اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 20:46
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور

جون 2024

فرض کریں کہ آپ کو ملکی وقار کا ضامن کوئی منصوبہ، فریضہ یا مشن سونپا گیا ہے اور آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ اگر وہ کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ آپ کے لیے باعث عزت بنے گا جبکہ ناکامی کی صورت میں جگ ہنسائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے تو ظاہر ہے کہ آپ اُسے پایۂ تکمیل تک پہنچانے اور کامیاب بنانے کے لیے سر دھڑ کی بازی لگادیں گے ۔



مان لیتے ہیں کہ آپ جوکرنے والے ہیں اس پر پوری قوم کی نظریں جمی ہیں۔ عوام ایک لمبے عرصے کے انتظار کے بعدیہ نظارہ دیکھنے کے لیے بے چین ہیں۔ انہیں میڈیا اور سوشل میڈیا کے ذریعے بتا یا جاتا ہے کہ ان کے ملک نے ایک ایسی خود ساختہ مہارت حاصل کر لی ہے جس کو استعمال کر کے وہ بہت جلد دنیا میں اپنا مقام بنا لیں گے، اس سے کثیر زر مبادلہ کمائیں گے اورملک کو ناقابل تسخیربنا دیں گے ۔ انہیں دوسروں کی طرف دیکھنا پڑے گا نہ کسی سے مددلینا پڑے گی۔ خبروں کی چکاچوند اور بڑھا چڑھا کر پیش کیے جانے والے عوامی اور سوشل میڈیا تبصروںسے عوام اور حکمران خوش ہیں۔ ان کے چہروں پر طمانیت بھی ہے اور فخرو غرور کے ملے جلے آثار بھی۔ انہی احساسات کے ساتھ بالآخر وہ دن آن پہنچتا ہے ،لیکن ۔۔۔؟ ہم لمحہ بھر کے لیے یہاں رکتے ہیں اور سارا منظر نامہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 
اب ہم حقیقی دنیا کی طرف لوٹتے ہیں اور مان لیتے ہیں کہ آپ کا تعلق فوج کے ایک اہم شعبے سے ہے۔ آپ کو سونپا گیا فریضہ ایک بھاری بھرکم گنکی فیلڈ ٹیسٹنگ ہے جسے انجام دینے کے لیے آ پ پوری تیاری کے ساتھ اپنی ٹیم کے ہمراہ ایک ایسے میدان میں اترتے ہیں جہاں ٹینک پرنصب ایک گن پہلے سے آ پ کی منتظر ہے ۔ ایک طرف مشن کے کرتا دھرتاموجود ہیں جبکہ دوسری طرف ایک بڑے چبوترے پر مہمان خصوصی براجمان ہیں۔سب کی نگاہیں ہدف پر مرکوز ہیں کہ اگلے لمحے منظر بدلتا ہے۔فضا میں ایک گرجدار آواز گونجتی ہے جسے سنتے ہی عملے کے اراکین ایک طاقتور فوجی ٹینک کی جانب بڑھ کر اپنی نشستیں سنبھال لیتے ہیں۔ ان کا مشن ٹینک پر لگی گن کو ٹیسٹ کرنا ہے۔عملے کے اراکین ہر حوالے سے الرٹ ہیں ۔ ان کی پوری توجہ گن کا  ٹریگر دبانے پر مرکوز ہے۔اسی دوران ایک مرتبہ پھر ایک زور دار آواز گونجتی ہے ۔۔۔ ''فائر '' ۔۔۔ پوری قوت سے ٹریگر دبایا جاتا ہے ۔ ایک بھر پور دھماکہ ہوتا ہے اور گن کی بیرل پھٹ جانے سے پورا مشن میدان میں اڑنے والی دھول اور مٹی کی نظر ہو جاتا ہے۔'مشن فیل' اور پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ ۔۔ ایک نہ ختم ہونے والا سکوت،زبانیں گنگ اور ہر طرف خاموشی۔ سبھی آنکھیں کسی تسلی بخش جواب کی منتظر ہیں مگر وہاں تو کوئی بھی ایسا شخص موجود نہیں ہے جو اس ہزیمت کا جواب دے سکے کہ ملکی بجٹ کا ایک کثیر حصہ َصرف کر کے جس خود انحصاری کی منزل طے کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا ،آخر کار وہ کیوں حاصل نہ کی جا سکی۔
قارئین کرام ، آئیے ! تجسس کی دنیا سے باہر نکل کر یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ واقعہ کہاں پیش آیا اور اس ناکامی کے اسباب کیا تھے ۔یہ سارا منظر نامہ ہمارے پڑوسی ملک بھارت کا ہے جہاں حال ہی میں K9 Vajra Gun کا واقعہ پیش آیا۔بھارت کافی عرصے سے اس گن کی تیاری پر کام کر رہا تھا۔آخری مرحلہ اسے چیک کرنا تھا۔ چنانچہ طے پایا کہ 224میڈیم رجمنٹ کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی ایک تقریب میں K9 Vajra Gun کو ٹیسٹ کیا جائے گا تا کہ معلوم کیا جا سکے کہ 2017ء سے جس مشن پر کام کیا جا رہا ہے ، آیا وہ ملکی دفاعی استعداد میں اضافے کا سبب بنے گا بھی یا نہیں۔ طے شدہ دن اور مقررہ وقت پر فائٹنگ فیلڈ میں سب موجود تھے کہ فیلڈ فائرنگ کے دوران چند تکنیکی وجوہات (جو ابھی تک سامنے نہیں آ سکیں) کی بناء پر گن کی بیرل پھٹنے سے آناً فاناً پورا مشن فیل ہو گیا۔ اس طرح بھارت جو کافی عرصے سے ایک لمبے ہدف کو نشانہ بنانے والی گن  (Long Range Gun ) بنانے کا خواب دیکھ رہا تھا ،وہ چکنا چور ہوگیا۔ بھارت جو دنیا کو یہ بتانے چلا تھا کہ وہ مقامی سطح پر دفاعی صنعت کو فروغ دے کربہترین معیار کا جنگی سازو سامان تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر چکا ہے ، اپنے اس دعوے کو سچ ثابت نہ کر سکا۔ اس طرح بھارتی اسلحے کی پائیداری دنیا بھر میں مشکوک اور ایک سوالیہ نشان بن کر رہ گئی۔ 
بھارت میں K9 Vajra Guns کی مقامی سطح پر تیاری کا آغاز مئی 2017ء میں اس وقت ہواجب ایک نجی بھارتی کمپنی (L&T)Larsen and Toubro نے حکومت کے ''Make in India Initiative'' کے تحت 4500کروڑ بھارتی روپوں کے عوض یہ بولی اپنے نام کر لی۔معاہدے کا دوسرا فریق جنوبی کوریا تھا ۔ ابتدائی معاہدے کے تحت طے پایا تھا کہ بھارتی کمپنی اگلے بیالیس مہینوں میں یہ پراجیکٹ مکمل کر لے گی۔ گویا اس فیلڈ ٹیسٹ سے پہلے عوام کو ایک اچھا دن دیکھنے کے لیے مہینوں انتظار کرنا پڑا لیکن آگے کیا ہوا وہ آپ اس تحریر کے آغاز میں پڑھ چکے ہیں۔
معاہدے کے تحت طے پایا تھا کہ بھارت مجموعی طور پر 100گنز بنانے کا ہدف حاصل کرے گا جن میں سے ابتدائی طور پر دس گنز جنوبی کوریا سے درآمد کی جائیںگی جبکہ باقی 90 گنوںکی تیاری مقامی سطح پرہوگی۔معاہدے کی خاص بات یہ تھی کہ جنوبی کوریا گنز بنانے کی ساری ٹیکنالوجی بھی بھارت کو مہیا کرے گا ۔ یاد رہے کہ بھارت اور جنوبی کوریا کے درمیان یہ پہلا دفاعی معاہدہ تھا۔
K9 Vajra Gun دراصل K9تھنڈر کی ہی ایک قسم ہے جو پہلے پہل جنوبی کوریا میں تیار کی گئی تھی۔ اسے دنیا کی بہترین گن ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔یہ ایک ایسی گن ہے جوبلندی سے فائر کرنے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس میں اسٹیل سے بنی155/52ملی میٹر بیرل استعمال ہوتی ہے جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ انتہائی مضبوط بیرل ہے لیکن بھارتی ساختہ گن کی بیرل کا فیلڈ فائرنگ ٹیسٹ کے دوران پھٹ جانا اچنبھے کی بات ہے۔ اولاًیہ ریتلے علاقوں اور صحرائوں میں استعمال کی خاطر بنائی گئی تھی تاہم بھارت کا دعویٰ تھا کہ اسے بلند ترین پہاڑوں پر نصب کر کے بھی استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔اسے انفرادی طور پراستعمال کرنے کے ساتھ ساتھ بھاری بھرکم ٹینکوں پر بھی نصب کیا جا سکتاہے۔
 جنوبی کوریا میںK9 Vajra Gun بنانے کا آغاز 1989میںہوا جبکہ پہلی گن دس سال کی انتہائی مشقت کے بعد  1999میں تیار کی گئی۔اس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ دور تک مارک کرنے والی ایک بہترین گن ہے جو دشمن کو ناکوں چنے چبوا سکتی ہے۔ جنوبی کوریا نے یہی ٹیکنالوجی بھارت کو فراہم کی جس میں چند تبدیلیاں کر کے بنائی جانے والی گنز کو ''میڈ ان انڈیا ''کا نام دے دیا گیا ۔ یاد رہے کہ بھارت اس طرح کی کئی گنز دیگر ممالک کو فروخت بھی کر چکا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دوسرے ملکوں کو فروخت کی جانے والی ایسی گنوں کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ ہے۔ اگر وہ سب میدان جنگ میں اسی صورت حال کا شکار ہو جاتی ہیں تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بھارت عالمی سطح پر کتنی بڑی مشکل سے دوچار ہو سکتا ہے۔
اسلحہ سازی اور دوسرے ملکوں سے سامان حرب خریدنے کی دوڑ میںبھارت پیش پیش ہے۔ ایک اندازے کے مطابق بھارت اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ جنگی ہتھیار خریدنے والا دوسرا بڑا ملک بن چکا ہے۔بھارتی حکومت ہر سال دفاع کی مد میں اپنے سالانہ بجٹ میں اضافہ کرتی رہتی ہے۔ گزشتہ برس  2023ء کے سالانہ بجٹ میں محکمہ دفاع کے لیے 73ارب ڈالر زکی رقم مختص کی گئی تھی جس کا مقصد نئے جنگی طیاروں سمیت سامان حرب کی خریداری تھی۔اسی دوران دفاعی اخراجات کے حوالے سے بھارتی وزارت دفاع کے جونئیروزیراجے بھٹ نے پارلیمنٹ کو آگاہ کیا تھا کہ بھارت نے امریکا، روس، فرانس، اسرائیل اورسپین سے تقریباً 24 ارب ڈالرزکے جنگی جہاز، ہیلی کاپٹرز، میزائل، راکٹ، سالٹ رائفلز اور گولہ بارود خریدے، تاہم اس میں فرانس سے خریدے گئے  8 ارب ڈالرزکے جنگی جہاز شامل نہیں۔جب  دنیا کی طرف سے اتنی بڑی خریداری پر سوال اٹھائے جانے لگے تو بھارت نے ہتھیار جمع کرنے کی دوڑ میں سرفہرست رہنے کی خاطر  "Make in India Initiative" کا آغاز کر دیا تاکہ دنیا کی نظروں میں آئے بغیر مقامی سطح پر جنگی ہتھیار بنا کراپنی دفاعی استعداد میں اضافہ کرے اور ساتھ ہی بیرونی دنیا کو یہ ہتھیار فروخت کر کے کثیر زر مبادلہ بھی کمائے۔اسی پالیسی پر عمل پیرا بھارت اسلحہ سازی کی صنعت کو فروغ دے رہا ہے ۔حیران کن بات یہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران بھاتی ساختہ جنگی ہتھیار جن میں Tejas  طیارے بھی شامل ہیں ، میں بے شمار نقائص دیکھنے کو ملے ہیں جس نے ان کی پیشہ ورانہ مہارت کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔ 
دنیا بھرمیں ہتھیاروں کی خرید وفروخت کے حوالے سے تحقیقی ادارے سٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ  (SIPRI) نے اپنی سالانہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ گزشتہ سال پوری دنیا میں فروخت ہونے والے ہتھیاروں کا 11فیصد بھارت نے خریدا۔رپورٹ کے مطابق بھارت کو  2013 ء سے 2022ء تک ہتھیار فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک روس رہا ۔گزشتہ دس برس کے دوران بھارت کے ہتھیار وں کی خرید میں چوبیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ کے مطابق اسلحے کی خریداری میں مشرق وسطیٰ کے چند ممالک اور ایشیاء آگے ہیں اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ 
عالمی سطح پر بات کی جائے تو ہتھیاروں کی خریدو فروخت میں پاکستان کاحصہ بھارت کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔اہم بات یہ ہے کہ جنگی ہتھیار خریدنے کے پیچھے پاکستان کا مقصد اپنی دفاعی استعداد میں اضافہ کرناہے نہ کہ بھارت کی طرح ہمسایہ ممالک میں در اندازی۔پاکستان اگر ملکی سرحدوں کی حفاظت کی خاطر اپنی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھاتا ہے تو اس کا مقصد خطے میں' بیلنس آف پاور'قائم رکھنا ہے ۔ اگر بھارت اسی طرح اسلحے کی دوڑ میں شامل رہتا ہے تو اندیشہ ہے کہ وہ بہت جلد اتنی طاقت حاصل کر لے گا کہ اس کی بدولت ہمسایہ ممالک کودھمکانے لگے۔ بھارتی مکروہ عزائم کا اظہار ہم ماضی میں کئی مرتبہ دیکھ چکے ہیں۔ بھارت نے27فروری  2019ء کو پاکستان کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی کی تو اسے منہ کی کھانا پڑی۔ مئی  2020ء میں بھارت اور چین کے درمیان ہونے والی سرحدی کشمکش بھی خبروں کی زینت بن چکی ہے۔ نیپال، سری لنکا، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک کے ساتھ بھی بھارت کے تعلقات میں کافی سرد مہری دیکھنے کو ملتی رہی ہے۔ لہٰذاتیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے علاقائی اور عالمی منظر ناموں کے پیش نظر اگرپاکستان اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرتا ہے تویہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔پاکستان کی اعلیٰ سول و عسکری قیادت بات چیت کے ذریعے مسائل کو حل کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ وہ اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ دو طرفہ برادرانہ تعلقات قائم کرنے کی خواہاں ہیں تاہم انہیں بخوبی ادراک ہے کہ ہر قسم کی مسلح جارحیت کافوری جواب دیتے ہوئے اپنی سرحدوں کی حفاظت کو کیسے یقینی بنانا ہے۔
اگر بھارتی حکمران جماعت یہ سمجھتی ہے کہ بھارت دنیا بھر میں اسلحے کی دوڑ میں اول آکر اور بے پناہ طاقت کے حصول سے اپنے مکروہ عزائم کو عملی جامہ پہنا سکے گا تو ان کی اس خواہش کو خام خیالی سے ہی تعبیر کیا جا سکتاہے۔ مسلمہ اصول ہے کہ اگر آگے بڑھنا ہے تو اپنے ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے ہوں گے ورنہ''میڈ اِن انڈیا ''کا خواب شاید ایک خواب ہی رہے۔ 


مضمون نگارقومی و بین الاقوامی موضوعات پر لکھتی ہیں۔
[email protected]