اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 14:14
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ
Advertisements

ہلال اردو

گنگا چوٹی 

فروری 2024

(قدرت کے حسین مناظر  کے تناظر میں لکھی گئی تحریر)

 غیر دریافت علاقوں کی جھلک انسانی لمس سے محروم ہونے کے باوجود فسوں خیز ہوتی ہے۔جس طرح ہر خطے میں کششِ ثقل ایک جیسی نہیں ہوتی، کچھ دیار بھی اپنی آب و تاب میں امتیازی حیثیت رکھتے ہیں۔جہانِ ہزار شیوہ و رنگ کی داستان غضب ناک ہے۔انسانی بستیوں میں پری خانہ ڈھونڈنے والے شاہراہوں کے جنگل میں گم ہوجاتے ہیں اور پربتوں کی سطح پر اجنبی سیاحوں کو اپسرائوں کے جھنڈ نظر آتے ہیں۔پرتھوی کے سمتی رخ سے مشرق کے جنوبی ایشیاء میں پاکستان جیسا ایک حسین ملک بھی ہے جس کے دامن کو کردگار نے برف پوش کہساروں،پھوٹتے چشموں، جھرنوں کی قطاروں، درختوں کے لشکر اور پربتوں سے باتیں کرنے والے بادلوں کی آماجگاہوں سے بھر دیا ہے۔جب تک تجسس سے بھرے انسان موجود رہیں گے ان علاقوں کی لطافت و غنائیت بھی قائم و دائم رہے گی۔پرشور زندگی کے چلن سے بیزار ہم جیسے لوگ ایسی سرزمین میں جینے کے لیے تڑپتے ہیں۔ہمارے اضطراب کو قرار بخشنے کے لیے گنگا چوٹی ہمیں اپنی طرف بلاتی ہے۔
کوہ ہمالیہ کے پہلو بہ پہلو پیر پنجال کا بلند و بالا پہاڑی سلسلہ ہے۔گنگا چوٹی سطح سمندر سے دس ہزار فٹ کی بلندی پر اسی پہاڑی سلسلے میں واقع ہے۔گنگا ضلع باغ کی تمام چوٹیوں کی سردار چوٹی ہے۔مظفر آباد سے ضلع باغ میں ساٹھ کلومیٹر کی مسافت پر متنوع ثقافت کی سرخیل یہ چوٹی مذاہب کے پیروکاروں کے لیے کسی چلہ گاہ سے کم نہیں۔ ہم تین گھنٹوں میں اسلام آباد سے مظفر آباد اور پھر وہاں سے ایک گھنٹے میں سدھن گلی پہنچ گئے۔سر راہ ہم نے فطرت کے دلآویز نظاروں سے خود کو نہال کیا۔کشمیر، جنگلوں،سبزہ زاروں،دریائوں، آبشاروں،پھولوں اورپھلوں کے باغات، سرسبز کھیتوں اور فطری حسن سے مالا مال خوبصورت وادی ہے۔چراگاہوں میں پھیلے دیار، تونگ اور بیاڑ کے سدا بہار درخت ہیں۔بہتی ندیاں ہیں اور رسیلی گھاس پر پرندے نغماتے ہوئے رقص کرتے ہیں۔یہ سفر وجود سے زیادہ روح کی سرشاری کا سفرہے۔روحانی طراوت کا ذریعہ ہے۔ان وادیوں میں آکر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پیر پنجال کسی گُرو یا مرشد کی طرح گنگا چوٹی کو اپنا خلیفہ مقرر کر چکا ہے۔
 ہم نے کبھی غور کیا ہے کہ سینما کی کھڑکی میں ٹکٹ بیچنے والا صرف ہاتھوں سے بات کرتا ہے۔وہ انتہائی رش میں بھی آواز سے ہاتھوں کی طلب کا اندازہ لگا کر ٹکٹ تھما دیتا ہے۔اسے علم ہے کتنی ٹکٹیں کس ہاتھ کو دینی ہیں۔وہ آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے کے تکلف سے آزاد ہے۔فطرت بھی انسانوں کی بھیڑ میں اسی کی طلب پوری کرتی ہے جو قطار میں کھڑا ہو کر ہاتھ پھیلاتا ہے۔پروردگار کوئے فردوس کی ٹکٹ تھما کر ایسی اقامت گاہوں کی چھب دکھاتے ہیں جو خُلد سے متصل ہیں۔فطرت انسانوں کی ذات پات اور مذاہب سے بالاتر ہوکر عشاق سے ہم کلام ہونا چاہتی ہے ، پامال راستوں کے راز اور ناپید پھولوں کے اسرار کھولنا چاہتی ہے۔گنگا چوٹی بھی فطرت کا عظیم شاہکار ہے اور ہم اسی شاہکار کے درشن کے طالب ہیں۔ہمارے لیے سفر ایک نعمت ہے۔سفر زندگی کا استعارہ ہے۔سفر ایک جنگلی پھول ہے جو زمانے کی چال میں الجھے ہوئے انسانوں کے گملوں میں مرجھا جاتا ہے۔یہ پھول سیلانی روحوں کے لیے کِھلتا ہے۔دید باز جو زیست کے کروفر سے بے پروا ہوکر نیند میں بھی فطرت کی تپسیا کرتے ہیں اُن کے لیے ایسے جنگلی پھول کسی نعمتِ کبریٰ سے کم نہیں۔
ضلع باغ اور مظفر آباد کے دلآویز راستوں سے گزرتے ہوئے ہم سدھن گلی پہنچے۔ کشمیری زبان میں درّے کو گلی کہتے ہیں۔ سدھن گلی ضلع باغ کے چھوٹے سے درّے پر آباد ہے۔مغرب میں سنہرا سورج اپنی نرم کرنیں لپیٹ رہا تھا۔ہم نے ایک ریسٹ ہاؤس میں قیام کیا۔قیام گاہ زیادہ پُرسہولت تو نہیں تھی لیکن جن منزلوں کے ہم مسافر تھے اتنی سہولت بھی کافی تھی کہ سستانے کو پلنگ اور سر پر چھت میسر تھی۔ورنہ ہمارے پیش رو پیدل سفر کرتے ،خیموں میں رہتے تھے اور موسموں کی حدت سے ان کے ہاتھ پائوں زخمی ہوجاتے تھے۔ہم نے لذیذ لوبیا اور چپاتی کے ساتھ رات کا کھانا کھایا۔ تھکن سے چُور بدن شب کی آغوش میں گرتے ہی سو گیا۔سحر دَم بلند ہوتے سورج کی کرنیں بادلوں کی اوٹ سے جھانک رہی تھیں۔کہیں کہیں دھند کی لہر ماحول کو خواب ناک کررہی تھی۔گلابی ،سبز ،نارنجی، قرمزی اور آبی رنگوں سے سجی گلوں کی کیاریاں مہک رہی تھیں۔تازہ پھولوں کی روئیدگی کا ایک مسحور کن احساس اُبھرتا ہے اور ہم رختِ سفر باندھتے ہیں۔یہاں سے گنگا چوٹی تک پہنچنے میں صرف آدھا گھنٹہ لگتا ہے۔بل کھاتی سڑک ملکی وے کی جانب جاتی ہے۔پرخطر راستہ اچانک سامنے سے غائب ہوجاتا ہے اور گاڑی چلانے والے کو سمجھ نہیں آتی کہ اس اونچائی کے بعد کھائی ہے یا بدستور راستہ باقی ہے۔ہم نے گنگا چوٹی پر جب پہلی نگاہ ڈالی تو سانس رک گئی تھی۔آنکھوں کو چندھیا دینے والی فطرت کی جمالیات اس وادی میں ظہور پذیر ہورہی تھی اور دھند چھٹ چکی تھی۔ گنگا چوٹی تک پیدل پہنچنے میں ایک گھنٹہ لگ جاتا ہے۔جولائی کے گرم دنوں میں بھی جاڑے کا لحاف اوڑھے ہم نے ضروری سامان باندھا اورچل پڑے۔
ضلع باغ کا یہ علاقہ ہزاروں برس سے ہندومت کے زیرِ اثر رہا ہے۔گنگا چوٹی کے متعلق پراسرار کہانیاں ہیں جو مقامی قصہ گو ذوق و شوق سے سناتے ہیں۔گنگا چوٹی کے متعلق مشہور کہانیوں میں سے ایک کہانی یہ بھی ہے کہ گنگا چوٹی کا قدیم نام گل بانو تھا۔گل بانو ایک چرواہے کی بیٹی تھی۔لوگ گل بانو کے حُسن سے اتنے متاثر تھے کہ گنگا چوٹی کو ہی'' گل بانو کی پہاڑی'' پکارنے لگے تھے۔بلغاریہ کے کسی شہزادے نے اس چوٹی پر اپنا خیمہ لگایا اور گل بانو کے عشق میں گرفتار ہوگیا۔دھیرے دھیرے دونوں ایک دوسرے سے محبت کرنے لگے لیکن سماج کے رسم و رواج نے دونوں کو ایک نہ ہونے دیا اور شہزادے نے خودکشی کرلی۔گنگا چوٹی کے متعلق من گھڑت کہانیاں سنائی جاتی ہیں اور ان لوک داستانوں پر یقین بھی آجاتا ہے۔
سیاحوں کے لیے اپریل سے اکتوبر کا موسم موزوں ہے۔یہاں دسمبر سے مارچ تک خوب برف پڑتی ہے اور درجہ حرارت کسی بے مروت انسان سے بھی زیادہ نیچے تک گر جاتا ہے۔ کہیں بادلوں کے بھورے گالے اور کہیں سورج کی تیکھی کرنیںہمیں منزل کی طرف کھینچے چلی جا رہی تھیں توکہیں تتلیوں کے غول پھولوں کی کیاریوں پر پنکھ پھیلائے  ہمارا استقبال کر رہے تھے۔یہاںپل پل بدلتے موسموں کا ایک خوش کن تجربہ بھی ہوا تھا۔چوٹی پر پہنچ کر ہم نے چہار جانب پھیلی وادی کے نظر آفریں حسن سے اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔بادل، پہاڑ، دریا اور انسانی بستیاں نشیب کی جانب تھیں اور ہم سرفراز تھے۔مطلع صاف ہوا تو ہم نے جموں وکشمیر سے آتے ہوئے پیر پنجال سلسلے کی اونچی چوٹیوں کا نظارہ کیا۔گنگا چوٹی کے ایک طرف ضلع باغ کا خوبصورت نظارہ اور دوسری طرف چکار اور مظفر آباد دکھائی دیتا ہے۔گنگا کے جھرنے دریائے جہلم کے پانیوں میں جاگرتے ہیں۔گنگا کے اطراف میں بکھری زندگی کا جاہ و جلال دل افروز ہے۔ہم نے اس چوٹی پر بیٹھ کر خود کو خوش بخت تصور کیا ہے۔یہاں فطرت سے کھلواڑ کرنے والے انسانوں کی آمد ورفت کم کم رہی ہے۔بس خدا ہے جو ہر طرف پھیل کر دلوں کو سکون بخشتا ہے۔گنگا چوٹی انتہائی دلکش و حسین تھی۔ہماری آنکھیں ہر گھڑی حرکت میں تھیں ۔یہ وادی کے تمام حُسن کو اپنی گرفت میں لے کر بہت سارے خواب بُننا چاہتی تھیں اور ہر خواب گنگا چوٹی سے شروع ہوکر اِسی پر ختم ہونا تھالیکن بے قراری کا وہ عالم تھا کہ کائناتی وسعت دیکھ کر تنگی ِداماں کا احساس ہورہا تھا۔پاس ہی آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے بلند و بالا پرشکوہ پہاڑ موتیوں کی طرح چمک رہے تھے اور بادل کسی گوری کے سرمئی آنچل کی طرح لہرا رہے تھے۔کہیں دور نیچے دھواں دھار بارش ہورہی تھی۔کہیں دھند سفید بادلوں پر سیاہ رِبن باندھے رقص کررہی تھی۔ہم مخملی گھاس پر دم بھرکو لیٹے مگر بے خبری میں نیند نے آلیا۔ 



میدانی کوہ نورد کوہستانی مٹی پر سجدہ ریز ہوتا ہے اور عربی زبان میں جتنی دعائیں یاد ہیں وہ گنگا چوٹی کے دائمی حُسن کی نذر کرتا ہے۔آوارہ ہرن کی طرح جنگل میں بے خوف گھومنا اور زیرِ آسمان کھلی فضائوں میں آزاد و من چاہی اڑان بھرنا کسے پسند نہیں۔مگر ہم نہ تو گھوم رہے تھے اور نہ ہی اُڑ رہے تھے بلکہ بدحواس تھے۔بدحواسی کی ایک صورت ماورا ہونا بھی ہے۔ماحول سے بے نیاز اورماورا ہوکر کسی ایک  وجود یا ذات پر عاشق ہوجانا بھی بدحواسی ہے۔گنگا چوٹی پر ہمارا بدحواس ہونا والہانہ پن کی ایک صورت تھی۔ہم بیک وقت اداسی اورخوشی کے حال سے گزررہے تھے ۔ہم چاہ رہے تھے کچھ ایسا ہوجائے جو اسی چوٹی پر قیام کو بڑھادے مگر ایسا نہ ہو سکا۔گنگا چوٹی کے ہر دلنشین منظرکو اپنی آنکھوں میں اُتار کر اور دل میں بسا کر ہمیں اگلی منزل کے لیے روانہ ہونا تھا۔


مضموں نگار، شاعر، سفرانچہ نگاراور دو کتابوں کے مصنف ہیں۔
[email protected]

مضمون 592 مرتبہ پڑھا گیا۔