اردو(Urdu) English(English) عربي(Arabic) پښتو(Pashto) سنڌي(Sindhi) বাংলা(Bengali) Türkçe(Turkish) Русский(Russian) हिन्दी(Hindi) 中国人(Chinese) Deutsch(German)
2024 04:03
مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ بھارت کی سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ خالصتان تحریک! دہشت گرد بھارت کے خاتمے کا آغاز سلام شہداء دفاع پاکستان اور کشمیری عوام نیا سال،نئی امیدیں، نیا عزم عزم پاکستان پانی کا تحفظ اور انتظام۔۔۔ مستقبل کے آبی وسائل اک حسیں خواب کثرت آبادی ایک معاشرتی مسئلہ عسکری ترانہ ہاں !ہم گواہی دیتے ہیں بیدار ہو اے مسلم وہ جو وفا کا حق نبھا گیا ہوئے جو وطن پہ نثار گلگت بلتستان اور سیاحت قائد اعظم اور نوجوان نوجوان : اقبال کے شاہین فریاد فلسطین افکارِ اقبال میں آج کی نوجوان نسل کے لیے پیغام بحالی ٔ معیشت اور نوجوان مجھے آنچل بدلنا تھا پاکستان نیوی کا سنہرا باب-آپریشن دوارکا(1965) وردی ہفتۂ مسلح افواج۔ جنوری1977 نگران وزیر اعظم کی ڈیرہ اسماعیل خان سی ایم ایچ میں بم دھماکے کے زخمی فوجیوں کی عیادت چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا دورۂ اُردن جنرل ساحر شمشاد کو میڈل آرڈر آف دی سٹار آف اردن سے نواز دیا گیا کھاریاں گیریژن میں تقریبِ تقسیمِ انعامات ساتویں چیف آف دی نیول سٹاف اوپن شوٹنگ چیمپئن شپ کا انعقاد یَومِ یکجہتی ٔکشمیر بھارتی انتخابات اور مسلم ووٹر پاکستان پر موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات پاکستان سے غیرقانونی مہاجرین کی واپسی کا فیصلہ اور اس کا پس منظر پاکستان کی ترقی کا سفر اور افواجِ پاکستان جدوجہدِآزادیٔ فلسطین گنگا چوٹی  شمالی علاقہ جات میں سیاحت کے مواقع اور مقامات  عالمی دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ پاکستانی شہریوں کے قتل میں براہ راست ملوث بھارتی نیٹ ورک بے نقاب عز م و ہمت کی لا زوال داستا ن قائد اعظم  اور کشمیر  کائنات ۔۔۔۔ کشمیری تہذیب کا قتل ماں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور بھارتی سپریم کورٹ کی توثیق  مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ۔۔ایک وحشیانہ اقدام ثقافت ہماری پہچان (لوک ورثہ) ہوئے جو وطن پہ قرباں وطن میرا پہلا اور آخری عشق ہے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں کانووکیشن کا انعقاد  اسسٹنٹ وزیر دفاع سعودی عرب کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  پُرعزم پاکستان سوشل میڈیا اور پرو پیگنڈا وار فئیر عسکری سفارت کاری کی اہمیت پاک صاف پاکستان ہمارا ماحول اور معیشت کی کنجی زراعت: فوری توجہ طلب شعبہ صاف پانی کا بحران،عوامی آگہی اور حکومتی اقدامات الیکٹرانک کچرا۔۔۔ ایک بڑھتا خطرہ  بڑھتی آبادی کے چیلنجز ریاست پاکستان کا تصور ، قائد اور اقبال کے افکار کی روشنی میں قیام پاکستان سے استحکام ِ پاکستان تک قومی یکجہتی ۔ مضبوط پاکستان کی ضمانت نوجوان پاکستان کامستقبل  تحریکِ پاکستان کے سرکردہ رہنما مولانا ظفر علی خان کی خدمات  شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن ہو بہتی جن کے لہو میں وفا عزم و ہمت کا استعارہ جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار کرگئے جو نام روشن قوم کا رمضان کے شام و سحر کی نورانیت اللہ جلَّ جَلالَہُ والد کا مقام  امریکہ میں پاکستا نی کیڈٹس کی ستائش1949 نگران وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر اور  چیف آف آرمی سٹاف کا دورۂ مظفرآباد چین کے نائب وزیر خارجہ کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات  ساتویں پاکستان آرمی ٹیم سپرٹ مشق 2024کی کھاریاں گیریژن میں شاندار اختتامی تقریب  پاک بحریہ کی میری ٹائم ایکسرسائز سی اسپارک 2024 ترک مسلح افواج کے جنرل سٹاف کے ڈپٹی چیف کا ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ اوکاڑہ گیریژن میں ''اقبالیات'' پر لیکچر کا انعقاد صوبہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں مقامی آبادی کے لئے فری میڈیکل کیمپس کا انعقاد  بلوچستان کے ضلع خاران میں معذور اور خصوصی بچوں کے لیے سپیشل چلڈرن سکول کاقیام سی ایم ایچ پشاور میں ڈیجٹلائیز سمارٹ سسٹم کا آغاز شمالی وزیرستان ، میران شاہ میں یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد کما نڈر پشاور کورکا ضلع شمالی و زیر ستان کا دورہ دو روزہ ایلم ونٹر فیسٹول اختتام پذیر بارودی سرنگوں سے متاثرین کے اعزاز میں تقریب کا انعقاد کمانڈر کراچی کور کاپنوں عاقل ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کوٹری فیلڈ فائرنگ رینج میں پری انڈکشن فزیکل ٹریننگ مقابلوں اور مشقوں کا انعقاد  چھور چھائونی میں کراچی کور انٹرڈویژ نل ایتھلیٹک چیمپئن شپ 2024  قائد ریزیڈنسی زیارت میں پروقار تقریب کا انعقاد   روڈ سیفٹی آگہی ہفتہ اورروڈ سیفٹی ورکشاپ  پی این فری میڈیکل کیمپس پاک فوج اور رائل سعودی لینڈ فورسز کی مظفر گڑھ فیلڈ فائرنگ رینجز میں مشترکہ فوجی مشقیں طلباء و طالبات کا ایک دن فوج کے ساتھ روشن مستقبل کا سفر سی پیک اور پاکستانی معیشت کشمیر کا پاکستان سے ابدی رشتہ ہے میر علی شمالی وزیرستان میں جام شہادت نوش کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کا کابینہ کے اہم ارکان کے ہمراہ جنرل ہیڈ کوارٹرز  راولپنڈی کا دورہ  چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کی  ایس سی او ممبر ممالک کے سیمینار کے افتتاحی اجلاس میں شرکت  بحرین نیشنل گارڈ کے کمانڈر ایچ آر ایچ کی جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر دفاع کی یوم پاکستان میں شرکت اور آرمی چیف سے ملاقات  چیف آف آرمی سٹاف کا ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کا دورہ  آرمی چیف کا بلوچستان کے ضلع آواران کا دورہ  پاک فوج کی جانب سے خیبر، سوات، کما نڈر پشاور کورکا بنوں(جا نی خیل)اور ضلع شمالی وزیرستان کادورہ ڈاکیارڈ میں جدید پورٹل کرین کا افتتاح سائبر مشق کا انعقاد اٹلی کے وفد کا دورہ ٔ  ائیر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد  ملٹری کالج سوئی بلوچستان میں بلوچ کلچر ڈے کا انعقاد جشن بہاراں اوکاڑہ گیریژن-    2024 غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ پاک فوج کی جانب سے مظفر گڑھ میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد پہلی یوم پاکستان پریڈ انتشار سے استحکام تک کا سفر خون شہداء مقدم ہے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ریاستی چیلنج بے لگام سوشل میڈیا اور ڈس انفارمیشن  سوشل میڈیا۔ قومی و ملکی ترقی میں مثبت کردار ادا کر سکتا ہے تحریک ''انڈیا آئوٹ'' بھارت کی علاقائی بالادستی کا خواب چکنا چور بھارت کا اعتراف جرم اور دہشت گردی کی سرپرستی  بھارتی عزائم ۔۔۔ عالمی امن کے لیے آزمائش !  وفا جن کی وراثت ہو مودی کے بھارت میں کسان سراپا احتجاج پاک سعودی دوستی کی نئی جہتیں آزاد کشمیر میں سعودی تعاون سے جاری منصوبے پاسبان حریت پاکستان میں زرعی انقلاب اور اسکے ثمرات بلوچستان: تعلیم کے فروغ میں کیڈٹ کالجوں کا کردار ماحولیاتی تبدیلیاں اور انسانی صحت گمنام سپاہی  شہ پر شہیدوں کے لہو سے جو زمیں سیراب ہوتی ہے امن کے سفیر دنیا میں قیام امن کے لیے پاکستانی امن دستوں کی خدمات  ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات سرمایہ و محنت گلگت بلتستان کی دیومالائی سرزمین بلوچستان کے تاریخی ،تہذیبی وسیاحتی مقامات یادیں پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں 149ویں جی ڈی (پی)، 95ویں انجینئرنگ، 105ویں ایئر ڈیفنس، 25ویں اے اینڈ ایس ڈی، آٹھویں لاگ اور 131ویں کمبیٹ سپورٹ کورسز کی گریجویشن تقریب  پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں 149ویں پی ایم اے لانگ کورس، 14ویں مجاہد کورس، 68ویں انٹیگریٹڈ کورس اور 23ویں لیڈی کیڈٹ کورس کے کیڈٹس کی پاسنگ آئوٹ پریڈ  ترک فوج کے چیف آف دی جنرل سٹاف کی جی ایچ کیومیں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات  سعودی عرب کے وزیر خارجہ کی وفد کے ہمراہ آرمی چیف سے ملاقات کی گرین پاکستان انیشیٹو کانفرنس  چیف آف آرمی سٹاف نے فرنٹ لائن پر جوانوں کے ہمراہ نماز عید اداکی چیف آف آرمی سٹاف سے راولپنڈی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ملاقات چیف آف ترکش جنرل سٹاف کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقات ساحلی مکینوں میں راشن کی تقسیم پشاور میں شمالی وزیرستان یوتھ کنونشن 2024 کا انعقاد ملٹری کالجز کے کیڈٹس کا دورہ قازقستان پاکستان آرمی ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ 2023/24 مظفر گڑھ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ   خوشحال پاکستان ایس آئی ایف سی کے منصوبوں میں غیرملکی سرمایہ کاری معاشی استحکام اورتیزرفتار ترقی کامنصوبہ اے پاک وطن خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC)کا قیام  ایک تاریخی سنگ میل  بہار آئی گرین پاکستان پروگرام: حال اور مستقبل ایس آئی ایف سی کے تحت آئی ٹی سیکٹر میں اقدامات قومی ترانہ ایس آئی  ایف سی کے تحت توانائی کے شعبے کی بحالی گرین پاکستان انیشیٹو بھارت کا کشمیر پر غا صبانہ قبضہ اور جبراً کشمیری تشخص کو مٹانے کی کوشش  بھارت کا انتخابی بخار اور علاقائی امن کو لاحق خطرات  میڈ اِن انڈیا کا خواب چکنا چور یوم تکبیر......دفاع ناقابل تسخیر منشیات کا تدارک  آنچ نہ آنے دیں گے وطن پر کبھی شہادت کی عظمت "زورآور سپاہی"  نغمہ خاندانی منصوبہ بندی  نگلیریا فائولیری (دماغ کھانے والا امیبا) سپہ گری پیشہ نہیں عبادت ہے افواجِ پاکستان کی محبت میں سرشار مجسمہ ساز بانگِ درا  __  مشاہیرِ ادب کی نظر میں  چُنج آپریشن۔ٹیٹوال سیکٹر جیمز ویب ٹیلی سکوپ اور کائنات کا آغاز سرمایۂ وطن راستے کا سراغ آزاد کشمیر کے شہدا اور غازیوں کو سلام  وزیراعظم  پاکستان لیاقت علی خان کا دورۂ کشمیر1949-  ترک لینڈ فورسز کے کمانڈرکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کاپاکستان نیوی وار کالج لاہور میں 53ویں پی این سٹاف کورس کے شرکا ء سے خطاب  کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ،جنرل سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف کی ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی وفات پر اظہار تعزیت پاکستان ہاکی ٹیم کی جنرل ہیڈ کوارٹرز راولپنڈی میں چیف آف آرمی سٹاف سے ملاقات باکسنگ لیجنڈ عامر خان اور مارشل آرٹس چیمپیئن شاہ زیب رند کی جنرل ہیڈ کوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات  جنرل مائیکل ایرک کوریلا، کمانڈر یونائیٹڈ سٹیٹس(یو ایس)سینٹ کام کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے ملاقات  ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کے سربراہ جنرل اینگس جے کیمبل کی جنرل ہیڈکوارٹرز میں آرمی چیف سے ملاقات پاک فضائیہ کے سربراہ کا دورۂ عراق،اعلیٰ سطحی وفود سے ملاقات نیوی سیل کورس پاسنگ آئوٹ پریڈ پاکستان نیوی روشن جہانگیر خان سکواش کمپلیکس کے تربیت یافتہ کھلاڑی حذیفہ شاہد کی عالمی سطح پر کامیابی پی این فری میڈیکل  کیمپ کا انعقاد ڈائریکٹر جنرل ایچ آر ڈی کا دورۂ ملٹری کالج سوئی بلوچستان کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کور کا النور اسپیشل چلڈرن سکول اوکاڑہ کا دورہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، لیہ کیمپس کے طلباء اور فیکلٹی کا ملتان گیریژن کا دورہ منگلا گریژن میں "ایک دن پاک فوج کے ساتھ" کا انعقاد یوتھ ایکسچینج پروگرام کے تحت نیپالی کیڈٹس کا ملٹری کالج مری کا دورہ تقریبِ تقسیمِ اعزازات شہدائے وطن کی یاد میں الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں شاندار تقریب کمانڈر سدرن کمانڈ اورملتان کورکا خیر پور ٹامیوالی  کا دورہ مستحکم اور باوقار پاکستان سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور قربانیوں کا سلسلہ سیاچن دہشت گردی کے سد ِباب کے لئے فورسزکا کردار سنو شہیدو افغان مہاجرین کی وطن واپسی، ایران بھی پاکستان کے نقش قدم پر  مقبوضہ کشمیر … شہادتوں کی لازوال داستان  معدنیات اور کان کنی کے شعبوں میں چینی فرم کی سرمایہ کاری مودی کو مختلف محاذوں پر ناکامی کا سامنا سوشل میڈیا کے مثبت اور درست استعمال کی اہمیت مدینے کی گلیوں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ماحولیاتی تغیر پاکستان کادفاعی بجٹ اورمفروضے عزم افواج پاکستان پاک بھارت دفاعی بجٹ ۲۵ - ۲۰۲۴ کا موازنہ  ریاستی سطح پر معاشی چیلنجز اور معاشی ترقی کی امنگ فوجی پاکستان کا آبی ذخائر کا تحفظ آبادی کا عالمی دن اور ہماری ذمہ داریاں بُجھ تو جاؤں گا مگر صبح کر جاؤں گا  شہید جاتے ہیں جنت کو ،گھر نہیں آتے ہم تجھ پہ لٹائیں تن من دھن بانگِ درا کا مہکتا ہوا نعتیہ رنگ  مکاتیب اقبال ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ذرامظفر آباد تک ہم فوجی تھے ہیں اور رہیں گے راولپنڈی میں پاکستان آرمی میوزیم کا قیام۔1961 چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا ترکیہ کا سرکاری دورہ چیف آف ڈیفنس فورسز آسٹریلیا کی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی سے ملاقات چیف آف آرمی سٹاف کا عیدالاضحی پردورۂ لائن آف کنٹرول  چیف آف آرمی سٹاف کی ضلع خیبر میں شہید جوانوں کی نماز جنازہ میں شرکت ایئر چیف کا کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آبادکے ساہیوال کیمپس کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ گوادر کے اساتذہ اورطلبہ کاپی این ایس شاہجہاں کا مطالعاتی دورہ سیلرز پاسنگ آئوٹ پریڈ کمانڈر پشاور کور کی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کرنے والے انسداد دہشتگردی سکواڈ کے جوانوں سے ملاقات کما نڈر پشاور کور کا شمالی و جنوبی وزیرستان کے اضلاع اور چترال کادورہ کمانڈر سدرن کمانڈ اور ملتان کور کا واٹر مین شپ ٹریننگ کا دورہ کیڈٹ کالج اوکاڑہ کی فیکلٹی اور طلباء کا اوکاڑہ گیریژن کا دورہ انٹر سروسز باکسنگ چیمپیئن شپ 2024 پاک میرینز پاسنگ آؤٹ پریڈ 
Advertisements

ہلال اردو

معاشی استحکام اور ہمہ وقت بدلتے معروضی حالات

مارچ 2021

معیشت گزشتہ تین ساڑھے تین سال سے یکے بعد دیگرے مختلف چیلنجز سے نبرد آزما رہی ہے۔الیکشن سال 2018 سے ایک ڈیڑھ سال قبل سے حسبِ روایت معاشی ڈسپلن نظر انداز ہوا، مشکل فیصلے ملتوی ہوتے رہے اور پاپولر معاشی اقدامات کا جادو سر چڑھ کر بولا۔ جس کا لازمی نتیجہ وہی نکلا جو پچھلے دونوں الیکشن سالوں میں نکلا۔ بجٹ خسارہ ناقابل برداشت، زرِ مبادلہ کے ذخائر دگرگوں، تجارتی خسارہ بھاری بھر کم ، محاصل وصولی کے ٹارگیٹس ادھورے اور معیشت کی سانسیں بے ترتیب۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ پاکستان کو2008  اور 2013 کے انتخابات کے فوری بعد آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑا۔ یہی مجبوری2018 کے الیکشن سال کے بعد بھی درپیش آئی۔ مشکل فیصلے کرنے پڑے جن کی وجہ سے وقتی طور پر معیشت کو مزید چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا مگر دھیرے دھیرے معاملات میں ٹھہرائو بلکہ بہتری کے آثار نمودار ہونے لگے ۔



اس دوران دنیا کی معیشت اور معاشرت کو ایک غیر متوقع بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ 2019 کے اواخر میں چین کے شہر ووہان سے شروع ہونے والے کووڈ19 وائرس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری دنیا کی معیشت کو جکڑ لیا۔ شروع ہونے کے تین ماہ کے اندر اندر پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آ گئی۔ تیر بہدف حل یہی سامنے آیا کہ محدود رہیں، محفوظ رہیں۔ محلے اور علاقوں سے شروع ہونے والے لاک ڈائون پورے پورے شہروں اور ممالک تک ناگزیر ہو گئے۔ 
عالمی معیشت اور گلوبل ٹریڈ کو شدید دھچکا لگا۔ معاشی سرگرمیوں میں تعطل سے بیشتر ممالک کی جی ڈی پی کی شرح نمو منفی ہو گئی۔ بے روزگاری اور پیداواری سرگرمیاں بار بار معطل ، مسدود یا محدود کرنی پڑیں۔ کروڑوں لوگ اس وائرس کی زد میں آئے اور لاکھوں جان سے گئے۔ گلوبل اکانومی کو پہلی بار  شدید جھٹکا لگا۔ بیشتر ممالک نے اس وبائی آفت کے معاشی اثرات کی تلافی کے لئے وہ اقتصادی اقدامات اٹھائے جو کلاسیکی اکنامک تھیوریوں کے بالکل اُلٹ تھے۔
اب ویکسین کی دستیابی، حفاطتی اقدمات اور عمومی طور پر عوام کے مسلسل مدافعتی طرز عمل سے اس کے پھیلائو میں کمی آئی ہے۔ توقع ہے کہ شاید رواں سال کے آخر تک معاشی اور سماجی سرگرمیاں اپنے معمول پر لوٹ آئیں۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو لیکن اس دوران گلوبل ٹریڈ، گلوبلائزیشن اور عالمی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ پاکستان کی معیشت کو بھی لامحالہ ان عالمی اثرات کا سامنا کرنا پڑا۔ 
پاکستانی معیشت کو  سال 2018اور 2019 کے دوران جن چیلنجز کا سامنا تھا، کووڈ19 کے عالمی اور مقامی اثرات نے ان چیلنجز کے دورانیے اور اثرات کو مزید وسعت دے دی۔ معیشت کی بحالی اور استحکام کے کسی بھی جائزے کے لئے یہ پس منظرسامنے رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ اس تناظر میں معیشت کی بہتری کے لئے کئے گئے اقدامات کا اجمالی جائزہ ایک بااعتماد معاشی گورننس کی نشان دہی کرتا ہے۔ 
الیکشن کے بعد نئی حکومت کو  فوری طور پر جن چیلنجز کا سامنا تھا ان میں نمایاں ترین مسائل کچھ یوں تھے۔ شرح مبادلہ کو مصنوعی طور پر اوور ویلیوڈ  (Over valued)  رکھا گیا جس کے نتیجے میں امپورٹس میں اندھا دھند اضافہ ہوا مگر دوسری طرف برآمدات کو نقصان ہوا۔ اس پالیسی کے نتیجے میں برآمدات میں جمود طاری رہا، ملکی برآمدات کا حجم بائیس سے چوبیس ارب ڈالرز کے لگ بھگ رہا مگر درآمدات کا حجم 34 ارب ڈالرز سالانہ سے بڑھ کر  60 ارب ڈالرز تک جا پہنچا۔ پہلی بار یہ خوفناک صورت پیدا ہوئی کہ تجارتی خسارہ کل برآمدات کا تقریبا دو گنا ہو گیا۔ اس صورت حال میںسٹیٹ بنک نے شرح مبادلہ کو مارکیٹ سے ہم آہنگ کرنے کا اقدام اٹھایا۔ قلیل مدت میں اس اقدام سے مہنگائی کی تکلیف سب کو اٹھانا پڑی مگر دو سال کے اندر اندر درآمدات میں خاطر خواہ کمی ہوئی اور برآمدات میں اضافہ ہوا۔ ان اقدامات سے تجارتی خسارے کو نکیل ڈالنے میں مدد ملی۔ 
 مناسب شرح مبادلہ کی وجہ سے بیرون ملک ترسیلاتِ زر میں مسلسل اضافہ دیکھا گیا ہے۔ گزشتہ چھ ماہ میں ترسیلات ِزر کا ماہانہ حجم دو ارب ڈالرز سے زائد رہا ہے۔ اس سے ملکی معیشت اور زرِ مبادلہ کے ذخائر میں استحکام پیدا ہوا۔ آئی ایم ایف پروگرام ، معاشی ڈسپلن ، معیشت میں مثبت شرح نمو اور تجارتی خسارے میں کمی کے سبب زرِ مبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور استحکام پیدا ہوا جو معیشت اور شرح مبادلہ کے لئے خوش آئند ہے۔ روپے اور ڈالر کی شرح مبادلہ گزشتہ سال 170  سے کم ہو تے ہوتے اس وقت 160  سے بھی قدرے کم ہے۔ شرح مبادلہ اور زرِ مبادلہ کے ذخائر میں استحکام سے انٹرنیشنل ٹریڈ اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا ہے۔  بیرون ملک پاکستانیوں کے لئے حال ہی میں شروع کئے گئے ڈیجیٹل روشن اکائونٹس کا رسپانس بھی حوصلہ افزاء رہا ہے۔ وسط فروری تک ان اکائونٹس میں پانچ سو ملین ڈالرز جمع کروائے گئے۔ 
برآمدی شعبے کو جن چند مشکلات کا ہمیشہ سامنا رہا ہے ان میں ٹیکس ریفنڈز کی وقت پر واپسی نہ ہونا ایک اہم مسئلہ رہا ہے۔ حکومت نے مشکل مالی حالات کے باوجوداربوںروپے کے سال ہا سال سے پھنسے ہوئے ٹیکس ریفنڈز واپس کرکے برآمدی شعبے کے ورکنگ کیپیٹل کو سپورٹ کیا، بلکہ ریفنڈز کے نظام کو بہت حد تک خودکار کرتے ہوئے ان ٹیکس ریفنڈز کی بر وقت ادائیگی کا مستقل بندوبست کرنے کی عمدہ کوشش کی۔ 
برآمدی شعبے کی مسابقت بحال کرنے کے لئے دوسرا اہم اقدام بجلی اور گیس کے نرخوں میں کمی کا ہے۔ فی یونٹ بجلی پہلے سات سینٹ مگر حال ہی میں  9US Cents فی یونٹ کے حساب سے فراہم کرنے سے صنعتی سرگرمیاں اپنے معمول کی طرف لوٹ رہی ہیں۔ گیس کے نرخوں میں اس پالیسی کے مطابق 6.50 ڈالرز فی ایم ایم بی ٹی یو تک کمی لائی گئی۔ توانائی کے ٹیرف میں واضح کمی اور مستقبل قریب میں بھی ان قیمتوں کو قائم رکھنے سے پیداواری لاگت میں کمی اور صنعتی سرگرمیوں میں استحکام آیا ہے۔ جنوری میں لارج سکیل پیدواری شعبے میں سات فی صد سے بھی زائد اضافہ ہوا۔ 
مارک اپ کی شرح معاشی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری کے لئے نہایت اہم ہے۔ 2018-19 کے دوران روپے کی شرح مبادلہ کی ایڈجسٹمنٹ اور افراطِ زر یعنی مہنگائی  کی وجہ سے مارک اپ کی شرح زیادہ تھی، تیرہ فی صد کے لگ بھگ۔ کووڈ19 کے دوران صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کو شدید جھٹکا لگا ۔ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان نے بھی روایتی Tight monetary policy کے بجائے اقتصادی سرگرمیوں کی بحالی کے لئے سہولت دینے کی کوشش میں مارک اپ کی شرح میں تقریبا نصف کمی کر دی۔ اس سے صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں میں خاطر خواہ بہتری دیکھنے میں آئی۔ اس اقدام سے مہنگائی کنٹرول کرنے میں بھی مدد ملی، گو  اشیائے خورونوش میں مہنگائی بڑھی ہے مگر مجموعی طور پر افراطِ زر پر کنٹرول رہا۔ 


معیشت کی بہتری کے لئے اٹھائے ان اقدامات سے شرح نمو میں بہتری کے امکانات ہیں مگر معیشت کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کے لئے ابھی بہت سے مزید مشکل فیصلے کرنے اور پے در پے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ملکی معیشت کو کم ویلیو چین سے ہائی ویلیو چین کی طرف لے جانے کے لئے بہت سے پالیسی اقدامات اور انتظامی فیصلوں کی ضرورت ہے۔


کووڈ 19 کے اچانک وارد ہونے اور تباہ کن پھیلائو سے دنیا بھرمیں صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں میں تعطل پیدا ہونے لگا۔ فیکٹریاں ، بازار اور ٹرانسپورٹ بند ہونے سے معیشتیں بدحال ہونے لگیں اور بے روزگاری بے قابو ہونے لگی۔  حکومت اورسٹیٹ بنک نے اس موقع پر مثالی اور تیزی سے اقدامات اٹھائے جس سے صنعتی اور تجارتی شعبوں کو مالیاتی سہارا ملا اور بے روزگاری کی ممکنہ شدت میں واضح کمی ممکن ہو سکی۔ مارک اپ کی شرح میں کمی کے ساتھ ساتھ مرکزی بنک نے بڑے اور درمیانے صنعتی اداروں کو انتہائی کم مارک اپ شرح پر ملازمین کی تنخواہوں کے لئے فوری قرض سکیم لانچ کی۔ اس اقدام سے بے روزگاری کے ممکنہ سیلاب کے آگے بند باندھنے میں مدد ملی۔ مزید برآں سٹیٹ بنک نے صنعتی اور تجارتی اداروں کے واجب الادا قرضوں کو مؤخر کرکے ان اداروں کو مالی سہارا دیا۔ یوں صنعتی اور تجارتی ادارے شدید عالمی کساد بازاری کے باوجود اپنی پیداواری اور تجارتی سرگرمیاں جاری رکھ سکے اور اپنی لیبر کے روزگار کو بھی بہت حد تک بچانے میں کامیاب ہوئے۔ حکومت کی طرف سے احساس پروگرام کے تحت سیکڑوں ارب روپے کی براہ راست مالی امداد اور خصوصی پیکیج بھی رو بہ عمل لایا گیا۔ 
 دنیا میں کووڈ19 کے مقابلے اور اس سے بچائو کے لئے مالیاتی اقدامات کے ساتھ ساتھ لاک ڈائون کی مختلف پالیسیاں اپنائی گئیں، کہیں مکمل لاک ڈائون کہیں جزوی لاک ڈائون، کہیں سمارٹ لاک ڈائون ۔ اپنے اپنے حالات کے مطابق ملکوں نے اپنی پالیسیاں وضع کیں۔ پاکستان نے ابتداء میں مختلف شہروں اور علاقوں میں مکمل لاک ڈائون مگر بعد ازاں سمارٹ لاک ڈائون کی پالیسی کو اپنایا۔ معیشت کے انتہائی اہم شعبوں اور برآمدی شعبوں کو جاری و ساری رکھا۔ دھیرے دھیرے دیگر شعبوں کو بھی کھول دیا گیا۔ اللہ تعالیٰ کا خاص کرم رہا کہ پاکستان میں کووڈ 19 کے پھیلائو میں وہ خوفناکی نہیں دیکھی گئی جس نے دیگر کئی ممالک میں کروڑوں لوگوں کو متاثر کیا۔ سمارٹ لاک ڈائون کی پالیسی سے ملکی معیشت میں دو تین ماہ کے سوا سکڑائو نہ ہوا۔ رواں مالی سال میں ملکی معیشت کی شرح نمو 1.5% متوقع ہے جبکہ دنیا کی بہت سی معیشتیں منفی شرح نمو کا شکار رہیں بلکہ ابھی تک مثبت شرح نمو کے لئے ہاتھ پائوں مار رہی ہیں۔
پاکستانی معیشت کو عالمی سطح پر ایک اورچیلنج کا بھی سامنا ہے یعنی FATF  پاکستان نے گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے بہت سے اقدامات اٹھائے جس کا اعتراف FATF کے جائزہ اجلاسوں میں بھی کیا گیا۔ گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے درکار قانونی اور انتظامی اقدامات میں سے بیشتر پر عمل درآمد ہو چکا ہے۔ امید ہے کہ جلد ہی پاکستان گرے لسٹ سے نکل جائے گا۔
کووڈ 19 کی وجہ سے جو غیر معمولی معاشی ، مالیاتی اور تجارتی اقدامات اٹھائے گئے، آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کے مطابق ان اقدامات کی گنجائش نہ تھی۔ غیر معمولی اقتصادی حالات کے پیشِ نظر آئی ایم ایف نے دنیا بھر کے ممالک کو قرضوں اور سود کی واپسی مؤخر کی ، پاکستان کو بھی یہ سہولت میسر ہوئی جس سے حکومت اور سٹیٹ بنک وہ اقدامات اٹھا سکا جن کی مدد سے معیشت کا پہیہ رکا نہیں بلکہ جلد ہی بحال ہو گیا۔ اب جب کہ ملکی معیشت بہت حد تک کووڈ 19 سے کامیابی سے نبرد آزما ہو چکی ہے، حکومت نے آئی ایم ایف کو  معطل شدہ پروگرام دوبارہ بحال کرنے پر آمادہ کر لیا ہے۔ اس پروگرام کی بحالی سے عالمی سطح پر ملکی معیشت کی ریٹنگ مستحکم  ہوگی اور سرمایہ کاری کے لئے سہولت کا باعث بھی ہو گی۔ 
معیشت کی بہتری کے لئے اٹھائے ان اقدامات سے شرح نمو میں بہتری کے امکانات ہیں مگر معیشت کو اپنے پائوں پر کھڑا کرنے کے لئے ابھی بہت سے مزید مشکل فیصلے کرنے اور پے در پے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ملکی معیشت کو کم ویلیو چین سے ہائی ویلیو چین کی طرف لے جانے کے لئے بہت سے پالیسی اقدامات اور انتظامی فیصلوں کی ضرورت ہے۔ بجٹ خسارے سے چھٹکارے کے لئے معیشت کو دستاویزی نظم میں لانے ، ٹیکس نیٹ بڑھانے اور ٹیکس وصولیوں کو بڑھانے کے لئے انقلابی قدامات کی ضرورت ہے۔ برآمدات میں خاطر خواہ اور مسلسل اضافے، درآمدات پر مناسب کنٹرول، تجارتی خسارے پر کنٹرول اور حقیقت پسندانہ شرح مبادلہ سے ہی زرِ مبادلہ کے مناسب ذخائر ممکن ہیں۔ افراطِ زر کو سنگل ہندسے میں رکھنے اور مارک اپ کی شرح کو مناسب اور مسابقتی لیول پر رکھنے سے معیشت میں طویل المدت استحکام ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
 ایجنڈا بھاری بھر کم اور طویل ضرور ہے مگر قابل عمل اور عین ممکن ہے۔ ملک کی سلامتی معیشت کے استحکام ہی میں مضمر ہے، اس لئے ہر ممکن کوشش اور توانائی بروئے کار لانے کی جس قدر ضرورت اب ہے ، شاید ماضی میں کبھی نہ تھی۔ ||


 مضمون نگار ایک قومی اخبارمیں سیاسی ' سماجی اور معاشی موضوعات پر کالم لکھتے ہیں۔
[email protected]