروف ادیب، صاحب طرز انشا پرداز، مؤرخ، نقاد، صحافی، غالب شناس،اقبال شناس،مترجم، محق اور علامہ اقبال کے اردو اور فارسی شعری مجموعوں کے شارح مولانا غلام رسول مہر نے اپنے معروف اخبار "انقلاب" میں ایک مضمون میں لکھا:۔
''اقبال کی اُردو شاعری کے مجموعہ نے بانگ درا کا نام پایا، اتنا کیا کہ سوتوں کو جگایا اور ان کو بتایا کہ تم مقیم نہ تھے مسافر تھے کاروان تھے۔ منزل مقصود کہاں اور تم طویل و دشوار گزار راہ کے اس ابتدائی مقام پر دم لینے کے بہانے بیٹھے،لیٹے اور پھر سو ہی گئے اور ایسے سوئے کہ کروٹ نہ لی۔ ''
( حیات اقبال کے مخفی گوشے، مرتبہ: محمد حمزہ فاروقی،ادارہ تحقیقات پاکستان دانشگاہ پنجاب لاہور ،1988، صفحہ نمبر 85  )
مولانا غلام رسول مہر بانگ درا کی شرح مطالب کلام اقبال کے دیباچے میں لکھتے ہیں :۔
''بانگ درا اقبال کے اردو کلام کا پہلا مجموعہ ہے جسے مرتب کرتے وقت انہوں نے بہت سی نظمیں غزلیں یا اشعار اس وجہ سے قلمزد کر دیے کہ وہ ان کے نزدیک معیاری نہ تھے لیکن اس میں "طلوع اسلام" تک ان کی وہ تمام نظمیں اور غزلیں آ گئی ہیں جنہیں انہوں نے فکر و بیان کے لحاظ سے معیاری سمجھا اور جن میں سے اکثر ہزاروں لوگوں نے خود مرحوم کی زبان سے سنیں اور مختلف رسالوں اور اخباروں میں چھپ کر ملک کے طول و عرض میں پھیل چکی تھیں۔ان میں سے بہت سے اشعار بچوں، جوانوں اور بوڑھوں کی زبانوں پر تھے۔انہی نظموں نے ان کی شہرت اور ہر دل عزیزی کے لیے وہ مستحکم بنیاد استوار کی جس پر آگے چل کر ایک سربفلک قصر تعمیر ہونے والا تھا اور اقبال کو مشاہیر عالم میں وہ بلند و بالا مرتبہ ملنے والا تھا جو ہر کسی کے مقدر میں نہیں ہوتا اور صرف خوش نصیب کو ہی ملتا ہے۔''
مولانا غلام رسول مہر مزید لکھتے ہیں:۔
''بانگ درا کو آج بھی اقبال کی تصانیف میں مختلف وجوہ سے امتیاز کا ایک خاص درجہ حاصل ہے مثلاً اس میں ان کے کمالِ فکری کی گونا گوں گلکاریاں دیکھی جا سکتی ہیں جیسے قدرتی مناظر پر نظمیں،فلسفیانہ نظمیں، غزلیں، مرثیے وغیرہ۔ حسن، خیال اور دل آویزی فکر  کے ایسے رنگا رنگ مرقعے کسی دوسری کتاب میں نہیں مل سکتے۔فکر اقبال کے ارتقائی مدارس کا مکمل اور جامع اندازہ بانگ درا سے ہی ہو سکتا ہے۔اگرچہ اس کتاب میں ایسی نظمیں بھی شامل ہیں جنہیں اقبال کے پیغام خاص کو پیش نظر رکھتے ہوئے شاید چنداں اہم نہ سمجھا جائے لیکن جن خداداد جوہروں نے کمالِ بلوغ کے بعد اقبال کو عظمت کے بلند مقام پر پہنچایا ان کے جلوے "بانگ درا" کے صفحات پر بکثرت نظر آتے ہیں۔''
(مطالب بانگ درا،مولانا غلام رسول مہر،شیخ  غلام علی اینڈ سنز لاہور صفحہ3-4 )
پروفیسر یوسف سلیم چشتی ہماری علمی تاریخ کا ایک اہم نام ہے۔ علامہ اقبال کے احباب ماہرین اقبالیات اور شارحین اقبال میں انہیں ایک خاص مقام حاصل ہے۔
وہ بریلی، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ 1918 میں الٰہ آباد یونیورسٹی سے فلسفے میں بی۔ اے آنرز اور 1924 میں احمد آباد یونیورسٹی سے فلسفے میں ایم اے کیا۔ پہلے کانپور کے ایک کالج اور پھر ایف سی کالج لاہور میں لیکچرار مقرر ہوئے۔ علامہ اقبال اور غلام بھیک نیرنگ کی مساعی میں لاہور میں اشاعت اسلام کے پرنسپل رہے۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران یہ کالج بند ہو گیا تو ریاست منگرو اور بعد ازاںکوروائی چلے گئے۔ 1948 میں کراچی آکر تصنیف و تالیف کا سلسلہ شروع کیا۔ چشتی کو 16 سال محمد اقبال کی صحبت کا شرف حاصل رہا۔ آپ نے اقبال کی تمام اردو اور فارسی کتابوں کی شرحیں لکھی ہیں۔ اس کے علاوہ مذہب ،فلسفہ، تصوف، تاریخ اور سوانح پر متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پروفیسر یوسف سلیم چشتی اپنی کتاب "شرح بانگ درا" کے دیباچے میں لکھتے ہیں:۔ 
''بانگ درا علامہ اقبال مرحوم کی سب سے زیادہ مشہور کتاب بلکہ ان کی شہرت کا سنگ بنیاد ہے۔حقیقت یہ ہے کہ عوام میں اسی کی بدولت انہیں لازوال شہرت حاصل ہوئی جس میں دوسری کتابوں کی وجہ سے اضافہ ہوتا رہا۔'بانگ درا' شائع ہوئی تو لوگوں نے اس کو ہاتھوں ہاتھ لیا اور اس کی بدولت اقبال کا نام ہندوستان کے طول و عرض میں مشہور ہو گیا۔''
شرح بانگ درا،یوسف سلیم چشتی،عشرت  پبلشنگ ہاس لاہورسن ندارد، صفحہ نمبر3
بابائے اردو ڈاکٹر مولوی عبد الحق (پیدائش 20 اپریل 1870 ، وفات: 16 اگست 1961) برِ صغیر پاک ہند کے عظیم اردو مفکر، محقق، ماہر لسانیات، معلم اور انجمن ترقی اردو اور اردو کالج کراچی (موجودہ وفاقی اردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس اور ٹیکنالوجی)کے بانی تھے۔ انھوں نے اپنی تمام زندگی اردو کے فروغ، ترویج اور اشاعت کے لیے وقف کردی۔
 ان کی زندگی کا کوئی لمحہ ایسا نہ تھا جو اردو کی فکر سے خالی ہو۔ یہ ان کی خدمات کا اعتراف ہی ہے کہ وہ ہر جگہ بابائے اردو کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
جب بانگ درا چھپی تو بابائے اردو نے اس پر ایک شاندار مضمون لکھ کر علامہ کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس مضمون کے آغاز ہی میں بابائے اردو نے بانگ درا کی شاعری کے حوالے سے جو رائے پیش کی ہے وہ انتہائی قابل غور ہے۔فرماتے ہیں: ۔
''اقبال اس وقت اردو کے سب سے مقبول اور اعلیٰ شاعر ہیں۔ان کا کلام اب تک متفرق تھا اور ایک جگہ جمع ہو کر شائع نہ ہوا تھا۔ان کے کلام کے دلدادہ اس سے مطمئن نہ تھے اور ایک مدت سے منتظر و مشتاق تھے کہ سارا مجموعہ کتاب کی صورت میں شائع ہو جائے۔ کس قدر مسرت کی بات ہے کہ وہ آب دار موتی جو اب تک بکھرے ہوئے تھے ایک لڑی میں پروئے ہوئے ہمارے سامنے موجود ہیں۔جن کی جوت سے آنکھوں میں نور پیدا ہوتا ہے۔میں اقبال کے لیے اس میں نیک شگون پاتا ہوں وہ محاسن جو بعد میں ہم نے ڈھونڈ ڈھونڈ کر اقبال کے کلام میں نکالے ان سب کے بیج اس نظم میں نظر آتے ہیں۔تخیل،تشبیہات،بندش اور خیالات سب آئندہ کی غمازی کر رہے ہیں۔لیکن سب سے بڑی بات جو ہم اس میں دیکھتے ہیں اور جو اپنا پیغام دلوں تک پہنچاتی ہے وہ یہ ہے کہ اس سے حب وطن کی بو آتی ہے اور جوں جوں ہم آگے بڑھتے ہیں اس کی مہک بھی بڑھتی جاتی ہے۔''
بابائے اردو مولوی عبدالحق اسی مضمون میں کچھ آگے چل کر لکھتے ہیں:۔ 
''اقبال کے پیام میں بلندی اور ایسا خلوص اور جوش ہے کہ وہ رائیگاں نہیں جا سکتا وہ سوتوں کو جگانے،غافلوں کو ہوشیار کرنے اور دلوں کے ابھارنے میں بجلی کا سا کام کرے گا۔ اس کا مقصد سیاست و ملک گیری نہیں بلکہ وہ اخلاقی و روحانی پیام ہے جس کی بنیاد اسلامی تعلیم پر ہے اور جس کی غرض اسلامی اصول اور آئین کی اشاعت ہے جو اتحاد ملی کے ذریعے سے دنیا پر کار فرمائی کر سکتے ہیں۔''
بانگ درا کی معرکہ آرا طویل نظموں شمع اور شاعر، خضر راہ اور طلوع اسلام کے حوالے سے بابائے اردو لکھتے ہیں:۔
''اقبال کی شاعری کی پوری حقیقت معلوم کرنے کے لیے "شمع اور شاعر"، "خضر راہ" اور طلوع اسلام" کی نظمیں غور سے پڑھنی چاہئیں۔یہ ظاہری اور معنوی دونوں حیثیتوں سے ان کی شاعری کے بہترین نمونے ہیں۔اس سے میرا یہ مطلب نہیں کہ ان کی دوسری نظمیں اس پایہ کی نہیں۔ان کی بعض چھوٹی نظمیں بھی بہت پاکیزہ اور اعلیٰ درجے کی ہیں مثلاً:  "ایک آرزو"، "سرگرشت آدم"، "جگنو چاند"،"صبح کا ستارہ"، "پرندہ" اور "جگنو "وغیرہ بہت اچھی نظمیں ہیں۔لیکن جن تین نظموں کا میں نے نام لیا ہے وہ ایسی ہیں کہ ان میں اقبال کی شاعری کی تمام خصوصیات پائی جاتی ہیں۔شان و شکوہ، زور اور شور امڈتے ہیں، جذبات کی ادائی، حکیمانہ نظر اور شاعرانہ انداز بیان میں اقبال کا جواب نہیں۔''
(نیرنگ خیال، مدیر: حکیم یوسف حسن، جنوری،  1942، صفحہ 131)
آخر میں ہم بانگ درا کی شاعری کے حوالے سے بابائے اردو مولوی عبدالحق ہی کے اس شاندار اور خوبصورت خراج تحسین پر اپنے مضمون کا اختتام کرتے ہیں کہ:۔
''کتاب کھولتے ہی پہلی نظم جس پر نظر پڑتی ہے "ہمالہ" ہے۔کوہ ہمالیہ ہندوستان کی شوکت و شان کا نشان اور اس کے حفظ و امن کا پاسبان ہے۔ہندوستان کا بچہ بچہ اسے جانتا ہے اور اس پر فخر کرتا ہے۔جس شاعری کی ابتدا کوہ ہمالیہ ہو اس کی انتہا کیا ہوگی۔''
(نیرنگ خیال، مدیر: حکیم یوسف حسن، جنوری،  1942، صفحہ 131)


مضمون نگار ایک معروف ماہر تعلیم ہیں۔ اقبالیات اور پاکستانیات سے متعلق امور میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
[email protected]

پروفیسر ڈاکٹر قمر اقبال

Advertisements