اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 03:27
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

قائدِ اعظم کے دستِ راست لیاقت علی خان

اکتوبر 2023


پاکستان کا قیام لاکھوں شہیدوں کی قربانی سے معرض وجود میں آیا۔ اقلیمِ سخن ، مصورِ پاکستان اور شاعرِ مشرق ، ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کے پیش کردہ خاکے کو حقیقت کا روپ عطاء کرنے میں بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح اور اُن کے رفقائے کار نے وہ خدمات سر انجام دیں جو دوسروں کے لیے قابلِ تقلید بن گئیں۔ اُنھوں نے اپنے زریں کارناموں سے اہلِ وطن کی خدمت کو اپنا شعار بنا کر آنے والی نسلوں کے لیے اس صفحۂ ہستی پر ایسے نقوش چھوڑ گئے جن کی تابش سے آج بھی جبین کہکشاں پائندہ و تابندہ ہے ۔ لیاقت علی خان کا شمار بھی ایسی ہی ہستیوں میں ہوتا ہے ۔لیاقت علی خان ' جو انسانیت و شرافت' دیانت و امانت ' فتانت و ذہانت ' سنجیدگی و متانت ' عزم و عمل ' مردانگی و شجاعت اور ایثار و قربانی کا مجسمہ ، قائداعظم محمد علی جناح کے دستِ راست اور اُن کی بصیرت کا عملی نمونہ ، ' بانی پاکستان کا سچا پیرو اور اُن کے ساتھ شانہ بشانہ چلنے والے سرفروش ' پاکستان کا حقیقی پاسبان ' سچا محب وطن ' اقدار اسلامیہ کی ترویج کا شیدائی ' بے باک مجاہد ' بندہ مومن ' اعتدال پسند ' صلح جو ' جس کے اوصاف حمیدہ اور اعمال پسندیدہ نے ملت سے قائد ملت کا لقب پایا جس نے غازی کی زندگی گزاری اور شہید کی موت پائی۔ جس نے اپنا تن ' من ' دھن ملک و ملت پر نثار کیا ۔اُنھوں نے جہانگیر پارک کراچی کے جلسہ میں یومِ آزادی 1951ء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا میرے پاس روپیہ نہیں ' جائیداد نہیں کہ تمھیں دوں۔ مَیں خوش ہوں کہ میرے پاس مال و دولت نہیں کیوں کہ یہ چیزیں ایمان کو کمزور کرتی ہیں۔ میری جان عوام کے لیے وقف ہے ۔ ایک وعدہ کرتا ہوں کہ اگر ملک کی سا  لمیت و بقاء اور ملت کی عزت و احیاء کے لیے خون بہانے کی ضرورت پیش آئی تو لیاقت علی خان کا خون اس میں شامل ہو گا۔
باالیقین! صادق القول قائد ملت 14 محرم الحرام 1371ھ حسینی سوئم کے دوسرے روز بمطابق 16اکتوبر 1951ء لیاقت باغ راولپنڈی میں ایک شقی القلب' نگِ قوم و ملت سید اکبر نامی شخص کے ہاتھوںلیاقت علی خان نے پستول کی دو گولیاں کھا کر ' شجر ملت کو اپنے لہو سے سینچ کر اپنا وعدہ وفا کردیا۔ ''برادرانِ ملت''کے الفاظ سے حاضرین کومخاطب کیا ہی تھا کہ دو گولیاں قلب کے زیریں حصے میں پیوست ہو گئیں جونہی سٹیج سے گرے اُن کے قدیم رفیق کار ' معتمد خاص اور سیاسی مشیر نواب صدیق علی خان اور ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ راولپنڈی' مسٹر ہارڈی نے اُن کو سہارا دیا، گولیاں لگنے کی وجہ سے خون کا ایک فوارہ چھوٹا ' جس سے سارا سٹیج اور نواب صدیق علی خان کے پار چات لت پت ہو گئے۔ غشی کی حالت میں کلمہ پڑھا اور فرمایا ''خدا پاکستان کی حفاظت کرے'' اللہ اللہ صد آفرین کہ موت کی دہلیز پر بھی قائد ملت کو پاکستان کی حفاظت اور سا  لمیت کا خیال اس حد تک دامن گیر تھا کہ انھوں نے موت کے منہ میں بھی اپنی آخری خواہش اور وصیت پاکستان کی بقاء اور تحفظ کے سلسلے میں فرمائی۔لیاقت باغ سے اُن کو فوری طور پر کمبائنڈ ملٹری ہسپتال لے جایا گیا مگر ملک الموت نے مہلت نہ دی۔
انا اللہ وانا الیہ راجعون


حصول پاکستان کی جدوجہد میں ہر موقع پر قائداعظم   کے دوش بدوش سرگرم عمل رہے ۔14 اگست 1947ء کو جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو قائداعظم  پاکستان کے پہلے گورنر بنے اور ان کے رفیق کار ' قائدملت '  خان لیاقت علی خان ' پاکستان کے پہلے وزیراعظم مقرر ہوئے اور جب تک زندہ رہے نہایت محنت ' لگن اور خلوص سے پاکستان کی سربلندی و عظمت کے لیے کام کرتے رہے۔


اُنھوں نے حریت اسلام اور پاکستان کی حفاظت کی خاطر جان عزیز قربان کر دی۔ یہی وہ مقام شبیری ہے جسے جان کی بازی لگا کر اور خون میں غلطاں ہو کر ہی حاصل کیا جا سکتا ہے اور قائد ملت نے وہ مقام بلند پا لیا۔ اسی روز شام سات بجے جب ریڈیو پاکستان نے خان لیاقت علی خان کی شہادت کی خبر نشر کی تو سارے ملک میں صف ماتم بچھ گئی۔چرخ عالم اسلام پر غم و اندوہ کے بادل چھا گئے۔ پاکستان کے ہر شہر میں کاروبار حیات معطل ہو گئے ۔دُ کانوں پر تالے پڑ گئے سینما گھروں کی بتیاں گل ہو گئیں ۔دو روز کے لیے سرکاری دفتر بند کر دیے گئے۔ تین روز تک قومی پرچم سرنگوں رہا۔ چالیس روز تک ملک میں سوگ منایا جاتا رہا۔دوسرے روز17اکتوبرکو جب صبح پانچ بجے ان کی لاش پہنچائی گئی تو ان کی رہائش گاہ 10۔ وکٹوریہ روڈ ایک ماتم کدہ بن گئی۔ ایسے معلوم ہوتا تھا کہ آنسوئوں اور آہوں کا طوفان عظیم امڈ آیا ۔ تمام قوم قائد ملت کے غم میں زار وقطار رو رہی تھی۔
17  اکتوبر1951ء ڈیڑھ بجے مولانا احتشام الحق نے پولو گرائونڈ میں لاکھوں کے مجمع کو نماز جنازہ پڑھائی اور آخری دیدار کے بعد شہید کارواں ' قائداعظم  کے دست راست کو' قائداعظم کے مزار کے پہلو میں دفن کر دیا گیا ۔اللہ تعالیٰ انھیں کروٹ کروٹ جوار رحمت میں جگہ دے۔
11 ستمبر1948ء (قائداعظم  کی وفات) کے بعد جب مایوس اورناامیدی کی بھیانک تاریکیاں اہل پاکستان کی نگاہوں کانور چھین لینے میں سرگرم عمل تھیں اور ہر سو افسردگی ' ناامیدی کے بادل امڈ آئے تھے تو عین اسی وقت قائداعظم  کے نائب پاسبان ملت پاکستان خان لیاقت علی خان نے روتی ہوئی قوم کے سرپر دست شفقت رکھ کر اہل پاکستان کی دستگیری فرمائی تھی اور پاکستان کی ہچکولے کھاتی ہوئی نائو کی ملاحی اپنے ذمہ لے لی تھی مگر وہ بھی پاکستان کی محافظت کو خدا کے حوالے کرکے ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔قائدملت نے4 ۔مارچ1949ء کو اپنی تقریر کے دوران کہا تھا کہ ہم نے پاکستان کی مقدس سرزمین کے ایک ایک انچ کی حفاظت کا تہیہ کر لیا ہے ۔ ہم یہ طے کر چکے ہیں کہ پاکستان کے لیے زندہ رہیں گے اور پاکستان کے لیے ہی مریں گے۔لہٰذا انھوں نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا۔
جاں ہے تو کام آئے گی سدا اہل وطن کے 
سر ہے تو اسے نذرِ وطن کرتے رہیں گے


 تحریکِ پاکستان کے گولڈ میڈلسٹ عنایت اللہ گوئندی نے ایک ملاقا ت پر بتایا کہ وہ اس دورے کے بعد سرگودھا تشریف لائے ۔ سرگودھا میں باغِ جناح کی ایک بڑی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ، اُنھوں نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا کی کرنسی کی قیمت گر رہی ہے ۔ الحمد للہ ! پاکستان کے روپے کی قیمت اپنی جگہ قائم دائم ہے ۔ 


قائدملت خان لیاقت علی خان ضلع کرنال(بھارت) کے ایک نواب خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔جن کا شجرہ نسب نوشیرواں عادل سے ملتا ہے' اور ان کے آبائو اجداد تقریباً ساڑھے پانچ سو سال بیشتر ہندوستان آ کر آباد ہو گئے تھے۔ لیاقت علی خان رستم علی کے گھر یکم اکتوبر1895ء میں پیدا ہوئے یعنی وہ قائداعظم محمد علی جناح سے 19 سال اور محترمہ فاطمہ جناح سے2سال چھوٹے تھے۔ اُنھوں نے 1918ء میں علی گڑھ سے بی اے کا امتحان پاس کیا۔ 1919ء میں آکسفورڈ سے ایم۔اے پاس کیا ۔1922ء میں انگلستان سے بیرسٹریٹ لاء کی ڈگری حاصل کرکے وطن واپس لوٹے تو 1923١ء میں آل انڈیا مسلم لیگ سے وابستہ ہو کر قائداعظم محمد علی جناح کے مشیر خاص بن گئے۔ قائداعظم مسلم لیگ کے قائد کی حیثیت سے مسلمانوں کے حقوق تسلیم کرانے کے لیے سرگرم عمل تھے۔ لیاقت علی خان اس جدوجہد میں ہر موقعہ پر اپنے قائد کا ساتھ دیتے رہے۔1943ء میں مسلم لیگ کے اجلاس منعقدہ کراچی میں اتفاق رائے سے مسلم لیگ کے سیکرٹری چنے گئے۔ 1945-46ء میں انتخابات ہوئے تو قائداعظم  نے انھیں اپنی جانب سے انتخابات کی نگرانی کا فرض سونپا۔ اُنھوں نے ملک کے وسیع تر دورے کرکے مسلمانوں کو لیگ کی حمایت کی ترغیب دی اور پنجاب ' سندھ ' سرحد اور مشرقی بنگال سے مسلم لیگ کو نمایاں کامیابی سے ہم کنار کرایا آزادی ہند کے متعلق شملہ مذاکرات میں قائداعظم کی معیت میں شرکت کی اور منطقی تقاریر سے قائداعظم  کے موقف کو تقویت بہم پہنچائی۔1946ء میں وائسرئے ہند کی انتظامیہ کے ہمراہ انگلستان گئے اور جنگ آزادی کے تقریری محاذ پر منطق اور استدلال کے وہ جوہر دکھائے کہ سامعین ششدر رہ گئے۔


اُنھوں نے جہانگیر پارک کراچی کے جلسہ میں یومِ آزادی 1951ء کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا میرے پاس روپیہ نہیں ' جائیداد نہیں کہ تمھیں دوں۔ مَیں خوش ہوں کہ میرے پاس مال و دولت نہیں کیوں کہ یہ چیزیں ایمان کو کمزور کرتی ہیں۔ میری جان عوام کے لیے وقف ہے ۔ ایک وعدہ کرتا ہوں کہ اگر ملک کی سا  لمیت و بقاء اور ملت کی عزت و احیاء کے لیے خون بہانے کی ضرورت پیش آئی تو لیاقت علی خان کا خون اس میں شامل ہو گا۔


وزیر مالیات کی حیثیت سے 1946-47 کا متوازن بجٹ پیش کرکے ماہرین مالیات سے داد تحسین حاصل کی۔حصول پاکستان کی جدوجہد میں ہر موقع پر قائداعظم   کے دوش بدوش سرگرم عمل رہے ۔14 اگست 1947ء کو جب پاکستان معرض وجود میں آیا تو قائداعظم  پاکستان کے پہلے گورنر بنے اور ان کے رفیق کار ' قائدملت '  خان لیاقت علی خان ' پاکستان کے پہلے وزیراعظم مقرر ہوئے اور جب تک زندہ رہے نہایت محنت ' لگن اور خلوص سے پاکستان کی سربلندی و عظمت کے لیے کام کرتے رہے۔ پاکستان کا دفاع مہاجرین کی آباد کاری ' خارجہ پالیسی ' داخلی نظم و نسق مسئلہ کشمیر اور پاکستانی معیشت کی بحالی ایسے مسائل تھے ' جن کا حل عام اعصاب کے انسان کے بس کا روگ نہ تھا مگراُنھوں نے ہر مسئلہ کے حل کے لیے ایسی حکمت عملی اختیار کی جس سے ملکی استحکام اور وقار میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا گیا ' اُنھوں نے قائداعظم  کی وفات کے بعد جہاں ملک کے چپے چپے کا دورہ کرکے پاکستان کے افسردہ اور مغموم عوام کی ڈھارس بندھائی وہاں بھارت ' برطانیہ' امریکہ اور روس کا دورہ کرکے اپنے خارجہ مراسم کو مستحکم کیا ' اُنھوں نے پیچیدہ مسائل میں اسلامی ممالک کو اپنا ہمنوا بنایا جو بین الاقوامی فورم پرہمیشہ پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتے رہے۔وہ 1950ء میں امریکہ گئے وہاں کی کنساس یونی ورسٹی میں لیکچر دیتے ہوئے اُنھوں نے پاکستان کے قیام کی اہمیت واضح کی۔ مزید برآں اُنھوں نے ترقی یافتہ ممالک سے توقع کی کہ وہ نوزائیدہ مملکت پاکستان کو اپنے پائوں پر کھڑا ہونے میں اس کی معاونت کریں گے۔ تحریکِ پاکستان کے گولڈ میڈلسٹ عنایت اللہ گوئندی نے ایک ملاقا ت پر بتایا کہ وہ اس دورے کے بعد سرگودھا تشریف لائے ۔ سرگودھا میں باغِ جناح کی ایک بڑی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ، اُنھوں نے کہا کہ اس وقت پوری دنیا کی کرنسی کی قیمت گر رہی ہے ۔ الحمد للہ ! پاکستان کے روپے کی قیمت اپنی جگہ قائم دائم ہے ۔ 
مملکت خدا داد پاکستان ' قائداعظم  اور قائد ملت کی طویل سیاسی جدوجہد کا ایک انمول شیریں ثمرہے۔ عصرِ حاضر کے سیاست دانوں کے لیے اُن کی زندگی مشعلِ راہ ہے ۔ پاکستان اُن کی ایک مقدس امانت ہے اس کے حصول میں لاکھوں افراد کا خون بہا ہے۔ قائد ملت کی روح ہم سے تبھی خوش اور مطمئن ہو سکتی ہے جب ہم ان کے لائحہ عمل کو اپناتے ہوئے ان کے نقش قدم پر چل کر پاکستان کی اوج و عظمت کے لیے اپنی زندگی وقف کر دیں۔ ||


مضمون نگار ممتاز ماہرِ تعلیم ہیں اور مختلف اخبارات کے لئے لکھتے ہیں۔
[email protected]