اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 04:45
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ہاتھوں جمہوریت کا قتل 

دسمبر 2023

 بھارت کے زیر قبضہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانیت سوز مظالم اور انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کا سلسلہ ہنوز جاری ہے،حال ہی میں جمہوریت کے قاتل بھارت نے تحریک آزادی کشمیر کے اسیر رہنما سید شبیر احمد شاہ کی جماعت ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی پر پانچ سال کے لیے پابندی عائد کردی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ جماعت کے منقولہ وغیر منقولہ اثاثہ جات کو قبضے میں لینے کا حکم بھی جاری کیا ہے۔ بھارت کی وزارت داخلہ نے یہ پابندی عائد کرتے ہوئے جماعت پر پاکستان حمایت اور بھارت مخالف سرگرمیوں کا الزام عائد کیا ہے۔ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی 1998 میں شبیر احمد شاہ کی سربراہی میں سری نگر میں قائم ہوئی اور اس وقت سے یہ تنظیم حریت کانفرنس کی ایک سرگرم اکائی ہے۔ پابندی کے حکم نامہ میں شبیر احمد شاہ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ بارہا اپنا مؤقف دہرا رہے ہیں کہ جموں و کشمیر ایک متنازع مسئلہ ہے اور اس کا حل دستور ہند کے دائرے میں نہیں نکالا جا سکتا۔اس طرح وہ دستور ہند کو تسلیم نہیں کرتے اور وہ اس کے علاوہ بھی غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہیں جو بغاوت کے زمرے میں آتی ہیں۔ بھارت کی حکومت کا کہنا ہے کہ اس جماعت کے کارکن بھی بھارت مخالف تحریک میں پیش پیش ہوتے ہیں۔ شبیر احمد شاہ وہ حریت شخصیت ہیں کہ جن کو بھارت نے سب سے زیادہ  قید میں رکھا اور جیلوں میں ان پر بے پناہ تشدد ہوا ،قریباً 17 سال جیل میں گزر گئے۔انہیں انسانی حقوق کے عالمی ادارے ضمیر کا قیدی قرار دے چکے ہیں۔ وہ آخری بار  2017 میں گرفتار ہوئے اور مسلسل چھ سال جیل میں ہی گزر گئے۔شبیر احمد شاہ کشمیر میں سید علی گیلانی مرحوم کے بعد طویل ترین قید کاٹنے والے رہنما اور ان قیدیوں میں شامل ہیں جن کے ساتھ جیلوں میں ناروا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ ان کے ساتھ اہل خانہ کو ملنے کی بھی اجازت نہیں۔ زندگی کا زیادہ تر حصہ جیلوں میں گزارنے والے شبیر احمد شاہ نوے کی دہائی کے آغاز میں کشمیر کے مقبول ترین رہنما تھے، بعد میں بھارتی حکومت نے انہیں جیل میں بند کر دیا۔شبیر احمد شاہ کے اہل خانہ ان کی صحت کے حوالے سے اکثر خدشات اور خطرات کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔بھارت شبیر شاہ کی ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی سے قبل جماعت اسلامی جموں وکشمیر،  پیپلزلیگ جموں وکشمیر اور لبریشن فرنٹ جموں و کشمیر سمیت آزادی کی بات کرنے والی کئی تنظیموں کو کالعدم قرار دے چکا ہے اور ان سب جماعتوں کے قائدین اور کارکن جیلوں میں بند ہیں۔اسی دوران مقبوضہ کشمیر میں قیدیوں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک کے حوالے سے ایک اہم رپورٹ منظر عام پر آئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بھارت اور مقبوضہ جموں وکشمیر کی جیلوں میں محبوس سیاسی قیدیوں کے حالات قابل رحم ہیں۔ان میں اکثر لوگ صحت کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں اور اس کی وجہ ناقص غذائیں،علاج کی نا کافی سہولیات، ذہنی تعذیب اور نفسیاتی ٹارچر کے مختلف طریقے ہیں۔اس وقت جیلوں میں سیاسی اسیروں میں نوے کی دہائی کے مقبول کشمیری رہنما جنہیں ایمنسٹی انٹرنیشنل ضمیر کا قیدی قرار دے چکی ہے، شامل ہیں۔ صرف شبیر شاہ ہی نہیں لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک بھی شدید بیماری کے باوجود کئی سال سے جیل میں بند ہیں اور بھارت کی خفیہ ایجنسی ''را'' اور تحقیقاتی ایجنسی'' این آئی اے،''  تحقیقات اور تفتیش کے نام پر کشمیر کے اس عظیم حریت پسند رہنما کو اذیت ناک قید میں رکھ کر تحریک آزادی دبانا چاہتی ہیں۔جب ان کو مکمل تفتیش اور تحقیقات سے بھی کچھ نہ ملا تو دہشت گرد قرار دے کر سزائے موت دینے کے لیے ہر حربہ استعمال کیا جارہا ہے، ان کی اہلیہ محترمہ مشعال ملک اور ان کی معصوم اکلوتی بیٹی رضیہ سلطانہ نے کئی بار عالمی اور قومی سطح پر یاسین ملک کی رہائی اور ان کے علاج معالجہ کے لیے آواز بلند کی مگر دنیا کے بے ضمیر امن اور انسانی حقوق کے ٹھیکیدار خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، اسی طرح دیگر حریت پسند رہنما نعیم خان، محترمہ آسیہ اندرابی، قاسم فکتو،مسرت عالم بٹ، انسانی حقوق کے علمبردار خرم پرویز اور فریدہ بہن جی سمیت درجنوں معروف ناموں کے علاوہ ہزاروں افراد جیلوں میں محبوس ہیں اور سیکڑوں نظر بند بھی ہیں۔محمد اشرف صحرائی اور الطاف احمد شاہ جیسے قدآور رہنما جیلوں میں ہی انتقال کر گئے ہیں اور انہیں علاج کی سہولیات فراہم کرنے سے صاف انکار کیا جاتا رہا۔  بابائے حریت سید علی گیلانی کو بھی گھر میں نظر بند رکھاجاتا رہا ان کو علاج معالجہ، چہل قدمی اور سماجی تقریبات و مسجد جانے کی بھی اجازت نہ تھی حتی کہ حالت نظر بندی میں ہی وہ داعی اجل کو لبیک کہہ گئے اور ان کی نماز جنازہ میں بھی عوام کو شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔



 حال ہی میں چیئرمین کل جماعتی حریت کانفرنس میرواعظ مولانا عمر فاروق کو 4 سال اور دو ماہ بعد رہا کیا گیا تھا اور ان کی نظر بندی ختم کی گئی تو وہ تاریخی جامع مسجد سری نگر تشریف لائے تو عوام نے انکا والہانہ استقبال کیا اور دھاڑیں مار مار کر روتے رہے،  میرواعظ بھی جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اوردلیرانہ مدلل جامع خطاب میں طویل بے جا نظر بندی کا تذکرہ کیا اور کہا کہ مسئلہ کشمیر کا حل مذاکرات سے نکالا جائے ورنہ دنیا کا امن تہہ وبالا ہو جائے گا۔ مگر چند روز بعد ہی ان کی آزادی پھر سلب کرلی گئی اور میرواعظ صاحب کو دوبارہ نظر بند کرکے خطیب سری نگر کی پرسوز آواز میں اللہ کا ذکر بھی بند کروادیا گیا۔ اسی طرح سید صلاح الدین کے بیٹے بھی اب قیدیوں میں شامل ہو چکے ہیں ۔
اہل خانہ کو قیدیوں سے ملاقات کے لیے سو جتن کرنا پڑتے ہیں۔عام شکایات ہیں کہ جیل حکام رشوت لے کر قیدیوں سے ملاقات کراتے ہیں۔اب ہر کشمیری پر یو اے پی اے، پی ایس اے کے کالے قوانین لاگو کرنا معمول بن گیا ہے۔ یہ سیدھا سادہ غداری اور بغاوت کا قانون ہے جس کے تحت جرم ثابت ہونے کی سزا موت اورعمر قید ہو سکتی ہے۔ قابل افسوس یہ کہ یہ قانون جنگلات کے تحفظ کے لیے بنایا گیا تھا مگر سازش کے تحت اب سیاسی مخالفین پر لگادیا گیا ہے مگر بھارت یاد رکھے کشمیر ی عوام اور قید وبند کا جنم جنم کا ساتھ ہے۔1947کے بعد ہی جن کشمیریوں نے بھارت کے قبضے کو قبول کرنے سے انکار کیا۔ بھارت نے انہیں جیلوں میں ڈال دیا۔یہ جیلیں صرف قید رکھنے کے لیے قائم نہیں تھیں بلکہ ان سے عقوبت خانوں کا کام بھی لیا جاتا تھا۔کشمیریوں کے اعصاب توڑنے کے لیے جیلوں کو نازی جرمنی کے انداز میں استعمال کرنا بھارت کی حکمت عملی رہی ہے۔
70 کی دہائی میں ایک معروف سیاسی کارکن غلام محمد بُلہ کو جیل میں اس قدر تشدد کانشانہ بنایا گیا تھا کہ وہ اپنے حواس ہی کھو بیٹھا اور بعد میں وہ بارہ مولہ کی گلیوں میں عالم دیوانگی میں پاکستان پاکستان پکارتا ہوا نظر آتا تھا اور بعد ازاں صاحب فراش ہوکر چل بسا۔1990 کے بعد پیدا ہونے والے حالات میں تو ہزاروں افراد کو جیلوں میں ڈال دیا گیا اور ان قیدیوں کو آزادی کے راستے سے ہٹانے کے لیے اور ان کے اعصاب توڑنے کے لیے ہر قسم کے ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کیے جاتے رہے۔ ان میں بہت سے قیدیوں کواس قدر تشدد کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ عملی زندگی میں دوبارہ کچھ کرنے کے قابل نہ رہے۔ان میں سے سیکڑوں قیدیوں کو جسمانی تشدد اور سیکڑوں کو ذہنی تشدد کا نشانہ بنا کر جرم آزادی کی سزادی جاتی رہی۔ان میں بڑے اور قد آور سیاسی رہنما بھی شامل تھے اور عام سیاسی کارکن بھی،نوعمر لڑکے بھی اور 80 سالہ بزرگ اور خواتین بھی شامل تھیں۔ان میں کئی قیدیوں نے اپنے حالات کو مضامین اور کتابی شکل میں بیان بھی کیا۔تحریک آزادی کے رہنما سید علی گیلانی کی دوجلدوں پر مشتمل کتاب ''روداد ِقفس'' اس حوالے سے بہت سے روح فرسا واقعات سے بھری پڑی ہے۔یہ قیدیوں کے ساتھ90 کی دہائی میں ہونے والے سلوک کی ایک کہانی کے ساتھ ساتھ ادبی شاہکار  بھیہے۔انجم زمرودہ حبیب کی کتاب ''قیدی نمبر ایک سو''بھی تہاڑ جیل میں بیتے ان کے تاریک دنوں کی کہانی ہے کہ کس طرح سیاسی قیدیوں کو عادی مجرموں کے ساتھ رکھ کر ذہنی اذیتیں دی جاتی تھیں ،ان میں قتل کے مجرم اور منشیات کے عادی قیدی بھی شامل تھے۔کشمیر کے معروف صحافی افتخار گیلانی کی تہاڑ جیل میں بیتے شب وروز کی کہانی ''مائی ڈیز اِن پرزن'' کے نام سے شائع ہوئی تھی۔اس میں بھی کشمیری قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک کی داستان بیان کی گئی ہے۔اس کتاب کا ترجمہ بعد میں تہاڑ جیل میں میرے شب وروز کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔
جموں و کشمیر کے سیاسی قیدیوں نے کوئی جرم نہیں کیا ہوتا وہ مجرموں اور عام قیدیوں سے الگ سلوک کے حقدار ہوتے ہیں مگر بھارت نے کشمیری قیدیوں کے ساتھ جو سلوک کیا وہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔کشمیری قیدیوں کے جنازے بھی جیلوں میں اُٹھتے رہے۔محمد اشرف صحرائی اسکی زندہ مثال ہیں 74 سالہ محمد اشرف صحرائی جو کئی عارضوں میں مبتلا تھے آخر میں کرونا کا شکار ہوئے مگر بھارتی حکام ان کی موت کا نظارہ کرتے رہے اور انہیں عارضی طور پر بھی رہائی نہیں دی گئی اور نہ ہی ان کے اہل خانہ کو تیمارداری کی اجازت ملی۔یوں قید کی حالت میں ان کا انتقال ہوا۔محمد مقبول بٹ اور افضل گورو کو جیلوں میں پھانسی دی گئی اور عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان کے جسدِ خاکی بھی ورثا کے حوالے نہیں کیے گئے۔کشمیری قیدیوں کو پیرول پر رہائی کا حق بھی نہیں دیا گیا۔حریت رہنما ایاز اکبر تہاڑ جیل میں عرصہ دراز سے بند ہیں، ان کی شریک حیات کینسر جیسے موذی مرض سے انتقال کرگئیں ان کے والد کرونا کے باعث انتقال کرگئے مگر بھارتی حکام نے انہیں ان کے جنازوں میں شرکت کے لیے پیرول پر رہائی نہیں دی۔ایسے بہت سے واقعات ہیں جب بھارت نے انسانی اور عالمی اصولوں اوراقدار کو پیروں تلے پامال کیا۔آج بھی کشمیر کی جیلوں میں سیکڑوں قیدی سڑ رہے ہیں، ان کے انسانی حقوق کا احترام کیا جاتا ہے، نہ ہی انہیں قیدیوں کے حقوق دیے جا رہے ہیں۔ان میں سے بہت سے قیدی جو ظالمانہ قوانین کے تحت بند ہیں یہ جان چکے ہیں کہ ان کا مقدر یاتو پھانسی کا پھندہ ہے یا تمام عمر جیل میں سڑناہے کیونکہ بھارت میں کشمیر کی حد تک کوئی قانون اورآئین  نہیں رہا۔یہاں انسانی حقوق کی بات کرنے والے خرم پرویز خود ایک ایسی قید بھگت رہے ہیں جس میں وہ یا تو تمام عمر جیل میں گزاریں گے یا پھر کسی روز خاموشی سے پھانسی گھاٹ کی نذر ہوجائیں گے۔
انسانی حقوق کی تنظیمیں بھارت کے ان رویوں پر خاموش ہیں۔دنیا بھر میں قیدیوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اور این جی اوز کام کر تی ہیں مگر بھارت کے خوف یا کسی مصلحت کے تحت یہ تنظیمیں کشمیر کی طرف سے آنکھیں بند کیے بیٹھی ہیں۔ اسی طرح اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کمیشن بھی مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔  او آئی سی اگرچہ امت مسلمہ کا بڑا اور واحد فورم ہے مگر اس کی کہیں بھی نہیں سنی جارہی۔ کاش کہ امت مسلمہ اقتصادیات اور معاشی فوائد کی خاطر ظالم بھارت اور اسرائیل کے لیے نرم گوشہ رکھنا چھوڑ دیں تو یہ جارح، ظالم اور مسلم دشمن ممالک اپنی اوقات میں واپس آسکتے ہیں۔


مضمون نگار ایک کشمیری صحافی اور تجزیہ نگارہیں جو مظفرآباد سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ کے ایڈیٹر ہیں۔ 
[email protected]