اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 04:02
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements
Advertisements

ہلال اردو

عدم برداشت و عدم رواداری کا کلچراور پرتشدد رجحانات 

جون 2023

پاکستان کے بہت سے چیلنجز یا مسائل ایسے ہیں جو مجموعی طور پر ہماری ریاستی کمزوری کا سبب بن رہے ہیں ۔ان مسائل کی وجہ سے ہمارا داخلی اور خارجی بحران سنگین بھی ہوگیا ہے اور ہمیں بہت سے معاملات پر ان مسائل کی روشنی میں ان مسائل کی بھاری قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے ۔ ایک سیاسی اور جمہوری معاشرہ جہاں رواداری او رایک دوسرے کے مختلف نظریات کے باوجود لوگوں میں ایک دوسرے کی قبولیت ہی ہماری ضرورت ہے ۔ایک ایسا معاشرہ جو مختلف نوعیت جس میں سیاسی ، لسانی ، علاقائی ، مذہبی اور فرقہ واریت کی بنیاد پر تقسیم ہو وہاں ایک دوسرے کی سوچ، فکر، خیالات کے درمیان سماجی و سیاسی او رمذہبی ہم آہنگی ہی معاشرے میں موجود مختلف تضادات کو کم کرنے کا سبب بنتی ہے ۔یہ جو سوچ ہے کہ ہم سب کو اپنی سوچ اور خیالات کے تابع کرلیں او راگر اس کے لیے ہمیں کوئی طاقت یا زبردستی کی حکمت عملی بھی اختیار کرنا پڑے تو وہ کی جانی چاہیے ، خطرناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے ۔



سیاست، جمہوریت اور آئین یا قانون کے دائرے کار میں رہتے ہوئے ہم اپنی آواز کو کیوں نہیں اٹھاسکتے ۔ کیا ہمیں اپنی آوازوں کو اٹھانے کے لیے طاقت کا استعمال یا ریاستی یا حکومتی یا ادارہ جاتی رٹ کو چیلنج کرنا ہی ضروری امر ہوتا ہے ۔کیا وجہ ہے کہ ایک پرامن اور جمہوری فکر کے انداز میں ہم اپنا مقدمہ پیش کرنے میں ناکام ہورہے ہیں او راس کے مقابلے میں انتہا پسندانہ رجحانات کو فوقیت دی جارہی ہے ۔


پاکستان نے مذہبی اور فرقہ واریت سمیت لسانی بنیادوں پر تقسیم کے منفی اثرات دیکھے ہیں او راس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے پرتشدد یا جھتہ برداری کے واقعات نے ریاستی عمل کو کمزور کیا ہے ۔ لیکن اب ایک نئی جنگ ہمیں سیاسی بنیادوں پر تقسیم کی صورت میں نظر آرہی ہے ۔ اگرچہ 70سے 90کی دہائی میں بھی ہم نے سیاسی فریقوں میں ایک بڑی تقسیم دیکھی تھی،  مگر وہ ڈیجیٹل یا سوشل میڈیا کی دنیا نہیں تھی۔ اس لیے اگر ہم دیکھیں تو آج کی سیاسی تقسیم ماضی کی سیاسی تقسیم سے بہت زیادہ گہری ہے ۔اس تقسیم نے سیاسی جماعتوں سمیت معاشرے کے تمام اہم یا غیر اہم طبقات سمیت حکومتی یا ریاستی اداروں میں بھی اس کے اثرات چھوڑے ہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ آج اہل دانش کی سطح پر ایک بنیادی نوعیت کا سوال '' معاشرے میں پیدا ہونے والی سیاسی تقسیم '' کے تناظر میں اٹھایا جارہا ہے ۔یہ تقسیم انفرادی سطح سے اٹھ کر اجتماعی سطح تک یا یہ کہہ لیں کہ ہماری معاشرتی زندگی یا گھر میں بھی اس کے اثرات دیکھے جاسکتے ہیں ۔
بنیادی طور پر انتہا پسندی پر مبنی رجحانات ہی پرتشدد رجحانات یا تشدد سمیت دہشت گردی کی طرف لوگوں کو مائل کرتے ہیں ۔کیونکہ ہم عملی طور پر اپنی سوچ اور فکر دوسروں پر مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں او راس کے نتیجہ میں علمی یا فکری ٹکراؤ سمیت سیاسی ٹکراؤ بھی پیدا ہوتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ محض ایک سیاسی بحران ہے اور ہمیں اس بحران کو محض سیاسی تناظر میں ہی دیکھنا ہوگا یا اس کے پیچھے اور بھی بہت سے محرکات ہیں جن کا تجزیہ کیا جانا ضرور ی ہے ۔کیونکہ سیاست میں بھی جو عدم برداشت کا کلچر بڑھ رہا ہے اس کے پیچھے بھی ہمارا سماجی پس منظر ہے ۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارا مجموعی تعلیمی نظام اور گھریلو یا خاندانی نظام میں ہی کچھ ایسے مسائل ہیں جو لوگوں کو تربیت کے عمل سے باہر نکال رہے ہیں ۔تعلیم اور تربیت یا خاندان یا تربیت کا جو باہمی تعلق ہے اس میں ہی ہمیں ایسے مسائل کا سامنا ہے جو ابتدا ہی میں بچوں اور بچیوں میں مختلف تقسیم کو ابھارتے ہیں یا ہم ان پر بڑ ے ہونے کے ناطے بہت سی سوچ اور فکر کو مسلط کرتے ہیں ۔
عدم برداشت یا عدم رواداری کے مقابلے میں ہمیں قومی سطح پر تمام طبقات میں ''مکالمہ کے کلچر'' کو فوقیت دینی تھی ۔ کیونکہ مسائل کی نوعیت جو بھی ہو او رمعاملہ جتنا بھی حساس یا سنگین ہو اس کا علمی اور فکری علاج مکالمہ ہی کی صورت میں ممکن ہوتا ہے ۔ مکالمہ کا مقصد محض اپنی سوچ وفکر کو منوانا ہی نہیں ہوتا بلکہ دوسروں کے مختلف خیالات کے باوجود ا ن کی قبولیت یا باہمی احترا م ہوتا ہے ۔مجموعی طور پر ہمیں قومی سطح پر اوپر سے لے کر نیچے تک مکالمہ کا کلچر درکار ہے ۔اسی طرح نہ صرف مکالمہ کا کلچر بلکہ مکالمہ کی تہذیب اور طور طریقے بھی سیکھنے ہونگے کہ کیسے مکالمہ قومی سطح پر مثبت نتائج کا سبب بنتا ہے۔ اول تو یہاں مکالمہ کے کلچر کا فقدان ہے اور اگر کہیں مکالمہ ہو بھی رہا ہے تو اس پر یہ تنقید بھی موجود ہے کہ یہ واقعی مکالمہ ہے یا مکالمہ کے نام پر لوگوں میں مزید تقسیم کو پیدا کرنا ہے ۔


عدم برداشت یا عدم رواداری کے مقابلے میں ہمیں قومی سطح پر تمام طبقات میں ''مکالمہ کے کلچر'' کو فوقیت دینی تھی ۔ کیونکہ مسائل کی نوعیت جو بھی ہو او رمعاملہ جتنا بھی حساس یا سنگین ہو اس کا علمی اور فکری علاج مکالمہ ہی کی صورت میں ممکن ہوتا ہے ۔ مکالمہ کا مقصد محض اپنی سوچ وفکر کو منوانا ہی نہیں ہوتا بلکہ دوسروں کے مختلف خیالات کے باوجود ا ن کی قبولیت یا باہمی احترا م ہوتا ہے ۔مجموعی طور پر ہمیں قومی سطح پر اوپر سے لے کر نیچے تک مکالمہ کا کلچر درکار ہے ۔


یہ جو ہمیں مختلف واقعات میں لوگوں کی جانب سے بالخصوص نوجوانوں کی سطح پر ایک خاص ردعمل کی سیاسی جھلک دیکھنے کو ملتی ہیں وہ واقعی قومی سطح پر ایک سنجیدہ پہلو اوراس پر غوروفکر کی دعوت دیتا ہے ۔کیا کسی بھی واقعہ پر ہمارا ردعمل انتہا پسندانہ بنیادوں پر ہی ہونا چاہیے او رہمیں و ہ ہی کچھ کرنا چاہیے جو پرتشدد رجحانات کی عکاسی کرے ۔ سیاست، جمہوریت اور آئین یا قانون کے دائرے کار میں رہتے ہوئے ہم اپنی آواز کو کیوں نہیں اٹھاسکتے ۔ کیا ہمیں اپنی آوازوں کو اٹھانے کے لیے طاقت کا استعمال یا ریاستی یا حکومتی یا ادارہ جاتی رٹ کو چیلنج کرنا ہی ضروری امر ہوتا ہے ۔کیا وجہ ہے کہ ایک پرامن اور جمہوری فکر کے انداز میں ہم اپنا مقدمہ پیش کرنے میں ناکام ہورہے ہیں اور اس کے مقابلے میں انتہا پسندانہ رجحانات کو فوقیت دی جارہی ہے ۔احتجاج میں توڑ پھوڑ، جلاؤ گھیراؤ،سرکاری و غیر سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا ، ریاستی رٹ کو چیلنج کرنا، قتل و غارت٫ تشدد ہی کیوں ہماری سیاست کا مجموعی کلچر بنتا جارہا ہے ۔ایک سوال خود ہمارے ریاستی اور حکومتی نظام سے جڑا ہوا ہے کہ اگر کوئی فرد یا ادارہ پرامن انداز میں احتجاج کرتا ہے تو کیا ہم اسے اہمیت دیتے ہیں او رکیا میڈیا اسے اجاگر کرتا ہے ، کیونکہ جب تک کوئی بڑا واقعہ احتجاج کی صور ت میں نہ ہو یا توڑ پھوڑ نہ ہو تو نہ ریاست کو کوئی فکر ہوتی ہے او رنہ ہی حکومت کوئی توجہ دیتی ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ لوگ احتجاج میں تشد دکو بطور ہتھیار اختیار کرکے ریاست او رحکومت پر اپنے مطالبات کے حق میں دباؤ ڈالتے ہیں ۔ اسی طرح مجموی طور پر سیاست کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنے سیاسی کارکنوں کی تربیت وہ نہیں کرسکے جو ہمیں کرنی چاہیے تھی ۔ اس کی ایک بڑی وجہ شاید خود سیاسی جماعتیں یہ سمجھتی ہیں کہ ان کی اپنی وقتی سیاسی بقا بھی اسی میں ہے کہ وہ لوگوں کی جذباتیت کو بنیاد بنا کر اپنے سیاسی مفادات کو ترجیح دیں ۔ویسے بھی ہماری سیاسی جماعتوں کا داخلی جمہوری اور جوابدہی کا نظام کافی کمزور ہے اور اس کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کا اپنے ہی کارکنوں یا حمایتیوں پر کوئی کنٹرول نہیں ہوتا ۔
ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ آج کی دنیا میں جو کچھ ہم یہاں کررہے ہوتے ہیں وہ دنیا بھی دیکھ رہی ہوتی ہے اور اسی بنیاد پر ہماری سیاسی طور پر جو شناخت منفی بنیادوں پر ملکی یا عالمی سطح پربنتی ہے اس پر سوالیہ نشانات اٹھائے جاتے ہیں ۔اسی طرح آج کی دنیا سوشل میڈیا کی دنیاہے جہاں نوجوانوں کے پاس اپنے اظہار کے لیے بے پناہ مواقع ہیں ۔لیکن ہم ان نوجوانوں کی وہ تربیت بھی نہیں کرسکے کہ وہ کیسے خود کو ایک ''ذمہ دارانہ آزادی اظہار''کے طور پر پیش کریں ۔ ہمارے لفظوں میں یا اظہار میں تنقید کم اور تضحیک کا پہلو نمایاں ہے ۔ اس کی ایک بڑی وجہ ہمارے اندر موجود تعصب ، نفرت، غصہ ہے ۔ ہمارے نزدیک سچ وہی ہوتا ہے جو محض ہمارا ہوتا ہے اور باقی سب جھوٹ کی بنیاد پر کھڑے ہیں ۔یہ ایک خطرناک سوچ یا فکر کا رجحان ہے جو معاشرے میں خود کو بالادست اور دوسروں کو کمتر سمجھنے کا سبب بنتا ہے او راسی بنیاد پر جب ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے تو اس کا نتیجہ انتہا پسند رجحانات کی صورت میں ہمیں دیکھنا پڑتا ہے ۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہم نے نوجوانوں کے بنیادی حقوق اور ضرورتوں پر بھی بطور ریاست و حکومت توجہ نہیں دی ۔ ان میں موجودہ محرومی کی سیاست کا نتیجہ بھی انتہا پسندی اور نفرت کی سیاست کی صورت میں سامنے آتا ہے ۔
قومی سیاست کی ایک نئی جھلک ہمیں سیاسی اختلافات کی بنیاد پر سیاسی دشمنی میں نظر آتی ہے ۔سیاست دانوں کی ایک دوسرے کے خلاف کی جانے والی مخالفانہ تقریریں ، جلسے ، جلوس کی سیاست ، ٹی وی ٹاک شوز، پریس کانفرنس سب ہی جگہ پر درست ، مناسب اور مہذہب الفاظ کی جگہ جارحانہ ، سخت گیر اور بدتمیزی پر مبنی گفتگو غالب ہوچکی ہے ۔ہم اپنے سیاسی مخالفین کو ملک دشمن ، غدار، مذہب بیزار، مذہب کارڈ کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کرنا ، چور، ڈاکو جیسے الفاظ کا کثرت سے استعمال بھی نئی نسل میں سیاسی مخالفین کے خلاف نفرت کی سیاست کو جنم دینے کا سبب بنتا ہے ۔ہمارے سیاسی اور مذہبی رہنما کا انداز گفتگو او رسیاست کو ہی ہر سطح پر چیلنج کیا جانا چاہیے کیونکہ جب تک اوپر کی قیادت کی جانب سے ان کا اپنا طرز عمل درست نہیں ہوگا تو کیسے تبدیلی ممکن ہوگی ۔ یہ بحران محض سیاست دانوں یا مذہبی رہنماؤں تک ہی محدود نہیں بلکہ علمی او رفکری مجالس یا وہ اہم افراد یا ادارے جو رائے عامہ تشکیل دیتے ہیں، ان کا اپنا انداز فکر بھی نہ صرف الجھن کا شکار ہے، بلکہ ا ن کا اپنا مزاج بھی برداشت یا قبولیت کی سوچ اور فکر کے خلاف ہے ۔
ہم نے ایک بیس نکاتی نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا جس میں سے بیشتر نکات انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف بیانیہ کی جنگ تھی جن میں میڈیا ٫ دینی مدارس رسمی تعلیم اور نصاب، فرقہ وارانہ، نفرت انگیز اشاعتی مواد، اداروں کو مستحکم کرنا شامل تھا۔ اسی طرح سے فرقہ واریت کو ختم کرنے کے لیے '' پیغام پاکستان کی دستاویز '' اور عورتوں کی پرامن پاکستان میں مؤثر شمولیت کے لیے ''دختران پاکستان '' سمیت قومی نیشنل سکیورٹی پالیسی جیسی دستاویز بھی شامل ہیں ۔ لیکن بدقسمتی سے ہم نے ان تمام دستاویز کے انتظامی امور پر تو کچھ توجہ دی لیکن سیاسی اور علمی و فکری بنیادوں پر ہم ان اہم دستاویز کی کوئی قومی قیادت نہیں کرسکے ۔ سیاسی جماعتوں اور علمی و فکری اداروں سمیت ہمارے رسمی یا دینی تعلیمی اداروں کی ترجیحات میں ان اہم دستاویز کا نہ ہونا بھی لمحہ فکریہ ہے ۔سائبر پالیسی، قانون اور تربیت کے عمل پر کوئی خاص توجہ نہ دینا اور محض خود کو منفی واقعات کی بنیاد پرردعمل کی سیاست یا حکمت عملی تک محدود کرنے سے ہم وہ نتائج حاصل نہیں کرسکے جو ہمیں کرنے چاہیے تھے ۔عدم برداشت اور عدم رواداری جیسے مسائل مجموعی طور پر ہمارے قومی نصاب کا حصہ نہیں بن سکے او راس کی ذمہ داری کسی ایک فریق پر نہیں بلکہ ہم سب فریق ہی اس ناکامی کے زمرے میں آتے ہیں ۔


جو لوگ بھی عدم برداشت اور عدم رواداری کے خود بھی مرتکب ہورہے ہیں اور دوسروں کو بھی ان ہی منفی طرز عمل کی ترغیب دے رہے ہیں ان کے خلاف ضرور قانون حرکت میں آئے او راس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ بالخصوص پسند و ناپسند کی بنیاد پر افراد یا گروہوں کو ٹارگٹ کرنا درست حکمت عملی نہیں ۔اسی طرح محض طاقت کے انداز میں بھی ان مسائل کا حل نہیں بلکہ اس حکمت عملی کا منفی اثر بھی ہوسکتا ہے ۔


جو لوگ بھی عدم برداشت اور عدم رواداری کے خود بھی مرتکب ہورہے ہیں اور دوسروں کو بھی ان ہی منفی طرز عمل کی ترغیب دے رہے ہیں ان کے خلاف ضرور قانون حرکت میں آئے او راس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ بالخصوص پسند و ناپسند کی بنیاد پر افراد یا گروہوں کو ٹارگٹ کرنا درست حکمت عملی نہیں ۔اسی طرح محض طاقت کے انداز میں بھی ان مسائل کا حل نہیں بلکہ اس حکمت عملی کا منفی اثر بھی ہوسکتا ہے ۔ اس کے لیے ریاست کی رٹ کو مضبوط بنانے ، اداروں کی فعالیت او ربغیر کسی تفریق کے لوگوں کو جوابدہ بنانا سمیت اہم کام نئی نسل کے لوگوں کی علمی اور فکری آبیاری بھی ہے ۔ ہمیں لوگوں میں سیاسی ،سماجی اور مذہبی شعور دینا ہوگا کہ وہ انتہا پسندی کو اپنی طاقت بنانے کے بجائے مکالمہ ، بات چیت او رمفاہمت سمیت پرامن طرز عمل کو اپنی سیاسی طاقت بنائیں ۔ہر وہ مواد جو ریاست سے لے کر حکومت او رحکومت سے لے کر معاشرے کے دیگر معاملات میں نفرت انگیز، تعصب اور تفرقہ سمیت تنازعات کو ابھارنے والا مواد ہے تو اس کو ختم کرنا ہوگا۔میڈیا میں جو انتہا پسندی پر مبنی رجحانات ہیں یا جو ریٹنگ کی سیاست ہے جس کا مقصد محض بحرانوں کو دکھانا ہے، اس کا کوئی متبادل حل بھی تلاش کرنا ہوگا ۔ ہم کو ایک ایسے بڑے مکالمے کی ضرورت ہے جہاں ہم ان اہم اور سنگین نوعیت کے مسائل پر تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کوئی حل نکالیں اور ایک ایسے روڈ میپ کو فوقیت دیں جو ہمیں چند برسوں میں انتہا پسندانہ اور پر تشدد جحانات سے باہر نکلنے میں مدد فراہم کرسکے ۔ ہمیں بنیادی طور پر اپنی حکمرانی کے نظام کی فعالیت،  شفافیت سمیت لوگوں اور بالخصوص نئی نسل کو اپنے ساتھ جوڑنا ہے او رجو لوگ بھی ان کو تقسیم کرنے کے کھیل کا حصہ بنے ہوئے ہیں، ان کے مقابلے میں ایک مستحکم ، پرامن اورمہذہب بنیادوں پرمعاشرے کی تشکیل نو کرنا ہے ۔ یہ کام سیاسی سطح پر کسی سیاسی تنہائی میں ممکن نہیں اس کے لیے سب کو ذمہ دارانہ کردار سمیت ایک مجموعی مشترکہ حکمت عملی ، تدبر، فہم وفراست اور مؤثر عملدرآمد سے جڑا نظا م درکا رہے ۔لیکن کیا ہم اس پر کچھ مؤثر کردار ادا کرسکیں گے یہ بنیادی نوعیت کا سوال ہے اور اس کا جواب ریاست او رحکومت کی درست حکمت عملی سے جڑا ہوا ہے ۔ ||


مضمون نگار معروف تجزیہ نگار اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں ۔ ایک معروف روزنامہ میں کالم بھی لکھتے ہیں۔
[email protected]


 

Advertisements