اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 20:06
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ
Advertisements

ہلال اردو

بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات

مئی 2024

پاکستان کے جنوب مغرب میں واقع صوبہ بلوچستان 3,47190 مربع کلومیٹر پرپھیلا'رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔  اس کی سرحدیں افغانستان اور ایران سے ملتی ہیں۔ قدرت کا یہ حسین شاہکارسونا'کوئلہ'تانبا ،کرومائیٹ، جپسم کے علاوہ دیگر معدنیات کی پیداوار کا مرکز ہے ۔سرزمین بلوچستان  میں ہر مکتبہ فکر کے لوگ آباد ہیں اور یہاں کے باسی صدیوں پرانی روایات پر آج بھی قائم ودائم ہیں۔پاکستان کے تقریباً آدھے رقبے پہ قائم یہ خطہ طویل دریاؤں،میدانی علاقوں، صحرائی زمین اور اونچے اونچے پہاڑی سلسلوں میںمشہورہے۔ بلوچستان کے شمال میں برف پوش چوٹیاں ہیں اور جنوب میںبحیرہ عرب ہے ۔جغرافیائی حوالے سے یہ خطہ منفرد حیثیت کا حامل ہے۔ بلوچستان قدیم دور سے مختلف تہذیبوں کا سنگم رہا ہے۔ یہاں کاپہاڑی سلسلہ کوہ سلیمان ژوب سے شروع ہو کر کوہ راسکوہ چاغی تک پھیلا ہوا ہے ۔قدیم دورمیںفاتحین کے لیے یہاں کے درّے بھی رہنمائی کی علامت سمجھے جاتے تھے کیونکہ کسی بھی علاقے میں داخل ہونے کے لیے ہموارراستے کی ضرورت پڑتی ہے، اس زمانے میںباقاعدہ سڑکیں نہیں تھیں،البتہ گھوڑوں پر سفر کرکے ایک علاقے سے دوسرے کا رخ کیا جاتا تھا۔اس پس منظر میں بلوچستان کادرّہ بولان'درّہ مولااور ژوب ایک تاریخی حیثیت رکھتے ہیں۔یہاں کچھی اور لسبیلہ کے دوبڑے میدانی علاقوں سمیت دنیا کے بڑے صحراؤں میں شامل ''صحرائے مکران''بھی موجود ہے۔سیاحتی حوالے سے بلوچستان ایک جان دار خطہ ہے۔جس میں لسبیلہ،زیارت' گوادر'  قلات' گڈانی'  سبی 'ژوب ودیگر علاقے شامل ہیں۔ ملکی وغیر ملکی سیاح سیاحت کی غرض سے ان علاقوں کارخ کرتے ہیں ۔



یہاں پر ایک سیاحتی مقام زیارت ہے جو کوئٹہ سے تقریباً 150 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔بانی ٔپاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے زندگی کے آخری ایام اسی شہرزیارت میںگزارے تھے۔ قدرتی آبشاروں اور سرسبزباغات وپرفضاء ہوا سے یہ وادی کسی دنیاوی جنت سے کم نہیں۔ تاریخی اہمیت کی حامل اور ملک کی قومی یادگار قائداعظم ریذیڈنسی کا قیام1899ء کوعمل میں آیا۔گرمیوں کے موسم میں ملک کے دیگر علاقوںسے آنے والے سیاحوں کا اس تفریحی مقام پر رش  لگا رہتا ہے۔عیدکے موقع پر بھی سیاح زیارت کا رخ کرتے ہیں، کوئٹہ سمیت دیگر شہروں اورزیارت کے گردونواح کے لوگ عید کی چھٹیوں کے موقع پر پکنک منانے کے لیے آتے ہیں۔  سردیوں میں درجہ حرارت منفی 15سے 20 تک چلا جاتا ہے اور یہاں کے پہاڑ برف کی چاندی سے لبریز نظر آتے ہیں۔ ایک فٹ سے ڈیڑھ فٹ تک برف باری ہوتی ہے ۔دوسری اہم بات جو اس شہر میں ہے وہ یہ کہ یہاں پر دنیا کا دوسرا بڑا صنوبر کا نایاب جنگل بھی موجود ہے ۔صنوبر کے درخت دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتے ہیں ۔یہ درخت ہمیشہ سر سبز رہتے ہیں اور اپنی منفرد خوشبو کے حوالے سے بھی جانے پہچانے جاتے ہیں۔ہزاروں ایکڑ پر پھیلے ہوئے یہ درخت سیکڑوں سال کی تاریخ اپنے اندر سموئے ہوئے وادی زیارت کے پہاڑوں پر موتیوں کی طرح سجے نظر آتے ہیں۔ماضی میں سوئی گیس نہ ہونے سے یہاں کے باشندے ان قیمتی درختوں کو کاٹ کر سردی سے بچاؤ کے لیے بطور ایندھن ان کی لکڑی کواستعمال کرتے تھے۔ تاہم اب گیس آنے سے ان کے بچاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے ۔اس سیاحتی مقام میں سیب اور چیری کے بڑے بڑے باغات ہیں، جن کا پھل بیرون ممالک بھی ایکسپورٹ ہوتا ہے۔ان تفریحی مقامات پر سیاح آکر دنیا سے بے خبر زندگی کے مزے میں مگن رہتے ہیں۔ تاہم ہر کوئی اپنی مجبوری کی بناء پر چند دن قیام کے بعد واپسی کا رخت سفر باندھ کر ان حسین مناظر کو ہمیشہ ہمیشہ کے  لیے اپنے ذہن میں محفوظ کر لیتا ہے۔
کوئٹہ سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر بلوچستان کا خوبصورت سیاحتی مقام ''ہربوئی'' واقع ہے۔ ادھر بھی صنوبر کے گھنے اور پرانے درخت پائے جاتے ہیں۔جلیبی کی طرح بل کھاتے راستے اس حسین وادی میں جانے کے لیے سیاح کو ڈراتے بھی ہیں، تاہم وہ مختلف پھولوں کی خوشبو ؤں اور حسین آبشاروں میں اتنے مگن رہتے ہیں کہ ان کو زندگی اور موت کی پروا تک نہیں رہتی۔ہربوئی میں علم و حکمت کی دنیا کے حوالے سے سیکڑوں قسم کی جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں جن سے یہاں کے مقامی لوگ اپنے روایتی طریقے سے علاج کرتے ہیں۔ نزلہ وزکام اور بخارسے لے کر شوگرجیسی موذیبیماری کا علاج ان جڑی بوٹیوں سے کیا جاتا ہے۔پرفضا ء ہوا اور صاف وشفاف ماحول کی وجہ سے یہاں پر پرندوں کی بھی مختلف اقسام پائی جاتی ہیں۔ قدرتی چشموں کے موتی جیسے پانی پر سینٹرل ایشیاء اورمڈل ایسٹ سے پرندے یہاں آکر پڑاؤ ڈالتے ہیں اور سخت سردی میں کچھی کے میدانی علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔ قلات میں بھی سخت سردی پڑتی ہے یہاں پرسردیوں کے موسم میں اکثر وبیشتر درجہ حرارت منفی میں رہتا ہے اور ایک سے ڈیڑھ فٹ تک برف پڑتی ہے۔
ژوب بلوچستان کے شمال مشر ق میں واقع ایک تاریخی شہر ہے، یہاں پر ایک مشہور تفریحی مقام ''شین غر''واقع ہے۔یہ وادی اخروٹ'پستہ اور چلغوزے کے جنگلات میں گھِری ہوئی ہے۔یہاں''کوہ سلیمان ''بھی ژوب سے شروع ہو کر صوبے کے اکثر علاقوں میں پھیلا ہوا ہے۔11440فٹ بلند مشہو ر چوٹی' تخت سلیمان' بھی یہاں موجود ہے۔
کوئٹہ سے چند کلو میٹر دور سیاحتی مقام'' ہنہ جھیل اور اوڑک'' واقع ہیں 'ہنہ جھیل کے بارے میں مشہور ہے کہ انگریز کے زمانے میں کوئٹہ کے آس پاس کی آبادی کے  لیے پانی جمع کرنے کے لیے یہی جگہ تجویز کی گئی تھی'کہتے ہیں جہاںپانی ہووہاں پر زندگی کا وجود عمل میں آتا ہے۔ اس لحاظ سے یہاں پر مقامی لوگوں کا آنا جانا ہوا جو بہترین منظر نگاری کی وجہ سے ایک سیاحتی مقام بن گیا۔بعض اوقات یہاں پر بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے جھیل کے پانی میں کمی واقع ہوتی ہے جس سے یہاں کی رونقیں مانند پڑ جاتی ہیں۔ہنہ جھیل سے آگے ''اوڑک'' کا خوبصورت علاقہ شروع ہوتاہے،جہاں قدرتی آبشاروں اور سیب 'زردالو'آڑو کے باغات کی شادابی سے یہ حسین وادی سیاح کو دنیا کے جھنجھٹ سے آزاد کرکے اپنی گود میں لے لیتی ہے 'چھٹی کے روز کوئٹہ کے باشندے اکثر وبیشتر اس کی سیر کو جاتے ہیں۔



سبی کوئٹہ سے ڈیڑھ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تاریخی شہر ہے۔ تاریخی حوالے سے سبی میلہ ملک بھر میں مشہور ہے ،ہر سال فروری کے مہینے میں یہ میلہ منعقد ہوتا ہے جس میں صدر'وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ حکام شرکت کرتے ہیں۔اس میلے میںبلوچستان کے علاقے بھاگناڑی کے مشہور بیل وگائے اور صوبے کے دیگر علاقوں سے آئے جانوروں کی منڈی بھی لگتی ہے، جس میں ایران'افغانستان اور ملک کے دیگر صوبوں کے بیوپاری اعلیٰ نسل کے جانور خریدنے کے  لیے یہاں کا رخ کرتے ہیں۔دوسرے حوالے سے سبی ایشیاء کا گرم ترین علاقہ ہے، گرمیوں میں یہاں 50سے52سینٹی گریڈ تک گرمی پڑتی ہے اور اکثر وبیشتر یہاں کے باسی صوبے کے سرد علاقوں کا رخ کرتے ہیں ۔سبی سے تیس کلومیٹر دور لب درہ بولان کے مقام پر دنیا کی قدیم انسانی تہذیب ''مہر گڑھ''موجود ہے 'سات ہزار سال پرانی یہ تہذیب اپنی منفرد حیثیت کی وجہ سے دنیامیں ایک الگ پہچان رکھتی ہے۔ آثار قدیمہ کے مطابق یہاں قدیمی باشندے اپنے دور میں زراعت اور گلہ بانی سے منسلک رہے ہیں۔یہاں پراندرون ملک کے علاوہ باہر ممالک سے بھی سیاح آتے رہتے ہیں اور قدیم انسانی آباد ی اور ان کے رہن سہن کے مناظر سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔
کوئٹہ کے قریب شہر کولپورسے شروع ''درّہ بولان'' بلوچستان کے میدانی علاقے کچھی سے جا ملتاہے۔ یہ درّہ اسی تاریخی تہذیب مہرگڑھ پر آکر ختم ہو تا ہے'ا س درّے میں قدرتی چشموں کا پانی سالہا سال سے رواں دواں ہے ۔یہاں پر ''پیر غائب ''کجھوری اور قدیم پرانے غار موجود ہیں۔یہاں پر آکر سیاح قدرت کے حسین نظاروں کو اپنی آنکھ میں سموتا ہے ۔پیر غائب کے مقام پر سالوں سے 20انچ پانی کا قدرتی چشمہ تاحال جاری وساری ہے۔ اس مقام کے بار ے میں روایت ہے کہ یہاں پانی کی قلت تھی جس سے یہاں کے باشندے بہت تنگ آچکے تھے اورہجرت کررہے تھے کہ اسی دوران یہاںپر نیک بزرگ ''ولی ''آیا ۔ مقامی باشندوں نے اس سے پانی کی قلت کا ذکر کیا ۔اس کے بعد ''اللہ کے ولی ''نے دعا مانگی اورپہاڑ سے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا جو آج تک اپنی پرانی ساکھ پر رواں دواں ہے، اس نیک بزرگ کا مزار بھی اس چشمے کے قریب موجود ہے'صوبے کے مختلف علاقوں سے سیاح یہاں زندگی کا بہترین وقت گزارنے آتے ہیں۔
ملک کی ساڑھے سات کلومیٹرپر پھیلی ساحلی پٹی کا شہرگوادر جس کو ایشیا کا دروازہ کہا جاتا ہے،آج کل پوری دنیا کی نظروں کا مرکز ہے۔یہاں کی تیز ہوائیں اور سمندری موجوں کی انگڑائیاں سیاح کو اپنے دامن میں لے لیتی ہیںاورسیاح ذہن میں حسین تصور لیے سائے کی طرح کھڑارہتا ہے ۔گوادر کا شمار صوبے کے مشہور ماہی گیری مرکز میںہوتا ہے ،یہ بندر گاہ پرانی تاریخ کی حامل ہے۔1958 ء کو حکومت پاکستان نے اس کو مسقط کے سلطان سے خرید کر پاکستان میں شامل کیا تھا۔تینوں اطراف سے سمندر میں گھِرا ہوا یہ شہر جس کے مغرب میں 500 فٹ بلند کوہ باطل سمندرکے ساتھ سفید دیوار کی طرح کھڑا ہے، اس کوہ سے پورے شہر کا نظارہ کیا جاتا ہے۔ شہر کے دونوں اطراف ماہی گیروں کی آبادی ہے، جہاں دور دور تک سمندر کے پانی میں ان کی کشتیاں نظر آتی ہیں ۔شام کے وقت جب یہ مقامی ماہی گیر دن بھر کی سخت محنت کے بعد اپنے گھر وں کو لوٹتے ہیں تو سیاح کے  لیے سنہرے ساحل پر دلفریب منظر دیکھنے کے قابل ہوتا ہے۔
پرانے سمندری جہاز توڑنے کی ملکی صنعت بلوچستان کے ساحلی علاقے گڈانی میں واقع ہے'یہ ساحلی علاقہ آلودگی سے پاک اور نہایت صاف وشفاف فضاء کا حامل ہے۔ یہاں چھٹی کے روز ساحلی نظاروں سے لطف اندو ز ہونے کے لیے اکثر وبیشتر کراچی سے سیاح آتے ہیں جودنیا کی خوبصورت ساحلی پٹی کا نظارہ کرتے نہیں تھکتے۔بلوچستان کی یہ خوبصورت ساحلی پٹی دنیا بھر میں ایک منفرد حیثیت رکھتی ہے،اس پرتوجہ دینے سے یہ ملکی معیشت اور سیاحتی حوالے سے بے مثال ثابت ہو گی۔بلوچستان کے ان حسین سیاحتی مقامات پر توجہ دیتے ہوئے صوبے کے ان قدرتی حسین وجمیل مقامات پر کام کرنے کی ضرورت ہے، سیاحتی مقامات پر توجہ دی جائے تویہ خطہ ملک کی معیشت میں اربوں روپے کا زرمبادلہ کا اضافہ کر سکتا ہے۔ 


مضمون نگار صحافت کے شعبہ سے وابستہ ہیںاور مختلف موضوعات پر لکھتے  ہیں۔
[email protected]  

مضمون 581 مرتبہ پڑھا گیا۔