اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 03:28
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

بھارت کا یونیفارم سول کوڈ یا ہندو کوڈ

ستمبر 2023

بھارت کی مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنمائوں کی آراء پر مبنی  عبدالواجدخان کا مضمون

بھارت کے انتہا پسند اور مسلمانوں کے قاتل وزیراعظم نریندر مودی نے ریاست بھوپال میں منگل 27 جون 2023 کو ایک بار پھر اپنے ہندو توا ایجنڈے کے تحت ملک میں یکساں سول کوڈ کی بات کی اور دوران تقریر اپوزیشن جماعتوں کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دو قانون ہونے سے ایک گھر نہیں چلتا ایسے ، دوہرے نظام سے ملک کیسے چلے گا۔ مودی نے دراصل مسلم پرسنل لا پر سنگین وار کیا ہے کیونکہ بھارت میں کوئی مسلم، سکھ، عیسائی،بودھ یا جین دوہرے نظام کی بات نہیں کرتا بلکہ سب ایک ہی آئین کو مانتے ہیں۔جب  بھارت 15 اگست 1947 کو آزاد ہوا اور ملک کا نیا دستور بنا تو اس میں بھی ''مسلم پرسنل لا'' کی قانونی حیثیت تسلیم کی گئی اور طویل ترین ماضی کی روایات اور عوامی رجحان جس کی بنیاد مذہب پر ہے، کا احترام کیا گیا اور قانون سازوں نے صاف طورپر دستور ساز اسمبلی میں اعلان کیا کہ ''مسلم پرسنل لا'' میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کی جائے گی۔اب اس ملک میں مسلم پرسنل لا کو ختم کرکے ''یونیفارم سول کوڈ'' کی بات کی جاتی ہے۔ ''یونیفارم سول کوڈ'' یا ''یکساں شہری قانون'' سے مراد وہ قوانین ہوا کرتے ہیں جو کسی بھی مخصوص خطہ زمین پر آباد لوگوں کی سماجی اور عائلی زندگی کے لیے بنائے گئے ہوں۔ 



ان قوانین کے تحت ہر فرد کی شخصی اور خاندانی زندگی کے معاملات آتے ہیں اور نکاح و طلاق، فسخ و ہبہ، وصیت و وراثت جیسے امور انھیں قوانین کے ذریعہ حل کیے جاتے ہیں، ان قوانین کے نفاذ میں کسی شخص کے مذہب، اس کی تہذیب اور رسم و رواج کا خیال نہیں کیا جاتا، ان چیزوں سے بالکل الگ ہوکر ہر مذہب کے ماننے والے کے لیے ایک قانون ''یونیفارم سول کوڈ'' ہے اور اسی قانون کے تحت نکاح اور طلاق جیسے امور بھی انجام پاتے ہیں، یعنی سول کوڈ کے ذیل میں وہ سارے امور آجاتے ہیں جن کا تعلق پرسنل لا سے ہوتا ہے۔ بھارت میں ''یونیفارم سول کوڈ'' کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کو اپنی مذہبی روایات کے خلاف ، ہندوانہ طریقے سے نکاح و طلاق جیسے معاملات انجام دینا ہوں گے، وصیت اور وراثت کے معاملہ میں بھی انھیں مذہبی قانون کے بجائے دوسرے قوانین پر عمل کرنا ہوگا، اسی طرح دوسرے مذہب اور رسم و رواج کے پابند لوگوں کو بھی اپنا مذہب چھوڑنا ہوگا، اپنے رواج کو مٹانا ہوگا اور نئے قانون کا پابند ہونا پڑے گا۔ اس طرح ''یونیفارم سول کوڈ'' واضح طورپر ''مسلم پرسنل لا'' سے مختلف ایک قانون ہے جس کے نفاذ کے بعد ''مسلم پرسنل لا'' کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اس ظالمانہ مجوزہ ترمیم کو مسلم رہنماؤں سمیت خود ہندو لیڈروں نے مسترد کردیاہے۔
 اتراکھنڈ کے بعد اب اتر پردیش میں بھی یکساں سول کوڈ وضع کر کے فوری طور پر اسے نافذ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ مرکزی حکومت پہلے ہی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے کر یکساں سول کوڈ کا بنیادی خاکہ بنانے کی ہدایت جاری کر چکی ہے اس متنازع اقدام (یونیفارم سول کوڈ) کے سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے وفد نے وزیراعلیٰ تلنگانہ کے سی آر سے ملاقات کی جنھوں نے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا کہ وہ اس قانون کے خلاف ووٹ دیں گے۔ صرف ایک ریاست کے وزیراعلیٰ نے ہی یہ اعلان نہیں کیا بلکہ کئی صوبوں اور ریاستوں سے مودی کے خطرناک ایجنڈے کے خلاف آوازیں بلند ہورہی ہیں۔ مودی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کانگریس نے اسے تقسیم کی سیاست قرار دیا۔  کانگریس کے سینئر لیڈر اور بھارت کے سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم نے یو سی سی کے حوالے سے ملک اور خاندان کے درمیان موازنہ کو غلط قرار دیا ہے۔
 کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر پی چدمبرم نے ایک ٹویٹ میں لکھا، یکساں سول کوڈ (یو سی سی) کی وکالت کرتے ہوئے، عزت مآب وزیر اعظم نے قوم کو ایک خاندان بتایا ہے۔ عام طور پر، یہ موازنہ درست لگ سکتا ہے، لیکن حقیقت بہت مختلف ہے ،خاندان اور قوم کے درمیان فرق کی وضاحت کرتے ہوئے، چدمبرم نے لکھاکہ ایک خاندان خون کے رشتوں سے جڑا ہوا ہے، جب کہ ایک قوم آئین کے تحت اکٹھی ہوتی ہے، جو کہ ایک سیاسی قانونی دستاویز ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ایک خاندان میں بھی تنوع پایا جاتا ہے۔ ہندوستان کے آئین نے ہندوستان کے لوگوں میں تنوع اور تکثیریت کو تسلیم کیا ہے۔ چدمبرم نے کہاکہ یونیفارم سول کوڈ کی خواہش کو کسی ایجنڈے کے تحت اکثریتی حکومت کے ذریعے عوام پر مسلط نہیں کیا جا سکتا۔پی ایم مودی کو یہ دکھانے کی کوشش کرنی چاہئے کہ یو سی سی ایک عام رواج ہے۔ انہیں لا کمیشن کی پچھلی رپورٹ پڑھنی چاہیے، جس میں کہا گیا تھا کہ اس وقت ایسا ممکن نہیں ہے۔ کانگریسی لیڈر نے لکھا، آج بی جے پی کے قول و فعل کی وجہ سے ملک بٹا ہوا ہے۔ لوگوں پر یو سی سی مسلط کرنے سے اس تقسیم کو مزید وسیع کیا جائے گا۔ انہوں نے لکھا کہ وزیر اعظم کی جانب سے یو سی سی کے حق میں سختی سے بولنے کا مقصد مہنگائی، بے روزگاری، نفرت انگیز جرائم، امتیازی سلوک اور ریاستی اہلکاروں کے انکار سے توجہ ہٹانا ہے، جس کی وجہ سے لوگوں کو چوکنا رہنا ہوگا۔ انہوں نے لکھا، بی جے پی گڈ گورننس دینے میں ناکام رہی ہے، جس کے بعد وہ اگلا الیکشن جیتنے اور ووٹروں کو پولرائز کرنے کے لیے یو سی سی کا مسئلہ لے کر آئی ہے۔ دلی اور پنجاب میں حکمران جماعت عام آدمی پارٹی نے کہا ہے کہ وہ یو سی سی کو متعارف کرانے سے قبل اسے تمام مذاہب اور اداروں کے ساتھ مشاورت کے بعد لانا چاہیے۔


بھارت میں ''یونیفارم سول کوڈ'' کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس ملک میں مسلمانوں کو اپنی مذہبی روایات کے خلاف ، ہندوانہ طریقے سے نکاح و طلاق جیسے معاملات انجام دینا ہوں گے، وصیت اور وراثت کے معاملہ میں بھی انھیں مذہبی قانون کے بجائے دوسرے قوانین پر عمل کرنا ہوگا، اسی طرح دوسرے مذہب اور رسم و رواج کے پابند لوگوں کو بھی اپنا مذہب چھوڑنا ہوگا، اپنے رواج کو مٹانا ہوگا اور نئے قانون کا پابند ہونا پڑے گا۔ اس طرح ''یونیفارم سول کوڈ'' واضح طورپر ''مسلم پرسنل لا'' سے مختلف ایک قانون ہے جس کے نفاذ کے بعد ''مسلم پرسنل لا'' کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اس ظالمانہ مجوزہ ترمیم کو مسلم رہنماؤں سمیت خود ہندو لیڈروں نے مسترد کردیاہے۔


کانگریس پارٹی کے ارکان نے کہا ہے کہ اسے لوگوں پر زبردستی مسلط نہیں کیا جانا چاہیے، اور یہ کہ یہ دیگر اہم مسائل سے توجہ ہٹانے کی بی جے پی کی کوشش ہے۔تامل ناڈو میں ڈی ایم کے پارٹی نے کہا کہ سب سے پہلے صرف ہندو مذہب میں یکساں سول کوڈ متعارف کرایا جانا چاہیے۔جہاں کئی فرقے ہیں ہر ایک کا الگ کوڈ ہے،ڈی ایم کے لیڈر ٹی کے ایس ایلانگوون نے کہا کہ پسماندہ اور قبائلی سمیت ہر فرد کو 'ملک کے کسی بھی مندر میں پوجا کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ ہم یو سی سی اس لیے نہیں چاہتے کیونکہ آئین نے ہر مذہب کو تحفظ دیا ہے، وہ دلتوں اور قبائلیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا حوالہ دے رہے تھے جنھیں بعض اوقات مندروں میں جانے یا کچھ مذہبی رسومات میں حصہ لینے سے روک دیا جاتا ہے۔ نریندر مودی کی جانب سے یکساں سول کوڈ کی حمایت پر تامل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے کہا کہ نریندر مودی فرقہ وارانہ کشیدگی اور امن و امان کے مسائل پیدا کرنا  چاہتے ہیں۔ ان کی سوچ ہے کہ وہ اس سے اگلا انتخاب جیت سکتے ہیں انہوں نے ایسا صرف فرقہ وارانہ تشدد کو بھڑکانے اور اگلے سال لوک سبھا انتخابات جیتنے کے لیے کیا ہے۔دی ہندو کے مطابق، ایک تقریب میں اسٹالن نے کہا کہ میں پورے یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ عوام بی جے پی کو سبق سکھانے کوتیار ہے۔ سکھ برادری کی تنظیم شرومنی اکالی دل نے کہا ہے کہ یکساں سول کوڈکے نفاذ سے بھارت بھر میں اقلیتوں اور قبائلی برادریوں پر منفی اثر پڑے گا۔ شرومنی اکالی دل کے سینئر رہنما دلجیت سنگھ چیمہ نے چندی گڑھ شہر میں ایک بیان میں کہا کہ اکالی دل نے ہمیشہ پورے ملک کے لیے یکساں سول کوڈ کی تیاری کی مخالفت کی ہے اور وہ اس معاملے پر اپنے تحفظات 22ویں لا کمیشن اوربھارتی پارلیمنٹ کو پیش کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کا ماننا ہے کہ شہری قوانین عقیدے،مذہب، ذات پات اور رسم و رواج سے متاثر ہوتے ہیں اور مختلف مذاہب کے لیے مختلف ہوتے ہیں، لہٰذا انہیں برقرار رکھا جانا چاہیے۔دلجیت چیمہ نے مزید کہاکہ ہمیں اس حقیقت کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ آئین بنانے والوں نے یکساں سول کوڈ کو بنیادی حقوق کا درجہ نہیں دیاہے۔ اسے متوازی فہرست میں رکھا گیا تھا اور یہ ریاستی پالیسی کے اصولوں کا حصہ ہے۔ اس حیثیت کو  تبدیل کرنا مناسب نہیں ہے، کیونکہ اس سے معاشرے میں انتشار پیدا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یکساںسول کوڈ سے اقلیتی برادریوں کے علاوہ، قبائلی معاشرے جن کے اپنے ذاتی قوانین ہیں، سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ یکساں سول کوڈ نہ تو قابل عمل ہے اور نہ ہی اس کی کوئی ضرورت ہے۔
جموں و کشمیرنیشنل کانفرنس کے صدر اور مقبوضہ کشمیر کے سابق کٹھ پتلی وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ نے بھی شدید ردعمل دیا ہے اور کہا ہے کہ بھارت کو یکساں سول کوڈ کے جبری نفاذکے نتائج پر دوبارہ غور کرنا چاہیے، حکومت ہندکو یکساں سول کوڈ کے ساتھ آگے نہیں بڑھنا چاہیے اور اس کے جبری نفاذ سے ملک میں فسادات ہونگے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے رہنما اسد الدین اویسی نے کہا ہے کہ یو سی سی انڈیا کے تنوع کے لیے ایک چیلنج ہے۔ انھوں نے خبر رساں ایجنسی اے این آئی سے بات کرتے ہوئے سوال کیا کہ 'کیا آپ یو سی سی کے نام پر ملک کی تکثیریت اور تنوع کو ختم کر دیں گے؟'انھوں نے مزید کہا کہ 'جب وہ یو سی سی کی بات کرتے ہیں، تو وہ ہندو سول کوڈ (لانے) کی بات کر رہے ہیں۔ میں انھیں چیلنج کرتا ہوں کہ کیا وہ ہندو غیر منقسم خاندان کو ٹیکس میں دی گئی مراعات ختم کر سکتے ہیں؟اسی کے ساتھ ہندوستانی مسلمانوں کے قائدین اسد الدین اویسی، جمعیت علمائے ہند کے سیکرٹری جنرل مولانا محمود مدنی اور مسلم پرسنل لا بورڈ کے مسلسل پانچویں بار منتخب ہونے والے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سمیت دیگررہنماؤں کا شدید ردعمل آیا ہے۔ 
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا ہے کہ ملک مختلف مذاہب، تہذیبوں، روایتوں اور رسوم وروایات کا حامل ہے، یہی تنوع اس کی پہچان ہے جن لوگوں نے اس ملک کی آزادی کے لیے ہر طرح کی قربانی پیش کی، جنگ آزادی کے اُن سپہ سالاروں اور ملک کے معماروں کے ذہن میں بھی اس ملک کا یہی تصور تھا کہ یہاں مختلف قومیں اپنے مذاہب کے مطابق زندگی گزار سکیں گی۔ مہاتما گاندھی جی نے گول میز کانفرنس لندن1931 میں پوری وضاحت کے ساتھ اعلان کیا تھا کہ مسلم پرسنل لا کو کسی بھی قانون کے ذریعہ چھیڑا نہیں جائے گا۔ آزادی سے پہلے بنیادی طور پر کانگریس پارٹی ہی ہندوستانیوں کی نمائندگی کرتی تھی، اس نے 1938کے ہری پور اجلاس میں صاف طور پر اعلان کیا تھا کہ اکثریت کی طرف سے مسلم پرسنل لا میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جائے گی،اسی جذبہ کے تحت 1937میں باتفاق رائے شریعت اپلی کیشن ایکٹ پاس ہوا، جس میں پوری وضاحت اور تفصیل کے ساتھ مسلم پرسنل لا کے دائرہ میں آنے والے مسائل کو طے کر دیا گیا اور کہا گیا کہ ان مسائل میں مسلمانوں پر قانون شریعت ہی لاگو کیا جائے گا، پھر جب ملک کا دستور بنا تو دستور کی دفعہ: 25 (1) میں کہا گیا، ''ہر شہری کو مذہبی عقائد پر قائم رہنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کی اجازت ہوگی۔'' یہ دفعہ بنیادی حقوق میں شامل ہے، جس کے بارے میں دستور کی دفعہ 13(2) میں یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ حکومت کوئی ایسا قانون نہیں بنا سکتی، ''جو دستور میں دیے گئے بنیادی حقوق کے خلاف ہو، یا اس میں کمی کرے'' یہ دفعہ نہ صرف مسلمانوں کے مذہبی قوانین کو تحفظ دیتی ہے بلکہ ہر شہری کو بھی فراہم کرتی ہے؛ اس لئے مذہبی اور تہذیبی تنوع کا باقی رہنا ہمارے دستور کا حصہ ہے اور اس کو ختم کرنے کی کوشش صرف کسی ایک طبقہ کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا اور اُن کو اُن کے حقوق سے محروم کرنا نہیں ہے؛ بلکہ کھلے طور سے ملک کے دستور پر حملہ ہے۔ صدر بورڈ نے مزید کہا کہ جہاں اس سے مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں، جینیوں، بدھسٹوں اور دوسری اقلیتوں کی مذہبی شناخت متا ثر ہوگی، وہیں دلت اور قبائلی طبقات جو ملک کے مختلف علاقوں میں اپنی خاص تہذیب اور رسم ورواج کے ساتھ زندگی گزاررہے ہیں، وہ بھی اپنی پہچان سے محروم ہو جائیں گے، نیز قوی اندیشہ ہے کہ بچھڑے ہوئے لوگوں کو ریزوریشن کا جو فائدہ دیا جا رہا ہے، آئندہ یکسانیت کے نام پر اسے بھی ختم کر دیا جائے؛ اس لئے وہ بھی اس سے متأثر ہوئے بغیر نہیں رہیں گے، خود ہندوؤں کے ہاں بھی مختلف علاقوں میں شادی بیاہ کے الگ الگ طریقے پائے جاتے ہیں، وہ بھی اس سے متأثر ہوں گے۔
 مودی کے مسلم کش اقدامات پر دیگر مسلم قائدین بھی خاموش نہیں رہے بیشتر مسلم رہنماؤں کا کہنا تھا کہ حکومت ہندوؤں کے پرسنل لا میں چھیڑ چھاڑ کرنے کی جرأت نہیں کرے گی۔ آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کے قومی صدر سید محمد اشرف کچھوچھوی نے سوال کیا کہ ''کیا مذہبی عقیدے کی بنیاد پرننگے رہنے والے جین مت کے ماننے والے سادھووؤں اور ہندو ناگا باباؤں پر یہ قانون نافذ ہو سکے گا؟ کیا سکھ مت کے ماننے والوں کو بال رکھنے کے حق سے محروم کردیا جائے گا؟ کیا غیر منقسم ہندو خاندان کو حاصل ٹیکس چھوٹ بند کردی جائے گی؟''اتحاد ملت کونسل کے صدر مولانا توقیر رضا خان، جو اہلسنت وجماعت بریلوی  کے معروف عالم اور مولانا احمد رضا خان بریلوی مرحوم کے پڑپوتے ہیں، کا کہنا تھا کہ دراصل حکومت یکساں سول کوڈ جیسے حساس مسئلے پر مسلمانوں کو مشتعل کر کے اپنا سیاسی ایجنڈا پورا کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود ہندو قوم میں بہت سے پرسنل لا ہیں جو یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے بعد ختم ہو جائیں گے لہٰذا مسلمانوں کو اس معاملے پر کچھ بولنے سے گریز کرنا چاہئے۔نئی دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبہ اسلامیات کے پروفیسر ایمریٹس اخترالواسع نے غیر ملکی نشریاتی ادارہ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ''یونیفارم سول کوڈ مسلمانوں کی چڑ بنادی گئی ہے لیکن مسلمانوں کو چاہئے کہ اس چڑ کو چھوڑ دیں کیونکہ یکساں سول کوڈ بھارت کے کسی ایک مذہب کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق تمام مذاہب سے ہے۔''پروفیسر اخترالواسع نے بتایا کہ 2018 میں لا کمیشن نے یونیفارم سول کوڈ کی تجویز کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ بھارت میں تنوع کا جشن منایا جانا چاہئے اور اس کا احترام ہونا چاہیے،  بھارتی مسلمانوں کی نمائندہ اور سب سے بڑی دینی جماعت جمعیت علمائے ہند کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ ''یونیفارم سول کوڈ ملک کے لیے غیر ضروری، ناقابل عمل اور انتہائی نقصان دہ'' ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس غیر ضروری کام میں ملک کے وسائل کو ضیاع کرکے سماج میں انتشار نہ پیدا کرے۔ کمیشن نے یہ بھی کہا تھا کہ یونیفارم سول کوڈ فی الوقت بھارت کے لیے غیر ضروری اور غیر مطلوب ہے۔
''المختصر یہ کہ بھارت اور مقبوضہ جموں وکشمیر سے مسلمانوں سمیت ہندوؤں، عیسائیوں سکھوں ودیگر تمام مذاہب کے عوام نے مودی کے ایجنڈے کو خطرناک قرار دیاہے۔ مودی نے اپنی سابقہ الیکشن مہم میں چار بڑے وعدے کئے تھے جن کی تکمیل میں وہ مصروف ہے انتہا پسند جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)نے ہندو ووٹروں کو لبھانے کے لیے اپنے انتخابی منشور میں جو چار اہم وعدے کیے تھے۔ اقتدار میں آنے کے بعد ان میں سے تین یعنی جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کو ختم کرنے، ایودھیا میں بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر تعمیر کرنے اور شہریت ترمیمی قانون کا وعدہ پورا کردیا۔ اس نے تین طلاق کو بھی غیر قانونی اور قابل سزا جرم قرار دے دیا ہے۔ اب ملک بھر میں یکساں سول کوڈ کے نفاذ کا آخری اہم وعد پورا کرنا رہ گیا ہے۔مگر اس کے باوجود مودی اور بے جے پی کی عوام میں دن بہ دن مقبولیت کھو رہی ہے اور وہ اب 'ڈوبتے کو تنکے کا سہارا' کہاوت کے مصداق آج بی جے پی اور اس کی اعلیٰ قیادت پر پوری طرح سچ ثابت ہو رہی ہے۔ہماچل پردیش اور کرناٹک اسمبلی الیکشن میں زبردست ہار اور اب مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ اور تلنگانہ ہی نہیں راجستھان سے بھی اسے اچھی رپورٹیں نہیں مل رہیں۔ دہلی اس کے ہاتھ سے پہلے ہی جاچکا ہے جس سے اس کی بوکھلاہٹ بڑھتی جا رہی ہے اور اب وہ ہندو اکثریتی علاقوں کے عوام کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے نے نئے ڈرامے رچا رہا ہے۔ ||


مضمون نگار ایک کشمیری صحافی اور تجزیہ نگارہیں جو مظفرآباد سے شائع ہونے والے ایک روزنامہ کے ایڈیٹر ہیں۔ 
[email protected]