اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 00:47
Advertisements

ہلال کڈز اردو

ہے اپنا یہ عزم !

جنوری 2024

لنچ بریک ختم ہوئی تو ریاضی کا پیریڈ شروع ہوچکا تھا۔ سب بچوں نے ہاتھ میں پکڑے چپس کے ریپرز اپنی ڈیسک کے پاس پھینک کر اپنی کتابیں نکال لیں۔ مس زہرا کلاس میں آئیں تو کلاس کا حال دیکھ کر انہیں شدید افسوس ہوا۔ انہوں نے سب بچوں کو کھڑا کیا اور کلاس سے باہر جانے کو کہا۔ اب سب بچے قطار بنائے کلاس کے دروازے پر کھڑے تھے۔ 



’’یہاں سے کھڑے ہو کر ایک نظر اپنی کلاس کو دیکھیں اور مجھے بتائیں کہ کیا نظر آ رہا ہے؟ ‘‘ انہوں نے سب بچوں سے پوچھا۔ 
’’کچرا ‘‘، احمد نے کہا۔ 
’’مس یہ فرحان نے پھینکا ہے۔ ‘‘ علی نے کہا۔ 
’’مجھے پوری کلاس میں کچرا نظر آرہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ آپ سب نے پھینکا ہے۔جب آپ سب لوگ کلاس میں ایسے رہتے ہیں تو یقیناً گھروں میں بھی ایسے ہی رہتے ہوں گے، جب گھر ایسے ہوں گے تو ظاہر ہے محلے اور شہر بھی گندے اور کچرے سے بھرے ہوئے ہوں گے۔ پھر آپ سوچ سکتے ہیں کہ ہمارا ملک کتنا صاف ہوگا؟‘‘ مس زہرا نے ان سب کی طرف دیکھا جو سر جھکائے کھڑے تھے۔ 
’’آئیں! سب سے پہلے اس کچرے کو صاف کرتے ہیں پھر میں آپ کو زندگی گزارنے کے ایک ایسے طریقے کے بارے میں بتاؤں گی جسے ہم زیرو ویسٹ لائف کہتے ہیں۔‘‘ مس زہرا نے ان سب کو اندر آنے کو کہا اور خود بھی ان  کے ساتھ مل کر کلاس سے سارا کچرا جمع کرکے کچرادان میں پھینکنے لگیں۔
اس کام کے بعد سب بچے ہاتھ دھو کر کلاس میں واپس آگئے تو مس زہرا ان سب سے مخاطب ہوئیں۔ 
’’تو ہم بات کر رہے تھے زیرو ویسٹ لائف اسٹائل کی، یہ زندگی گزارنے کاایسا طریقہ ہے جس میں ہم کوشش کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ چیزوں کو ویسٹ ہونے سے بچائیں۔ یعنی ایک ہی چیز کو بار بار مختلف طریقوں سے استعمال میں لائیں۔ چیزوں کی یہ ری سائیکلنگ ہم گھروں میں بھی کرسکتے ہیں اور اس کے لیے فیکٹریاں بھی بنائی جاتی ہیں۔پلاسٹک کے بجائے مٹی سے بنے برتنوں کا استعمال کرنا۔ مٹی کے برتن اگرٹوٹ بھی جائیں تو بھی ہم انہیں مختلف طریقوں سے دوبارہ استعمال کرسکتے ہیں۔ اس طرح ہمارا کچرا کم ہوگا، اسے جلانایا سمندر میں بہانا نہیں پڑے گا اور یوں زمین سے آلودگی کم کرنے میں ہم اپنا بھی کچھ حصہ ڈال سکیں گے۔ ‘‘ مس زہرا نے انہیں زیرو ویسٹ لائف اسٹائل کے بارے میں مختصراًبتایا۔ 
’’کیا آپ چاہتے ہیں کہ آپ پڑھ لکھ کر کامیاب انسان بنیں؟اپنے خوابوں کو پورا کریں اور اپنے ملک کی خدمت کریں؟ ‘‘ مس زہرا نے ان سب کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
’’جی مس! ہم پڑھ لکھ کر اچھےشہری بننا چاہتے ہیں اور ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ سب نے یک زبان ہو کر کہا۔ 
’’اچھے شہری یا پھر بیمار شہری؟ ‘‘ مس زہرا کے اگلے سوال نے ان سب کو چونکادیا۔ 
’’کیا ہوا؟ بیمار نہیں ہونا چاہتے؟‘‘ ان سب کو خاموش دیکھ کر انہوں نے پوچھا تو سب نے نفی میں سر ہلایا۔ 
’’ٹھیک ہے! پھرکل آپ سب سوچ کرمجھے بتائیں گے کہ آپ آنے والے سال میں وہ کون سی تبدیلی لانا چاہیں گے جو آپ کوایک صحت مند اور اچھا شہری بنائے۔‘‘ مس زہرا نے انہیں کل تک سوچنے کا وقت دیا اور پیریڈختم ہونے پر کلاس سے چلی گئیں۔ ان کے جاتے ہی سب بچے سوچ میں پڑ گئے۔ 
.....
احمد گھر آیا تو کافی الجھا ہوا تھا۔ امی جان نے نوٹ کیا کہ وہ کھانا کھاتے ہوئے بھی کسی سوچ میں گم تھا۔ہوم ورک مکمل کرنے کے بعد بھی وہ کمرے میں ٹہلتا ہواکچھ سوچ رہا تھا۔ شام کو جب اس کے ابو آفس سے گھر آگئے تو وہ ان کے پاس چلا گیا کیونکہ اس کی اکثر پریشانیوں کا حل اسے ابو کے پاس سے ہی ملا کرتا تھا۔اس نے انہیں آج کلاس میں ہونے والی ساری گفتگو من و عن سنائی اور مس زہرا کا دیا ہوا ٹاسک بھی بتا دیا۔ 
’’بھئی! ایک دن کا وقت تو بہت کم ہے لیکن چلیں کچھ سوچتے ہیں۔ کھانا کھانے کے بعد اس مسئلے کا حل نکالتے ہیں۔‘‘ بابا جان کے کہنے پر وہ مطمئن ہوگیا۔ کھانا کھانے کے بعدبابا جان اسے گھر سے باہر چہل قدمی کے لیے  لےآئے۔ تھوڑی دیر بعد ان کے پڑوسی اسلم انکل، دائیں طرف والے جمیل انکل اور سامنے والے طلحٰہ انکل بھی ان کے ہمراہ تھے۔بابا نےان سے احمد کے ٹاسک کا ذکر کیا اوراس بارے میں ان سے بھی مشورہ طلب کیا۔ 
تھوڑی دیر بعد احمد بابا جان کے ساتھ خوشی خوشی گھر چلا آیا۔ اب وہ صبح اسکول جا کر مس زہرا کو اپنے ٹاسک کے بارے میں بتا سکتا تھا۔ 
.....
وہ سب صبح سے ہی بے چین تھے اور ریاضی کے پیریڈ کا انتظار کر رہے تھے۔ احمد نےپہلےہی ان سب کو بابا جان کے آئیڈیے کے بارے میں بتادیا تھا۔ لنچ بریک کے بعد جب مس زہرا کلاس میں آئیں تو آج انہیں کلاس صاف ستھری نظر آئی۔ ہر چیز اپنی اپنی جگہ موجود تھی۔ وہ ان سب کو دیکھ کر مسکرا دیں۔ 
’’تو بتائیے! آپ سب نے کیا سوچا؟‘‘ سب کے چہرے پر موجود بے چینی اور خوشی کے ملے جلے تاثرات دیکھ کر وہ سمجھ گئیں کہ سب طالب علم کچھ نہ کچھ سوچ کر آئے ہیں۔ 
’’مس! احمد بتائے گا۔‘‘ سب نے یک زبان ہوکر کہا۔ 
’’مس! میرے بابا جان نے سب محلے داروں کے ساتھ مل کریہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم محلے میں ایک کمیٹی تشکیل دیں گے۔ سب بچے اور بڑے اس کے رکن ہوں گے۔ بڑے تمام بچوں کی رہنمائی کر یں گے ۔ ہم اپنی گلیوں سے سارا کچرا خود صاف کریں گے اور پھر ہم اپنے شہر کو فضائی آلودگی سے محفوظ رکھنے کے لیے زیادہ سے زیادہ درخت بھی لگائیں گے۔اس کے ساتھ ہی ہم زیرو ویسٹ لائف اسٹائل کو بھی متعارف کروائیں گے۔ یعنی زندگی گزرانے کا ایک ایسا طریقہ جس میں استعمال شدہ اشیاء کوری سائیکل کیا جاسکے۔ کمیٹی کے تمام افراد مل کر ہر اتوار کو اپنے گھروں کے کچرے سے ایسا سامان الگ کریں گے جوری سائیکل کیا جاسکے اور اسے ان فیکٹریوں میں پہنچا دیں گے جہاں انہیں ری سائیکل کیا جاتا ہے۔ ہم ہر دو یا تین ماہ بعد زیرو ویسٹ لائف اسٹائل کے بارے میں آگاہی مہم بھی چلائیں گے اور لوگوں کو اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ بتائیں گے تاکہ وہ اپنے بچوں اور اپنی صحت کاابھی سے خیال رکھ سکیں۔‘‘ مس زہرا نے دلچسپی سے احمد کی ساری گفتگو سنی۔ 
’’مس! ہم اسکول میں بھی ایک کلب بنانا چاہتے ہیں تاکہ ہم اپنے اسکول میں بھی زیرو ویسٹ لائف اسٹائل کے فوائد سے دیگر طالب علموں کو آگاہ کرسکیں۔ انہیں بتاسکیں کہ یہ کچرا اورویسٹ جو ہم سمندروں میں بہادیتے ہیں یا گلی محلے کے کونوں پر ان کا ڈھیر لگادیتے ہیں، ہم سب کی صحت کے لیے کتنا  نقصان دہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ایسی چیزوں کا استعمال نہ کریں جو ایک مرتبہ استعمال کے بعد ضائع ہوجائیں بلکہ ایسی چیزوں کو استعمال میں لائیں جو ایک سے زیادہ بار استعمال ہوسکیں۔ یوں کم سے کم کچرا پیدا ہوگا۔ایسے اصول اپنا کرہم نہ صرف بچت کرسکتے ہیں بلکہ اپنے ماحول کو بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔‘‘
بچوں کی باتیں سن کر مس زہرا کے چہرے پر فخریہ مسکراہٹ ابھری۔ انہوں نے میڈم عالیہ سے بات کرکے اپنی زیر نگرانی چند بچوں کو منتخب کرکے ایک ایسی کمیٹی تشکیل دی جو اسکول میں صحت وصفائی کی مہم چلائے۔ اس کمیٹی کے اراکین نے اس سلسلے میں خوب محنت کی اور اپنے عمل سے دوسرے طالب علموں کو قابلِ تقلید مثال پیش کی۔
 مس زہرا اسٹاف روم میں بیٹھی تھیں کہ اسد اور احمد ان کے پاس جماعت ہفتم کے چند لڑکوں کی شکایت لے کر آئے کہ انہوں نے گرائونڈ میں دوبارہ کچرا پھینکا ہے۔ 
’’بیٹا! کوئی بھی تبدیلی چند روز میں نہیں آتی۔ اس کے لیے مستقل محنت اور کوشش درکار ہوتی ہے۔ اگر وہ کچرا پھینک رہے ہیں تو ان سے لڑنے جھگڑنے کے بجائے آپ وہ کچرا اٹھا کر ڈسٹ بن میں ڈال دیں۔‘‘ اسد اور احمد نے ایسا ہی کیا اور یوں دیکھتے ہی دیکھتے چند ہی دنوں میں ان کا اسکول اور محلہ جگمگانے لگا۔ 
احمد کے اسی کارنامے کی بدولت آج اسکول میں ایک اجلاس تھا۔ اسکول پرنسپل اور اساتذہ نے زیروویسٹ لائف اسٹائل کو اجاگر کرنے میں احمد اور دوسرے طالب علموں کے کردار کو سراہا۔ آخر میں احمد کواپنے خیالات کے اظہار کے لیے بلایا گیا۔
’’ہم اس قوم کا مستقبل ہیں، ہم پرعزم ہیں کہ ہم سب مل کر اس صحت و صفائی کی مہم کو آگے بڑھائیں گے۔ ہم اسے رکنے نہیں دیں گے کیوںکہ ہمارا خواب ہے صاف ستھرا اورصحت مند پاکستان!‘‘ احمد نے پرجوش انداز میں اپنی تقریر کا اختتام کیا توسب نے تالیاں بجا کر اس کے عزم کی بھرپور حمایت کی۔



 

مضمون 880 مرتبہ پڑھا گیا۔