اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 03:37
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

بھارت او ر مذہبی اقلیتیں  

مارچ 2024

اگر میں یہ کہوں کہ آج کے اس جدید ترقی یافتہ دور میں بھارت بدترین اخلاقی پسماندگی اور اندرونی طور پر خلفشار کا شکار ہے تو یہ ہرگز مبالغہ آرائی نہ ہو گی۔ بھارت سمیت عالمی سطح پر رونما ہونے والے چند حالیہ واقعات میرے اس خیال کو بجا طور پر تقویت دینے کے لیے کافی ہیں۔ ان واقعات سے یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں کہ بھارت اب ایک سیکولر ملک کے بجائے نازی ریاست بنتی جا رہی ہے جہاں سیاسی، معاشرتی اور اخلاقی پستی کے ساتھ ساتھ مذہبی اقلیتوں کے حقوق محفوظ ہیں ، نہ انہیں جینے کا بنیادی حق حاصل ہے ۔ 



26 جنوری 1950ء وہ دن تھا جب بھارت نے خود کو ایک ری پبلک (جمہوریہ) قرار دیا۔بلاشبہ یہ بھارت میں بسنے والے تمام لوگوں کو بلاتفریق بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی کے حوالے سے ایک اہم دن تھا۔حال ہی میں بھارت میں یوم جمہوریہ منایا گیا تو میری آنکھوں کے سامنے بھارت میں وسیع پیمانے پربڑھتی ہوئی مذہبی منافرت اور اقلیتوں پر ڈھائے جانے والے ظلم و ستم آ گئے۔ سوچا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے موجودہ کردار کو ذرا حقائق کی روشنی میں پرکھ لوں تاکہ اس کا اصل چہرہ دنیا پر آشکار ہو جائے۔ 
بھارت سیکولر ریاست ہے اورنہ ہی جمہوری روایات کی پاسدار ایک جمہوریہ،بلکہ اب تو یہ ایک فاشسٹ ریاست بن چکی ہے ۔ان بنیادی مفروضوں کو سچ ثابت کرنے کے لیے بہت سارے دلائل دیے جا سکتے ہیں۔ آغاز کرتے ہیں بھارتی وزیر اعظم نریند ر مودی سے۔ذرا تصور کریں کہ جس ملک کا وزیر اعظم آر ایس ایس جیسی عالمی دہشت گرد تنظیم کا تاحیات ممبرہو، بھلا وہ ملک صحیح معنوں میں کیسے  جمہوری اقدار کا امین ہو سکتا ہے۔ 
 بھارت کو اخلاقی پستی کی طرف لے جا نے والی دوسری بڑی وجہ ''ہندوتوا'' نظریے کا پرچار ہے۔ کوئی بھی بھارتی ادارہ چاہے وہ میونسپلٹی کے دفاتر ہوں، بزنس یا ٹریڈ یونیزہوں، قانون نافذ کرنے والے ادارے ہوں یا پھر میڈیا اور تعلیمی ادارے، سبھی آر ایس ایس کے زیر اثر ہیں ۔ شدت پسند ہندو گروہ ریاستی سرپرستی میں انہیں اپنے مذموم اور مکروہ مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔اگر کوئی ادارہ حکومتی ارکان کے خلاف آواز اٹھائے تو اسے بزور قوت دبا دیا جاتا ہے۔حکومت اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے عدالتوں کا بھی خوب استعمال کرتی ہے۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت آرٹیکل 370کی منسوخی اور بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر میں بھارتی عدالتوں کا جانبدارانہ کردار کھل کر سب کے سامنے آ چکا ہے۔ 
 بھارت کو ایک فاشسٹ ریاست بنانے میں بھارتی آئین کی کچھ شقوں کا بھی بڑا عمل دخل ہے۔کئی شقیں اقلیتوں کے بنیادی حقوق کی نفی کرتی ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے اکثر بھارتی قوانین میں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کو دوسرے اور تیسرے درجے کے شہری لکھا جارہا ہے۔ حال ہی میں آسٹریلیا کی South Wales Parliament کے زیر انتظام ایک گول میز کانفرنس کا انعقادکیا گیا جس میں امریکہ، کینیڈا اور برطانیہ سمیت کئی ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی ۔کانفرنس نے اپنے اعلامیے میں بھارت سمیت مقبوضہ جموں و کشمیر میںجاری بھارتی ظلم و ستم،ماورائے عدالت قتل، دہشت گردی، مذہبی منافرت پھیلانے اور معصوم شہریوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی بنیاد پر بھارت کو ایک فاشسٹ ریاست قرار دیا۔  
''شائننگ انڈیا'' جیسا نعرہ بھی بھارت کے زوال اور اخلاقی پستی کا ایک اہم جزوبن کر ابھرا ہے۔ کچھ عرصہ قبل بھارت کے اندر ایک مہم چلائی گئی جس کا عنوان تھا، ''مودی ہے تو ممکن ہے''۔ شائننگ انڈیا کے تحت بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو طاقت کا استعارہ بنا کر لوگوں کی قسمت کے ساتھ جوڑ ا گیا اور پھر انہیں باور کرایا گیا کہ ان کے تمام مسائل کا حل صرف مودی حکومت اور بی جے پی کے پاس ہے۔جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ نریندر مودی سمیت بھارت کی کئی پر اثر شخصیات ہندو عوام کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے محض استعمال کرتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو کروڑوں ہندوئوں کی املاک اور وسائل پرقابض ہیں۔ Oxfamکی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2012ء سے 2021ء تک کے درمیانی عرصے میں بھارت کی کل آبادی کے صرف ایک فیصد لوگ ،40فیصد ملکی وسائل پر قابض ہیں۔ بالفاظ دیگر مودی سمیت بھارت کے صرف چندافراد ایسے ہیں جو ملکی دولت کا چالیس فیصد کنڑول کرتے ہیں جبکہ بھارتی عوام خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ دولت کی اس غیر منصفانہ تقسیم نے بھارت کو معاشی اور سیاسی طور پر مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا ہے۔ یہ طبقاتی کشمکش ملک بھر میں بے چینی، افراتفری ،باہمی نفرت اور شدت پسندی کو فروغ دے رہی ہے۔ 
مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر اقلیتوں پر ڈھایا جانے والا ظلم و ستم اور بربریت بھارتی جمہوریہ کے کردار پر ایک اور سوالیہ نشان ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی حکومت کی مسلمان مخالف پالیسیوں نے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے اندر شدید نفرت پید اکر دی ہے جس کی بدولت بھارت میں پر تشدد واقعات میں بے پناہ اضافہ ہواہے۔ 
 مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں یہ ثابت کرتی ہیں کہ بھارتی حکومت اپنے مکروہ عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ہر اوچھا ہتھکنڈا استعمال کر سکتی ہے۔ انسانی حقوق کی پامالیوں پر آواز اٹھانے والے نامور صحافی عرفان مہراج اور خرم پرویز جیسی سماجی شخصیات کی گرفتاریاں ظلم و ستم کی چند مثالیں ہیں۔ بھارت نے گزشتہ برس مقبوضہ کشمیر میں G-20کانفرنس کا انعقاد کیا تو اس میں Tourism Working Groupکے چند نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ انہوں نے اپنی سفارشات میں کہا کہ اس کانفرنس کا انعقاد ایک ایسے وقت میں کیا گیا جب پوری وادی میں ظلم و ستم اور بربریت زوروں پرتھی۔ اپنی رپورٹ میں انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں زیر حراست دم توڑنے والے 126  افراد کے ساتھ ساتھ 1673 ماورائے عدالت قتل ہونے والوں کے بارے میں دل دہلا دینے والے انکشافات بھی کیے ۔ مزید یہ کہ  رسل ٹریبونل بہت پہلے ہی یہ انکشاف کر چکا ہے کہ بھارت مقبوضہ وادی کواسرائیل کی طرز پر اپنی ایک کالونی بنانے کی کوشش کررہا ہے جو کہ اس کے فاشسٹ عزائم کی ایک واضح مثال ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے کئی حربے استعمال کرتا ہے۔گزشتہ چند سالوں میں''را'' نے اپنی ذیلی تنظیموں کے توسط سے دنیا بھر میں ان تمام افراد اور تنظیموں کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا ہے جو انسانی حقوق کی بھارتی پالیسیوں کے سخت ناقد ہیں۔ ان میں میڈیا کے نمائندے، سول سوسائٹی کے ارکان اور سیاسی مخالفین شامل ہیں۔کینیڈا میں سکھ مذہبی رہنما ہردیپ سنگھ نجر کا قتل اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ حال ہی میں راہول گاندھی کو دی جانے والی دو سال کی سزا حکومت کی حزب اختلاف کوبزور قوت زیر کرنے کی ایک تازہ مثال ہے ۔ 
اپنی مخالف آوازوں کو دبانے کے لیے بھارتی حکومت بڑی مہارت کے ساتھ ''پرنسپل ڈیٹا پروٹیکشن لائ'' کا استعمال کررہی ہے۔ اس قانون کی رو سے حکومت کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ ریاستی سطح پر کسی بھی طرح کے ڈیٹا بیس تک فوری رسائی حاصل کر سکتی ہے۔ اپریل 2023ء میں یہ دائرہ کار بڑھا کر سوشل میڈیا تک کر دیا گیا تھاجس کو استعمال کرنے کے لیے ایک اور قانون Intermediary Guidelines and Digital Media Ethics Code Amendment Rule 2023کا سہارا لیا گیا۔ یہ قوانین میڈیا اور سوشل میڈیا کی آزادی پر قدغنیں لگاکر ان کا دائرہ کار محدود کر دیتے ہیں۔ان قوانین کی رو سے حکومت اپنے خلاف استعمال ہونے والی ہر معلومات ، مواد اور اس کی سوشل میڈیا پر کی جانے والی تشہیر پر مکمل نظر رکھ سکتی ہے۔ 
 8اگست 2022ء کو بی بی سی نے ایک مضمون شائع کیا جس میں بتایا گیا تھا کہ سوشل میڈیا پر مسلمان مخالف میوزک کے بڑھتے ہوئے استعمال سے مسلمانوںمیں شدید مایوسی پھیل رہی ہے ۔ مضمون کے مطابق یو ٹیوب اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو استعمال کر کے ایسے گانوں،ملی نغموں اور الفاظ کی تشہیر کی جا رہی ہے جو مسلمانوںکے مذہبی جذبات ابھارتے ہوئے ان کی دل آزاری کا سبب بنتے ہیں۔ عام طور پر ایسے نغموں میں کچھ اس طرح کے الفاظ کا استعمال کیا جا رہا ہے:If you want to live in india, learn to say 'Vande Mataram.' 
بھارت میں دیگر مذہبی اقلیتوں کو بزور قوت ہندو بنانے کے کئی واقعات بھی رپورٹ ہو چکے ہیں۔ان میں عیسائی سر فہرست ہیں۔ انہیں مذہب چھوڑنے کے لیے اکسانے کی خاطر مختلف ریاستی ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے ہیں۔
بھارت تاجروں اور مزدوروں کے لیے بھی محفوظ ملک نہیں ہے۔بزنس اینڈ ہیومن رائٹس ریسورس سنٹر کی ایک رپورٹ واضح کرتی ہے کہ صرف 2022ء میں بھارت کے اندر ایسے مزدور وں کے خلاف درج کیسوں کی تعداد 54 ہے جو کان کنی سمیت مختلف شعبوں میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔ان میں بیرونِ ممالک سے آنے والی اکثریت لیبر کلاس غیرمسلم تھی جنہیں شر پسند ہندوئوں نے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا۔ ہندو شر پسند یہ بھی بر ملا کہتے ہیں کہ تجارت پر صرف ہندوئو ں کا حق ہے۔Clarion India کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ''وشوا ہندو پرشاد'' نامی گروہ کے کچھ مسلح افراد نے 14جنوری 2023ء کو  Sri Mahalingeshwara Temple کے مرکزی دروازے اور دیواروں پر چند بینرز اور پوسٹرز آویزاں کیے جن پر درج تھا : ''بھارت میں صرف ان لوگوں کو تجارت کی اجازت ہو گی جو ہندو مذہب اور روایات پر پکا یقین رکھتے ہیں۔'' 
بھارت میں مسلمانوں کی املاک کو بزورقوت ہتھیانے کے کئی واقعات بھی منظر عام پر آ چکے ہیں۔ 27دسمبر 2022ء کو مادھو پردیش حکومت کی جانب سے مقامی مسلمان خاندانوں کو ایک نوٹس بھجوایا گیا جس میں انہیں Ujjainکے قریبی علاقوں کو خالی کرنے کا حکم دیا گیا تھا تاکہ وہاں کمبھ میلے  (Kumbh Mela) کا  انعقاد کیا جاسکے۔ اسی طرح کا ایک واقعہ اترا کھنڈ میں بھی دیکھنے کو ملا۔  20 دسمبر 2022ء کو اترا کھنڈ ہائی کورٹ نے چار ہزار مسلمان خاندانوں کو حکم دیا کہ وہ ہلدوانی کے قریب کا علاقہ خالی کردیں ۔جب ایسا نہ کیا گیا تو ان پر طاقت کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ نتیجتاً  ہزاروں مسلمان بے گھر ہو گئے ۔



 حال ہی میں انڈین بزنس ایسوسی ایشن نے نیو جرسی میں بھارت کے یوم جمہوریہ کے حوالے سے ایک ریلی کا انعقاد کیا جس میں ایک بل ڈوزر کو اس طرح سجایا گیا تھا کہ اس پر نریندر مودی اور اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی ادتیاناتھ کی تصاویر آویزاں تھیں۔ بل ڈوزر سر عام دکھا کر مسلمانوں کواُن کے گھروں کی مسماری کے واقعات کی یاددہانی کرائی گئی ۔ گویا یہ قوت اور طاقت کو ظاہر کرنے کا ایک انوکھا طریقہ تھا تاکہ بھارت سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں پر واضح کر دیا جائے کہ مودی حکومت بھارت میں ہندوحاکمیت اعلیٰ قائم کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہے۔
 ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسلمانوں کو بھارتی انتظامی شعبوں سے دور کیا جا رہا ہے۔  ہندوئوں کے بعد مسلمان بھارت کی سب سے بڑی قوم ہے جبکہ وہاں ان کے لیے پولیس، افواج، اورپارلیمانی فورسز میں آنے پر پابندی عائد ہے۔ چند سال پہلے تک یہ سب انتظامی شعبوں میں ہوتا تھامگر بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد اب یہ دائرہ کار پھیل کر سیاست اور منتخب اسمبلیوں تک جا پہنچا ہے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مسلمان ممبران کی تعداد انتہائی کم ہے۔ گجرات کا تو یہ عالم ہے کہ وہاں  2007سے 2017تک سیاسی دور میں ایک بھی مسلمان منتخب نہ ہوسکا۔اگست 2022ء میں بھارتی حکومت کی جانب سے 32صفحات پر مشتمل ایک مسودہ منظر عام پر آیا جس کا نام تھا؛ Hindu Rashtra Statute Draft۔ اس مسودے میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے حق رائے دہی کو محدود کر دیا گیا ہے ۔ 
 مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کر کے انہیں دہشت گرد قرار دینا بھی معمول کی بات ہے۔ ہندو سیاسی رہنما آئے روز کوئی نہ کوئی ایسا بیان داغ دیتے ہیں جس سے اسلام اور مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے۔ 2020ء میں بی جے پی کے ایک رہنما نے کچھ اس طرح کے الفاظ کہے تھے: ''جب تک دنیا میں اسلام موجود ہے، دہشت گردی کا خاتمہ نہیں ہو سکتا۔''
بھارت تو ایک طرف ،دیگر یورپی ممالک میں بھی مسلمانوں کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ 18ستمبر 2022ء کو دی گارڈین نے ایک رپورٹ شائع کی جس میں کہا گیا کہ برطانیہ میں ہندو مسلم فساد معمول بنتا جا رہا ہے جس کا آغاز ہندوئوں کی طرف سے کیا جاتا ہے۔ ہندو مسلمانوں کو دیکھ کر ''جے شری رام'' کے نعرے لگا نا شروع کردیتے ہیں جس سے ان کے درمیان بدکلامی ہوتی ہے اور بات جھگڑے تک چلی جاتی ہے۔ 
دنیا بھر میں ہونے والی یہ تمام کارروائیاں اور واقعات واضح کرتے ہیں کہ بھارتی پالیسیاں خطے میں قیام امن کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں ۔ضرورت ا س امر کی ہے کہ عالمی برادری  اس معاملے کو سنجیدہ لے اور بھارت کی بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر اپنا ردعمل ظاہر کرے تاکہ بے لگام بھارتی پالیسیوں کو لگام دی جا سکے ورنہ خطے میں پائیدار امن کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا۔



مضمون نگار شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں اور قومی و بین الاقوامی موضوعات پر مضامین لکھتی رہتی ہیں۔

[email protected]