قومی و بین الاقوامی ایشوز

قبائلی علاقہ جات اور صوبہ بلوچستان میں تعمیروترقی کی منازل

دہشت گردی کے عفریت کے قلع قمع کے لئے افواج پاکستان نے جہاں دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا، توساتھ ہی محب وطن قبائل کی بحالی اور آبادکاری کے لئے تعمیراتی اور ترقیاتی منصوبوں کا اجراء بھی کیا۔ ان میں سماجی فلاح و بہبود کے لئے تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور سہولیات کی فراہمی کے اقدامات کلیدی حیثیت کے حامل ہیں۔ ان میں سے بیشتر کی تکمیل ہو چکی ہے جبکہ چند منصوبے ایسے ہیں جو تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔

چونکہ شرپسند عناصر ان علاقوں کی ترقی کے خلاف تھے لہٰذا شروع شروع میں جاری ہونے والے ہر منصوبے کی مزاحمت کی گئی لیکن افواجِ پاکستان نے پیشہ ورانہ مہارت اور پختہ عزم کے ساتھ ان رکاوٹوں کا بھرپور مقابلہ کیا اور ترقیاتی اقدامات جاری رکھے۔ قبائل کے ساتھ یکجہتی اور ملی احساس ہی وہ بنیادی وجہ ہے کہ پاک فوج کامیاب و کامران ہوئی جبکہ چند دنوں میں عراق جنگ 2003کے مقاصد کے حصول اور افغانستان سے دہشت گردی کے خاتمے کا دعویدار امریکہ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود اب تک کامیاب نہیں ہو سکا۔

واضح رہے کہ قبائلی علاقہ جات کی50لاکھ آبادی کی سماجی و معاشی بہبود کے لئے تعلیم، صحت، پینے کا صاف پانی، سڑکوں کی تعمیر، مسجدوں اور ڈیموں کی تعمیر جیسے لگ بھگ 768چھوٹے بڑے منصوبوں پر محتاط اندازے کے مطابق تقریباً 1.7بلین امریکی ڈالر سے زائد رقم خرچ ہوچکی ہے۔

           رسل و رسائل کی بہتری کے لئے پشاور۔ طور خم روڈ، ڈیرہ اسماعیل خان۔ وانا۔ انگور اڈہ روڈ، میران شاہ۔ غلام خان روڈ، مکین۔ رزمک۔ میران شاہ روڈ اوران جیسی مجموعی طور پر کل 7636 کلومیٹر طویل متعدد شاہراہوں اور چھوٹی بڑی سڑکوں کی مرمت اور کشادگی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے سفر کے دورانیہ میں اوسطاً ایک تہائی تک کمی واقع ہوئی ہے۔

          تعلیم کے فروغ کے لئے پرائمری سے لے کر انٹرمیڈیٹ کی سطح تک 5516 غیرفعال علمی درسگاہوں کو فعال بنایا گیا اوربیشتر کی تعمیرِنو کی گئی۔ ان اداروں میں 16,140 نئے اساتذہ تعینات کئے گئے جس سے تعلیمی معیار میں بہتری آئی ا ور سکولوں میں داخلوں کے رحجان میں 300 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ ڈگری کالج کھجوری اور کیڈٹ کالج وانا جیسے بہترین کالجز قائم کئے گئے جو پاک فوج میں شمولیت کے لئے معیاری پود مہیا کر رہے ہیں۔ پاکستان ملٹری اکیڈمی کی حالیہ پاسنگ آئوٹ پریڈ میں کمیشن حاصل کرنے والے فاٹا کے 31آفیسرز اسی کاوش کا ثمر ہیں۔

         طبی سہولیات کی مد میں 3013 چھوٹے بڑے ہسپتال اور ہیلتھ یونٹ قائم کئے گئے ہیں ان میں میران شاہ ہسپتال قابلِ ذکر ہے۔ ان طبی مراکز کی وجہ سے لوگوں کو 5384 نوکریاں میسر آئی ہیں اور تقریباً 13لاکھ لوگ علاج معالجے کی سہولیات سے مستفید ہو چکے ہیں۔

          پانی کی کمیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے پینے کے صاف پانی کی 736 سکیمیں لگائی گئی ہیں۔گومل زام اور کندی وام جیسے ڈیم تعمیر کئے گئے جن سے کثیر آبادی بجلی حاصل کر رہی ہے اور زراعت میں استفادہ کیا جا رہا ہے۔

            بچوں کے لئے پارک بنائے گئے ہیں اور نوجوانوں میں کھیلوں کے فروغ کے لئے 17نئے اسٹیڈیم تعمیر کئے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اوربرطانوی میڈیا کی کرکٹ ٹیموں نے میران شاہ میں میچ کھیلا اور نوجوانوں میں سے ٹینلنٹ کی تلاش کے لئے کرکٹ کے ٹرائل کا انعقاد کیا گیا۔

           ہنر اور پیشہ ورانہ مہارت کی ترویج کے لئے وزیرستان انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن اور اس جیسے کئی دیگر ادارے قائم کئے گئے جہاں سے 5850مرد اور عورتیں تربیت حاصل کر چکے ہیں۔

            زراعت اور صنعت و حرفت کے لئے چھوٹے پیمانے کی کپاس کی صنعتیں قائم کی گئیں اور اچھی گلہ بانی سے متعلق  لوگوں کو آگاہ کیا گیا۔

           قبائل کی مذہبی اُنسیت اور لگائو کے پیش نظر 50سے زائد مساجد تعمیر کی گئیں۔

          تجارت کے فروغ کے لئے میر علی مارکیٹ جیسی 7بڑی مارکیٹیں قائم کی گئی ہیں جس کی حالیہ مثال چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کا مکین کے علاقے کی مارکیٹ کا افتتاح ہے۔ ان اقدامات سے کاروباری سرگرمیوں کو خاطر خواہ فروغ ملا ہے۔

           ان تمام اقدامات میں نوجوانوں کو کسی طور بھی نظر انداز نہیں کیا گیا ہے۔ 14000نوجوانوں کو مختلف روزگار دیئے گئے، 5000 کو بیرونِ ملک تعلیم اور کام کے لئے ویزے جاری کرائے گئے اور آرمی پبلک سکولوں میں 1500نشستیں مختص کی گئی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی 3080مردوں اور عورتوں کو ڈی ریڈی کلائز (Deradicalise) کر کے دوبارہ پرامن زندگی کی جانب لوٹایا گیا۔

درج بالا اقدامات کی وجہ سے قبائلی علاقہ جات میں معمولات زندگی میں بہتری کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ استحکام کی منازل طے کرتے ہوئے آج سوات میں امن و امان کی بحالی کے بعد اب اسے سول انتظامیہ کے حوالے کر دیا گیا ہے اور پاک فوج کی صرف چیدہ چیدہ پوسٹیں رہ گئی ہیں۔ سوات اور قبائلی علاقہ جات کے ساتھ ساتھ صوبہ بلوچستان میں بھی متعدد ترقیاتی منصوبے شروع کئے گئے۔ وہاں نہ صرف روڈ انفراسٹریکچر بہتر بنایا گیا بلکہ ملٹری کالج سوئی اور کوئٹہ انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز جیسے ادارے بھی قائم کئے گئے جس سے صوبہ بلوچستان کے ہر خاص و عام اور خصوصاً نوجوان فیض یاب ہو رہے ہیں۔

بدقسمتی سے ملک دشمن عناصر کو افواج پاکستان کی یہ کامیابیاں کبھی نہیں بھاتیں اس لئے قومیت کو بنیاد بنا کرنام نہاد احتجاج شروع کر دیے گئے ۔ دشمن پر یہ واضح رہے کہ افواج پاکستان کی قبائلی علاقہ جات، سوات اوربلوچستان میں کی گئی شب روز کی محنت کو اتنی آسانی سے سبو تاژ نہیں کیا جا سکتا اور غیور قبائل کو افواج پاکستان کے خلاف ورغلانہ اتنا آسان عمل نہیں رہا۔ مزید یہ کہ پاک فوج سول پولیٹیکل انتظامیہ کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے اوردہشت گردوں کو کسی طور پر بھی سوات اور اس جیسے دیگر علاقوں میں دوبارہ نہیں لوٹنے دے گی۔

یہ تحریر 453مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP