اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 03:51
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

کسی چٹان سے پوچھو یہ شیر کیسے تھے

اپریل 2023

گیاری کا سانحہ آج سے گیارہ سال قبل پیش آیا جس میں پاک آرمی کے 137 جوان اور تین آفیسر لاکھوں ٹن برف کے تودے تلے دب کر شہید ہوگئے۔ چھ بین الاقوامی ٹیموں نے جائزہ لینے کے بعد انکشاف کیا کہ ان افراد کے جسموں کو نکالنے کے لیے 12سے 25 سال کا عرصہ درکار ہوگا۔ لہٰذا یہاں ایک یادگار بنا کر سب شہیدوں کے نام اس پر لکھ دیے جائیں لیکن پاک آرمی کے کچھ آفیسر اور جوانوں نے چند مہینوں میں یہ ناممکن کارنامہ کامیابی سے سرانجام دے کر شہیدوں کے ورثاء کی دل جوئی کی۔ یہ حادثہ کیوں پیش آیا۔ اس کے لیے سیاچن کے علاقے کو اچھی طرح سمجھنا پڑے گا اور شہداء کی برآمدگی کے ناممکن کام کوکیسے ممکن بنایاگیا۔ یہ تمام داستان ِ عزم و ہمت باعثِ رشک اور انتہائی سبق آموز ہے۔
دریائے گیاری اور دم سم گیاری ویلی کے دامن میں اکٹھے ہو کر بہتے ہیں اور ان دو دریائوں کے اطراف میں گیاری ویلی دو کلو میٹر کی چوڑائی میں پھیلی ہوئی ہے جس کی لمبائی بیلا فونڈلا گلیشیئر سے شروع ہو کر گوماتک ہے، جبکہ علاقے کی اونچائی12000 سے13500 فٹ تک ہے۔ چاندی جیسے پانی کے بہتے ہوئے جھرنے اس علاقے کا خاصّہ ہیں اور موسمِ بہار میں جب یہا ں چاروں طرف مختلف رنگوں کے گلاب کھلتے ہیں تو جنت نظیر مناظر پاک دھرتی پر داد وصول کرتے نظر آتے ہیں۔ 
سنہری چاند کی کرنیںجب برف سے ڈھکے دو دھیا پہاڑوں کے آئینوں سے منعکس ہو کر نظروں کے سامنے جھلملاتی ہیں تو انسان خود کو فردوسِ بریں کامکیں محسوس کرتا ہے، ہندوستانی فوجی اسے یخ بستہ جہنم سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس علاقے میں غیر یقینی صورتِ حال فوجیوں کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ ابھی آپ ہیں اور اگلے لمحے آپ نہیں ہیں۔ دو سپاہی آگے پیچھے جارہے ہیں اچانک پیچھے والا دیکھتا ہے کہ آگے والا نہ جانے کہاں غائب ہوگیا۔ اس لیے اس علاقے میں کام کرنے والے فوجیوں کا صرف جسمانی طور پر مضبوط ہونا کافی نہیں بلکہ ذہنی طور پر توانا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔ اونچائی کی پوسٹوں پر بھیجنے سے پہلے چھ سے آٹھ ہفتے کی خصوصی ٹریننگ کرائی جاتی ہے، تمام سفر پید ل گروپس کی صورت میں طے کیا جاتا ہے۔ سب افراد ایک دوسرے کے ساتھ رسّے سے بندھے ہوتے ہیں تاکہ اگر کوئی شخص گہرے شگاف میں گرپڑے تو باقیوں کو پتہ چل جائے ایسی صورت حال میں باقی افراد قدم جما کر اس کے لیے لنگر یعنی Anchor کا کام کرتے ہیں اور اس طرح گرنے والے کو بچا لیتے ہیں مگر اس کے باوجود غیر یقینی صورت حال، آکسیجن کی کمی ، جمادینے والے سردی اور نگل جانے والی کھائیاں اپنے شکار کے انتظار میں رہتی ہیں۔ سردی سے بچنے کے لیے وزنی لباس اور ضروری ساز وسامان ہر افسر اور جوان کے ہمراہ ہوتا ہے مگر یہی سازو سامان نقل و حرکت کے عمل میں رکاوٹ بنتارہتا ہے جس کی وجہ سے رفتار بہت کم ہو جاتی ہے اور اسی دوران دشمن کی طرف سے اگر گولہ باری شروع ہو جائے تو اندازہ کیجیے یہ مہم کس قدر مشکل ہو جاتی ہوگی۔ جب کوئی خیریت کے ساتھ پوسٹ پر پہنچ جاتا ہے تو اس کا گرم جوشی سے استقبال کیاجاتا ہے۔ جیسے اسے نئی زندگی ملی ہو۔
گیاری سے نزدیک ترین پوسٹ شمال سے 2 کلو میٹر کے فاصلے پر تھی جبکہ گوما جیسا اہم ترین بیس 18 کلو میٹر جنوب میں ہے۔ خوبصورت وادی گیاری میں بٹالین ہیڈکوارٹر1987 میں قائم کیاگیا تھا۔ افسروں اور جوانوں کو اونچائی کی اگلی پوسٹوں پر بھیجنے سے پہلے یہاں تیاری کروائی جاتی ہے تاکہ وہ اپنے آپ کو موسم کے مطابق ڈھال سکیں، اسی طرح جو اوپر سے نیچے آتے ہیں، اُنہیں یہاں ڈی بریف کیا جاتا ہے۔ اس جگہ پر200 افراد کی رہائش گاہ موجود تھی۔6این ایل آئی بٹالین ہیڈکوارٹر کا حصہ تھی، جسے (بیلافونڈلا)علی برانگس سیکٹر کے دفاع پر تعینات کیاگیا تھا۔ اس سے قبل بھی یہی یونٹ 1988-89 کے دوران یہاں قیام کرچکی تھی۔ اس لحاظ سے 6این ایل آئی کا یہ دوسرا قیام تھا۔ یہ یونٹ مشہور چمک آپریشن میں حصہ لے چکی تھی۔ نوید ٹاپ جو کہ 22500 فٹ پر واقع ہے، کی حفاظت کرتے ہوئے اِس کے تین آفیسر اور چار جوان درجہ ٔ شہادت پر فائز ہو چکے تھے۔7 اپریل2012کو اسی یونٹ کو اپنی تاریخ کی سب سے بڑی سخت ترین آزمائش سے گزرنا پڑا۔ جب 6اور7اپریل کی درمیانی شب ایک بہت بڑا برفانی تودہ برق رفتاری سے بٹالین ہیڈکوارٹر پر گرا، جس سے 140 قیمتی انسانی جانیں پلک جھپکنے میں لقمۂ اجل بن گئیں۔ ان میں تین افسران،  چارلانس نائیک،122 سپاہی اور 11سویلین تھے۔ 



آج موسم کافی افسردہ تھا اور اُس میں ایک عجیب قسم کی پُر اسراریت پائی جاتی تھی۔رات کے دو بج چکے تھے اور اکثر افراد تھک ہار کر اپنے اپنے سلیپنگ بیگ میں نیند کی آغوش میں جا چکے تھے ، صرف وہ چند ایک جاگ رہے تھے جو نائٹ ڈیوٹی پر مامور تھے۔ چوکیداری پر مامور سنتری باہر کی اہم جگہوں پر چکر لگا کر آیا تو اُس کا جسم اتنا ٹھنڈا پڑچکا تھا کہ اگر وہ اب مٹی کے تیل سے جلنے والے چولہے سے اپنے آپ کو حرارت نہ پہنچاتا تو برف کا مجسمہ بن کررہ جاتا۔ افسر اور سینئر این سی او اگلی پوسٹوں کے حالات معلوم کررہے تھے۔
آفیسر کمانڈنگ لیفٹیننٹ کرنل تنویر الحسن اس وقت بھی بیدار تھے اور نمازِ تہجد کی تیاری میں مصروف تھے، رات کے2:20 کا وقت تھا، ڈیوٹی نان کمیشنڈ آفیسر(این سی او)  مشتاق حسین بٹ، بیلا فونڈسیکٹر ہیڈکوارٹر میں بات کرکے کسی مریض کے انخلاء (Evacuation)کی منصوبہ بندی میں مشغول تھا کہ اچانک گیاری سیکٹر کی ریڈیو لائنز آف ہوگئیں کیونکہ ایک حشر برپا کردینے والا برفانی تودہ برق رفتاری کے ساتھ گیاری سیکٹر کے140 افرادکو موت کی گہری غار میں دھکیل چکا تھا، یہ آن واحد میں اجل کا ایسا ناگہانی وار تھا کہ کسی بھی پوسٹ کی طرف سے برفانی تودہ گرنے کی پیشگی اطلاع موصول نہ ہوسکی۔ قریب ترین پوسٹ پر بھی ایسی بلا کی بجلی کڑکی کہ ڈیوٹی پر کھڑا ہوا سنتری بے ہوش ہو کر گرگیا اور ساتھ ہی ہر طرف سے سفید بادلوں نے ہر شے کو اُجلے کفن کی طرح ڈھانپ دیا۔ قریبی پوسٹ والوں نے جب صورت حال سے آگاہی کے لیے گیاری فون کیا تو وہاں سے کسی قسم کا کوئی جواب نہیں آیا۔ پوسٹ کمانڈر میجر شاہدنے تین بجے سیکٹر ہیڈکوارٹر  میں میجر سید غلام عباس کو جو اس وقت سیکٹر کمانڈر کی ڈیوٹی سرانجام دے رہے تھے ، بتایا کہ کوئی بڑا برفانی تودہ ہمارے قریب گرا ہے اور ہمارا گیاری سے ہر قسم کا رابطہ ختم ہو چکا ہے۔ سیکٹر کمانڈر میجر شاہد کو حکم دیاکہ فوراً ایک پارٹی حالات معلوم کرنے کے لیے گیاری روانہ کردی جائے مگر اُس پارٹی کو بھی قدم قدم پر اتنی شدید برف باری کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ پارٹی راستہ بھٹک گئی اور بڑی مشکل سے اپنی سائٹ پر واپس پہنچ سکی۔ بعد کے واقعات نے بھی یہی ثابت کیا کہ یہ پارٹی موت کے منہ میں جانے سے بال بال بچی۔ اس واقعے سے پوسٹ کمانڈر اور سیکٹر کمانڈر کو آگاہ کیاگیا ، اب صبح کے پانچ بج چکے تھے۔
قصہ مختصرکہ آفیسر کمانڈنگ107 فیلڈ رجمنٹ آرٹلری، لیفٹیننٹ کرنل شاہد اور کمانڈنگ آفیسر 144 میڈیکل بٹالین ، لیفٹیننٹ کرنل شیخ حسین گوماسے ایمر جنسی پٹرول پارٹی لے کر گیاری پہنچے اور وہاں پہنچ کر حیران و پریشان ہوگئے جب انہوںنے دیکھا کہ پورا بٹالین ہیڈکوارٹر گیاری  برفانی تودے کی زد میں آچکا ہے۔ کمانڈر فورس کمانڈناردرن ایریا ز (ایف سی این اے) میجر جنرل (بعد میں لیفٹیننٹ جنرل) اکرام الحق، اس وقت جی ایچ کیو آئے ہوئے تھے جہاں اُنہیں 08:22 منٹ پر گیاری سانحے کی اطلاع دی گئی، جسے سنتے ہی وہ فوراً بذریعہ ہیلی کاپٹر گیاری پہنچ گئے، جہاں کرنل شاہد ابڑو اور کرنل بلال نے اشک بھری آنکھوں سے اُن کا استقبال کیا اور اب کمانڈر ایف سی این اے کے سامنے دو بڑے چیلنجز تھے۔ سب سے بڑا چیلنج140 افراد کو ملبے سے نکالنا اور دوسرا اس خراب صورت حال میں اگلی پوسٹوں پر موجود لوگوں کے حوصلوں کو بلند کیے رکھنا تاکہ وہ ذہنی طور پر آماہ ہو کر پوسٹوں سے نیچے آئے بغیر ایک غیر معینہ مدت تک خوش اسلوبی سے دفاع کے فرائض انجام  دیتے رہیں۔ خوش قسمتی سے بچ جانے والے 6 ایل این آئی کے صوبیدار میجر یونس اور رجمنٹل پولیس حوالدار کو قریبی پوسٹ سے فوری طور پر گیاری بلالیاگیا، جنہوں نے بہت جلدی اُن 140 افراد کی فہرست مرتب کرلی جو برف تلے دبے ہوئے تھے۔ اس طرح سانحے کے بارے میں ان تمام افراد کے گھروالوں کو آگاہ کردیاگیا۔ اگلے ہی روز آٹھ اپریل2012 کو چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے کمانڈر 10کور، لیفٹیننٹ جنرل خالد نواز خان کے ہمراہ گیاری کا دورہ کیا اور احکامات جاری کیے کہ ہمیں ہر صورت  میں140 افراد کو برف سے نکال کر اُن کے عزیزو اقارب کے حوالے کرنا ہے تاکہ فوجیوں اور ان کے اہلِ خانہ کے مورال پر کسی بھی طرح کا برُا اثر نہ پڑے۔ کمانڈر ایف ڈبلیواو، میجر جنرل (بعد میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ)جاوید بخاری نے گیاری آکر جائزے کے بعد ہر قسم کی مدد فراہم کرنے کی یقین دہانی کروا دی۔ تمام ملکی ادارے اس ایمر جنسی میں مدد کرتے نظر آئے۔ سپارکو نے سیٹلائٹ تصاویر اور سٹل فوٹو گرافی کے ذریعے بتایا کہ ملبے تلے کون سی چیز کتنی گہرائی میں کہاں دفن ہے۔9 اپریل سے ہی جن مقامات کی نشاندہی ہو چکی تھی وہاں ایف ڈبلیو او اور پی ڈبلیو او کی مشینیں کھدائی کاکام شروع کرچکی تھیں۔
6 این ایل آئی کا دوبارہ سے گوما میں بٹالین ہیڈکوارٹر قائم کردیاگیاجس کی سربراہی کا شرف لیفٹیننٹ کرنل سید عباس شاہ کو حاصل ہوا اور انہوںنے جی ایچ کیو کے ساتھ مل کر 140 شہداء کی جگہ متبادل افراد کو تعینات کرنا شروع کردیا۔10 اپریل تک نئے آفیسر کمانڈنگ کرنل صدیق سائٹ پر تعینات کردیے گئے۔ اب تکلوگ 14سے 16  گھنٹے گیاری کے یخ بستہ ماحول میںکام کررہے تھے، ان کے لیے گرم گرم چائے، پکوڑے اور جلیبیاں فراہم کرنے کے لیے غار میں ایک دکان قائم کردی، جسے سب لوگ ،شاہد ابڑو کی خدمات کے مناسبت سے ''ابڑو دی ہٹی'' کے نام سے یاد کرکے اپنا دل خوش کر لیتے تھے اور اس طرح کافی حد تک اُن کی تھکن بھی زائل ہو جاتی۔
 اگلے دو ہفتوں میں امریکہ، برطانیہ، چائنا، جرمنی اور ناروے کی بین الاقوامی ٹیموں نے دورہ کرکے نتیجہ پیش کیا کہ140 افراد کو ملبے تلے سے نکالنے کے لیے12 سے 25 سال کا عرصہ درکار ہوگا۔ لہٰذا بس انہیں ایسے ہی چھوڑ کر ایک یاد گار بنا دی جائے ۔ مگر آرمی کا ٹاپ سے لے کر یونٹ تک ایک ہی فیصلہ تھا کہ ہم140 افراد کو نکال کر ہی دم لیں گے۔ سب سے صحیح تجزیہ نسٹ(NUST) کے لیفٹیننٹ کرنل(بعد میں بریگیڈیر) قدوس کا تھا۔ دبا ہوا گلیشیئرا 165-125 فٹ ہے جس میں سے آخری80-78 فٹ بہت بڑی بڑی چٹانوں کے مضبوط پتھروں کے ٹکڑے ہیں۔ جن سے بری طرح برف چپکی ہوئی ہے جس پر بریگیڈیر ثاقب نے منصوبہ بنا کر کھدائی کے کام کا آغاز کردیا۔ اس بھاری کام کے لیے 19ڈ مپر ٹرک،10 سائزII  ڈوزر،13ایکسی ویٹر،4 جیکہیمر7-، جے سی بی ایف ای لوڈراور6 ڈرل مشینیں کام پر مسلسل لگی رہیں۔ شہداء کے پاکیزہ جسموں تک پہنچنے کے لیے آرمی کے اس اہم ترین آپریشن میں ، گلیشیئر  کے جسم میں 14200 سوراخ کیے گئے تاکہ اُن میں دھماکہ خیز مواد بھرا جاسکے۔جن کی اوسط گہرائی6سے 10 فٹ تھی، بعض اوقات  ایک دن میں150 سوراخ بھی کرنے پڑے۔ سنگ دل گلیشیئرکو پگھلانے کے لیے3327دھماکے کیے گئے جس میں56ٹن دھماکہ خیز مواد استعمال کیاگیا۔ لگاتار کئی دنوں سے کھدائی اور ملبہ اٹھانے کاکام جاری تھا۔26 مئی کی شام سات بجے کے قریب اچانک گیاری کی فضا میں نعرہ تکبیر اﷲ اکبر کی آواز بلند ہوئی۔ میجر فاروقی نے دوڑتے ہوئے بریگیڈیر ثاقب اور کرنل ابڑو کو اگلو میں اطلاع دی کہ49 روز بعد کسی پہلے شہید کا جسم مبارک نظر آنا شروع ہوگیا ہے۔ یہ ایک سنتری کا لاشہ تھا جو ڈیوٹی پر موجود تھا اور رائونڈ لگانے کے بعد جسم کو گرم اورتازہ دم کرنے کے لیے پلاسٹک کی کرسی پر بیٹھا ہی تھا کہ برفانی تودے کے ملبے تلے اس طرح دب گیا کہ چھت پر لگی ہوئی سی جی آئی شیٹ اُس کے جسم سے کسی سانپ کی طرح لپٹ گئی۔جسے بڑی احتیاط سے کاٹنے کے بعد جسم سے علیحدہ کیاگیا۔ اس کی پہچان سپاہی محمدحسین کے نام سے ہوئی۔3جون کو جب دستی اوزاروں سے ملبے کو ہٹایاگیا تو سخت کوشش کے بعد میجر ذکاء الحق کا جسم ملا،بتایا جاتا ہے 6 اپریل 12 بجے کے بعد میجر ذکاء الحق کافی دیر تک اپنی بیٹی اور بیوی سے باتیں کرتے رہے۔7 اپریل کو مریم بیٹی کی تیسری سالگرہ تھی۔ میجر ذکاء نے اپنی بیٹی کو مبارک باد دی اوراس نے شکریہ ادا کیا،وہ تحفہ جو انہوں نے بھجوایا اُسے بہت پسند آیا۔ 120 فٹ تک پہاڑ کھودا جاچکا تھا جہاں سے ڈاکٹر کیپٹن حلیم اﷲ جان کی میت بھی مل گئی جسے سرکاری طور پر DNA سے پہچاناگیا۔وہ عارضی طور پرFCNA  تعینات ہوئے۔ تین افسر جو شہید ہوئے اور ان کے لاشے نکالے جا چکے تھے،انہیں6اور7 اپریل کی درمیانی رات وہاں موجود نہیں ہونا چاہئے تھا۔ آفیسر کمانڈنگ کرنل تنویر الحسن چھٹی منسوخ ہونے کی وجہ سے وہاں پر تھے۔ میجر ذکاء  کے لیے اگلے مورچے پر جانے کے لیے دو تین روز کی عارضی پابندی لگ گئی تھی اورکیپٹن ڈاکٹر حلیم بھی کسی کی جگہ ایمرجنسی میں تعینات کیے گئے تھے۔
یعنی یہ وہ خوش نصیب تھے جنہیںخدا نے شہادت کے لیے چُن  لیا تھا۔
''ریکوری آپریشن ٹیم'' نے26 اگست2013 تک موسم کی خرابی کے باجود تین دن ، اوسطاً16سے 18گھنٹے روزانہ کام کرکے 3.42 ملین ٹن ملبہ کھودا اور اٹھا کر مختلف مقامات پر ڈمپ کیا جو حجم میں ٹوئن ٹاور سے دوگنا تھا۔ آرمی نے  133 شہداء کے لاشے اُن کے عزیز و اقارب تک پہنچا کر سرخروئی حاصل کی۔ شہیدا اور ان کے خاندانوں سے جُڑی ایثارو قربانی کی کئی منفرد داستانیں ہیں جو جان فروشانِ ملک و ملت کے دلوں کو ہر عہد میں گرماتی رہیں گی۔
کسی چٹان سے پوچھو یہ شیر کیسے تھے
گواہی دے گا خود دشمن دلیرکیسے تھے ||