اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 00:07
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ
Advertisements
Advertisements

ہلال اردو

سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر

مارچ 2024

 انفارمیشن ،  ڈس انفارمیشن  اور جعلی خبروں کے تناظر میں 

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ''آدمی کے جھوٹا ہونے  کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات آگے بیان کردے۔''افسوس کہ آج ہم وہی کام کر رہے ہیں جس سے حضور اکرم نے منع فرمایا - ہماری مراد سوشل میڈیا پر ہماری تحریروں اور تبصروں سے ہے ۔ہم کوئی بھی بات بغیر تحقیق اور بغیر تصدیق آگے شیئر کر دیتے ہیں اور نہیں سمجھتے کے ہم غیر کا آلہ کار بن کر اپنے اداروں اور شخصیات کے خلاف پروپیگنڈا آگے بڑھا رہے ہیں - 



مواصلات اور رابطے مختلف ادوار میں مختلف شکلوں میں دنیا میں لوگوں تک پیغامات اور معلومات پہنچانے کا مؤثر ذریعہ رہے ہیں۔ ہم اس  ابلاغ اور اظہار کو میڈیا کہتے ہیں۔ یہ میڈیا پرنٹ میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا کے لحاظ سے متنوع شکلیں بنا چکا ہے۔ پرانے وقتوں میں معلومات کی ترسیل آج کی طرح تیز اور براہ راست نہیں تھی اور لوگ آج کی طرح اتنے قریب سے جڑے ہوئے نہیں تھے لیکن پھر بھی ان کے پاس مطلوبہ معلومات اور پیغامات پہنچانے کے مختلف ذرائع تھے۔مثال کے طور پر ان کے پاس قاصد کبوتر تھے یا وہ ہرکارے بھیجتے تھے۔منادی بھی ایک ذریعہ تھا۔ 
 جیسا کہ ہم نے دوسرے شعبوں میں ترقی کی ہے، ہم آج کی دنیا میں جدید ترین تیز ترین اور مؤثرترین ذرائع ابلاغ کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس نے  ہمیں اپنے دوستوں اور کنبہ کے ساتھ رابطے میں رہنے کی سہولت فراہم کی ہے لیکن ہم اسے زیادہ تر دوسرے مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں جن میں سیاسی  بیان بازی جو اکثر زبان درازی بن جاتی ہے، گالی گلوچ اور نقالی شامل ہیں۔ ہمارے نوجوانوں کی اکثریت جس نے چند سال میں ملک کی ذمہ داری اٹھانی ہے وہ سیاسی انتہا پسند یا صرف نقال اور مخولی بنتے جارہے ہیں، جو ایک لمحۂ فکریہ ہے۔
سوشل میڈیا  کے اس غیر ذمہ دارانہ اور بے لگام استعمال نے سنگین مسائل  پیدا کیے ہیں۔ مسائل مختلف سطحوں پر ہیں، انفرادی سطح پر دو طرفہ سطح پر اور قومی سطح پر بھی۔ سوشل میڈیا کے انفرادی سطح پر غلط استعمال میں جعلی آئی ڈی بنانا اور سادہ لوح لوگوں کو دھوکہ دینا شامل ہے - دو طرفہ سطح پر سوشل میڈیا کے غلط استعمال میں ایک دوسرے کے بارے میں ہتک آمیز ریمارکس پوسٹ کرنا شامل ہے۔ اس مسئلے کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ سوشل میڈیا کی اس سہولت کو جعلی خبروں، پروپیگنڈے، غلط معلومات پھیلانے  کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور آخر میں سب سے زیادہ چیلنج تب ہوتا ہے جب یہ جعلی خبریں اور غلط معلومات پھیلانے والے لوگ سوشل میڈیا کو کسی قوم کے اتحاد اور سلامتی کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔
پاکستان دنیا کے پہلے چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں کے لوگ زیادہ تر وقت ٹیلی کام اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں۔ انٹرنیٹ اور موبائل فون اب ایک عام چیز ہے۔ انٹرنیٹ کے ساتھ موبائل زیادہ تر اس مواد کو دیکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے جو بغیر کسی ذمہ داری یا چیک اینڈ بیلنس کے تیار کیا گیا ہے۔ فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام، یو ٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا سہولیات پر کوئی بھی کچھ بھی لکھ اور بول سکتا ہے۔ نہ تو شیئر کرنے والوں کے پاس علم اور احساس ہے کہ وہ عوامی جگہ پر کیا شیئر کر سکتے ہیں اور نہ ہی صارفین حقیقی معلومات اور غلط معلومات، جعلی خبروں اور پروپیگنڈے میں فرق کر سکتے ہیں۔ اکثریت کسی خبر اور تبصرے میں بھی فرق نہیں کر سکتی۔
میڈیا کو دنیا میں پروپیگنڈے کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے خاص طور پر وہ ممالک جو  دشمن ممالک کی آبادی کو  بڑے پیمانے پر نشانہ بنانے کے لیے کام کرتے ہیں۔ اگر ہم بھارت پاکستان کی بات کریں توبھارتی فلموں کو پاکستان کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے تاکہ دوطرفہ متنازع مسائل پر بھارتی مؤقف کا پرچار کیا جاسکے۔ 70 اور 80 کی دہائیوں میں پاکستانیوں کو بھارتی فلموں کا شوق رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بھارتی فلم انڈسٹری نے بڑی تعداد میں فلمیں بنائیں جن کا واحد مقصد پاکستانی عوام کو متاثر کرنا تھا۔
جھوٹی خبریں، پروپیگنڈا، ڈس انفارمیشن جنگ و امن میں دشمن کے مورال کو تباہ کرنے کے ہتھیار رہے ہیں اور اگر ہم سرد جنگ کے دور کو دیکھیں تو موجودہ دور میں یہ دشمن ممالک کے لوگوں کی رائے سازی کے ذریعے دشمن کو اندر سے نقصان پہنچانے کا سب سے بڑا ہتھیار بن چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر  سب کے لیے بغیر کسی چیک اینڈ بیلنس کے جو چاہیں  لکھنا یا بولنا آسان ہو گیا ہے۔
سوشل میڈیا پر جعلی، جھوٹی یا گمراہ کن معلومات خبر کے طور پر پیش کی جاتی ہے۔ جعلی خبروں کا مقصد اکثر کسی شخص یا ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچاناہوتا ہے۔ اگرچہ جھوٹی خبریں ہمیشہ سے تاریخ میں پھیلتی رہی ہیں، لیکن "جعلی خبروں" کی اصطلاح پہلی بار 1890 کی دہائی میں استعمال کی گئی جب اخبارات میں سنسنی خیز رپورٹیں عام تھیں-اس کے باوجود اس اصطلاح کی کوئی مقررہ تعریف نہیں ہے اور اس کا اطلاق خبر کے طور پر پیش کی جانے والی کسی بھی قسم کی غلط معلومات پر وسیع پیمانے پر کیا گیا ہے۔ اس کا استعمال ہائی پروفائل لوگوں نے ان کے لیے ناگوار خبر پر لاگو کرنے کے لیے بھی کیا ہے۔ مزید برآں، غلط معلومات میں نقصان دہ ارادے کے ساتھ غلط معلومات پھیلانا شامل ہوتا ہے-
بھارت نے مشرقی پاکستان کی آبادی کو قومی نظریے سے متنفر کرنے کے لیے میڈیا کا آلہ استعمال کیا۔ اس وقت میڈیا اخبارات، پمفلٹ، ریڈیو اور ٹی وی تھا جب کہ انسانی سطح پر مشرقی پاکستان میں ہندو اساتذہ اور ہندو برادری کے رہنما وہاں کے طلبہ کے نوجوان ذہنوں اور عام لوگوں کے سادہ دماغوں کو آلودہ کرنے کے لیے تیار تھے۔ نتیجہ اب تاریخ کا حصہ ہے۔ پچھلی دو دہائیوں سے ایک بار پھر ایسا ہی ہو رہا ہے اور اب جعلی خبروں، پروپیگنڈے اور غلط معلومات کا لانچنگ پیڈ سوشل میڈیا ہے جس میں فیس بک، یو ٹیوب، ٹویٹر، انسٹاگرام اور ڈیجیٹل ویب سائٹس بھی شامل ہیں۔
 یورپی یونین کی ڈس انفو لیب پہلے ہی درجنوں  بھارتی ڈیجیٹل میڈیا آئوٹ لیٹس کو بے نقاب کر چکی ہے کیونکہ پاکستان اور چین کے خلاف پروپیگنڈے کے لیے جعلی سائٹس کا استعمال کیا جا رہا تھا۔ہم  اسی رپورٹ سے اس بات کا بہترین تجزیہ کر سکتے ہیں کہ جعلی خبریں اور پروپیگنڈا کیا ہے اور سوشل میڈیا کو دوسرے ملک کے خلاف اس قسم کی جنگ کے لیے کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ دنیا کے بڑے میڈیا ہائوسز سے ملتی جلتی ویب سائٹس بنا کر قارئین کو گمراہ کیا جا رہا تھا۔ یہ جعلسازی صرف قارئین کو اپنی طرف متوجہ کرنے اور  اس پروپیگنڈے پر یقین دلانے کے لیے کی گئی تھی ۔
بھارت سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کے لیے پوری طرح سرگرم ہے اور ہم جانتے ہیں کہ بھارتیوں کی اس میڈیا پر گرفت ہے۔ سوشل میڈیا کمپنیوں میں بڑی تعداد میں بھارتی نمایاں عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔ بھارت پاکستان کی سلامتی اور نظریے کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے گا۔ ہمیں دشمن سے کسی خیر کی توقع نہیں لیکن خود ہمیں کم از کم یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ جو مواد ہمیں پیش کیا جا رہا ہے وہ کہیں ہماری قومی یکجہتی کے خلاف ہے یا اسے نقصان تو نہیں پہنچا رہا ۔ اگر یہ نقصان دہ ہے تو ہمیں اسے شیئر کرنے سے گریز کرنا چاہیے اور ایسے مواد کی اطلاع ایف آئی اے سائبر کرائم سیل کو دینی چاہیے۔ 
بدقسمتی سے ہمارے ملک میں سیاسی تقسیم نے دشمن کا کام مزید آسان کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر 9 مئی کے بعد کا دور پاکستانیوں کے لیے کافی پریشان کن ہے۔ ہمارے کچھ مسائل ہیں ہم انہیں خوش اسلوبی سے حل کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن سوشل میڈیا پر جو کچھ صرف سیاسی مفادکے لیے شیئر کیا جا رہا ہے وہ سراسر غیر ذمہ دارانہ اور ناقابل قبول ہے۔
نظریہ ہی کسی قوم کی اصل طاقت  ہوتی ہے، اگر ہم نے اسے کھو دیا تو ہمیں ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑے گا دشمن ہماری نظریاتی بنیاد جو کہ پاکستان ہے اور ہماری محافظ افواج پاکستان پر کاری ضرب لگانے کی پوری کوشش کررہا ہے۔ بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں جب پاکستان مادر وطن کی حفاظت کے لیے مختلف محاذوں پر برسرپیکار ہے توکچھ نادان عناصر سکیورٹی اداروں پر تنقیدکرنے میں مشغول ہیں اور اس طرح وہ اپنے ملک کی خدمت نہیں کررہے بلکہ دراصل دشمن ملک کے ناپاک عزائم کی خدمت کر رہے ہیں۔
 سورة الحجرات میں اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں:  ''اے ایمان والو ! جب کوئی فاسق تمہارے پاس خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو تا کہ کسی کو بے جا تکلیف نہ دے بیٹھو اور پھر پچھتا تے  نہ رہ جائو''خدا اور رسول کی یہ روشن اور خوبصورت باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں؟ ہم اگر اپنے اسلامی، معاشرتی اور اخلاقی روایات کی بنیاد پر اپنی نوجوان نسل کی تربیت یقینی بناپائیں تو اس معاشرے پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ہمارے نوجوانوں میں بہت توانائی ہے ، صرف انہیں درست سمت کی جانب گامزن کرنا ہے اور ہمیں یہ کام من حیث القوم کرنا ہے۔ 


مضمون نگار اسلام آباد میں اردو اخبار انگریزی ویب پورٹل اور میگزین کے ایڈیٹر ہیں ۔ وہ صحافت اور دفاعی امور پر لکھنے میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔
[email protected] 

مضمون 232 مرتبہ پڑھا گیا۔
Advertisements