اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 03:43
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

 ہمارے شاہین و عقاب افتخارِ ملک و ملت

ستمبر 2023

ستمبر 1965 کی جنگ میں پاک فضائیہ کے نمبر 14 سکواڈرن کے مشرقی محاذ پر بھارتی ائیر فیلڈ پر کئی حملے ، نمبر 19 سکواڈرن کے پٹھان کوٹ، جموں اور سری نگری ریڈار پرحملے نمبر 32   اور 33  فلائنگ ونگز کے امرتسر ریڈار پر حملے، ہمارے لاجواب عقابوں کے جارحانہ کائونٹر آپریشز کی کچھ اعلیٰ مثالیں ہیں۔ اس مضمون میں تمام آپریشنز کا مختصراً تذکرہ کرنا امرِ محال ہے، اِس لیے 19 سکواڈرن کے واہگہ مشن سے لوٹنے کے بعد پٹھان کوٹ پر غروبِ آفتاب کے قریب 8 سیبر طیاروں کے دوسرے حملے کو بیان کیاجائے گا۔ ہمارے شاہینوں کی پیشہ ورانہ قابلیت کا اقرار دشمن بھی کچھ اس عالی شان انداز سے کرتے نظر آتے ہیں۔



بھارتی فضائیہ کے ایک فائٹر پائلٹ ائیر مارشل ایس رگھاو یندران جو اس حملے کے عینی شاہد ہیں، کہتے ہیں عجب افراتفری کا عالم تھا، ہر جانب گولیاں چل رہی تھیں، ہر کوئی قریب ترین خندق کی جانب بھاگتا اور اس میں چھلانگ لگاتا، حواس باختہ نظر آتا تھا، ہم کسی ترتیب میں بیٹھے ہوئے یا جھکے ہوئے نہیں تھے، بلکہ ایک دوسرے کے اوپر لیٹے ہوئے تھے، ہم پاک فضائیہ کے سیبر طیاروں کو اپنے اوپر بار بار چکر لگاتے سن سکتے تھے، لگتا تھا جیسے وہ فائرنگ رینج پر پریکٹس کر رہے ہوں۔ طیارہ شکن توپوں کی گولہ باری کے باوجود انہوں نے ہمارے تمام طیاروں کو جن میں دو عدد مگ21 بھی تھے ، تباہ کر دیا، باقی سب تاریخ کا حصہ ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ چار سیبر طیاروں نے حملہ کیا ہے۔ لیکن وہ تو بار بار چکر لگا رہے تھے، اِس لیے کئی بار خندق سے سر باہر نکالنے پر بھی ہم انہیں ٹھیک طرح سے گِن نہ سکے تھے۔ نمبر31 سکواڈرن کے Mysteresکو پاک فضائیہ نے پٹھان کوٹ کے حملے میں تباہ کر دیا تھا۔ایکMysteres اسی وقت پرواز سے واپس لوٹا تھا اور اسے سکواڈرن لیڈر Tony Mousinhoاڑا رہے تھے، نمبر 28 سکواڈرن کے چھ PF اور چار F-13(Type-74) تھے۔ 28 سکواڈرن کے دو MIG 21 PF جن پر دو ستمبر کو ونگ کمانڈر ایم ایس ڈی وولن (MSD Wollen) اورسکواڈرن لیڈر مکھر جی نے پرواز کی تھی، اس حملے کے دوران زمین پر کھڑے کھڑے ہی تباہ کردیے گئے تھے۔
مشہور بھارتی مصنفین پشپندر سنگھ چوپڑا اور روی رائیکی کے تجزیے کے مطابق جسے انہوں نے اپنی تصنیف  
 FIZA'YA Psyche of the Pakistan Air Force میں رقم کیا ہے، 6 اور 7 ستمبر کو 14 سکواڈرن کی مشرق میں کلائی کنڈا، باغ ڈوگرا اور پشاور سے نمبر 19 سکواڈرن کی پٹھان کوٹ میں شاندار کامیابیوں کوبے حد سراہا ہے۔
6ستمبر کو 19 سکواڈرن کے ہوا باز لاہور کا دفاع کرتے ہوئے واہگہ مشن سے کامیاب لوٹے ہی تھے کہ تقریباً دن کے ساڑھے بارہ بجے کے قریب سگنل ملا کہ نمبر 19 سکواڈرن کے 8 سیبر طیارے 6 گنزکے 800  رائونڈز کے ساتھ پٹھان کوٹ ائیر فیلڈ پر کھڑے جہازوں کو تباہ کر کے آئیں، جہاں طیارہ شکن توپیں نصب ہیں، حملے کا وقت 5:05شام ہو گا، سکواڈرن کے لیے یہ ایک نیا ہدف تھا، جس کے بارے میں معلومات نہ تھیں، سیبر کے ایندھن کے لحاظ سے اِدھر ادھر گھومنے اور نیچے موجود محلِ وقوع کو سمجھنے کی گنجائش نہ ہونے کے برابر تھی۔ ہم نے 25 ہزار فٹ کی بلندی پر جانے کی حکمتِ عملی اپنائی تاکہ دشمن کا ریڈار دریائے چناب کے قریب ہمیں دیکھ لے، اس کے بعد ہم ہدف کی جانب مڑتے ہوئے عموداً غوطہ کھا کر دشمن کی ریڈار سکرین سے غائب ہو گئے۔ بھارت کا امرتسر ریڈار سمجھا کہ ہماری منزل ہلواڑہ ہے۔ہم  پسرور کی ہوائی پٹی کی جانب مڑتے ہوئے تیزی سے اپنے ہدف پٹھان کوٹ کی جانب جھپٹے۔ یہاں بھارتی فضائیہ کے ائیر مارشل رگھاو یندران  کے مضمونThe Day, The PAF Got Awayکا حوالہ دینا قارئین کے لیے انتہائی دلچسپ ہو گاکہ اس وقت وہ پٹھان کوٹ میں نیٹ لڑاکا طیارے کے سکواڈرن کمانڈر تھے اور اپنے بیس کمانڈر گروپ کیپٹن سوری کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ تاریکی چھا جانے سے پہلے ائیر فیلڈ کی حفاظت کے لیے حفاظتی پرواز کمبیٹ ائیر پٹرولنگ (CAP)کی اجازت دی جائے لیکن یقینا اللہ سبحانہ تعالیٰ زیمبوز (Zamboos)سیبر طیاروں کی فارمیشن کا کال سائن،پر مہربان تھا اسی وجہ سے گھبراہٹ میں گرفتار کمانڈر نے فلائنگ کی کوشش کو آئندہ کے لیے بچا رکھنے کی خاطر سی اے پی کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ جو ہماری فارمیشن کے لیے خوش قسمتی کا باعث بنا۔
مجھے، سجاد حیدر نوزی کو انتہائی محددود فضا میں آٹھ طیاروں پر ایک ہی وقت میں نظر رکھنی تھی۔ حملے کے آغاز میں صرف 90 سیکنڈ باقی تھے۔ ہمیں اپنے لہو کی حرارت میں اضافہ ہوتا محسوس ہو رہا تھا کہ اچانک مجھے دشمن کے دو لڑاکا طیارے تقریباً چار میل کے فاصلے پر 2O,clockپوزیشن پر بائیں جانب مڑتے دِکھائی دیے، میں نے ربِ ذوالجلال سے دعا کی کہ وہ ہمیں بغیر دیکھے گزر جائیں اور پھر ایسا ہی ہوا ، لیڈر نے پہلی بار ریڈیو کی خاموشی کو توڑااور کہا کہ حملے میں صرف ایک منٹ باقی ہے، 30 سیکنڈ بعد میں نے کہاکہ سرکٹ بریکر INدوبارہ چیک کر لو اور گنز تیار کر لو، حملے میں صرف 30 سیکنڈ باقی ہیں۔ لیڈر نے حملے کی ابتدا کرتے ہوئے اللہ اکبر کا نعرہ بلند کیا۔ منصوبے کے عین مطابق میرے بائیں جانب  2 میل کے فاصلے پر پٹھان کوٹ کی ائیر فیلڈ نظر آرہی تھی۔ ہم بڑی مہارت سے اپنے ہدف پر پہنچے تھے ، سامنے حسین منظر تھا۔ دو عدد MIG 21 او ر کئی Mysteres اپنے حفاظتی احاطوں میں شمال کی جانب آگے پیچھے کھڑے ہوئے بول بول کر ہمیں حملہ آور ہونے کی دعوت دے رہے تھے۔ میں نے پر جوش ہو کر آواز بلند کی یہاں  MIG 21اور کئی دوسرے طیارے ہیں ،ہم نے سب کو تباہ کر کے جانا ہے۔ عباس خٹک جو نمبر 4 کی پوزیشن میں تھے ،نے بعد میں مجھے بتایا کہ وہ یہ سمجھے کہ MIG 21 فضا میں موجود ہیں، لہٰذا وہ اتنی تیزی سے مڑے کہ انہیں واپس اپنی پوزیشن میں آنے کے لیے 360 ڈگری کا چکر کاٹنا پڑا۔ میں نے فلائٹ لیفٹیننٹ مواکبر کو جو دیگر چار لڑاکا طیاروں کی قیادت کر رہے تھے، دائیں جانب اوپر7000 فٹ کی بلندی پر جانے اور 90-270 کا چکر لگانے کو کہا تاکہ ہم ایک وقت میں دو حملے کر سکیں اور یہ فیصلہ منصوبے سے ہٹ کر وقت کی مناسبت سے تھا اور حالتِ جنگ میں لیڈر کو ایسے ہی فیصلے صورتِ حال کو مد نظر رکھتے ہوئے کرنے پڑتے ہیں۔ میں نے پہلے MIG-21 کو نشانہ بنایا اور پھر جیسے ہی میں اپنا دوسرا حملہ مکمل کر کے اوپر اٹھا میں نے حکم جاری کیا کہ میرا یہ آخری حملہ ہے اس لیے موا ابھی تمہاری ٹکڑی حملہ نہ کرے جب تک کہ میں اپنا دوسرا حملہ مکمل نہ کر لوں۔ موا اکبر نے میرے دوسرے حملے کو دیکھتے ہوئے ہلکے پھلکے انداز میں ہنستے ہوئے کہا  سر یہ ٹھیک نہیں ہمیں حملہ کرنے دیں میں نے بھی مسکراتے ہوئے اسے پورا پورا موقع فراہم کرنے کا وعدہ کیا لیکن ساتھ ہی اپنا تیسرا حملہ بھی کر دیا۔ پیشہ ور ہواباز سمجھ سکتے ہیں کہ ہمارے حملے بڑی برق رفتاری کے ساتھ مسلسل 3 سے 4 ، Gsپیٹرن میں تھے۔ ہم ایک حملہ تیزی سے کرتے اور پھر سرعت رفتاری سے 90 ڈگری کی قوس بناتے ہوئے اگلے حملے کے لیے واپس آجاتے، میرا نمبر 2، ارشد چوہدری میرے دائیں جانب ایک ہزار فٹ کے فاصلے پر موجود تھا، واقعی یوںمحسوس ہورہا تھا جیسے ہم سب اپنی ہی جمروز رینج پر مشق کر رہے ہوں۔بالآخر جب ہم نے حملے ختم کئے اور 50 فٹ کے فاصلے پر اے ٹی سی عمارت کی جانب بڑھے تو مجھے ٹرانسپورٹ طیارہ دکھائی دیا اور جب میں نے اسے نشانہ بنانے کا ارادہ کیا تو میرے ونگ مین ارشد نے کہا سر ٹرانسپورٹ جہاز کو مجھے نشانہ بنانے دیں، میں نے فورًا جواب دیا ٹھیک ہے تم ٹارگٹ لے لو لیکن نشانہ خطا نہیں جانا چاہیے۔ ورنہ پھر مجھے ہی نشانہ لینا پڑے گا۔ اس کی گولیاں دائیں جانب میرے قریب سے گزریں اور اس نے C-119 کو بالکل ٹھیک نشانہ بنایا۔ میں نے شاباش دیتے ہوئے کہا بہترین شاٹ، ویل ڈن بوائے اب ہمیں واپس جانا ہے، جب ہم پٹھان کوٹ تباہ شدہ ائیر فیلڈ شعلوں کی لپیٹ میں چھوڑ کر پلٹ رہے تھے تو مجھے نمبر 6 IN کہتے ہوئے سنائی دیا۔ ایسکورٹ لیڈر، ونگ کمانڈر ایم جی ثواب پرجوش آواز میں بولاکہ زیمبو لیڈر شان دار نشانے بازی تھی، میں 14 جلتے ہوئے جہاز جہنم جیسی آگ میںبھڑکتیہوئے گن سکتا ہوں۔ میں نے 8 نمبر غنی اکبر کو دوسرا حملہ مکمل کرنے کے بعد ایندھن چیک کرنے کا کہا ،غنی اکبر نے دوسرا حملہ بغیر اجازت کے کیا۔ لیکن یہ جنگ تھی اور مجھے خداکی بے پناہ مہربانیوں کا احساس ہو رہا تھا کہ انتہائی تنگ سرکٹ میں موجود آٹھ جہازوں کو طیارہ شکن توپوں کے گولوں کی بوچھار سے ذرہ برابر بھی نقصان نہ پہنچا جبکہ صرف دو جہازوں پر ان گولوں کی وجہ سے ہلکی سی خراشیں آئیں تھیں۔
پشاور واپسی پر لوگوں نے اپنے ہوابازوں کا بڑی گرم جوشی سے والہانہ استقبال کیا۔ ائیر مین تمام پائلٹوں کی خیریت سے واپسی پر شکرانے کے نوافل ادا کر رہے تھے، لیڈ ر کے خیال کے مطابق خالد لطیف نے MIG-21کو نشانہ بنایا تھا باقی سب کے حصے میں Mystere ہی آئے تھے۔ موا اکبر، غنی اکبر ارشد، دلاور اور عباس خٹک نے اچھے نشانے لگائے تھے ۔ فارمیشن میں سے آٹھ ہوابازوں میں سے سات کی شوٹنگ اعلی پائے کی تھی صرف ایک کی کارکردگی بہترنہ تھی جو کہ مجموعی طور پر بہت قابل ستائش کارکردگی ہے۔
بھارتی مصنفین جگن موہن اور سمیرا چوپڑا نے 1965 جنگ کی تفصیلات اپنی کتاب India Pakistan Air War, 1965میں بیان کیں ہیں۔ یہ ایک تحقیق شدہ اعدادو شمار پر مشتمل تصنیف ہے جس میں دونوں طرف سے جانوں کا نقصان اور زمین پر کھڑے جہازوں کے تباہ ہونے سے متعلق اعدادو شمار بے حد قابل اعتماد ذرائع سے اکھٹے کیے گئے ہیں۔ قلم نگاروں نے پٹھان کوٹ کی تفصیلات تقریباً سات صفحوں پر بڑی وضاحت سے بیان کی ہیں کہ کس طرح زیمبور نے وہاں کھڑے ہوئے تما م جہازوں کو کس مہارت سے تباہ کر دیا دونوں مصنفین لکھتے ہیں کہ پٹھان کوٹ کے بیس کمانڈر گروپ کیپٹن سوری کو ویسٹرن ائیر کمانڈ کی میٹنگ کے دوران بتایا گیا تھا کہ بھارتی فوج بین الاقوامی سرحد پار کر کے پاکستان میں داخل ہو گئی ہے اوراِس میں کوئی شک نہیں کہ بہت جلد بھارتی فضائیہ کا پاکستان کے خلاف بڑے پیمانے پر حملوں کا منصوبہ تھا۔ ونگ کمانڈر جو پٹھان کوٹ بیس کے او سی فلائنگ تھے، کو حملے کی اطلاع اس وقت ملی جب وہ اپنے گیراج کی جانب جارہا تھا۔ اس نے طیارہ شکن توپوں کی آوازیں سنیں اور ساتھ ہی آٹھ سیبر طیاروں کو حملہ کرتے دیکھا جس میں سے چار بے حد کم بلندی سے غوطہ لگا رہے تھے اور اپنی مشین گنوں سے فائرنگ کر رہے تھے جبکہ چار زیادہ بلند ی پر موجود تھے۔ طیارہ شکن توپیں مسلسل گولے اگل رہی تھیں جبکہ سیبر طیاروں کی گنوں نے بھی کان پھاڑ دینے والا شور برپاکر رکھا تھا۔ جہاز ہر سمت میں ٹیکسی کر رہے تھے اور کسی وقفے کے بغیر پاک فضائیہ کے ہوا باز حملہ پر حملہ کیے جارہے تھے۔ بقول بھارتی مصنفین، جب سیبر طیارے واپس پلٹے تو دھوئیں کے دس مینار بلند ہو گئے۔ وہ حملے بے حد کامیاب رہے جس کے نتیجے میں بھارتی فضائیہ کے 10 طیارے نمبر 3 سکوار ڈرن کے چھ Mysters نمبر 31 سکواڈرن کے دوMysters، ایک نیٹ طیارہ، ایک فیئر چائلڈ پیکٹ اور دو MIG-21 تباہ ہو گئے۔ تین دوسرے جہازوں کو نقصان پہنچااور وہ فلائنگ کے لیے ناکارہ ہو گئے۔ ||