اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 14:16
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ
Advertisements

ہلال اردو

ماں

فروری 2024

ابواء کی پتھریلی زمین اور کالے پہاڑ بھی اُس دن افسردہ تھے۔ وجہِ تخلیقِ کائنات حضرت محمدۖ چھ سال کی عمر میں اپنی ماں بی بی آمنہ کو دفنانے کے بعد حضرت اُمِ ایمن کے ہمراہ روتے ہوئے والدہ کی قبر سے اُتررہے تھے۔ یکا یک اُمِ ایمن کا ہاتھ چھڑا کر واپس ماں کی قبر پہ پہنچے۔ جو منظر اُمِ ایمن نے دیکھا اُسے دیکھ کر یقینا آسمان بھی رویا ہوگا۔ آپۖ اپنی والدہ کی قبر سے لپٹے روتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ''ماں تو جانتی ہے میرا دُنیا میں تیرے سوا کوئی نہیں پھر بھی تُو مجھے چھوڑ کر چلی گئی ہے۔''بیشک ماں کی وفات کادُکھ ایک ایسا دُکھ ہے جس کا کوئی مداوا نہیں۔ ماں ایک ایسا رشتہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔
خالقِ کائنات نے ارض و سماء کی رعنائیاں، رنگ و بُو ، خوبصورتی ، حسن ،کشش الغرض سب کچھ جوڑ کر اِک حسین رشتے کی صورت میںزمین پہ اُتارا جسے لوگ ماں کہتے ہیں۔ بے غرض اور والہانہ پیار کی انتہا اور انمول محبت کی معراج ، مالکِبحر وبر نے صرف ماں کو ہی عطا کی۔ یہی وجہ ہے کہ پیدائش سے لے کر نزع کے وقت تک انسان اپنے ہر غم، ہر بیماری، ہر پریشانی، ہر خوشی ،ہر راحت اور ہر کامیابی پر جس ہستی کو یا دکرتا ہے وہ ماں ہے۔ ماں کا وجود سراسررب کے نور کی جھلک ہے۔ ماںکے قدموں تلے جنت کا تصور ہماری تعلیمات میں شامل ہے۔ ماں کے لبوں پہ دعا مستجابی کی اِک ایسی ضمانت ہے جس سے کوئی ذی روح انکار نہیں کرسکتا۔
خدا کے نور سے عورت کا روپ دھارا تو
صداحترام زبانِ خلق پکاری، ''ماں''
انسان کی فطرت میںشامل ہے کہ وہ جتنا بھی تھکا ہوا ہو، جیسے بھی مصائب سے دوچار ہو، ماں کی آواز سے اس کی سب پریشانیاں زائل ہو جاتی ہیں۔ماں کی آغوش میں اُسے وہ سکون ملتا ہے جو دنیا کی کوئی دولت نہیںدے سکتی ۔ دنیا کی بڑی سے بڑی خوشی انسان کو وہسکوننہیں پہنچا سکتی جو اُسے ماں کی گود میں آکر میسر ہوتا ہے۔ عمر کی قید سے ماورا، انسان چاہے خود بوڑھا ہو جائے، ماں کی آغوش ایک گھنا، سایہ دار درخت بن کر اُسے پھر سے بچپنے کی معصومیت اور لڑکپن کی خوشگوار یادوں سے جوڑ دیتی ہے۔ یقینا یہ منظر دیکھ کر فرشتے بھی انسان کی قسمت پہ رشک کرتے ہیں۔
رشک کرتے ہیں فرشتے بھی مِری قسمت پر
ماں کی آغوش میں جنت کا گماں ہوتا ہے
جنت کی طلب اپنی جگہ مگر ماں کا ساتھ میسر ہو تو دنیا بھی جنت ہے اور اگر اس قرب کو فرمانبرداری اور اطاعت کی سعادت میںڈھال دیا جائے تو یقینا آخرت میں بھی کامیابی اورسرفرازی ہی مقدر ہوگی۔ ماں کو ایک مرتبہ پیار سے دیکھ لینا ایک مقبول حج کے متبادل ہے ، تو سوچئے جن کے سروں پہ یہ گھنیری چھائوں اپنی بانہیں پھیلائے کھڑی ہے، ان کے لیے حصولِ جنت کتنا آسان ہوگا۔ ماں کی ایک مُسکان انسان کے رگ و پے میں روشنی اور اُجالے کی نوید بن جاتی ہے۔ ماںوہ ہستی ہے جسے ربِّ کائنات اولاد کے حق میں ہاتھ اٹھاتے ہی مستجابی کا پیغام سنا دیتا ہے۔ یقینا اولاد کے لیے ماں کی مسکراہٹ سے قیمتی اور کوئی چیز ہو ہی نہیں سکتی۔
سب سے حسین چیز رُخِ کائنات پر
ہے وہ ہنسی جو صرف ماں کے پاس ہے
جسے ماں کا سایہ اور لمس میسر ہو اُسے چاہیے کہ وہ ہر وقت اپنے رب کا شکر ادا کرے کیونکہ اس کی منزل چاہے کتنی ہی کٹھن کیوں نہ ہو، زندگی میں اُسے جتنے بھی مشکل مراحل کا سامنا کیوں نہ ہو، ماںکی دعا کی برکت سے ہر پریشانی اُس کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پہ مجبور ہوجاتی ہے۔ ماں کا وجود کسی بھی گھر کو جنت بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ماں کے دم سے بہن بھائی ایک مضبوط حصار میں بندھے رہتے ہیں اور جب اتنی بڑی نعمت انسان کے سرپرسلامت ہو تو اس کا اپنے پروردِ گار کی بار گاہ میں شکر ادا کرنا ایک فطری عمل ہے۔
گود ماں کی جسے میسر ہو
اس پہ واجب ہے روز شکرانہ
ماں گئی رب نے کہہ دیا موسیٰ
اب جو آنا تو سوچ کر آنا
ہم جس پیشے سے تعلق رکھتے ہیں اس میں ہم لڑکپن میں ہی اپنا گھر بار چھوڑ کر ملک کی خدمت کے جذبے سے نکل پڑتے ہیں۔ گویا ہماری مثال اس پرندے جیسی ہے جسے ماں کی آغوش اس وقت تک ہی میسر رہتی ہے جب تک وہ گھونسلے میں رہتا ہے اور  خود اڑنا نہیں سیکھ لیتا۔ جیسے ہی اُسے اپنا گھونسلہ چھوڑنا پڑتا ہے ویسے ہی اُسے آغوشِ مادر  سے دور ہونا پڑتا ہے۔ ہم میں سے بہت تھوڑے لوگ اپنی ماں کی خدمت کا حق ادا کرپاتے ہیں۔ بے شک وطن کی سرحدوں کی حفاظت کا جذبہ ہماری نس نس میں شامل ہے اور عین عبادت ہے اور ہم اﷲ کے سپاہی ان چند خوش نصیب لوگوں میں شامل ہیں جنہیں اتنی عظیم سعادت حاصل ہوئی۔ مگر ہماری ذمہ داری ہے کہ جن کے سروں پہ ماں کا سایہ قائم ہے اور وہ اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کی وجہ سے کہیں دُور تعینات ہیں، روزانہ کم از کم ان سے فون پر ضرور بات کریں۔ اپنی تنخواہ میں سے کچھ حصہ نکال کر ماں کو ہر مہینے بھیجیں۔ چاہے ماں کو ہمارے ایک روپے کی بھی ضرورت نہ ہو۔ مائوں کے لیے اپنی اولاد کی جانب سے بھیجا گیا ہر تحفہ دنیا کا سب سے حسین تحفہ ہوتا ہے اور وہ مدتوں اُسے سینے سے لگائے جب جب بھی دیکھتی ہے تو بے اختیار دعائوں کا ورداس کی زبان  پہ جاری ہوجاتا ہے اور جسے ماں کی دعا ئوں کا آسرا ہو، اسے بھلا دنیا کی کسی تکلیف ، دھوپ ، پریشانی یا آزمائش کا کیا ڈر۔اسلامی تاریخ میں روزِ روشن کی طرح اِک نام جو ہمیشہ جگمگاتا ہے وہ حضرت اویس قرنی کا ہے۔ اویس قرنی  قرن کے رہائشی تھے اور ان کی والدہ نابینا تھیں۔ آپ والدہ کی بیماری کی وجہ سے نبی ٔ کریمۖ کی زیارت نہ کرسکے، یہاں تک کہ آپۖ کے وصال کا وقت آن پہنچا۔ ماں کی اس اعلیٰ خدمت کے صلے میں حضرت اویس قرنی کو وہ مقام حاصل ہوا ، جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ یقینا ماں کی خدمت اِک ایسا عمل ہے کہ جو  اویس قرنی جیسے تابعی  کوبھی انسانیت کی اس معراج پہ پہنچا سکتا ہے کہ ایک دن حضرت عمر اورحضرت علی کو اﷲ کے نبیۖ حکم دے رہے  تھے ''میرے بعد میرا اُمّتی اویس آئے تو اُس سے اپنے لیے دُعا کروانا۔''یہ معراج ، یہ مرتبہ یقینا انہیں ماں کی خدمت کے صلے میں نصیب ہوا تھا۔
ماں کے سائے کا ہی کرشمہ ہے
دھوپ ملتی ہے احترام کے ساتھ
اور پھر ایسا ہی ہوتا ہے۔ یکا یک سر سے یہ گھنیرا سایہ ہٹا لیا جاتا ہے۔ بہار کا موسم اچانک سے خزاں میں بدل جاتا ہے۔ دھوپ، جاڑا، پت جھڑ ہر سمت سے انسان کو گھیر لیتے ہیں۔ وہ سہارے ڈھونڈ تا ہے۔ سب سہارے ''نفسی نفسی '' کا ورد کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ماں کی آغوش کا سکون اور اس کی ممتا کی تڑپ سمجھ میں آنے لگتی ہے۔ عنبر کی خوشبو سے زیادہ ماں کے آنچل کی مہک، ماں کے وجود کی خوشبو، ماں کی گود میں بسی دنیا تب یاد آتی ہے۔ وہ مضبوط حصار  جو اُسے گرمی کی حدت اور سردی کی کپکپاہٹ سے بچا کررکھتا تھا، تب سمجھ میں آتا ہے۔ دعاوئوں والے ہاتھ رخصت ہوتے ہیں تو انسان خود کو بے سرو سامان اور بے آسرا پاتا ہے۔
ماں گئی ہے تو یہ احساس ہوا ہے راشد
سر سے جبریل کاپر چھن سا گیا ہو جیسے
وہی گھر جہاں بہن بھائی پیار کے بندھن میں بندھے تھے، مائوں کے جانے کے بعد اُجڑ جاتے ہیں۔ فکر یں اپنا روپ بدل لیتی ہیں اور اولاد فکرِ فردا، فکر معاش اور مادی طرزِ فکر میں ایسے گم ہوتی ہے کہ نہ وہ گھر یاد رہتا ہے، نہ ہی وہ پیار کے بندھن، نہ ماں کے گھر کی وہ رونقیں یا درہتی ہیں اور نہ ہی بچپن میں ماں کے ہاتھ سے بنے لذیذ پکوان۔
سایہ دیتی ہیں مگر خود سے جلے جاتی ہیں
اپنی اولاد کی فکروں میں ڈھلی جاتی ہیں
رونقیں ان کے ہی سائے سے ہیں ملحق راشد
گھر اُجڑ جاتے ہیں جب مائیں چلی جاتی ہیں
نبی کریم ۖ نے ایک دن صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم سے فرمایا '' کاش میری ماں زندہ ہوتی اور میں عشاء کی نماز کے لیے جائے نماز پہ کھڑا ہوتا اور میری ماں مجھے آواز دیتی ''محمد'' ۔ میں اپنی نماز توڑ کے جواب دیتا''جی ماں جی میں حاضر ہوں۔'' گویا مقصد ہماری تربیت تھی کہ ماں کا درجہ کتنا عظیم ہے۔ مگر مائیں ہمیشہ کب ساتھ رہتی ہیں۔ شاید یہ بھی زندگی کا ایک دور ہے جسے ہم میں سے اکثریت کو دیکھنا ہے۔ ماں کے جانے کے بعد ماں کے حقوق اولاد کے ذمے ہیں، انہیں خوش اُسلوبی سے انجام دیناانتہائی ضروری ہے۔ ماں کے چلے جانے کے بعد ماںکے رشتے داروں سے حُسنِ سلوک، بہن بھائیوں سے پیار، ماں کی مغفرت کے لیے دعائیں، ماں کے اپنی زندگی میں کیے گئے اچھے کاموں کا جاری رکھنا یہ سب اولاد کے ذمے چند ضروری حقوق ہیں جنہیں جاری رکھنا اولاد کی اولین ترجیحات میں شامل رہنا چاہیے۔
 دعا ہے فاطمہ زہرا کی یاوری ہو نصیب
درِ خدیجة الکبریٰ کی حاضری ہو نصیب
تیری قبر پہ ستاروں کی کہکشاں اُترے
اے مری ماں تجھ زینب کی چاکری ہو نصیب
ماںکے دنیا سے چلے جانے کا دُکھ ایک ایسا دکھ ہے جس کا ازالہ سرے سے ممکن ہی نہیں۔دیر ہو جائے تو بس پچھتاوا ہی باقی بچتا ہے اور اگر ابھی آپ کو گھنیری چھائوں میسر ہے تو اس کی قدر کیجئے  اور ماں کی خدمت کرکے جنت کمایئے اور اگر آپ اس عظیم نعمت سے محروم ہو گئے ہیں تو بعد از وفات ماں کی مغفرت کی دعائوں سے اپنی ماں سے رابطہ رکھیئے۔ ماں سے ملنے جایئے تو ماںکے قدموں میں سر رکھ کر اُس کا شکریہ ادا کیجئے کہ ہم  آج جو کچھ بھی ہیں اُسی کی دعائوں کی بدولت ہیں۔
راشد مرے لیے تو ہے جنت وہی مقام
مٹی کے ڈھیر پر جہاں لکھا ہے ماں کا نام


مضمون نگار معروف شاعر اور تین کتابوں کے مصنف ہیں اور اخلاقی اقدار سے لکھی گئی شاعری اور نثر کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔
 

مضمون 984 مرتبہ پڑھا گیا۔