اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 17:33
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

حفصہ محمد فیصل

Advertisements

ہلال اردو

رمضان کے شام و سحر کی نورانیت

مارچ 2024

 رمضان المبارک کی آمد کے ساتھ ہی ایک پر کیف اور سرور آمیز نورانیت ہر شے کا احاطہ کرتی محسوس ہوتی ہے۔ مسلمانوں کے لیے ماہ صیام بہترین ایام کے طور پر شمار ہوتا ہے ۔سحر و افطار کا اہتمام، تلاوت قرآن اور تراویح کی رونقیں ہر مقام اور ہر مکان پر جا بجا نظر آتی ہیں۔



ماہ مبارک کی نورانیت اور ان ایام میں اجرات کے جو وعدے ہمیں اللہ رب العزت اور اللہ کے رسولۖ کے فرمان سے سننے کو ملتے ہیں، انہیں محسوس کر کے ہم اس تصور میں کھو جاتے ہیں، جب روزے کے ثمرات اور اجرات دیے جائیں گے۔
رسول ۖ کا ارشاد پاک ہے: جب رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں ، اور ایک روایت میں ہے کہ جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیئے جاتے ہیں اور شیاطین جکڑ دیئے جاتے ہیں، اور ایک روایت میں بجائے ابوابِ جنت کے ابوابِ رحمت کھول دیئے جانے کا ذکر ہے۔(مشکوٰة)
 اسی طرح روزے کے ایک طرف کئی طبی فوائد ہیں، جو ہمیں جسمانی لحاظ سے حاصل ہوتے ہیں، تو دوسری طرف روحانی فوائد اور اجرات لاتعداد اور بے شمار ہیں۔
نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا؛
الصوم جن یسجن بھا العبد من النار
روزہ ایک ڈھال ہے جس کے ذریعے سے بندہ جہنم کی آگ سے بچتا ہے۔(صحیح الجامع)
ایک دوسری روایت کے الفاظ اس طرح ہیں:
الصوم جن من عذاب اللہ(صحیح الجامع)
روزہ اللہ تعالی کے عذاب سے(بچائو کی )ڈھال ہے۔
کتنے مختصر اور جامع الفاظ میں اللہ تعالی نے اس روزے کو جہنم سے ڈھال قرار دے کر ہمیں نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کے ذریعے سے ایک بہترین خوشخبری سے نوازا ہے۔
 ڈھال کسی چیز سے رکاوٹ اور پناہ کے طور پر استعمال کی جاتی ہے اور یہ چند دن کے روزے ہمیں جہنم کی دہکتی آگ سے پناہ کا وعدہ دے رہے ہیں۔
ایک اور جگہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی روزے داروں کو خوشخبری دی جارہی ہے کہ؛
جنت کے( آٹھ دروازوں میں سے) ایک دروازے کا نام  ریان ہے، جس سے قیامت کے دن صرف روزے دار داخل ہوں گے، ان کے علاوہ اس دروازے سے کوئی داخل نہیں ہوگا۔ کہا جائے گا روزے دار کہاں ہیں؟ تو وہ کھڑے ہو جائیں گے اور (جنت میں داخل ہوں گے) ان کے علاوہ کوئی اس دروازے سے داخل نہیں ہوگا۔ جب وہ داخل ہو جائیں گے، تو وہ دروازہ بند کر دیا جائے گا اور کوئی اس سے داخل نہیں ہوگا۔(صحیح البخاری وصحیح مسلم)
سبحان اللہ! کیا ہی منظر ہوگا؟ جب ابد سے قیامت تک کے تمام انسان میدان حشر میں جمع ہوں گے اور پکارنے والا پکارے گا ؛ کہاں ہیں روزے دار؟
 اور دیگر امت کے چند لوگوں کے علاوہ امت محمدیہ کے بیشتر لوگ اس منادیٰ کی پکار پر کھڑے ہو کر لبیک کہیں گے اور ایک مخصوص دروازے سے اللہ رب العزت کی سجائی ہوئی خوبصورت جنت میں داخل ہوں گے۔
 کیسے کیسے انعامات کے وعدے اس چھوٹے سے عمل پر اللہ رب العزت نے امت محمدیہ کے لیے تیار کر رکھے ہیں۔
ایک اور جگہ ارشاد فرمایا گیا کہ؛
روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں جن سے وہ خوش ہوتا ہے۔ ایک جب وہ روزہ کھولتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور دوسری خوشی جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے سے خوش ہوگا۔(صحیح بخاری)
تلاوتِ قرآن مجید اور ماہ صیام:
تلاوتِ قرآن کو رمضان المبارک سے خاص تعلق حاصل ہے،اور اس کی متعدد وجوہات ہیں۔
اول الذکر:اللہ رب العزت نے اس پاک کلام کے نزول کے لیے ماہ رمضان المبارک کو اعزاز بخش کر اس ماہ کی قدر و منزلت میں مزید اضافہ کردیا۔
 دوم، نبی صلی اﷲ علیہ وسلم نے بھی رمضان المبارک میں تلاوتِ قرآن کو فوقیت اور برتری بخشی ہے، دیگر ایام سے زیادہ اس کی تلاوت کا اہتمام کیا ہے۔ حتیٰ کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ رمضان المبارک میں نبی اکرمۖنے قرآن کریم کا دورہ بھی کیا،اس عمل نے مہر ثبت کردی کہ رمضان المبارک اور تلاوت قرآن کا چولی دامن جیسا ساتھ ہے۔
ایک طرف جہاں ماہ مبارک کے دن روزے سے آباد ہوتے ہیں تو اس کی راتیں تراویح کے اہتمام سے پر رونق اور پر سعید بنتی ہیں۔ تراویح کی بیس رکعتوں میں ختم قرآن کا اہتمام حرمین شریفین اور دنیا کی تقریباً تمام ہی مساجد میں بڑے انتظام و اہتمام سے کیا جاتا ہے۔
 صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور بزرگان دین کا رمضان میں تلاوت کا خاص اہتمام کرنا درج بالا باتوں کی مکمل کی تصدیق کرتی ہیں۔ یہ سب امور اس خصوصیت کو ظاہر کرتے ہیں کہ اس ماہ میں کثرت سے تلاوتِ قرآن میں مشغول رہنا باعثِ سعادت ہے۔
ماہِ رمضان کا قرآن کریم سے خاص تعلق ہونے کی سب سے بڑی دلیل قرآن کا اس ماہ میں نازل ہونا ہے۔
تراویح کی اہمیت اور فضیلت؛
 جو شخص رمضان کی راتوں میں ایمان اور ثواب کی نیت سے (نماز وغیرہ میں )کھڑا رہا تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیے  جاتے ہیں۔(بخاری ومسلم شریف) نیز قیام اللیل کے جو عمومی فضائل ہیں وہ نمازِ تراویح پر بھی صادق آتے ہیں۔
 تراویح دراصل قیام اللیل ہی کا ایک طریقہ کار ہے،جو اللہ رب العزت نے ماہ صیام کی اہمیت اور فضیلت کو بڑھانے کے لیے تلاوت قران اور تراویح کی 20 رکعتوں کو سنت مؤکدہ قرار دے کر مسلمانوں کے لیے زیادہ سے زیادہ نیکیوں میں اضافے کا سبب بنایا ہے۔
 مزید برآں تراویح رسول اللہ ۖ سے اور آپ ۖ کے بعد خلفائِ راشدین سے اہتمام کے ساتھ ثابت ہے، اتنی بات اس کی فضیلت کے لیے کافی ہے۔
نماز تراویح سنت مؤکدہ ہے اور تراویح میں ایک مرتبہ پورا قرآن پاک پڑھنا یا سننا بھی سنت مؤکدہ ہے۔ یہ دونوں عمل علیحدہ علیحدہ دو سنتیں ہیں۔ اس لیے جو لوگ سورتوں کے ساتھ نماز تراویح ادا کرتے ہیں اور پورا قرآن مجید تراویح میں پڑھتے یا سنتے نہیں وہ تراویح کی سنت تو ادا کرتے ہیں لیکن تراویح میں پورا قرآن مجید پڑھنا یا سننا ان کے ذمے باقی رہتا ہے۔ اسی طرح جو لوگ چند راتوں میں قرآن پاک پورا سن کر تراویح چھوڑ دیتے ہیں ان کے ذمہ تراویح کی سنت باقی رہتی ہے۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید کے ختم ہو جانے کے بعد اکثر لوگ تراویح کے ادا کرنے میں جو سستی کرنے لگتے ہیں یہ بھی ایک بڑی غلطی ہے، تراویح مکمل ماہ ہر رات پڑھنی ہے۔ 
قرآن مجید کے بعد بھی رمضان المبارک کی تمام راتوں میں عیدالفطر کے چاند دیکھنے تک تراویح کا پڑھنا سنت ہے۔
 ایک حدیث مبارکہ میں تو یہاں تک اللہ کے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو خوش خبری دی کہ : حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہۖ نے ارشاد فرمایاکہ جس شخص نے ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے رمضان کا قیام کیا (یعنی رات کو تراویح پڑ ھیں)اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ (بخاری و مسلم)
ان تمام فضیلتوں کا علم ہونے کے بعد تو ہر مسلمان کو ذوق وشوق سے تراویح کو پورے اہتمام سے ادا کرنا چاہیے تاکہ رمضان المبارک کی برکتوں سے سرفراز ہو سکے، اس کی مغفرت ہو اور اللہ تعالی کی رحمتوں سے نوازا جائے۔
ماہ مبارک اور صدقہ و خیرات کا عمل
صدقہ و خیرات وہ مال ہے جو اللہ کی رضا کے لیے غریب و مسکین لوگوں کو دیا جاتا ہے۔ زکوٰة و عشر اور صدقہ فطر تینوں واجب ہیں۔ جو ان تینوں میں سے کسی ایک کو ادا نہ کرے گا، سخت گنہگار ہوگا۔ ان کے علاوہ نفلی صدقات کی اقسام اور طریقے بے شمار ہیں۔ راہِ خدا میں صدقہ و خیرات کرنے کا بہت زیادہ اجر و ثواب ہے اور دنیا و آخرت میں اس کے بے شمار فوائد ہیں۔ رمضان المبارک میں کچھ صدقات واجب یعنی ضروری ہیں جب کہ نفلی صدقہ و خیرات کرنے کی فضیلت بھی بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے، اسی لیے مسلمانان عالم اس ماہ میں بڑھ چڑھ کر صدقہ و خیرات کرتے ہیں۔
 اسی عمل کی فضیلت کا علم ہمیں حضور نبی اکرمۖ کی متعدد احادیثِ مبارکہ سے ملتا ہے :
1۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرمۖ سے پوچھا گیا : کون سا صدقہ افضل ہے؟ آپ صلی اللہ  علیہ وسلم نے فرمایا :  رمضان میں صدقہ کرنا افضل ہے۔
 (ترمذی، السنن، کتاب الزکا، باب ما جا فی فضل الصدقہ)
2۔ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرمۖ تمام لوگوں سے بڑھ کر سخی تھے۔ رمضان میں جب حضرت جبریل امین علیہ السلام کی آپۖ سے ملاقات ہوتی تو آپ صلی اللہ  علیہ وسلم بہت زیادہ سخاوت کیا کرتے تھے۔ حضرت جبریل علیہ السلام کی ملاقات کے وقت تو آپ صلی اللہ  علیہ وسلم کی سخاوت تیز ہوا کے جھونکے سے بھی بڑھ جاتی۔
( بخاری، الصحیح، کتاب الصوم)
ماہ صیام کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ؛ ایک چھوٹی سی نیکی بھی بڑے اجر کے حصول کا سبب بن سکتی ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ یہ میرا مہینہ ہے اور اس مہینے کا اجر و ثواب بھی میں خود اپنے بندے کو دوں گا۔ رمضان میں کثرت سے صدقہ و خیرات کرکے ہم دوسروں کی بھوک و پیاس اور تکلیف کم کرسکتے ہیں۔
 ویسے بھی ایک پیسہ یا ایک دانہ بھی جو اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کیاجاتا ہے،اس پر دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک اجر کا وعدہ ہے ۔ رمضان میں کتنا اجر ملے گا اس کا اندازہ بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس مقدس ماہ میں مومن کے رزق میں اضافہ کردیا جاتا ہے۔ جو شخص اس ماہ مبارک میں کسی روزے دار کو افطار کرواتا ہے تووہ اس کے گناہوں کی بخشش کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

صدقہ فطر ایک واجب صدقہ
عیدالفطر کے دن جس وقت فجر کا وقت آتا ہے (یعنی جب سحری کا وقت ختم ہوتاہے) اسی وقت صدقہ فطر واجب ہوتا ہے۔ اور عید کی نماز کے لیے جانے سے پہلے پہلے اسے ادا کرنا ضروری ہے، اگر عیدالفطر کی نماز سے پہلے ادا نہ کیا گیا تو بعد میں بھی ادا کرنا ہوگا، لیکن بعد میں ادا کرنے  سے اس صدقہ کی فضیلت ختم ہوجائے گی، نیز عید الفطر کی نماز کے بعد تک تاخیر مکروہ ہے۔
رمضان کے ایک ماہ کے روزوں کے بعد عید الفطر جسے عرف عام میں میٹھی عید سے تعبیر کیا جاتا ہے، اس عید کی خوشی میں غریبوں کو شامل کرنے کے لیے اللہ تعالی نے ان کی ضرورت کو مدنظر رکھ کر یہ صدقہ فطر مخیر مسلمانوں پر واجب کیا ہے، جو عیدالفطر سے پہلے رمضان المبارک میں بھی ادا کیا جاسکتاہے،  جیسا کہ بعض صحابہ کرام کا عید سے پہلے صدقہ فطر ادا کرنے کا ذکر احادیثِ مبارکہ میں موجود ہے۔
حضرت ابن عمر صدقہ فطرا نہیں دیتے جو اسے قبول کرتا اور وہ(بعض صحابہ کرام) عید الفطر سے ایک یا دو دن پہلے(صدقہ فطر)دے دیا کرتے تھے۔
صدقہ فطر ادا کرنے کا افضل وقت عیدالفطر کو صبح صادق کے بعد اور عید کی نماز ادا کرنے سے پہلے پہلے ہے ۔اگر چاند رات یا رمضان المبارک کے کسی بھی دن بلکہ اگر رمضان سے پہلے بھی ادا کر دیا تب بھی فطرہ ادا ہو گیا۔ جس شخص کے پاس کچھ نہ ہو یا نصاب سے کم ہو اس کو صدقہ فطر دے سکتے ہیں بشرطیکہ وہ مستحق ہو۔ صدقہ فطر کے مصارف وہی ہیں جو زکوٰة کے ہیں یعنی جنہیں زکوٰة دے سکتے ہیں انہیں فطرہ بھی دے سکتے ہیں ۔ ایک شخص کا فطرانہ ایک مسکین کو دیں یا چند مساکین کو دونوں طرح جائز ہے۔ اسی طرح چند آدمیوں کا فطرانہ بھی ایک مسکین کو دینا جائز ہے۔ صدقہ فطر کی مقدار گندم یا اس کا آٹا یا ستو صدقہ فطر فی کس نصف صاع جو آج کے رائج الوقت پیمانے کے اعتبار سے سوا دو کلو کے قریب ہے ۔ کھجور، منقّہ یا جَو ہو تو ایک صاع یعنی ساڑھے چار کلو کے قریب یا ان اشیاء کی قیمت ادا کرنا بہتر ہے کیونکہ اس صورت میں ان کیلئے اشیائے ضرورت خریدنا آسان ہو جائے گا اور حاجت مندوں کی ضروریات بھی پوری ہو جائیں گی۔
صدقہ فطر میں سب سے پہلا حق رشتے داروں یا ہمسائیوں کا ہے۔ دینی مدارس کے غریب یتیم بے سہارا طالب علم اور بے گھر افراد اور دیگر متاثرین کو بھی صدقہ فطر دیا جا سکتا ہے ۔ 
حضورنبی ِکریم ۖکے اس فرمان کی بجاآوری سے معاشرے کے غریب اور بے سہارا افراد کی خدمت اور مدد ممکن ہو سکے گی اور وہ بھی اطمینان اور خوشحالی سے اس جشنِ مسرت میں حصہ لینے کے قابل ہو جائیں گے۔
حرف آخر :
الغرض! ماہ صیام کی نورانیت، افادیت اور فضیلت دُنیوی، اُخروی، طبی اور روحانی ہر ہر لحاظ سے ایک مومن مسلمان کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ اللہ پاک ہمیں اس ماہ مبارک کی اصل روح سے مستفید فرمائے۔ آمین !
وما علینا الاالبلاغ المبین 


مضمون نگار متعدد کتابوں کی مصنفہ ہیں اور صدارتی ایوارڈ حاصل کر چکی ہیں۔
[email protected]

حفصہ محمد فیصل

Advertisements