اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 10:22
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

سوات میں عسکریت پسندی کا پس منظر اور پاک فوج کا قیام امن، تعمیر نو میں کردار

نومبر 2022

 ممتاز صحافی اور تجزیہ کارعقیل یوسف زئی کا ایک جائزہ

کچھ عرصہ سے سوات اور نواحی علاقوں میں ایک بار پھر امن و امان کی صورتحال بگڑتی دکھائی دینے لگی ہے جس کا براہ راست تعلق افغانستان کے حالات سے جڑا ہوا ہے جہاں 2009 کے بعد سرکاری سرپرستی میں تحریک طالبان پاکستان کی قیادت اور ان کے تقریباً 5000 جنگجوں کو پناہ گاہیں فراہم کی گئیں تاکہ ان کو پاکستان کے خلاف استعمال کیا جائے۔اگست 2021 میں جب امریکی اور اتحادی افواج متبادل کے بغیر افغانستان سے نکل گئیں اور افغان حکومت، فورسز نے کسی مزاحمت کے بغیر ہتھیار ڈال دیئے تو طالبان نہ صرف پورے ملک کے دوبارہ حکمران بنے بلکہ پاکستانی طالبان بھی اپنے ٹھکانوں اور جیلوں سے نکل آئے اور ان سے نمٹنے کے لیے افغان طالبان کی خواہش پر پاکستان نے مذاکرات کا ایک سلسلہ شروع کیا جو بعد میں ڈیڈلاک کا شکار ہوا کیونکہ بعض سواتی اور قبائلی جنگجو پاکستان میں نہ صرف داخل ہوئے بلکہ انہوں نے حملے بھی شروع کئے جن کا بھرپور جواب دیا گیا اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے ۔ حملوں کی روک تھام اور عوام کو اعتماد میں لینے کی ضرورت سے صوبائی حکومت لاتعلق رہی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عوام میں سخت تشویش پھیل گئی اور وہ حکومت کے خلاف احتجاج کے لیے نکل آئے ۔ وفاقی حکومت کا رویہ بھی بے  وجہ ذمہ دارانہ نہیں رہا تاہم کور کمانڈر پشاور اور اعلی عسکری قیادت نے جہاں عوام کو تحفظ فراہم کرنے میں بہت دلچسپی لی وہاں فورسز نے شورش زدہ علاقوں میں ٹارگٹڈ کارروائیوں کا بھی آغاز کیا ۔



پاک فوج نے ان اقدامات کے علاوہ تعلیمی اداروں، سڑکوں، مواصلات اور ہسپتالوں کی تعمیر اور بحالی کیلئے بھی بنیادی کام کیا ۔ اس ضمن میں سوات کیڈٹ کالج کی مثال دی جاسکتی ہے جہاں ہزاروں اسٹوڈنٹس معیاری تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔  بحالی کے درجنوں مراکز قائم کئے گئے، اسکالرشپ دی گئی اور باصلاحیت نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع دیے گئے جن میں ملالہ یوسفزئی بھی شامل ہیں جن کا علاج پاک فوج کی اعلیٰ قیادت کی خصوصی دلچسپی پر ممکن بنایا گیا تھا ۔


سوات میں عسکریت پسندی کی تاریخ بہت پرانی ہے ۔اس کا آغاز 1993-94 کے دوران اس وقت ہوا تھا جب پورے مالاکنڈ ڈویژن میں صوفی محمد کی قیادت میں ہزاروں افراد نے شریعت کے مطالبے پر پرتشدد کارروائیوں کا آغاز کیا جس کے نتیجے میں سوات نہ صرف پورے ملک سے کٹ کر رہ گیا بلکہ بدیع الزمان خان نامی ممبر صوبائی اسمبلی سمیت درجنوں دیگر کو ہلاک بھی کیا گیا اور یہ سلسلہ کئی مہینوں تک چلتا رہا۔ 
دوسری بار یہاں نائن الیون کے بعد ایسی ہی سرگرمیوں کا پھر آغاز ہوا تاہم اس میں شدت لال مسجد اسلام آباد کے آپریشن کے بعدآئی جب مولانا صوفی محمد کے داماد مولوی فضل اللہ نے فورسز خصوصاً پولیس اور بعض پارٹیوں پر خود کش حملوں سمیت درجنوں دیگر حملے کراکے آدھے سوات کو یرغمال بنالیا ۔ سال 2007 کے اسی عرصے میں جب بیت اللہ محسود نے تحریک طالبان پاکستان کی بنیاد رکھی تو فضل اللہ نہ صرف اس کا حصہ بنے بلکہ انہوں نے صوفی محمد کے جانشین کے طور پر ان کی قائم کردہ تنظیم تحریک نفاذ شریعت محمدی پر بھی قبضہ کر لیا اور سال 2008 کے الیکشن کے بعد صوبہ میں اے این پی اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت کے قیام کے بعدپورا علاقہ بدترین حملوں کی لپیٹ میں آگیا ۔ دونوں پارٹیاں چونکہ جہاد وغیرہ کی مخالف تھیں اس لیے ان کی حکومت کا جینا حرام کیا گیا ۔ وزیرستان اور پشاور کے بعد سب سے زیادہ خودکش حملے سوات میں کرائے گئے جن کی تعداد 46 رہی ۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2008 اور 2013 کے درمیان سوات میں 270  سکیورٹی اہلکاروں سمیت تقریباً 500 افراد خصوصاً سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنایا گیا ۔حکومت نے فوج کے تحفظات کے باوجود سوات امن معاہدے کے نام سے شدت پسندوں کے مطالبات بھی مان لئے مگر اس کو ایک عوامی اجتماع کے دوران کھلے عام اعلان کے ذریعے توڑا گیا۔
اس دوران پولیس اور صوبائی حکومت کے دوسرے ادارے نہ صرف سرینڈر ہوئے بلکہ سرکاری ملازمین نے کام کرنا بھی چھوڑ دیا ۔ یہ صورت حال مرج ڈسٹرکٹ اور صوبے کے دوسرے علاقوں میں بھی جاری رہی ۔
سال 2008 کے آخری مہینوں میں سوات میں ریاستی رٹ ختم ہوچکی تھی ۔ خواص علاقے چھوڑ چکے تھے جبکہ عوام مکمل طور پر طالبان کے رحم و کرم پر تھے ۔



سال 2010 اور سال 2022 کے دوران جب سوات اور ملحقہ علاقوں کو بدترین سیلابوں نے اپنی لپیٹ میں لیا اس سے نمٹنے میں بھی بنیادی کردار پاک فوج کا رہا ۔ صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی کا یہ عالم رہا ہے کہ سال 2010 کے سیلاب کے بعد فوج نے ہنگامی بنیادوں پر سٹیل کے جو پل منگوائے تھے اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک انہی سے کام چلایا جارہا ہے اور چند ہی پل تعمیر کرنے کی زحمت گوارا کی گئی ہے ۔


اس صورتحال میں مشہور زمانہ سوات آپریشن کا 2009 میں آغاز کیا گیا جس کو اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی خود لیڈ کررہے تھے اور اس آپریشن کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا کامیاب ترین آپریشن سمجھا جاتا ہے ۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس تاریخی آپریشن کے پیچھے کھڑی ہوگئیں اور انہوں نے اس کی باقاعدہ اونرشپ لی۔ فوج نے نہ صرف یہ کہ 20 لاکھ سے زائد شہریوں کو بحفاظت نکال کر ان کو بندوبستی علاقوں میں بسایا بلکہ 3 ماہ کے قلیل عرصے میں اتنے بڑے آپریشن کو پایہ تکمیل تک پہنچا کر متاثرین کی واپسی کو بھی یقینی بنایا جس کی عالمی سطح پر تعریف کی گئی اور اس آپریشن کی مثالیں دی جانے لگیں ۔ فوجی قیادت نے متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو کے کاموں پر نہ صرف بھرپور توجہ دی بلکہ عالمی برادری کے تعاون سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ بھی کیا اور ریکارڈ وقت میں انفراسٹرکچر فعال کرکے عوام کو تمام درکار سہولیات بھی فراہم کی ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ علاقہ دہشتگردوںسے صاف کرایا گیا، ان کے ٹھکانوں کو ختم کیا گیا اور سیکڑوں کو یا تو مارا گیا یا گرفتار کر لیا گیا ۔ دوران آپریشن بعض عسکریت پسند افغانستان چلے گئے جہاں وہ سرکاری سرپرستی میں دوسرے گروپس کے ساتھ مل کر پاکستان پر حملے کرتے رہے ۔
صوبائی حکومت نے چند برس قبل ایک اہم  غلطی یہ کی کہ اس نے ان محدود فوجی دستوں کو واپس بلواکر اور چیک پوسٹوں کو ختم کیا جو کہ آپریشن کے بعد سکیورٹی کے معاملات سنبھالنے کے لیے مامور تھے ۔اس  پالیسی کو متعدد دوسرے علاقوں میں بھی اپنایا گیا تھا۔اکتوبر2018 میں تمام اختیارات سول انتظامیہ کو منتقل کئے گئے منتقلی کے بعد سول انتظامیہ نے جس طرح اپنی صلاحیتوں کو بڑھانا اور پھر انہیں ایک خاص سطح پر برقراررکھنے کا جو ہدف تھا وہ تا حال پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچ سکا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مقامی طالبان اور ان کے حامیوں کے لیے پھر سے حالات سازگار ہونے لگے اور رہی سہی کسر افغانستان پر طالبان کے غیر متوقع قبضے نے پوری کردی ۔
ستمبر اور اکتوبر 2022میں جو صورتحال بنی اس سے نمٹنے کے لیے بھی فوج کو کچھ سکیورٹی اقدامات فوری اٹھانے  پڑے اگر ایسا نہ کیا جاتا تو شاید حالات قابو سے نکل جاتے تاہم اس تمام معاملے کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہسول انتظامیہ حالات کو اس انداز سے کنٹرول کرنے میںناکام رہی جس کی ضرورت تھی۔
یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ سال 2010 اور سال 2022 کے دوران جب سوات اور ملحقہ علاقوں کو بدترین سیلابوں نے اپنی لپیٹ میں لیا اس سے نمٹنے میں بھی بنیادی کردار پاک فوج کا رہا ۔ صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی کا یہ عالم رہا ہے کہ سال 2010 کے سیلاب کے بعد فوج نے ہنگامی بنیادوں پر سٹیل کے جو پل منگوائے تھے اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک انہی سے کام چلایا جارہا ہے اور چند ہی پل تعمیر کرنے کی زحمت گوارا کی گئی ہے ۔
پاک فوج نے ان اقدامات کے علاوہ تعلیمی اداروں، سڑکوں، مواصلات اور ہسپتالوں کی تعمیر اور بحالی کیلئے بھی بنیادی کام کیا ۔ اس ضمن میں سوات کیڈٹ کالج کی مثال دی جاسکتی ہے جہاں ہزاروں اسٹوڈنٹس معیاری تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔  بحالی کے درجنوں مراکز قائم کئے گئے، اسکالرشپ دی گئی اور باصلاحیت نوجوانوں کو آگے بڑھنے کے مواقع دیے گئے جن میں ملالہ یوسفزئی بھی شامل ہیں جن کا علاج پاک فوج کی اعلیٰ قیادت کی خصوصی دلچسپی پر ممکن بنایا گیا تھا ۔
بلا شبہ سوات ایک بے مثال کامیابی ہے اسے برقرار رکھنا ہوگا اور موجودہ چیلنجز سے نمٹنے کے لئے لازمی ہے کہ پولیٹیکل پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے حکومتیں اوردیگر اربابِ اختیار ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں اور قومی سلامتی کے اداروں کو غیر ضروری تنقید سے بچاتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کا راستہ اختیار کیا جائے تاکہ مشترکہ کوششوں کے ذریعے درپیش چیلنجز سے خود کو بچا لیا جائے ۔ ||


[email protected]