اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 15:47
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ
Advertisements

ہلال اردو

اگر آپ سال میں صرف ایک کتاب پڑھنا چاہتے ہیں ۔۔۔

جنوری 2023

دنیا میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں ، ایک وہ جو کتابیں پڑھتے ہیں اور دوسر ے جو کتابیں نہیں پڑھتے ۔ بقول شخصے جو بندہ کتابیں نہیں پڑھتا اُس میں اور کسی ان پڑھ شخص میں زیادہ فرق نہیں۔تاہم کتابیں پڑھنے والوں کی بھی آگے سے دو اقسام ہیں ، پہلی قسم وہ ہے جو بڑے شوق سے کتابیں خریدتے ہیں ، انہیں میز پر سجا کر رکھتے ہیں ، احتیاط سے ورق الٹ کر دو چار صفحے پڑھتے ہیں اور پھر واپس رکھ کر بھول جاتے ہیں ۔ لیکن کسی محفل میں کوئی اُس کتاب کے بارے میں پوچھے تو پورے اعتماد کے ساتھ کہتے ہیں کہ انہو ں نے وہ کتاب پڑھ رکھی ہے۔دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو پوری کتاب نہ صرف پڑھتے ہیں بلکہ اسے گھول کر پی جاتے ہیں ۔ ایسے لوگوں پر مجھے ہمیشہ رشک آتا ہے۔ اسی قبیل کے ایک شخص نے گزشتہ دنوں مجھے اپنی ایک کتاب بھیجی، میں نے یہ کتاب اٹھائی ، پڑھنا شروع کی اور حیران رہ گیا ۔کتاب کا نام تھا ''انسانی تہذیب کے معمار''۔ یہ کتاب امریکی لکھاری ول ڈیوراں کی گیارہ جلدوں پر مشتمل عظیم الشان سیریز ''دی سٹوری آف سویلائزیشن '' کا 'جوہر' ہے ۔ جوہر کیسے ہے ، یہ بات مزید حیران کُن ہے ۔ول ڈیوراں نے چودہ ہزار صفحات پر مشتمل یہ کتاب پچاس برس کی محنت شاقہ کے بعد مکمل کی جس میں انہوں نے 110صدیوں پر پھیلی ہوئی تاریخ کا احاطہ کیا۔بعد ازاں ول ڈیوراں نے اِس کتاب کی تلخیص کرتے ہوئے ''ہیروز آف ہسٹری '' لکھی مگر اُسے مکمل نہ کر سکے،ہیروز آف ہسٹری شیکسپئیر اور فرانسس بیکن تک جا کر رُک جاتی ہے ۔ اب ضرورت اِس بات کی تھی کہ خدا کا کوئی بندہ  ول ڈیوراں کے اِس کام کو مکمل کرتا اور سٹوری آف سویلائزیشن کے چودہ ہزار صفحے پڑھ کر اُن کا سَت نکالتا اور شیکسپئیر سے آگے کی تاریخ کو ہیروز آف ہسٹری کی طرز پر مکمل کرتا ۔ عام طور سے اِس قسم کے جناتی نوعیت کے کام کسی ادارے کے سپرد کیے جاتے ہیں جہاں درجنوں لوگوں کو بھرتی کرکے تلخیص اور ترجمے کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے ، فنڈز اور وسائل مہیا کیے جاتے ہیں اور پھر کوئی ایک شخص پوری کتاب مرتب کرکے سرورق پر اپنا نام لکھوا کر امر ہو جاتا ہے۔مگر میں سر دست جس کام کا ذکر کر رہا ہوں وہ کام ایک پاکستانی لکھاری نے مکمل کیا ہے ۔اِس مرد عاقل جس کا نام یاسر جواد ہے، نے سٹور ی آف سویلائزیشن کی گیارہ جلدیں پڑھیں اور پھر اُن ابواب کا ترجمہ اور تلخیص کی جو ابواب ہیروز آف ہسٹری کے لیے ول ڈیوراں نہیں لکھ پائے تھے ۔ایک لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ول ڈیوراں کا چھوڑا ہوا تقریباً دو تہائی کام اِس مردِ حُر نے اکیلے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔ ایسے شخص کو انگریز ی میں 'ون مین آرمی ' کہتے ہیں ۔



بڑے لکھاری کی ایک نشانی یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ عاجز ہوتا ہے اور بڑھ چڑھ کر اپنی علمیت کا رعب نہیں جھاڑتا، یاسر جواد میں یہ دونوں خوبیاں موجود ہیں۔ اپنی کتاب 'انسانی تہذیب کے معمار 'میں موصوف نے بے حد کسر نفسی سے کام لیا ہے اور یہ پتا ہی نہیں چلنے دیا کہ کس طرح انہوںنے ول ڈیوراں کا ادھورا کام مکمل کیا ہے۔یہ کتاب سٹوری آف سویلائزیشن کا تلخیص و ترجمہ نہیں ہے ، بلکہ اُس کا جوہر ہے اور وہ یوں کہ یاسر جواد نے 'کہیں ایک بھی جملہ اپنی طرف سے ایزاد نہیں کیا 'بلکہ ول ڈیوراں کے لکھے ہوئے ابواب میں سے 'صرف اُن حصوں کو لیا ہے جو شخصیت ،کردار، روح عصر سے تعلق اور اثرات کو بیان کرتے ہیں۔ایسا نہیں کہ اِ س سے پہلے کسی نے سٹوری آف سویلائزیشن کو ہاتھ نہیں ڈالا ، مترجم طیب رشید اِس کتاب کے پہلے حصے کا ترجمہ 'ہندوستان ' کے نام سے کر چکے ہیں مگر اِس ضمن میں یاسر جواد کا پلڑا خاصا بھاری ہے ۔ موصوف سٹوری آف سویلائزیشن کے مختلف حصوں کا اردو ترجمہ کر چکے ہیں جن میں تاریخ کے اسباق،عرب، اسلامی تہذیب کی داستان اور یورپ کی بیداری شامل ہیں۔  اگر آپ کو لگ رہا ہے کہ میں یاسر جواد کی تعریف میں مبالغے سے کام لے رہا ہوں توجواب میں فقط اتنا عرض کروں گا کہ وہ اِس مترجم کا صرف 'تعارف ' ہی پڑھ لے جو ناشر نے کتاب کے شروع میں دیا ہے ۔ یاسر جواد ''اب تک سائنس ،فلسفہ، الیہات ، تاریخ ، مذاہب اور نفسیات کے موضوع پر 130سے زائد کتب کا ترجمہ کر چکے ہیں۔۔۔انہوں نے اکادمی ادبیات کے لیے 'انسائیکلو پیڈیا ادبیات عالم' اور ایک نجی ادارے کے لیے 2500صفحات پر مشتمل 'عالمی انسائیکلو پیڈیا' بھی ترتیب دیا۔نیز 'فرہنگ آصفیہ ' اور 'نور اللغات ' کی تزئین و تہذیب کی۔ وہ گورمکھی و ہندی زبان اور سکرپٹ سے بھی بخوبی واقفیت رکھتے ہیں ۔''اِس تعارف کے حامل شخص کے بار ے میں کیا مبالغہ آرائی کی جا سکتی ہے!اِس کتاب پر البتہ مجھے ایک اعتراض ضرور ہے کہ ترجمہ کرتے وقت یاسر جواد اصل متن ، زبان اور لکھار ی کے اسلوب میں کچھ زیادہ ہی ڈوب گئے ہیں جس سے ترجمہ کچھ بوجھل ہو گیاہے اور تحریر کی روانی متاثر ہوئی ہے ۔ لیکن یہ مترجم کی اپنی مرضی ہوتی ہے کہ وہ ترجمے کا یہ طریقہ اپنائے یا دوسرا طریقہ جس میں اصل زبان کے بجائے مترجم اپنی زبان کو فوقیت دیتا ہے اور یوں پڑھتے وقت قاری کوتحریر میں اجنبیت محسوس نہیں ہوتی۔اِس کتاب میں ترجمے کے پہلے طریقہ کار کو اپنانے میں یاسر جواد کی مجبوری غالباً یہ تھی کہ وہ ول ڈیوراں کے انداز تحریر اور اُس کے استعمال کردہ الفاظ و تراکیب کو من و عن قاری کے سامنے پیش کرنا چاہتے تھے تاکہ یہ کتاب ول ڈیوراں ہی کی لکھی ہوئی لگے نا کہ مترجم کی۔
ول ڈیوراں کی کتابیں پڑھ کر لگتا ہے کہ وہ مغربی فلسفے اور ادب سے بے حد متاثر تھا ، گو کہ اُس کی کتابوں میں مشرقی فلسفے کا ذکر بھی ملتا ہے مگر ایسے کہ حافظ شیرازی کے بارے میں چار پانچ صفحے اور دوسر ی طرف والٹئیر اور نپولین کے لیے ہزار صفحات۔ لیکن اسی ول ڈیوراں نے سٹوری آف سویلائزیشن میں رسول اللہ ۖ کو جن الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا وہ قابل غور ہے ، لکھتا ہے:''اگر ہم تاریخ پر اثرات کے حوالے سے تجزیہ کریں تو آپ ۖ کا کوئی ثانی نہیں ۔ آپ ۖ نے جاہلیت کی دلدل میں دھنسے ہوئے لوگوں کو روحانی اور اخلاقی رفعت سے ہمکنار کیا، اور کسی بھی دوسرے مصلح یا پیغمبر کی نسبت کہیں زیادہ کامیاب رہے ۔ تاریخ انسانی کا شاید ہی کوئی اور آدمی کبھی اپنے خوابوں کو اِس قدر بھرپور انداز میں تعبیر دے سکا۔''ول ڈیوراں جیسے مغربی تہذیب کے دلدادہ لکھاری کے رسول اللہ ۖ کے بارے میں یہ الفاظ شاید کبھی ہمارے سامنے نہ آ پاتے اگر انسانی تہذیب کے معمار جیسی کتاب اردو میں شائع نہ ہوتی ۔ یہ کتا ب دراصل پوری انسانی تہذیب کی تاریخ کا نچوڑ ہے ۔ول ڈیوراں نے اپنی کتاب کو مختلف ادوار میں تقسیم کرکے لکھا تھا جبکہ یاسر جواد نے اسے شخصیات کے سن پیدائش کے حساب سے ترتیب دیا ہے ۔ہم میں سے شاید کوئی بھی چودہ ہزار صفحات والی کتاب نہیں پڑھ سکتا ،یاسر جواد نے ہمارے لیے نہ صرف یہ کام کیا بلکہ پھر اُس کا کلیجہ بھی نکال کر رکھ دیا ۔ اگر آپ اِس سال کوئی ایک کتاب پڑھنا چاہتے ہیں تو بس یہ پڑھ لیں ، یہ سو کتابوں پر بھاری ہے ۔


مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔
 [email protected]

مضمون 627 مرتبہ پڑھا گیا۔