اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 11:44
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

بلوچستان میں پاک افواج کے تعلیمی ادارے

فروری 2023

بلوچستان ایک وسیع وعریض صوبہ ہے جس کی آبادی مختلف جگہوں پر بکھری ہوئی ہے۔ زیادہ تر حصہ دیہی علاقوں پرمشتمل ہے۔جس میں صوبے کا ستر فیصد حصہ شامل ہے۔پاکستان آرمی کی جانب سے بلوچستان کے نوجوانوں کے مستقبل کو سنوارنے کے لیے سکولوں اور کالجوں کا قیام عمل میں لایاگیا۔ اس وقت بلوچستان میں فرنٹیئر کور کی زیر نگرانی تقریباً 113 سکول چل رہے ہیںاور بلوچستان بھر میں تقریباً 40ہزار طلباء ان سکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔دوسری جانب بلوچستان میں دس کیڈٹ کالج ہیں جو سوئی، پشین، مستونگ، پنجگور، جعفرآباد، کوہلو، تربت، نوشکی ، اورماڑہ اور آواران میں قائم کیے گئے ہیں۔ان کیڈٹ کالجوں میں تین ہزار سے زائد طلباء زیر تعلیم ہیں، ان میں پروفیشنل تعلیم کے لیے جدید ترین تعلیمی منصوبے شروع کیے گئے ہیں،جن میں کوئٹہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، ملٹری کالج سوئی، سوئی ایجوکیشن سٹی، بلوچستان پبلک سکول سوئی، بلوچستان انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن،گوادر انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور آرمی انسٹی ٹیوٹ آف معدنیات شامل ہیں۔اس کے علاوہ چمالنگ بلوچستان ایجوکیشن پروگرام (سی بی ای پی) سے ہزاروں طلباء فارغ التحصیل ہوچکے ہیں جبکہ چارہزار سے زیادہ طلباء زیر تعلیم ہیں۔ملٹری کالج سوئی میں یوم دفاع، یوم والدین اور دیگر قومی دنوں کے موقع پر پاک آرمی کے سپہ سالار بھی شرکت کرتے رہے ہیں۔ موجودہ آرمی چیف نے اپنی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد اپنے دورہ بلوچستان کے موقع پر پاک فوج کے حوالے سے یہ یقین دہانی کرائی کہ پاک فوج بلوچستان کے روشن مستقبل کے لیے پرعزم ہے۔ بلوچستان کی سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ معاشی اور معاشرتی زندگی میں بھی بہتری لانے کی امید دلائی گئی۔یہی وجہ ہے کہ پاک فوج صوبے کے روشن مستقبل میں حکومت اور عوام کی معاونت کو اپنی اہم ذمہ داری سمجھتی ہے۔
بلوچستان میں تعلیمی حوالے سے اگر دیکھا جائے تو  آرمی پبلک سکول اینڈ کالج اے ایس اینڈ سی، سیون سٹریمز کوئٹہ کو پورے پاکستان میں آرمی پبلک سکولز اینڈ کالجز سیکرٹریٹ اے پی ایس اینڈ سی ایس کے تحت کام کرنے والے معروف اور متحرک تعلیمی اداروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اے پی ایس اینڈ سی بلوچستان میں ایک بہترین جگہ ہے جہاں طلباء پاکستان آرمی اور مسلح افواج کی دیگر شاخوں میں شمولیت کے لیے داخلہ لے سکتے ہیں۔ اے پی ایس اینڈ سی سیون اسٹریمز ایک ایسی جگہ ہے جہاں فوجی جوانوں اور سویلینز کے بچے مساوی سہولت پر تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔آرمی پبلک سکولز اینڈ کالجز سسٹم کی پورے ملک میں کل 168 برانچیں ہیں۔یہ امر نہایت خوش آئند ہے کہ اس کی شاخیں بلوچستان میں بھی موجود ہیں ۔



 اسی طرح پاک آرمی کی جانب سے بلوچستان کے دور افتادہ علاقو ں میں دہائیوں قبل کیڈٹ کالجز کا قیام عمل میں لایا گیا جو کہ تعلیمی حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ کیڈٹ کالج تعلیمی میدان میں نوجوانوں کے روشن مستقبل کی تعمیر کی بنیاد ثابت ہوتے ہیں، صوبے میں کیڈ ٹ کالجوں کے قیام پر خوشی کا اظہار کر تے ہوئے صوبے کے عوام خاص طور پر نوجوان مطمئن نظر آتے ہیں۔ آواران،پنجگور ، کوہلو ودیگر دور افتادہ علاقوں میں کیڈٹ کالجز کا قیام ایک اہم پیش رفت ہے۔کیڈٹ کالج کے قیام میں ملک کی فوجی قیادت کا اہم کردار ہے کہ جس کی بدولت نوجوان نسل کو کیڈٹ کالج اور ملٹری کالج کی صورت میں عظیم تعلیمی تحفے ملے ہیں۔ پاک آرمی کے زیر اہتمام کیڈٹ کالجز صوبے کے نوجوانوں کے روشن مستقبل کی تعمیر کی بنیاد ثابت ہو رہے ہیں۔مذکورہ تعلیمی اداروں میں تجربہ کار اساتذہ کی زیر نگرانی جونیئر لیول سے انٹرمیڈیٹ لیول تک تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔یہ انسٹی ٹیوٹ بہترین سہولیات فراہم کررہے ہیں۔یہاںسائنس لیب، لائبریری، کمپیوٹر لیب، پلے ایریا، کینٹین،  آڈیٹوریم، ہاسٹل ، میس اوردیگر سہولیات میسر ہیں۔اس ضمن میں یہ بات قابل ذکر ہے کہ طلباء کی ذہنی نشوونما کے ساتھ ساتھ ان کی جسمانی نشوونما پر بھی بھر پور توجہ دی جاتی ہے۔ کالج کے روزمرہ معمولات میں ڈرل اور پی ٹی کے ساتھ ساتھ طلباء کی اخلاقی تربیت خاص اہمیت کی حامل ہے تاکہ طلباء عصر ِحاضر کے جدید تقاضوں اور معیار پر پورے اتر سکیں اور یہی تربیت آگے جا کر پیشہ ورانہ اداروں میں ان کے لیے مددگار ثابت ہو سکے۔ اس سلسلے میں فوج کے حاضر سروس ڈرل اور پی ٹی انسٹرکٹر ز کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ کالجوں میں مقابلوں کا انعقاد باقاعدگی سے ہوتا رہتا ہے۔ نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں کے لیے مختلف مسابقتی مقابلے منعقد کئے جاتے ہیں جن میں کیڈٹ بھر پور شرکت کرتے ہیں۔ کیڈٹ کی مکمل رہنمائی اور انہیں حالات حاضرہ سے باخبر رکھنے کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گئے ہیں تاکہ کیڈٹس کی ذہنی اور فکری نشوونما کا عمل جاری رہ سکے۔



 یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ بلوچستان میں ایک کیڈٹ کالج کے قیام کا منصوبہ مارچ 1976 میں سوچا گیا تھا۔ صدر پاکستان نے 1979 میں اس  کی منظوری دی  اس کاپی سی ون 1981 میں منظور ہوا۔ موجودہ جگہ کا انتخاب 1982 میں کیا گیا۔ یہ کیڈٹ کالج مستونگ آر سی ڈی ہائی وے پر ہے جو شمال میں کوئٹہ اور جنوب میں کراچی کی طرف جاتا ہے۔ یہ کراچی سے 630 کلومیٹر اور کوئٹہ سے 54 کلومیٹر پر واقع ہے۔ یہ تقریباً 120 ایکڑ رقبے پر محیط ہے۔ کیڈٹ کالج مستونگ میں بلوچستان کے ہونہار اور ذہین طلباء کو یکساں مواقع فراہم کیے گئے۔بلوچستان کے طلباء کے لیے کیڈٹ کالج کی بہترین کارکردگی ان کے خوابوں کی تعبیر ہے۔ یہاں کے طلبا بلوچستان سمیت پاکستان کی تعمیروترقی میں اپنا کردارادا کرسکتے ہیں۔اسی طرح ملٹری کالج سوئی کی جانب سے طلبا کی بہترین تربیت کی جارہی ہے۔ 



بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا اور اہم صوبہ ہے۔ پاک فوج بلوچستان کی ترقی کے لیے ہرممکن تعاون کر رہی ہے۔پاکستان نیوی کیڈٹ کالج بلوچستان میں تعلیم کے فروغ کے لیے کیڈٹ کالج اورماڑہ کا کردار بھی اہم ہے۔ کیڈٹ کالج اورماڑہ بلوچستان کی سماجی اور معاشی ترقی کے لیے پاک بحریہ کے عزم کا مظہر ہے۔ یہاںپاکستان بحریہ اور رائل نیوی آف اومان کے مابین بحری مشق ثمر الطیب کا انعقادبھی ہوا ہے۔اسی طرح کیڈٹ کالج پنجگورکا صوبے کی تعلیم میں بڑا اہم رول ہے۔یہاں کے طالب علموں نے بلوچستان بورڈمیں مڈل کے امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کی ہے۔ادھر کیڈٹ کالج جعفرآباد ،ان تین کیڈٹ کالجوں میں سے ایک ہے جو پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں قائم ہوئے تھے۔ کالج معیاری تعلیم فراہم کرنے سمیت کردار سازی اور نوجوانوں کے مستقبل کو متحرک رہنما بننے کے لیے ہمہ وقت کام کرنے میں مصروف عمل ہے۔جعفرآباد کیڈٹ کالج ڈیرہ اللہ یار ، اوستہ محمد کی سڑک پر واقع ہے، جو سندھ اور بلوچستان کی سرحدوں پر واقعہے۔کوئٹہ سے مذکورہ مقام تک تقریباً تین سو کلومیٹرکا سفر طے کرنا پڑتا ہے۔کیڈٹ کالج پشین 2009 میں پشین میں معرضِ وجود میں آیا۔ ابتدائی طور پر کالج ہٰذا کو ایک عارضی عمارت میں شروع کیا گیا اور پھر آہستہ آہستہ اس کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی توسیع ہوتی ہے۔ عہد حاضر میں اس میں بہت سی سہولیات متعارف کروائی گئی ہیں جوگزشتہ ایک دہائی سے کالج میں ناپید تھیں۔ گزشتہ دہائی میں سیکڑوں کی تعداد میں کیڈٹس مذکورہ کالج سے فارغ التحصیل ہو کر پروفیشنل اداروں میں زیر تعلیم ہیں۔ ان اداروں میں مسلح افواج، میڈیکل کالجز، نیشنل کالج فار آرٹس و دیگر اہم ادارے شامل ہیں۔بلوچستان کے دوسرے بڑے شہر تربت میں کیڈٹ کالج کا قیام تعلیمی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔شیخ فاطمہ بنت المبارک گرلز کیڈٹ کالج تربت پاک آرمی اور بلوچستان کی صوبائی حکومت  کی مشترکہ کوششوں سے مکمل کرلیاگیا ہے۔ کالج کانام شیخ زیدکی اہلیہ شیخہ فاطمہ کے نام پر رکھا گیا ہے۔پاک فوج کے زیر اہتمام بلوچستان کے کیڈٹ کالجوں میں اکثر داخلے ساتویں جماعت میں دیے جاتے ہیں لیکن اگر گنجائش ہو تو گیارہویں جماعت میں محدود نشستوں پر داخلے خالصتاً میرٹ کی بنیاد پر دیے جاتے ہیں۔ ساتویں جماعت کے داخلے بھی میرٹ کی بنیاد پر علاقائی مختص کوٹہ کی بنیاد پر دیئے جاتے ہیں۔ بعض کالجز میں کسی بھی ٹیسٹنگ سروس کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں تاکہ داخلے کے اس عمل کو شفاف بنایا جا سکے۔



صوبے میں پاک فوج کے زیر اہتمام تعلیمی ادارے اپنے طلباء کو بہترین سہولیات فراہم کرتے ہیں۔ جس میں نصابی و غیر نصابی سرگرمیوں کے علاوہ فیلڈ ٹرپس و دیگر کالجوں کے ساتھ سپورٹس کے مقابلوں سمیت دیگر طلباء کی ضروریات کے مطابق انہیں سہولیتیں فراہم کرنا شامل ہے۔آرمی کے تعلیمی اداروں میں میڈیکل اور انجینئرنگ  کی تعلیم فراہم کی جاتی ہے ۔ دوسری جانب بلوچستان میں کیڈٹ گرلز کالج کوئٹہ کے قیام کا خیر مقدم کیا گیا ہے،لڑکیوں کی تعلیم کے حوالے سے ایسے اقدام کو گہرے اعتماد کا مظہر قرار دیا گیا ہے کیونکہ معاشرے میں خواتین کی علمی صلاحیتوں پر قطعی شک نہیں کیا جاسکتا۔  لہٰذا ایسی روایت کو دور رس اور دیر پا بنانے کے لیے ضروری ہے کہ صوبے کے دیگر علاقوں میں بھی لڑکیوں کے تعلیمی مستقبل کے ایجوکیشنل سسٹم کو مزید فعال کیا جائے۔ 
اس میں دو رائے نہیں کہ بلوچستان کی ترقی اور اس جانب توجہ مبذول کرانے میں پاک فوج کا کرداراہم رہا ہے۔ صوبے میں تعلیم، صحت،اسپورٹس فیسٹیول سمیت سیلاب میں مددا وردیگر قدرتی آفتوں میں پاک فوج نے ہمیشہ لبیک کہہ کر پہنچی ہے اور اپنا اہم کردار ادا کیا ہے۔اسی طرح ترقیاتی کاموں کے سلسلے میں بھی پاک فوج نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیاہے۔ پاک فوج کا کردار لائق تحسین ہے کہ اس نے غیر معمولی حالات میں نہ صرف ملکی سالمیت کو یقینی بنانے میں بے شمار قربانیاں دیں بلکہ بلوچستان میں ترقیاتی کاموں کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ سڑکوں کا جال بچھایا، طبی مراکز بنائے ۔ درسگاہیں ،تکنیکی اور فنی علوم کے انسٹیٹیوٹ بھی کھولے،تعلیم کے لحاظ سے نمایاں کردار ادا کرتے ہوئے ملٹری کالج سوئی جیسا ادارہ بلوچستان میں قائم کرکے صوبے کے نوجوانوں کو پاک فوج میں آفیسررینک میں شمولیت کا موقع فراہم کیاگیا۔ مذکورہ کالج سے فارغ ہوکر بلوچستان کے اکثر نوجوان پاک فوج میں بطور افسر شامل ہو رہے ہیں۔  چمالنگ کے غریب پسماندہ علاقوں کے طالب علموں کو سکالر شپ کے ذریعے مفت تعلیم دلانے کے مواقع پیدا کیے جار ہے ہیں۔اسی طرح فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد بھی کیاجاتا ہے۔یہ امر حقیقی ہے کہ عصر حاضر میں تعلیمی اداروں کی حیثیت مسلمہ ہے۔ ترقی یافتہ ممالک کی ترقی کا راز ان کے وہ تعلیمی ادارے ہیں جہاں سے ہر سال ہزاروں طلباء فارغ التحصیل ہو کر مختلف شعبہ جات میں اپنی گرانقدر خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک بھی اپنے محدود وسائل کے باوجود ان اداروں کے قیام اور ان کی بھر پور فعالیت کے لیے ہمیشہ برسرِپیکار نظر آتے ہیں۔ وطن عزیز پاکستان بھی ان چند ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ پاکستان میںبہت سے تعلیمی ادارے علمی میدانوں میں کارہائے نمایاں انجام دے رہے ہیں۔