اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 20:40
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ
Advertisements

ہلال اردو

پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں

مئی 2024

مملکتِ خدادادِ پاکستان کے تمام مسلم ممالک کے ساتھ مضبوط دو طرفہ تعلقات ہیں۔ تاہم اسلام کے مرکز سعودی عرب کے ساتھ اس کے تعلقات بڑی اہمیت کے حامل ہیں اور اب سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان کے 15 سے 16 اپریل کے درمیان، پاکستانی دورے سے گرمجوشی میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ اس دورے میںان کے ساتھ اعلیٰ ماہرین کا وفد شامل تھا جس نے ان امور کا جائزہ لیا جس میں سعودی عرب، پاکستان میں ایک سے دو سال کے درمیان 2 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کریگا۔ جسے اگلے پانچ سالوں میں 25 بلین ڈالر تک بڑھا دیا جائے گا۔



معاشی امور کے ماہر تجزیہ کار خرم حسین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کو سرمایہ کاری کے ممکنہ مواقع کی ایک تفصیلی فہرست دی گئی ہے جہاں اگر وہ سرمایہ کاری کرے تو دونوں ممالک کو کثیر مالی فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سعودی عرب، پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ مواقعوں میں سے کتنے منصوبوں پر سرمایہ کاری کی پیشکش کو قبول کرے گا۔
کافی روشن امکانات ہیں کہ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات، دفاعی، مذہبی، ثقافتی اور تجارتی حوالوں سے مزید مضبوط ہو جائیں گے کیونکہ دونوں ممالک 1951 میں دوستی کے معاہدے پر دستخط کے بعد سے ایک دوسرے کی حمایت کرنے کے لیے شروع ہی سے پر عزم دکھائی دیتے ہیں۔
سعودی عرب میں سب سے زیادہ پاکستانی افرادی قوت، وہاں کے مختلف شعبوں میں اپنی قابل قدر خدمات فراہم کررہی ہے۔ جس میں کارپوریٹ ماہرین، جن کا تعلق چاہے انجینئرنگ ، طبی، معاشی شعبوں سے ہو سبھی شامل ہیں۔ یعنی پاکستانی پیشہ ور افراد کے ہمراہ غیر ہنر مند افرادی قوت بھی سعودی ممالک کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر رہی ہے۔
اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی)کے دو اہم رکن ہونے کے ناتے دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر مسلم دنیا کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر متحد کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ماضی قریب میں دونوں ممالک کے درمیان ان تعلقات نے ایک نیا موڑ لیا ہے اور باہمی فائدے اور حمایت کی راہ پر گامزن ہیں۔ سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود کا 'وژن 2030'چند اہم عناصر کے گرد گھومتا ہے جن میں انتظامی نظام کی بحالی، سیاسی ماحولیاتی نظام کو بہتر بنانا اور ایک ایسا کلچر تیار کرنا شامل ہے، جہاں قانون کی پاسداری کو بنیادی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔ ان مقاصد میں تیل اور زیارات کے علاوہ دیگر ترجیحات کی تلاش کے ساتھ ساتھ آبادی کے لیے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے معاشی ذرائع بھی شامل ہیں۔
معاشی ماہر ہارون شریف کہتے ہیں کہ سعودی عرب کی پاکستان میں سرمایہ کاری کی ایک وجہ مشرقی وسطیٰ اور عرب دنیا میں تیزی سے بدلتی جیو پولیٹکل صورتِحال اور کشیدگی ہے۔ سعودی عرب کو پاکستان کی دفاعی مدد اور سفارتی حمایت کی ہر سطح پر ضرورت ہے۔
سعودی عرب سرمایہ کاری کانفرنس
پاکستان نے اپنے آپ کو ''وژن 2030'' کے سعودی مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ کیا ہے اور سعودی عرب کو دوطرفہ فوائد کے ساتھ سرمایہ کاری کے مواقع کی ایک طویل فہرست پیش کی ہے۔ ماہ رمضان کے دوران وزیر اعظم پاکستان کا دورۂ سعودی عرب اور سعودی ولی عہد کا مستقبل قریب میں پاکستان کا دورہ کرنے کا منصوبہ اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان کے دورۂ سعودی عرب کے بعد 15 اپریل کو سعودی عرب کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا جس کا پاکستان کے وزیر خارجہ نے خیرمقدم کیا۔ سعودی وفد نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے وفد کے ساتھ بھی باضابطہ ملاقات کی جس میں متعدد پہلوئوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ 16 اپریل کو منعقد ہونے والی پاک سعودی عرب سرمایہ کاری کانفرنس کی ایک چھوٹی سی جھلک درج ذیل ہے:
•   سعودی وفد وزیر خارجہ پر مشتمل تھا جس کے ہمراہ حکام، ماہرین اور کارپوریٹ سیکٹر کے رہنما بھی موجود تھے۔
•   کانفرنس کا آغاز دونوں ممالک کے ہم منصبوں کے افتتاحی کلمات سے ہوا جس کے بعد پاکستان میں درمیانے سے اعلی سطح کی سرمایہ کاری کے لیے دستیاب مواقع کی تفصیلی پریزنٹیشن دی گئی۔
•     پریزنٹیشن کے بعد سوال و جواب کا سیشن ہوا جس کے دوران سعودی حکام نے ان کے لیے پیش کردہ مواقع کے بارے میں کچھ انتہائی دلچسپ سوالات پوچھے۔
•     ایک مختصر وقفے کے بعد، دونوں فریقوں کو ان شعبوں سے متعلق چھوٹے گروپوں میں تقسیم کیا گیا تھا جن کی وہ نمائندگی کرتے تھے۔ یہ اجلاس کانفرنس کا اہم کورس تھا کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان تمام متعلقہ منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
•    کانفرنس کے اختتام پر باہمی اتفاق کیا گیا کہ ان اجلاسوں اور کانفرنسوں کی فریکوئنسی کو باقاعدہ بنایا جائے گا، یعنی ہر مہینے کم از کم ایک بار، دونوں ممالک نے ہر شعبے کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دینے پر اتفاق کیا جو طے شدہ منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لے گا۔
•    آخر میں دونوں ممالک نے ایک ڈیجیٹل ڈیش بورڈ بنانے کا فیصلہ کیا، جسے باقاعدگی سے اپ ڈیٹ کیا جائے گا تاکہ دونوں فریق طے شدہ منصوبوں کی تکمیل کی ہر سطح پر پیروی کرسکیں۔
ہارون شریف کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی نئی پالیسی کے تحت پاکستان نے کچھ عرصہ قبل سعودی عرب کو اپنے ملک میں سرمایہ کاری کی دعوت دی تھی جس پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے 17 اپریل 2024 کی ملاقات میں پاکستانی وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف سے پاکستان میں سرمایہ کاری اور دورے کا عندیہ دیاہے۔
پاکستان سعودی عرب سرمایہ کاری کانفرنس کی خصوصیات
ماضی میں اس طرح کی متعدد کانفرنسیں، ملاقاتیں اور وفود کے دورے ہو چکے ہیں، لیکن حالیہ کانفرنس ایک انوکھا پہلو رکھتی ہے جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا، حالیہ پاک سعودی عرب سرمایہ کاری کانفرنس کی چند خصوصیات درج ذیل ہیں:
•    یہ کانفرنس دونوں ممالک کے درمیان کاروبار کرنے، مشترکہ منصوبوں اور سرمایہ کاری کے مواقع کے حوالے سے تعاون بڑھانے کے پس منظر میں منعقد کی گئی تھی۔ قرضوں، گرانٹس، امداد، یا اس طرح کے غیر فعال مالی ماڈل سے متعلق کوئی تبادلہ خیال نہیں کیا گیا تھا۔
•    اجلاس کا ایک تفصیلی اور دانستہ منصوبہ پیشگی تیار کیا گیا تھا جس میں پاکستان میں موجود سرمایہ کاری کے ٹھوس مواقع واضح انداز میں بیان کیے گئے جن سے سعودی عرب فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایک اجلاس پر عمل درآمد ہوا جو معروضی طور پر اختتام پذیر ہوا اور سعودی فریق کو یہ واضح تھا کہ کیا پیش کیا گیا ہے اور کن شرائط پر پیش کیا گیا ہے۔
•    ایک تفصیلی بنیاد تیار کی گئی جس میں زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ٹیلی کمیونیکیشن، پیٹرولیم، توانائی، سیاحت اور انسانی وسائل کی ترقی جیسے مختلف شعبوں میں پاکستان میں موجود سرمایہ کاری کے مواقع پر روشنی ڈالی گئی۔
اس طرح تیار کی گئی بنیاد نے مذکورہ بالا شعبوں میں دستیاب منصوبوں کے لیے ایک خزانے کے طور پر کام کیا۔ ہر منصوبے کو مزید مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا جس میں اس کی وضاحت، مارکیٹ کی حرکیات، منفرد قدر کی تجویز، کاروباری ماڈل، اور سرمایہ کاری کی تشخیص شامل تھی۔ اہم عوامل میں ممکنہ پیداوار، بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی ضرورت اور افرادی قوت کی ضرورت شامل ہیں۔ ہر منصوبے نے ایک مختصر مالی ترتیب دی جس میں داخلی شرح واپسی، ادائیگی کی مدت اور منصوبے کی ممکنہ مدت شامل ہے۔
ملاقاتوں کے دوران دونوں ممالک کے ماہرین، عہدیداروں اور کارپوریٹ سیکٹر کے رہنماں نے سارا وقت اکھٹے قیام کیا جس میں انہوں نے دستیاب منصوبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
پاکستانی کاروباری ماڈلز اور مواقع پر سعودی عرب کے اعتماد میں بہتری کے ساتھ ساتھ دیگر خلیجی ممالک بھی اس کی پیروی کریں گے۔ ہم پہلے ہی مشرق وسطی کے ممالک کے ساتھ متعدد مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کر چکے ہیں۔ اس بات کا امکان ہے کہ سعودی عرب کے پاکستان کے ساتھ سرمایہ کاری کے شراکت دار کے طور پر آنے سے وہ ممالک معاہدوں اور معاہدوں کو حتمی شکل دینے میں بھی تیزی لائیں گے۔
دنیا ایس آئی ایف سی کی شکل میں پاکستان میں مقاصد کی سنجیدگی کو دیکھتی ہے، جو معیشت میں بہتری کے واحد نکاتی ایجنڈے کے ساتھ سیدھی سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ صرف ایک سال سے بھی کم عرصے میں ایس آئی ایف سی نے معاشی ترقی میں مسائل کے شعبوں کی نشاندہی کرکے، معاشی ترقی کے مقاصد کے حصول میں اہم کردار ادا کرنے والے اہم شعبوں کو اجاگر کرکے اور ان شعبوں میں ترقی کی جانب چھوٹے اقدامات سے آغاز کرکے اپنی اہلیت ثابت کی ہے۔
ماہر معاشیات خرم حسین کا تجزیہ ہے کہ سعودی عرب گزشتہ تین چار دہائیوں سے تیل سے حاصل ہونے والے پیسے کی اب تقریباً تمام دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ جس میں زیادہ تر سرمایہ کاری سعودی عرب کے اندر ہو رہی ہے اور اب وہ مصر سے لے کر پاکستان تک ایسی منڈیوں کی تلاش میں ہے جہاں وہ اپنا سرمایہ لگا کر منافع حاصل کرے۔
بنیادی مواقع
•    یہ کانفرنس خطے میں بالخصوص اور دنیا بھر میں بالعموم پاکستان کی مختلف جغرافیائی سیاسی اور جغرافیائی تزویراتی حرکیات کی وجہ سے بہت اہمیت کی حامل ہے۔ اس خوشگوار ماحول نے ایک عارضی موقع پیدا کر دیا ہے جس سے اگر مناسب فائدہ نہ اٹھایا گیا تو اس سے پاکستان کو بڑا نقصان ہو سکتا ہے۔ ان میں سے کچھ جہتیں درج ذیل ہیں: -
•    پاکستان قرضوں کے بوجھ سے نکلنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے جس سے اس کی معیشت کمزور ہو رہی ہے اور ترقی میں ایک بڑی رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے، کیونکہ ہم قرضوں کی قسطوں کی ادائیگی کے لیے کافی رقم پیدا کرنے سے قاصر ہیں، جو بہت بھاری سود کے اضافے کے ساتھ آتے ہیں۔
•    سعودی عرب اور مشرق وسطی، ایشیا اور افریقہ کے دیگر ممالک سے آنے والے چند سالوں میں اپنی آبادی کے لیے غذائی تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ پاکستان، ایک زرعی ملک ہونے کے ناتے، جس نے دوسرا زرعی انقلاب شروع کیا ہے، ان ممالک کو اپنے غذائی تحفظ کے مسائل کو پورا کرنے کے مواقع فراہم کرتا ہے۔
•    پاکستان میں توانائی کے شعبے، کان کنی اور معدنیات کے شعبے اور آئی ٹی کے شعبے سے متعلق پوشیدہ خزانے موجود ہیں جو دنیا بھر میں متعلقہ صنعتوں کی حیاتِ نو بن سکتے ہیں۔

مضمون 382 مرتبہ پڑھا گیا۔