اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 04:21
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ،چیلنجز اور لائحہ عمل

جون 2023

ماحولیاتی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے پیش نظر دنیا بھر میںیوم الارض یعنیEarth Dayمنایاجاتاہے۔ امریکی سینیٹر گیلارڈ نیلسن نے 60 کی دہائی میں دُہائی دینا شروع کی کہ ہم اندھا دھند کنزیومر ازم کی کلہاڑی سے کرہ ٔ ارض کی ماحولیاتی جڑیں اور بنی نوع انسان کا مستقبل کاٹ رہے ہیں۔ دیگر آوازیں بھی اس میں شامل ہوئیں تو بالآخر 1970  میں 22 ستمبرکو ہر سال یوم الارض منانے کی ابتداء ہوئی۔ 



پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جو شدید ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلوں کا شکار ہیں۔ گزشتہ سال کے تباہ کن سیلاب اس کی تازہ ترین مثال ہیں۔ پاکستان کو گزشتہ دو دہائیوں سے بارشوں، سیلابوں، زلزلوں سمیت کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان چیلنجز میں تازہ ترین چیلنج بڑھتی ہو ئی شہری آبادی کے سبب ہر روز جمع ہونے والا کچرا یا سالڈ ویسٹ (Solid Waste) ہے۔


دنیا کے وسائل پر سب سے زیادہ اور تیزی سے ہاتھ صاف کرنے والے ملک امریکہ میں اس تحریک کے نتیجے میں ادارئہ تحفظ ماحولیات (Environment  Protection Agency)   قائم کیا گیا۔ اس ادارے کی اجازت بڑے بڑے تعمیراتی پروجیکٹس، صنعتی، کان کنی یا ماحول پر اثرانداز ہونے والے پروجیکٹس کی منظوری لازم ٹھہری۔ ماحول پرپے در پے پڑنے والے تباہ کن اثرات کا احساس اجاگر ہوا تو امریکہ میں کلین ایئر ایکٹ، کلین واٹر ایکٹ، آکوپیشنل ہیلتھ ایند سیفٹی یعنی پیشہ ورانہ امور کی انجام دہی کے دوران صحت اور تحفظ ایکٹ اور ماحولیاتی ایجوکیشن ایکٹ جیسے قوانین بنائے گئے۔ یوں پہلی بار صاف ہوا اور صاف پانی بنیادی انسانی حقوق کی فہرست میں شامل ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات اور جانوروں کا تحفظ بھی ماحول دوست پالیسیوں کا حصہ بنا ۔ دیکھا دیکھی دنیا کے دیگر ممالک نے بھی ان قوانین کو اپنی پالیسیوں کا حصہ بنایا، کسی نے کم اور کسی ملک نے زیادہ لیکن ماحولیاتی تبدیلیوں کے ہر سال نئے جھکڑ ملکوں کو جھنجھوڑ رہے ہیں کہ وقت کم اور مقابل سخت ہے۔ 
سالڈ ویسٹ اور پاکستان
پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جو شدید ماحولیاتی اور موسمیاتی تبدیلوں کا شکار ہیں۔ گزشتہ سال کے تباہ کن سیلاب اس کی تازہ ترین مثال ہیں۔ پاکستان کو گزشتہ دو دہائیوں سے بارشوں، سیلابوں، زلزلوں سمیت کئی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان چیلنجز میں تازہ ترین چیلنج بڑھتی ہو ئی شہری آبادی کے سبب ہر روز جمع ہونے والا کچرا یا سالڈ ویسٹ (Solid Waste) ہے۔ پاکستان کی آبادی میں پچھلی کئی دِہائیوں سے شہروں کی طرف نقل مکانی کا رجحان بہت تیزی سے رونما ہوا ہے۔ صنعتوں کے ارتکاز اور شہروں کے بے تحاشا پھیلائو نے پاکستان کو جن ماحولیاتی مسائل سے دوچار کیا ہے ان میں ایک اہم ترین مسئلہ سالڈ ویسٹ ٹھکانے لگانے کا بھی ہے۔ 
ایک اندازے کے مطابق پاکستان کو سا لانہ 49.6 ملین ٹن سالڈ ویسٹ کا سامنا ہے ، اس کے ساتھ ساتھ صنعتی اور گھریلو ویسٹ واٹر یعنی آلودہ پانی کا حجم4.36 ملین کیوبک میٹر سالانہ کا دوہرا چیلنج ہے۔ سالڈ ویسٹ اور آلودہ پانی کے حجم میں سالانہ 2.4% ، اضافہ ہو رہا ہے۔ یعنی آبادی میں اضافے کے لگ بھگ۔ المیہ یہ ہے کہ دیگر ترقی مذیر ممالک کی طرح بمشکل 60-70%  سالڈ ویسٹ اور محض 1% آلودہ پانی ٹھکانے لگانے سے پہلے صاف یا مناسب انداز میں ٹریٹ کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں سالڈ ویسٹ کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کا انفرا سٹرکچر ناکافی ہے۔ زیادہ تر سالڈ ویسٹ جلا دیا جاتا ہے، خالی اور نشیبی جگہوں پر ڈھیر کر دیا جاتا ہے یا گڑھوں میں پھینک کر زمین ہموار کرنے کے کام آجاتا ہے۔ ہر صورت میں یہ سالڈ ویسٹ صحت ، صفائی اور تحفظ کے  لیے تباہ کن اثرات کا باعث بنتا ہے۔ 
شہر جتنا بڑا ہے، سالد ویسٹ کا مسئلہ بھی اتنا ہی بڑا ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی روزانہ 16,500 ٹن میونسپل ویسٹ پیدا کرتا ہے جبکہ لاہور میں یہ مقدار روزانہ 7,700 ٹن، فیصل آباد 5,017 ٹن،   راولپنڈی  4,500 ٹن، پشاور 2,048 اور کوئٹہ 716 ٹن ہے۔ یہ صرف چند بڑے شہروں کی داستان ہے جبکہ دیگر تمام شہروں میں یہ مسئلہ وقت کے ساتھ ساتھ سنگین سے سنگین تر ہو تا جا رہا ہے۔ دوسری طرف یہ واضح ہے کہ شہروں میں مقامی حکومتوں یا میونسپل کارپوریشنز کی انتظامی صلاحیتیں اور مالی وسائل محدود تر ہیں۔ 


سالڈ ویسٹ کو محفوظ اور کارآمد انداز میں ٹھکانے لگانے کے لئے ضروری ہے کہ تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں مربوط میونسپل ویسٹ ڈسپوزل سسٹم وضع کیا جائے اور سختی سے عمل کیا جائے۔  اس عمل میں عوامی آگہی اور  میونسپل اداروں  کے درمیان ہم آہنگی اور رابطے کی ضرورت ہے  جس کے بغیر سالڈ ویسٹ کو میٹیریل کے اعتبار سے علیحدہ علیحدہ سٹور کرنے،  میونسپل اداروں کے  حوالے کرنے  اور اسی مناسب انداز میں تلفی یا ری سائکلنگ ممکن نہیں۔


مزید ستم یہ کہ سالڈ ویسٹ جیسا سنگین مسئلہ بظاہر صوبائی اور مرکزی حکومت کی ترجیحات کی فہرست میں شاذ ہی اہمیت پا سکا ہے۔ پانی جب سر سے گزر جاتا ہے تو چند دن شور شرابا ہوتا ہے اور بس، کچھ عرصہ قبل کراچی میں کچرے کے ڈھیروں اور غلاظت و تعفن کا شہرہ رہا ، چند مال قبل یہی شور شرابا لاہور کے بارے میں بھی رہا لیکن نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ انتظامی صلاحیتوں، اداراتی ڈھانچے، مشینری، مالی وسائل کی فراہمی ، سالڈ ویسٹ کو چھوٹے بڑے شہروں میں مربوط اور تسلسل کے ساتھ ٹھکانے لگانے اورسالڈ ویسٹ کے نظم و نسق کو حکومتی ، عوامی اور گھریلو سطح پر منظم کرنے کی نوبت نہیں آ سکی۔
سالڈ ویسٹ کی عمومی اقسام کچھ یوں ہیں: 
1۔ میونسپل سالڈ ویسٹ
2۔صنعتی ویسٹ 
3۔  زرعی ویسٹ
4۔  ہلاکت خیز یا  نقصان دہ ویسٹ یعنی Hazardous waste 
چیلنجز کیا ہیں؟ 
سالڈ ویسٹ کو محفوظ اوربہتر انداز میں ٹھکانے لگانے کے عمل میں حائل چند دشواریاں کچھ یوں ہیں:
 اول: چند ایک شہروں میں کچے پکے سسٹم کے سوا بالعموم سالڈ ویسٹ کو محفوظ اور کارآمد انداز میں ٹھکانے لگانے کا مربوط نظام موجود نہیں۔
دوم: آج بھی بالعموم سالڈ گھریلو ویسٹ گلیوں  میں کوڑا کرکٹ کی  صورت میں  ایک  فالتو بوجھ سمجھ کر پھینک دیا جاتا ہے۔
سوم:  مجموعی شعور اور آگہی کے فقدان کی وجہ سے بالعموم سالڈ  ویسٹ کومیٹیریل کے اعتبار سے علیحدہ علیحدہ سٹور نہیں کیا جاتا۔ کچرا چننے والے یا کارآمدمیٹیریل کی تلاش میں مزدور کارآمدمیٹیریل چن کر باقی کچرا مکس ہی چھوڑ دیتے ہیں
چہارم:  شہروں اور قصبوں کے قرب  و جوار میں مخصوص اور زیر ِ نگرانی لینڈ فل سائیٹس نہیں یعنی گہری زمین کو بھرنے کی جگہیںبہت کم ہیں یا سرے سے دستیاب ہی نہیں۔ 
پنجم:  شہریوں کو عموما اس امر کا ادراک ہی نہیں کہ سالڈ  ویسٹ کومیٹیریل کے اعتبار سے علیحدہ کرنے کا سالڈ ویسٹ کی تلفی، اسے محفوظ اور کارآمد انداز میں  ٹھکانے لگانے کے عمل پر کیا اور کیسے اثر پڑتا ہے۔ 
لائحہ عمل کیا ہو؟
اول:  سالڈ ویسٹ کو محفوظ اور کارآمد انداز میں ٹھکانے لگانے کے لئے ضروری ہے کہ تمام چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں مربوط میونسپل ویسٹ ڈسپوزل سسٹم وضع کیا جائے اور سختی سے عمل کیا جائے۔  اس عمل میں عوامی آگہی اور  میونسپل اداروں  کے درمیان ہم آہنگی اور رابطے کی ضرورت ہے  جس کے بغیر سالڈ ویسٹ کو میٹیریل کے اعتبار سے علیحدہ علیحدہ سٹور کرنے،  میونسپل اداروں کے  حوالے کرنے  اور اسی مناسب انداز میں تلفی یا ری سائکلنگ ممکن نہیں۔ 
دوم:  پاکستان نے  قوانین کی  حد تک عالمی سطح پر مروج بہت سے قوانین کو اپنایا ہے مگر ان قوانین کو رو بہ عمل لانے اور اداروں کی صورت  میں  ان قوانین کو روزمرہ  انجام دہی کے لئے  اداراتی انتظامی بندو بست میں خاطر خواہ سرگرمی نہیں دکھائی۔ شاذ ہی ان قوانین پر ان کی روح کے مطابق عمل کی  صورت نظر آتی ہے۔  ضرورت اس امر کی ہے کاغذی خانہ پری سے ہٹ کر ان قوانین پر عمل کا مربوط نظم وضع کرنے اور عمل پیرا ہونے کی عملی صورت  پیدا کی جائے ۔گو ماحولیاتی تحفظ کے ادارے قائم ہو چکے ہیں لیکن  قومی سطح پر ابھی تک  سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے نیشنل کوالٹی سٹینڈرز وضع نہیں کئے جاسکے۔ 
سوم؛  سالڈ ویسٹ کو آگ لگا کر تلف کرنے یا گہری زمینوں کو پُر کرنے یا خالی جگہوں پر سالڈ ویسٹ کے پہاڑ کھڑے کرنے کے بجائے  مخصوص سائٹس پر ہی  ٹھکانے لگایا  جائے۔ جو ویسٹ کارآمد یا دوبارہ قابل استعمال ہو سکتی ہے  اس کے لئے  مناسب پراسس، مشینری اور انتظامی بند و بست کی ضرورت ہے  جیسے ویسٹ سے بجلی پیدا کرنے کے پروجیکٹس وغیرہ۔ 
چہارم: سالڈ ویسٹ کم کرنے کے لئے ضروری اقدام میں سے چند ایک یہ  بھی ہیں کہ سالڈ ویسٹ کم سے کم پیدا ہوا  یعنی اشیائے ضروریہ کے استعمال میں کفایت اور ایسے میٹیریل استعمال کرنے کی ترغیب جن سے سالڈ ویسٹ کم سے کم پیدا ہو۔ مزید یہ کہ سالڈ ویسٹ کا باعث بننے والے بہت سے ویسٹ کو دوبارہ استعمال یعنی Reuse  کرنے کی ترغیب دی جائے تاکہ پیکیجنگ کو  دوبار استعمال کرنے کا عمل کفایت اور ذمہ داری کا مظہر ہو سکے  جیسے شیشے کے جارز، پلاسٹک جارز، پلاسٹک پیکیجنگ، شاپنگ بیگز  وغیرہ ۔ اسی طرح  ایسے پیکیجنگ میٹیریل کو فروغ دیا جائے جو دوبار کارآمد اور قابل استعمال ہوں۔ مثلاً کاغذ یا گتے کی پیکیجنگ کو دوبارہ استعمال کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح کئی طرح کا پلاسٹک یا لکڑی کی پیکنگ اور شیشے کی پیکنگ کو بھی  دوبارہ قابل استعمال بنایا  جا سکتا ہے۔  
ان تینوں  اقدامات کو پیکیجنگ اور پراڈکٹس کے استعما ل میں کفایت،  دوبارہ استعمال اور بار بار استعمال کی  صورتوں میں ہمارے روزمرہ کے طریقہ ہائے استعمال کا بنیادی جزو بنانے سے بہت سے سالڈ ویسٹ میں کمی لائی جا سکتی ہے۔  ترقی یافتہ ممالک میں ان  اقدامات کو Reduce, Reuse and Recycle کے نام سے لاگو کرنے اور عام کرنے کی کوششیں  نہایت وسیع البنیاد ہو چکی ہیں۔ ضرورت اس  امر کی ہے کہ  پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک بھی دقیانوسی سوچ  ترک کرکے نئی سوچ اپنائیں جہاں سالڈ ویسٹ  کی بہ حفاطت تلفی ایک معاشرتی فریضہ بھی ہے اور ذمہ داری بھی۔ 
سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ایک انتہائی دقیق اور  وسیع الاثر موضوع ہے۔  صاف ماحول، صاف ہوا، صاف پانی اور محفوظ زندگی ہم سب کا بنیادی انسانی  حق ہے۔ اس حق کو حاصل کرنے کے لئے اجتماعی ذمہ داری اور انتظامی ڈھانچہ  اور وسائل کی  فراہمی کے ساتھ ساتھ عوامی شعور اور آگہی بھی ضروری ہے، ورنہ جس تیزی سے شہروں اور قصبوں کا پھیلائو ہو رہا ہے ، اسی تیزی سے ماحولیاتی بگاڑ بھی ہماری روزمرہ کی زندگی کو عذاب بنا سکتا ہے۔  
یوم الارض منانے والے ترقی یافتہ ممالک نے  دو صدیوں سے زائد اپنے قدرتی وسائل اور ماحول کی تباہ کاری کے بعد یہ حقیقت سمجھی کہ اب  قدرتی وسائل کے استعمال میں کفایت اور ماحولیاتی ایکو سسٹم کو بحال کئے بغیر زندگی بجائے خود خطرے میں ہے۔ ہم دوسروں کی غلطیوں اور اچھی باتوں سے اپنا نقصان کئے بغیر سیکھ سکتے ہیں  بشرطیکہ سیکھنے پر آمادہ ہوں! ||


 مضمون نگار ایک قومی اخبارمیں سیاسی ' سماجی اور معاشی موضوعات پر کالم لکھتے ہیں۔
[email protected]