اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 04:33
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

بڑھتا ہوا کچرا پاکستان کے لیے چیلنج

اپریل 2023

پاکستا ن آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک بن گیا  ہے ۔ اسی لیے بڑھتی آبادی اور کم وسائل کی وجہ سے ہمیں سیاسی ، معاشی اور معاشرتی بہت سے مسائل کا سامنا ہے ۔ان میں سرفہرست بڑھتا ہوا کچرا ہے جس کو مناسب طریقے سے تلف کرنے کے لیے ہمارے پاس نہ صرف  وسائل کی عدم دستیابی  ہے بلکہ ہمارے پاس اس حوالے سے شعور اور آگہی کی بھی کمی ہے ۔اگر ہم اپنے ارد گرد ہی نظرڈالیں تو ہمیں سڑکوں پر ،گلیوں میں ،پارکوں میں  میدانوں میں ہر طرف چھلکوں کے ڈھیر ، پلاسٹک کی خالی بوتلیں ،اڑتے شاپنگ بیگز دکھائی دیتے ہیں۔ جابجا کوڑا کرکٹ کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں حتیٰ کہ نالے بھی کچرے اور فضلے سے بھرے ہوتے ہیں ۔ مزید ستم یہ کہ پلاسٹک بیگ سیوریج لائنز میں پھنس کر ان کو بلاک کردیتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے گٹروں کا پانی سڑکوں پر آجاتا ہے اور گندگی اور تعفن کا باعث بنتا ہے۔ 
یہ گندا پانی مکھیوں اور مچھروں کی افزائش کا ٹھکانہ بھی بنتا ہے جس سے ڈائریا ، ڈینگی اور مختلف بیماریاں پھیلتی ہیں ۔ جبکہ اس گندگی اور غلاظت سے ماحول کی آلودگی میں بھی اضافہ ہورہا ہے ۔ کوڑے کے ڈھیر یہ بتانے کے لیے کافی ہیںکہ ہم بحیثیت قوم کس قدر ذمہ داری سے عاری ہیں۔ جبکہ روزمرہ کی زندگی میں معمولی تبدیلیوں سے ہم زیرو ویسٹ کلچر کی جانب اپنے قدم بڑھاسکتے ہیں ۔ اگر ہم ٹشو کی جگہ نیپکن، پلاسٹک کے تھیلے کی جگہ کپڑے کے تھیلے استعمال کریں تو اس سے بھی بہت فرق پڑے گا ۔ بچے ہوئے کھانے کوکچرے میں پھینکنے کے بجائے جانوروں اور پرندوں کے کھانے کے طور پر استعمال کریں۔
ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں پانچ کروڑ ٹن سے بھی زیادہ ٹھوس کچرا پیدا ہورہا ہے ۔ اس کچرے میں سالانہ کی بنیاد پر اضافہ ہی دیکھنے میں آرہا ہے ۔ 
اس کچرے میں گھریلو فضلہ جس میں پھلوں سبزیوں کے چھلکے ، بچا ہوا کھانا ، ردی اخبار،  پلاسٹک کی بوتلیں  اور شاپنگ بیگز وغیرہ شامل ہیں ۔طبی فضلہ جو ہسپتالوں کے سامنے ڈھیر کا ڈھیر پڑا ہوتا ہے ۔اس فضلے میں استعمال شدہ سرنجز ، استعمال شدہ ڈرپس، استعمال شدہ ماسک، ایکسپائر ادویات، بلڈبیگز  وغیرہ شامل ہیں ۔ ایک اور خطرناک فضلہ صنعتی فضلہ ہے جو لاکھوں ٹن الیکٹرانک اسکریپ کی مد میں پاکستان درآمدکیا جاتا ہے۔ 


مغربی ممالک میں ٹھوس فضلے کے لیے باقاعدہ ایک ڈھانچہ موجود ہے جس کے  تحت اس فضلے کو  Reduce, Reuse and Recycleکیا جاتا ہے ۔ یعنی اس کو کم کرو  یا  پھر دوبارہ استعمال کرو یا پھر اسے بحفاظت ٹھکانے لگا دو۔
ٹھوس فضلے کے اس باقاعدہ نظام کے تحت مغربی ملکوں میں ہر گھر میں کم ازکم تین کوڑے دان موجود ہوتے ہیں۔ ایک میں نامیاتی(organic waste)کچرا یعنی کھانے پینے کی اشیا وغیرہ کو ڈالاجاتا ہے۔دوسرے میں کاغذ اور تیسرے میں دیگر غیر نامیاتی(Inorganic waste) کوڑا مثلاً پلاسٹک،دھاتیں اور گلاس ڈالا جاتا ہے ۔


صنعتی کچرے میں پلاسٹک ، استعمال شدہ دھاتوں اور الیکٹرانکس اشیا کی  باقیات  شامل ہیں ۔ اس الیکٹرانک کچرے کو کیمیکل سے جلاکر پلاسٹک اور مختلف دھاتیں الگ کی جاتی ہیں۔  جبکہ بچ جانے والے مواد جیسا کہ لیڈ ، مرکری، زنک کو ندی نالوں کی نذر کیا جاتا ہے جو نہ صرف پانی کو زہر آلود کررہا ہے بلکہ فضائی اور زمینی آلودگی کو بڑھارہا ہے ۔
 اس کچرے کا کیا کیا جائے؟ اس کو کس طرح تلف کیا جائے اور اس کو کس طرح کار آمد بنایا جائے ، یہ بہت بڑا چیلنج ہے ۔  ہمارے پاس نہ تو اس حوالے سے کوئی منصوبہ بندی موجود ہے نہ ہی کوئی واضح سطح پر پالیسی اور نہ ہی ہماری عوام میں اس حوالے سے آگاہی اور شعور موجود ہے ۔ٹھوس فضلہ کو لے کر ہمارا سب سے بڑا چیلنج تو یہ ہے کہ اس فضلے کو ڈمپنگ پوائنٹس تک پہنچایا جائے کیونکہ زیادہ تر یہ ٹھوس فضلہ اپنے ڈمپنگ پوائنٹس تک نہیں پہنچتا ۔
دنیا میں گھریلو فضلہ میں سے کاغذ ، شیشہ ، دھات اور نامیاتی یا سبز کچرے کوجدا کیا جاتا ہے۔  صاف کچرے کو الگ الگ کردیا جاتا ہے تاکہ اس کا مکمل طور پر دوبارہ استعمال کیا جاسکے۔ جبکہ پاکستان میں گھر یلو فضلہ کو الگ الگ کرنے کا رواج ہی نہیں کیونکہ اس حوالے سے آگاہی کی کمی ہے۔ لیکن بظاہر اسی بیکار و ناکارہ کچرے میں شامل بہت سی اشیا کو دوبارہ قابل استعمال بنا کر نئی چیزیں بنانا ممکن ہوگیا ہے جسے ری سائیکلنگ (Recycling) کہا جاتا  ہے۔خوش آئند ہے کہ پاکستان میں ٹھوس فضلے کی  ری سائیکلنگ کی ایک غیر رسمی ری سائیکلنگ انڈسٹری وجود میں آرہی ہے۔ 
 پاکستان اس وقت معاشی بحران میں ہے اور حالیہ سیلاب کے بعد غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہورہا ہے ۔ اگر ہمارے نوجوان ٹھوس فضلے کو ری سائیکل کرکے اسے کار آمد بنانا شروع کریں  تو وہ اس سے ایک اچھی آمدنی بھی کماسکتے ہیں اور ماحول بچانے میں بھی اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں ۔
مغربی ممالک میں ٹھوس فضلے کے لیے باقاعدہ ایک ڈھانچہ موجود ہے جس کے  تحت اس فضلے کو  Reduce, Reuse and Recycleکیا جاتا ہے ۔ یعنی اس کو کم کرو  یا  پھر دوبارہ استعمال کرو یا پھر اسے بحفاظت ٹھکانے لگا دو۔
ٹھوس فضلے کے اس باقاعدہ نظام کے تحت مغربی  ملکوں میں ہر گھر میں کم ازکم تین کوڑے دان موجود ہوتے ہیں۔ ایک میں نامیاتی(organic waste)کچرا یعنی کھانے پینے کی اشیا وغیرہ کو ڈالاجاتا ہے۔دوسرے میں کاغذ اور تیسرے میں دیگر غیر نامیاتی(Inorganic waste) کوڑا مثلاً پلاسٹک،دھاتیں اور گلاس ڈالا جاتا ہے ۔
یہ کوڑے دان مقررہ جگہ رکھے ہوتے ہیں۔روزانہ  کی بنیاد پر اس کچرے کو اس کے پوائنٹس سے اٹھالیا جاتا ہے ۔اس طرح نہ صرف شہریوں کی ذمہ داری اور حکومت کے فرض کی ادائیگی ممکن ہوتی ہے  بلکہ  ماحول  اور صحت دونوں بہتر رہتے ہیں ۔
اس کے بعد کچرے کی درجہ بندی کرکے اسے ری سائیکل کیا جاتا ہے اور جو کچرا کسی کام کا نہیں ہوتا اسے زیر زمین دفن کیا جاتا ہے ۔کوڑا کرکٹ کے لیے کیا جانے والا یہ  سسٹم  ویسٹ مینجمنٹ (Waste management)یا کچرا ٹھکانے لگانے کا سسٹم کہلاتا ہے۔جبکہ ہم عام طور پر کوڑے کو جمع کرکے آگ لگادیتے ہیں  یا پھر خالی پلاٹوں کو کچرا کنڈی میں تبدیل کردیتے ہیں۔ 
کاغذ،کارڈ بورڈ،دھاتیں،گلاس اور پلاسٹک کی بعض اقسام کو قابل استعمال بنایا جاسکتا ہے ۔لیکن ہمارے شہروں میں کچرا اٹھانے کا نظام ناقص اور بوسیدہ  ہے۔جبکہ کچرا سڑکوں ، گلیوں میں سڑتا اور بدبو پھیلاتا رہتا ہے اور اسی کچرے کے ڈھیر میں دبی  بہت ساری اشیا ء بھی ضائع ہو جاتی ہیں جنھیں قابل استعمال بنایا جاسکتا ہے ۔کچرا ٹھکانے لگانے کے لیے صرف اس کو  ڈمپ کرنا کافی نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے باقاعدہ ویسٹ مینجمنٹ پالیسی کا حکومتی سطح پر نفاذ کرنا ہوگا ۔
کچرے سے قابل استعمال اشیا چننے والوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے اور اس کے لیے مقامی سطح  ہر کام شروع کیا جانا چاہیے تاکہ قابل استعمال کچرے سے نہ صرف مختلف اشیاء بنائی جائیں بلکہ اس کی بدولت روزگار کے مواقع سامنے آئیں۔ اس سے شہروں کی آب و ہوا پر بھی مثبت اثر پڑے گااور کچرا بھی کم ہوجائے گا۔ 
پاکستانی قوم کو یہ آگہی دینے کی اشد ضرورت ہے کہ وہ گھروں،دفاتر اور دیگر جگہوں پر دو کوڑے دان ضرور استعمال کریں۔ایک میں نامیاتی یعنی غذا کا بچا کھچا ڈالا جائے اور دوسرے میں غیر نامیاتی کچرا۔اس سے نہ صرف  ملک کو صاف ستھرا بنا یا جاسکتا ہے  بلکہ یہ ہمارے ماحول اور ہماری صحت  کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ بچوں کو بھی اس تعلیم اور تربیت کی اشد ضرورت ہے کہ کچرے کو کیسے ٹھکانے لگایا جائے۔ حکومتی سطح پر سالڈویسٹ مینجمنٹ بورڈز کی کارکردگی کو بہتر بنانا ہوگا ۔ ہرشہر میں فل سائٹس لینڈ بنانا ہوںگی جہاں کچرے کو تلف کیا جاسکے۔ جبکہ قابل استعمال کچرے کے لیے ری سائیکلنگ کرنے والی صنعت کا فروغ بڑھانا ہوگا اور اس حوالے سے اسٹارٹ اپس کی بھی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے ۔ 
ا گر معاشرے کا ہر فرد اپنا  اپنا کردار ادا کرے تو سرسبزاورصاف ستھرے پاکستان کا خواب خواب نہیں رہے گا۔ ||


مضمون نگار معروف صحافی اور تجزیہ کار ہیں۔
[email protected]