اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 21:02
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ
Advertisements

ہلال اردو

بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی 

مئی 2024

بھارت کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے آن دی ریکارڈ اعتراف کیا ہے کہ بھارت پاکستان کے اندر درجنوں افراد کو قتل کرتا رہا ہے ۔ دوسری جانب پاکستان نے اقوام متحدہ سمیت بعض دیگر فورمز اور اتحادی ممالک کے ساتھ وہ ناقابل تردید شواہد  شیئر کیے ہیں جن سے یہ ثابت ہوتاہے کہ بھارت، پاکستان کے اندر اپنی خفیہ ایجنسیوں کے ذریعے نہ صرف اہم لوگوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بناتا آرہا ہے بلکہ وہ متعدد کالعدم گروپوں کی سرپرستی کرتے ہوئے ان کو فنڈنگ کرتا ہے اور اسلحہ کی فراہمی سمیت دیگر سہولیات بھی فراہم کرتا ہے ۔اسی طرح یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہبعض عناصرکو پاکستان کے خلاف اُکسانے میں بھی بھارت اور اس کے ان حمایت یافتہ پاکستانیوں کا مرکزی کردار رہا ہے جو کہ سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے ذریعے بھارت سے فنڈز اور مراعات لیتے رہے ہیں ۔



آف دی ریکارڈ تو بھارت یہپاکستان مخالفسرگرمیاں کرتا آرہا تھا تاہم اب   آفیشل لیول پر بھی جب یہ تسلیم کیا گیا کہ بھارت ،پاکستان میں کینیڈا اور بعض دیگر ممالک کی طرح ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ملوث ہونے کا خود اعتراف کررہا ہے تو معاملے کو عالمی کوریڈورز میں بھی انتہائی سنجیدگی کے ساتھ لیا گیا۔ دی گارڈین ، نیویارک ٹائمز جیسے میڈیا اداروں نے پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے بھارت کے اس کردار پر تشویش کا اظہار کیا اور قرار دیا کہ پاکستان کی بدامنی میں بھارت کا بہت بڑا ہاتھ رہا ہے ۔ دی گارڈین نے اس سلسلے میں ماہ اپریل کے دوران تقریباً تین رپورٹس شائع کیں جن میں بتایا گیا کہ بھارت پڑوسی ممالک میں نہ صرف یہ کہ کھل کر مداخلت کرتا آرہا ہے بلکہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں بھی براہ راست ملوث ہے اور ساتھ ہی متعدد کالعدم گروپوں کو مختلف شعبوں میں فنڈنگ بھی کررہا ہے جن میں بلوچ علیحدگی پسند اورکالعدم ٹی ٹی پی بھی شامل ہیں ۔ 
بھارتی وزیر دفاع کے اس غیر متوقع بیان کو سفارتی اور دفاعی حلقوں میں بھارت کا سرکاری سطح پر اعتراف جرم قرار دیا گیا تاہم بھارت سرکار نے اس کی تردید یا وضاحت بھی نہیں کی جس پر عالمی کوریڈورز میں مزید تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ الٹا بھارتی میڈیا نے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کو " خراجِ تحسین " پیش کرتے ہوئے ان کے اس اعتراف جرم کو جرأت مندانہ اقدام قرار دیتے ہوئے مشورہ دیا کہ بھارت، پاکستان کو سیاسی عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لیے مزید فنڈنگ کرے ۔
بھارتی وزیر دفاع کے اس بیان پر فوری ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی وزارت خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرا بلوچ نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ سمیت متعدد دیگراداروں اور ممالک کو بھی بھارتی کردار کے ثبوت متعدد بار پیش کرچکا ہے اور یہ بات پاکستان کے علاوہ متعدد دیگر اداروں اور ممالک کے نوٹس میں بھی ہے کہ بھارت نے پاکستان میں کس نوعیت کا کھیل جاری رکھا ہوا ہے ۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کے خلاف اپنے نام نہاد الزامات کو شہ دینے کے لیے بھارت ماضی میں نہ صرف اپنی فورسز پر حملے کراتا رہا ہے بلکہ فیک آپریشنز کے حربے بھی استعمال کرتا رہا ہے۔ ان کے بقول بالاکوٹ کا فیک  آپریشن اس کی زندہ مثال ہے جس کو دہشت گرد کیمپوں کے خلاف ایک " کامیاب " فضائی کارروائی کا نام دیتے ہوئے جہاں اپنے عوام کو گمراہ کیا گیا وہاں بھارت نے خود کو عالمی سطح پر مذاق بنانے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔ 
اسی بیان پر اپنے ردعمل میں پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ بھارت کو ابھی نندن اور ان کے طیارے کو گرانے کے پاکستانی اقدام سے سبق سیکھتے ہوئے کسی قسم کی غلطی دہرانے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ پاکستان نہ صرف یہ کہ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے بلکہ ہم جواب دیتے بھی رہے ہیں ۔ 
اس سے قبل بھارت کو عالمی سطح پر اس وقت شدید نوعیت کی سبکی کا سامنا کرنا پڑا جب اس کے خفیہ اداروں نے کینیڈا جیسے ملک میں بعض اہم سکھ رہنمائوں کو قتل کیا اور تحقیقات کے بعد کینیڈا کے وزیر اعظم نے بذات خود بھارت کی کھل کر مذمت کرتے ہوئے یہاں تک کہا کہ وہ اس معاملے کو کسی بھی حد تک لے جانے کی واضح پالیسی پر گامزن ہیں ۔ کینیڈا میں ہونے والی ٹارگٹ کلنگ پر امریکہ نے بھی بہت سخت ری ایکشن دکھایا اور اس عمل کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے بھارت سے وضاحت طلب کرلی ۔ 
اس تمام منظر نامے کو پاکستان ، سری لنکا ، فلپائن ، تبت اور چین کے اندر ہونے والے واقعات اور بھارتی مداخلت کے تناظر میں دیکھا گیا اور ان تمام ممالک نے بھارتی کردار کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ 
دریں اثنا جب 2024 کے اوائل میں ایران نے بلوچستان کے ایک علاقے پنجگور میں ایک فضائی کارروائی کی اور اس کے اگلے روز پاکستان نے ایران کے صوبہ سیستان میں اس سے ڈبل کارروائی کرتے ہوئے سخت جواب دیا تو بھارتی میڈیا نے پوری کوشش کی کہ اس تلخی کو مزید کشیدگی میں تبدیل کرکے امریکہ جیسے ممالک کو بھی ملوث کرایا جائے ۔ تاہم اگلے روز بھارتی توقعات اور کوششوں کے برعکس ایران کے وزیرِ خارجہ اپنی ٹیم کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ گئے جہاں دونوں ممالک نے ایک جوائنٹ مکینزم قائم کرتے ہوئے واضح پیغام دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان کوئی مستقل کشیدگی نہیں ہے اور یہ کہ کراس بارڈر ٹیررازم کے معاملے پر ایک دوسرے کو ساتھ لے کر آگے بڑھیں گے ۔ 
جس وقت ایران کے وزیرِ خارجہ پاکستان کے دورے پر تھے اس دوران ایک بلوچ شدت پسند تنظیم نے صوبہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں فورسز پر ایک بڑا حملہ کیا جس کے نتیجے میں فورسز کے ایک درجن سے زائد افراد شہید ہوگئے جبکہ جوابی کارروائیوں میں درجنوں حملہ آور ہلاک کیے گئے ۔ اس واقعے یا حملے کی جب تحقیقات کی گئیں تو پتہ چلا کہ جو گروپ اس میں ملوث تھا اس کو بھارت پیسہ اور اسلحہ فراہم کرتا آرہا ہے اور یہ بھی کہ بھارت بلوچستان میں متعدد دیگر گروپوں کی بھی کھل کر سرپرستی کررہاہے ۔ 
اسی نوعیت کی اطلاعات کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے بارے میں سامنے آتی رہیں کہ بھارت اس گروپ کی بھی مکمل سرپرستی کرتا آرہا ہے تاکہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کیا جاسکے ۔ 
بھارت کا یہ کردار کئی دہائیوں سے چلا آرہا ہے تاہم ماضی میں وہ اس طرح کی براہ راست کارروائیوں اور اعتراف سے گریز کرتا رہا جبکہ اس مرتبہ  وہ کھلے عام ایسی مداخلت اور کارروائیوں کا نہ صرف اعتراف کرتے پایا گیا بلکہ وزیر دفاع اور' را' کے سربراہ کی سطح پر ایسی کارروائیوں کا کریڈٹ بھی لیتے دیکھا گیا ۔ افغانستان کے اندر بھارت کئی دہائیوں سے پاکستان کے خلاف کیا کچھ کرتے دکھائی دیا اس کی تفصیلات کے لیے سال 2004 کے دوران' را' کے ایک سابق آفیسر یلدیو کی ایک مشہور کتاب " مشن را " کا مطالعہ لازمی ہے جس میں وہ پاکستان کے بلوچ اور پشتون قوم پرستوں کو افغانستان کے ذریعے فنڈنگ اور سپورٹ کرنے کی پوری کہانی سناتے ہیں ۔ 
پاکستان کو اس تمام صورتحال کے تناظر میں جہاں بھارت کی اس نوعیت کی کارروائیوں سے دوچار ہونا پڑا وہاں بھارت کے خفیہ اداروں نے ان پاکستانیوں کی بھی بہت بڑے پیمانے پر فنڈنگ کی جنہوں نے بیرونی ممالک میں بیٹھ کر سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان کے خلاف دن رات منفی پروپیگنڈا کرتے ہوئے عوام کو اداروں اور ریاست کے خلاف اُکسانے کی سازش کی ۔
اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سینیئر تجزیہ کار اور اینکر پرسن جواد فیضی نے کہا کہ پاکستان کے خلاف ہونے والے تمام پروپیگنڈا ہینڈلرز کو بھارت اور بعض دیگر ممالک کی سرپرستی حاصل ہے اور ان تمام حلقوں کو بیرون ملک سے ہدایات اور سہولیات ملتی آرہی ہیں ۔ ان کے بقول جو ملک اپنے مخالفین کو کینیڈا جیسے ملک میں قتل کرواسکتا ہے وہ پاکستان میں کیا کچھ کرتا ہوگا اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔ 
کینیڈا میں مقیم پاکستانی صحافی انیس فاروقی کے مطابق  بھارت کی شرپسندی سے پڑوسی تو ایک طرف کینیڈا جیسے ممالک بھی محفوظ نہیں ہیں اور اب تو امریکہ بھی بھارت کو بہت شک کی نظر سے دیکھنے لگا ہے ۔ ان کے مطابق امریکہ نے کینیڈا میں سکھ رہنمائوں کے قتل کے بعد بھارت کے کردار اور طریقہ کار پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کھل کر کینیڈین مؤقف کی تائید کی جس سے بھارتی سفارتکاری اور ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی وزیر دفاع کے اعتراف جرم سے عالمی سطح پر پاکستان کا کیس اور مؤقف مزید مضبوط ہوگیا ہے ۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان اپنا کیس مزید تیاری کے ساتھ پیش کرے اور ان لوگوں اور حلقوں پر سخت دبائو بڑھائے جو کہ پاکستانی ہوکر بھارت اور بعض دیگر مخالف ممالک کے ہاتھوں کھلونا بنے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج کو کمزور کرنا پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کو کمزور کرنے کے مترادف ہے اس لیے ایسے تمام عناصر سے سختی کے ساتھ نمٹنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ پاکستان متعدد چیلنجز کے علاوہ بے شمار امکانات کے ایک اہم مرحلے سے بھی گزر رہا ہے ۔


مضمون نگار معروف صحافی ہیں۔ علاقائی و بین الاقوامی امور پر لکھتے ہیں۔
 [email protected]
 

مضمون 333 مرتبہ پڑھا گیا۔