اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 04:45
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

پاکستان کا داخلی استحکام

مئی 2022

کسی بھی ریاست کی بنیادی کنجی یا کامیابی کا نقطہ اس کے داخلی استحکام کے ساتھ جڑا ہوتا ہے ۔ کیونکہ داخلی استحکام ہی عملی طور پر اسے علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود مسائل سے نمٹنے کی حقیقی طاقت فراہم کرتا ہے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ سیاسیات میں ایک عمومی تھیوری یہ دی جاتی ہے کہ جو بھی ریاست اپنے داخلی مسائل کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے وہی اپنے خارجی مسائل سے نمٹ کر بہتری کا محفوظ راستہ تلاش کرنے کی بھی صلاحیت قائم کرسکتی ہے ۔ہمارے فیصلہ ساز افراد یا ادارے اگرچہ داخلی استحکام کی بات تو بڑی شدت سے کرتے ہیں مگر عملی طور پر ان کا طرز عمل یا اقدامات کی نوعیت داخلی مسائل سے نمٹنے میں عدم دلچسپی کی ہوتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں سیاسی پنڈتوں سمیت سب ہی اس نقطہ پر متفق نظر آتے ہیں کہ ہمارا بڑا مسئلہ داخلی مسائل سے جڑے عدم استحکام سے ہے ۔


سیاسی نظام بنیادی طور پر وقت کے ساتھ ساتھ اپنے اندر اصلاحات او رتبدیلیوں کی بنیاد پر آگے بڑھتا ہے ۔عملی طور پر سیاسی نظام بڑی طاقت ور اصلاحات چاہتا ہے جو سیاسی سطح پر سیاسی جماعتوں سمیت مجموعی طور پر سیاسی ، جمہوری او رپارلیمانی نظام کو مضبوط بنائے اور لوگوں کے اس نظام پر اعتماد کو بحال کرنے میں کچھ بڑے فیصلے کرسکے۔ادار ہ جاتی سطح پر پولیس، عدلیہ ، بیوروکریسی ، ایف بی آر او رانتظامی اصلاحات کو اپنی قومی ترجیح کا ایجنڈا بنانا ہوگا اور آج ہم ادارہ جاتی سطح پرجو مسائل دیکھ رہے ہیں وہ ہم سے غیر معمولی اقدامات کے متقاضی ہیں۔


داخلی مسائل سے نمٹنا کوئی مشکل کام نہیں۔ اس کے لیے عملی طور پر ایک مضبوط سیاسی کمٹمنٹ ، وژن، سوچ ، فکر ، تدبر ، فہم و فراست ، مضبوط عملی قیادت سمیت ایک واضح اور شفاف روڈ میپ درکار ہے ۔ داخلی مسائل سے نمٹنے کے لیے جو روڈ میپ درکار ہے اس کا براہ راست تعلق قومی سطح پر موجود مسائل کے درست ادراک سے بھی ہے ۔ یعنی ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارے داخلی مسائل کیا ہیں او ران مسائل کی وجوہات کیا ہیں اوران کے معاشرتی اثرات سمیت ان سے نمٹنے کا حل کیا ہونا چاہیے ۔ مسائل کی نشاندہی اور اس سے نمٹنے کا مشترکہ حل اگر تمام اہم فریقین کی مدد سے اتفاق رائے پر مبنی ہو تو معاملات سے نمٹنا زیادہ آسان ہوجاتا ہے ۔ہمیں اپنے داخلی مسائل سے نمٹنے کے لیے پرانے یا فرسودہ خیالات یا روائتی حکمت عملی یا سوچ کے بجائے ایک نیا تدبر اور حکمت عملی درکار ہے ۔ جب ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہمیں داخلی سطح پر بے شمار چیلنجز ہیں تو ان غیر معمولی حالات سے نمٹنے کے لیے بھی ہمیں غیر معمولی اقدامات درکار ہیں ۔ ان اقدامات کے لیے ہمیں روائتی انداز سے حکمت عملی کو ترتیب دینے کے بجائے Out of Box جاکر کچھ بڑے ، کڑوے اور سخت فیصلے کرنا ہونگے جو بطور ریاست ہمیں ایک مضبوط، مربوط او رشفاف نظام کی جانب لے کر جاسکیں ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں داخلی سطح پر کن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ۔ اول بنیادی مسئلہ گورننس یا طرز حکمرانی کے بحران کا ہے او راسی وجہ سے لوگوں کو جہاں بہت سے مسائل کا سامنا ہے وہیں عام آدمی اور ریاست سمیت حکمرانی کے رشتہ میں دوریاں او رخلیج پیدا ہوتی ہیں ۔یہ ہی عمل ملک میں غیر یقینی صورتحال ، مایوسی اور ریاست پر عام آدمی کے اعتماد سمیت ریاستی ساکھ کو کمزور کرتا ہے ۔ دوئم معاشی بدحالی ، لوگوں کو کم روزگار کے مواقع، معاشی تفریق یا ناہمواریوں سمیت معاشی ترقی کے امکانات کی کمی ،بالخصوص کمزور طبقات میں موجود معاشی پریشانی جیسے مسائل کی موجودگی ، سوئم قومی داخلی سکیورٹی کا نظام جہاں ریاست سمیت مخصوص طبقات کے بجائے تمام شہریوں کی سکیورٹی کو تحفظ دینا ، چہارم عدالتی انصاف پر مبنی نظام میں موجودخرابیاں اور لوگوں کا انصاف یا عدالت کے نظام پر عدم اعتماد، پنجم ادارہ جاتی نظام یا بیوروکریسی کی سطح پر روائتی انداز حکمرانی ،ششم سیاسی ، سماجی ، معاشی اور قانونی اصلاحات کے ایجنڈے سے انحراف پر مبنی پالیسی ،ہفتم معاشرے میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی یا ریاست کے مقابلے میں متبادل ریاست قائم کرنا یا سیاسی و مذہبی ، لسانی بنیادوں پر طاقت او راسلحے کی بنیاد پر جتھے بنانا ،ہشتم سیاسی عدم استحکام جہاں حکمرانی کے نظام کو عملاً مضبوط کرنے کے بجائے سیاسی جماعتوں او ر قیادت کی جانب سے محض ذاتیات و اقتدار پر مبنی سیاست جیسے مسائلشامل ہیں ۔
سیاسی نظام بنیادی طور پر وقت کے ساتھ ساتھ اپنے اندر اصلاحات او رتبدیلیوں کی بنیاد پر آگے بڑھتا ہے ۔عملی طور پر سیاسی نظام بڑی طاقت ور اصلاحات چاہتا ہے جو سیاسی سطح پر سیاسی جماعتوں سمیت مجموعی طور پر سیاسی ، جمہوری او رپارلیمانی نظام کو مضبوط بنائے اور لوگوں کے اس نظام پر اعتماد کو بحال کرنے میں کچھ بڑے فیصلے کرسکے۔ادار ہ جاتی سطح پر پولیس، عدلیہ ، بیوروکریسی ، ایف بی آر او رانتظامی اصلاحات کو اپنی قومی ترجیح کا ایجنڈا بنانا ہوگا اور آج ہم ادارہ جاتی سطح پرجو مسائل دیکھ رہے ہیں وہ ہم سے غیر معمولی اقدامات کے متقاضی ہیں۔ اداروں کی مکمل خودمختاری ، شفافیت اور سیاسی مداخلت کے خاتمے سمیت میرٹ پر عملدرآمد کرکے ہی ہم ریاست کے بحران کو کم کرسکتے ہیں، بالخصوص اگر ہم نے عدالتی او ربیوروکریسی کی سطح پر سخت گیر اور ضروری اصلاحات نہ کیں تو حکمرانی کے نظام کے بہتر ایجنڈے کی موجودگی کے باوجود ہم کچھ بڑے نتائج حاصل نہیں کرسکیں گے ۔
حال ہی میں حکومتی سطح سے ریاستی اداروں کی مدد سے ایک قومی سکیورٹی پالیسی جاری کی گئی ہے جو واقعی ایک اہم ریاستی دستاویز ہے ۔ اس اہم دستاویز میں پہلی بار سکیورٹی کو محض بارڈر سکیورٹی تک محدود نہیں کیا گیا بلکہ اس میں انسانی ترقی اور اس میں سرمایہ کاری کو بنیاد بنا کر مجموعی طور پر ریاستی نظام او رلوگوں کے مفادات کو تحفظ دیا گیا ہے ۔ اس لیے اس قومی سکیورٹی پالیسی کو بنیاد بنا کر ہمیں اپنے داخلی معاملات کا درست سطح پر تجزیہ کرنا ہوگا او راسی کو بنیاد بنا کر اپنا قومی ایجنڈا بھی ترتیب دینا ہوگا جو داخلی اور خارجی سکیورٹی سے جڑے معاملات کو بہتر طور پر نمٹنے میں اپنا مؤثر کردار ادا کرسکے ۔یہ جو قومی سطح پر ہمیں مختلف سیاسی ، سماجی ، مذہبی ، فرقہ وارانہ او رلسانی بنیادوں پر تقسیم نظر آتی ہے او رایک مخصوص سطح پر مبنی ایجنڈا کو بنیاد بنا کر اسے داخلی او رخارجی فریقین خراب کرنا چاہتے ہیں، ان کے خلاف ہمیں ایک متبادل بیانیہ کو طاقت دینا ہوگی ۔ یہ جو مختلف حوالوں سے سیاسی او رمیڈیا سمیت رائے عامہ کی سطح پر تقسیم کا جو کھیل ہے وہ عملی طور پر ریاست کے مفاد کے خلاف ہے ۔ اس میں کچھ افراد یا ادارے جان بوجھ کر ریاستی نظام کو کمزور کرنے کے کھیل کا حصہ ہیں اور اس کا براہ راست فائدہ وہ قوتیں اٹھارہی ہیں جو ہمیں ہر محاذ پر کمزور کرنے کا ایجنڈا رکھتی ہیں ۔ایک بات سمجھنی ہوگی کہ اگر ہم نے لوگوں یا انفرادی سطح پرموجود لوگوں کے بجائے قانون او راداروں کی سطح پر حکمرانی کے نظام کو مؤثر او رمضبوط نہ بنایا تو داخلی چیلنجز سے نمٹنا او رزیادہ مشکل عمل ہوجائے گاکیونکہ خاص طو رپر نوجوانوں کو خا ص ٹارگٹ کرکے ان میں تقسیم کی شدت کو ابھارا جارہا ہے جو عملی طور پر انتہا پسندی یا شدت پسندی کو طاقت دیتا ہے ۔
معاشی صورتحال کا براہ راست تعلق اگرچہ عالمی حالات او رمنڈی سے بھی جڑا ہوا ہے لیکن جو کچھ ہم داخلی محاذ پر معاشی صورتحال کی بہتری میں کرسکتے ہیں وہ ہمیں ضرور کرنا چاہیے کیونکہ ہمارے بیشترمسائل جن پر لوگوں کے تحفظات ہیں جن میں مہنگائی جیسے امور بھی شامل ہیں، ان کا براہ راست تعلق ہماری کمزور انتظامی مشینری کا بھی ہے۔ انتظامی سطح پر نگرانی ، شفافیت اور جوابدہی کا نظام یا لوگوں کو معاشی ریلیف دینا جیسے امور پر نئے اقدامات درکار ہیں ۔ہمارے پاس معاشی صورتحال سے نمٹنے کے لیے عملی طور شارٹ ٹرم ، مڈٹرم اور لانگ ٹرم پالیسی یا بڑا معاشی روڈ میپ درکار ہے جو تسلسل کے ساتھ اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھاسکے ۔نئے روزگارکے مواقع پیدا کرکے ، معاشی انصاف سمیت داخلی و خارجی سرمایہ کاری کے ماحول کو تقویت دے کر ہی ہم معاشی مواقعوں کو پیدا کرسکتے ہیں ۔
سیاسی سطح پر ہمیں ایک مضبوط سیاسی نظام کی ضرورت ہے ۔ ایسا نظام جو سیاسی بھی ہو اور جمہوری بھی، جہاں عوامی مفادات کو سب سے بڑی طاقت حاصل ہو او ریہ نظام جوابدہی پر مبنی ہو۔ ہمیں سیاسی رواداری کی ضرورت ہے جہاں سیاسی اختلافات کی بنیاد پر سیاسی دشمنی یا سیاسی محاذآرائی کو ہمارا ایجنڈا نہیں ہونا چاہیے ۔سیاست کو عوامی مفادات سے جوڑنا اور لوگوں کی تقسیم کو ختم کرکے اسے سیاسی سطح پر ملکی ترقی ، سلامتی او رخودمختاری کے لیے جوڑنا ہی ہمارا سیاسی ایجنڈا ہونا چاہیے ۔
اب سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہ کام جو ہمارے داخلی مسائل سے جڑا ہوا ہے اس سے نمٹنے کے لیے ہم سب فریقین میں کیسے اتفاق رائے پیدا ہوگا۔ ایک ایسے ملک میں جہاں سیاسی بنیادوں پر بہت زیادہ تقسیم ہو وہاں ایک ایجنڈے پر متفق ہونا ایک بڑا چیلنج بھی ہے ۔ اس وقت قومی سطح پر ہمیں تمام فریقین کی سطح پر ایک بڑے''مکالمہ اور مفاہمت '' کی ضرورت ہے ۔ ایک ایسا مکالمہ او رمفاہمت جو ریاستی نظام کو جدید بنیادوں پر مضبوط کرسکے ۔
 ملک کی ترقی ، سلامتی اور خودمختاری پوری قوم کا مسئلہ ہے اور ہمیں یہ سبق اجتماعی طور پر سوچنا ہوگا کہ ہم کیسے اپنی ماضی او رحال کی غلطیوں سے سبق سیکھ کر یا دنیا کے تجربات سے سیکھ کر اپنے قومی ایجنڈے کو ایک نئی جہت دیں۔ اس کے لیے ہمیں داخلی مسائل سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ ایجنڈا درکار ہے اور یہ ہی ہماری قومی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہیے جہاں سب  فریقین اپنے اپنے سیاسی اور قانونی یا آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے پاکستان کے مفاد کی جنگ لڑیں او ریہ ہی جنگ ہم سب کی اپنی جنگ ہونی چاہیے ۔ ||


مضمون نگار معروف تجزیہ نگار اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں ۔ ایک معروف روزنامہ میں کالم بھی لکھتے ہیں۔
[email protected]