اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 03:04
اداریہ۔ جنوری 2024ء نئے سال کا پیغام! اُمیدِ صُبح    ہر فرد ہے  ملت کے مقدر کا ستارا ہے اپنا یہ عزم ! روشن ستارے علم کی جیت بچّےکی دعا ’بریل ‘کی روشنی اہل عِلم کی فضیلت پانی... زندگی ہے اچھی صحت کے ضامن صاف ستھرے دانت قہقہے اداریہ ۔ فروری 2024ء ہم آزادی کے متوالے میراکشمیر پُرعزم ہیں ہم ! سوچ کے گلاب کشمیری بچے کی پکار امتحانات کی فکر پیپر کیسے حل کریں ہم ہیں بھائی بھائی سیر بھی ، سبق بھی بوند بوند  زندگی کِکی ڈوبتے کو ’’گھڑی ‘‘ کا سہارا کراچی ایکسپو سنٹر  قہقہے اداریہ : مارچ 2024 یہ وطن امانت ہے  اور تم امیں لوگو!  وطن کے رنگ    جادوئی تاریخ مینارِپاکستان آپ کا تحفظ ہماری ذمہ داری پانی ایک نعمت  ماہِ رمضان انعامِ رمضان سفید شیراورہاتھی دانت ایک درویش اور لومڑی پُراسرار  لائبریری  مطالعہ کی عادت  کیسے پروان چڑھائیں کھیلنا بھی ہے ضروری! جوانوں کو مری آہِ سحر دے مئی 2024 یہ مائیں جو ہوتی ہیں بہت خاص ہوتی ہیں! میری پیاری ماں فیک نیوزکا سانپ  شمسی توانائی  پیڑ پودے ...ہمارے دوست نئی زندگی فائر فائٹرز مجھےبچالو! جرات و بہادری کا استعارہ ٹیپو سلطان اداریہ جون 2024 صاف ستھرا ماحول خوشگوار زندگی ہمارا ماحول اور زیروویسٹ لائف اسٹائل  سبز جنت پانی زندگی ہے! نیلی جل پری  آموں کے چھلکے میرے بکرے... عیدِ قرباں اچھا دوست چوری کا پھل  قہقہے حقیقی خوشی اداریہ۔جولائی 2024ء یادگار چھٹیاں آئوبچّو! سیر کو چلیں موسم گرما اور اِ ن ڈور گیمز  خیالی پلائو آئی کیوب قمر  امید کا سفر زندگی کا تحفہ سُرمئی چڑیا انوکھی بلی عبدالرحیم اور بوڑھا شیشم قہقہے
Advertisements
Advertisements

ہلال کڈز اردو

’’پوچھے جو نام کوئی، تم پاکستان بتانا ‘‘

اپریل 2024

عبداللہ بڑی محبت سے یہ ملّی نغمہ گنگناتاہوا گھر میں داخل ہوا تو اسے دیکھ کر دادا جان کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ عبداللہ اپنے امی ابو کے ساتھ اسلام آباد میں یوم پاکستان کے موقع پر منعقد ہونے والی افواجِ پاکستان کی  پریڈ دیکھ کر گھر لوٹا تھا۔ دادا جان ان کے بے چینی سے منتظر تھے۔



ارے واہ بھئی! ’’آپ کو تو یہ نغمہ یاد بھی ہو گیا۔میں نے بھی ابھی ابھی ٹی وی پر یہ سنا ہے۔ بہت دلفریب نغمہ ہے ۔اس میں ہماری تاریخ کی جھلک بھی موجود ہے اور ہماری جدوجہد آزادی کا تذکرہ بھی۔ جوش و جذبہ بھی ہے اور وطن کی حفاظت کرنے کا عزم بھی۔ ‘‘دادا جان نے عبداللہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو اس نے ایک بار پھر جوش سے گنگناناشروع کر دیا۔
اک خواب تھا، اک خواب سے کوشش ہوا
کوشش بھی ہو، پھر بن گئی دل کی دعا
پوچھے جو نام کوئی، تم پاکستان بتانا 
بہت خوب ! دادا جان نے عبداللہ کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیرا اور اسے دعائیں دینے لگے۔ اگرچہ وہ ٹیلی وژن پر پریڈ دیکھ چکے تھے تاہم وہ عبداللہ سے اس کا احوال سننا چاہتے تھے تاکہ انہیں معلوم ہو سکے کہ آج ان کے پوتے نے وہاں کیا دیکھا اورکیاسیکھا۔ 
’’دادا جان!آج میں نے آپ کو بہت مِس کیا۔ ‘‘وہ ان کے قریب کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہنے لگا۔’’آپ کو یاد ہے پچھلی مرتبہ جب ہم سب شکر پڑیاں پریڈ گرائونڈ گئے تھے تو وہاں داخل ہوتے ہی ایک جوش و جذبہ دیکھنے کو ملا تھا۔ آج جوش و خروش اس سے بھی زیادہ تھا۔میں نے وہاں بیٹھ کر پریڈ کے سارے منظر دیکھے۔مزہ آگیا!‘‘
’’ہاں بھئی! یہ تو ہے ۔ تو پھر ذرا بتائو کہ اس مرتبہ پریڈ میں کیا الگ تھا؟‘‘ دادا جان اب اس کی یاد داشت کا امتحان لینے لگے تھے۔ 
’’اس مرتبہ پریڈ کی کیا بات تھی۔ بہت شاندار!جس جگہ پر ہم بیٹھے تھے وہاں بہت بڑے بڑے بینرز اور پوسٹرز آویزاں تھے۔ پاکستان کی ثقافتوں ، رنگوں، علم و ہنر، ادب، تہذیبی روایات، پاکستان کے مختلف صوبوں کی خصوصیات، ہنرمند پاکستانیوں کی خدمات، گلوکاروں اور نوجوانوں کی تصاویر ہمارے ہردلعزیز وطن کی نمایاں خصوصیات کو داد تحسین پیش کر رہی تھیں۔یہ سب دیکھ کر میری معلومات میں بہت اضافہ ہوا۔ آپ کو معلوم ہے کہ مجھے پہاڑ سر کرنے کا شوق ہے۔ میں نے وہاں اپنے پسندیدہ نوجوان شہروز کاشف کی تصویر بھی دیکھی جس نے حال ہی میں پاکستان اور نیپال میں کئی بلند ترین چوٹیوں کو سر کر کے پاکستان کا نام فخر سے بلند کردیا ہے۔ ‘‘
 ’’اور یہ دیکھیں میر ی کیپ، کتنی خوبصورت ہے نا؟‘‘ عبداللہ نے سبز رنگ کے لفافے کے اندر سے سبز و سفید رنگ کی ایک خوبصور ت ٹوپی نکال کر پہن لی۔ سبزوسفید ٹوپی پر 23مارچ یوم ِ پاکستان کی کشیدہ کاری کی ہوئی تھی۔ 
’’واہ بھئی، بہت اچھی لگ رہی ہے۔‘‘ دادا جان نے مسکراتے ہوئے کہا۔
 ’’اچھا بھئی، اب آگے کا احوال بتائو۔‘‘ دادا جان نے اس کی باتوں میں دلچسپی لیتے ہوئے کہا۔



دادا جان کے سوال پر اس نے پریڈ کے آغاز، تلاوت کلام پاک، فوجی دستوںکی آمد، قومی ترانے کی دھن میں نشانداروں کا اپنی مخصوص جگہ لینا ، قومی ترانے پر سب کا احتراماً کھڑے ہو جانا، پاک فضائیہ کے طیاروں کا فلائی پاسٹ، رنگ بکھیرتی شیردل ٹیم اور آخر میں تینوں مسلح افواج کے دستوں کا مارچ پاسٹ اس نے ایک ایک کرکے سب دادا جان کے گوش گزار کردیے۔ 
’’دادا جان! ’اللہ ہو ‘کا نعرہ لگاتا جب کمانڈوز کا دستہ گزرا تو سب نے اسے خوب داد دی۔ پھر جنگی سازو سامان، الخالد اور حیدر جیسے ٹینک گزرے، میں نے غوری، غزنوی میزائل بھی بہت قریب سے دیکھے۔‘‘عبداللہ بڑے جوش و خروش سے پریڈ کا احوال بیان کررہا تھا۔
’’دادا جان’’ پریڈ کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ اس مرتبہ تو اس میں چین اور آذربائیجان کے فوجی دستے بھی شامل ہوئے ۔ ‘‘
’’بھئی واہ! ان دونوں ممالک سے ہمارے گہرے روابط ہیں۔‘‘ دادا جان نے تبصرہ کیا اور پھر فلائی پاسٹ کا ذکرشروع ہوگیا۔
فلائی پاسٹ کا نام سنتے ہی عبداللہ کے کانوں میں ایف سولہ، جے ایف17تھنڈر اور J10Cمعراج کی گھن گرج گونجنے لگی ۔اسے شیر دل ٹیم کا آسمان میں مختلف رنگ بکھیرنے والا مظاہرہ بھی یاد آ گیا۔ اگلے لمحے روایتی اور کلچرل فلوٹس کا ذکر آیا تو عبداللہ کہنے لگا کہ اس کو ڈھول کی تھاپ پرپنجاب کی ثقافت کا مشہو ر رقص (لڈی ) بہت پسند آیا۔ 
’’دادا جان! کیا آپ نے فلوٹس کے اوپربنی عمارات اور ماڈلز دیکھے؟ ؟‘‘
’’ہاں ہاں،کیوں نہیں۔اس طرح کی چیزیں، مقامات اور خصوصیات ہی توہماری منفرد ثقافت کی پہچان ہیں ۔پنجاب کے ساتھ ساتھ سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان ،گلگت بلتستان، اور وادی کشمیر کی ثقافتوں کے بھی اپنے اپنے رنگ ہیں۔‘‘ دادا جان عبداللہ کی باتوں پر تبصرہ کرتے جارہے تھے۔
’’ اچھا! یہ تو بتائو کہ پریڈ میں ’پرائڈ آف پاکستان‘ بھی شامل ہوئے تھے، کیا تم کسی سے ملے بھی ہو؟‘‘ دادا جان کے سوال پر عبداللہ سوچ میں پڑ گیا۔ 
’’دادا جان، میںتو ہرکسی سے ملنا چاہتا تھا خاص طورپر نجیب اللہ مہمند سے  لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوسکا۔رش کی وجہ سے ہمیں جلدی لوٹنا تھا۔‘‘
’’ کوئی بات نہیںلیکن آپ نجیب سے خاص طور سے کیوں ملنا چاہتے تھے؟‘‘
’’دادا جان،آپ تو جانتے ہیں کہ مجھے کوہ پیمائی کے ساتھ ساتھ مطالعہ اورکتابوں کا بھی شوق ہے۔ نجیب اللہ وہ ہیرو ہے جس نے فاٹا کے دور دراز علاقوں میں غریب بچوںکی تعلیم و تربیت کے لیے بہت سے کام کیے ہیں۔ انہوں نے وہاں دو لائبریریاں بھی بنائی ہیں اس کے علاوہ بچوں کے لیے سکلز سنٹر بھی قائم کیا ہے۔ میں بھی ایسا ہی کام کرنا چاہتا ہوں ۔ ‘‘
دادا اور پوتا پریڈ پر کافی باتیں کر چکے تھے۔ افطاری کا وقت قریب تھا تو دادا جان اپنی بات سمیٹتے ہوئے کہنے لگے، ’’ارے بھئی !آپ وہاں آویزاں  قائداعظم اور علامہ  اقبالؒ کے بڑے بڑے پوسٹرز کا ذکرتو بھول ہی گئے۔ بتائو! بھلا وہ پوسٹرز ہمیں کیا یاد دلارہے تھے؟‘‘
’’دادا جان! یقیناَ وہ ہمیں قیام پاکستان کے لیےہمارے بزرگوں کی جدوجہد اور کی قربانیوں کی یاددلارہے تھے۔‘‘
’’شاباش بیٹا! 23مارچ قیامِ پاکستان کی جدوجہد کی جانب ایک اہم سنگ میل اور ہماری تاریخ کے انمول دنوںمیں سے ایک ہے۔اس دن قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ’’قراردادِ پاکستان‘‘کے ذریعے الگ وطن حاصل کرنے کا جو عزم کیا گیا تھا ، اسے تحریک پاکستان کے قائدین اور کارکنوں نے اتحاد و یکجہتی، خلوصِ نیت اور بھرپور جدوجہد کے ذریعے جلد پورا کر دکھایا۔الحمدللہ، آج ہم آزاد ہیں اور پاکستان ہماری پہچان ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس دن کی اہمیت کو یاد رکھتے ہوئے اپنے وطن کی تعمیر و ترقی میں خوب بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ ‘‘ 
’’انشااللہ... پاکستان کے لیے ہماری جان بھی حاضر ہے!‘‘ عبداللہ کے چہرے سے ایک عزم عیاں تھاجسے دیکھتے ہوئے دادا جان بھی بے اختیار  گنگنانے لگے:
ہاں، روشن رہے یہ ستارا، تو چاند بن جانا 
پوچھے جو نام کوئی، تم پاکستان بتانا
 

Advertisements