متفرقات

2021 :وہ لوگ بھی بچھڑے جو بچھڑنے کے نہیں تھے۔۔۔!

دکھ یہ ہے میرا یوسف و یعقوب کے خالق
وہ لوگ بھی بچھڑے جو بچھڑنے کے نہیں تھے
2021میں ہم سے ایسے ایسے انمول ہیرے جدا ہوگئے کہ ابھی ایک کا غم کم نہیں ہوتا تھا کہ دوسرے کی اطلاع آجاتی اور دل سے آہ نکلتی کہ 
تم کون سے ایسے تھے کھرے داد و ستد کہ
کرتا ملک الموت تقاضا کوئی دن اور
لیکن حکمِ ربی کے آگے سوائے سر جھکانے کے اور کوئی چارہ بھی نہیں کیونکہ یہ تو طے ہے کہ ہر نفس نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔
ہلال میں میرے مضامین زیادہ تر افواجِ پاکستان کے دلیر غازیوں اور شجیع شہیدوں کے کارناموں سے متعلق چھپتے ہیں لیکن اس بار قارئین کے ساتھ اُن جانے والوں کا دکھ شیئر کرنے کا جی چاہتا ہے کہ جنہوں نے اپنی زندگیاں اس معاشرے کے نام کیں، جن سے کبھی کبھی ملاقات ہوتی رہی۔ سال کے آغاز میں ہی 11 جنوری کو خبر ملتی ہے کہ نصیر ترابی انتقال کر گئے۔ جی ہاں وہی نصیر ترابی جن کی لکھی ہوئی غزل زبانِ زدِ عام ہے۔
وہ ہمسر تھا مگر اس سے ہمنوائی نہ تھی
مشہور رائیٹر اور فلمسٹار ریا ض شاہد کی زوجہ شان شاہد کی والدہ اور ماضی کی مشہور اداکارہ نیلو بیگم جنہوں جنہوںنےنے فلم 'زرقا' میں فلسطینی لڑکی کا کردار ادا کیا تھا جس کا مشہور ترین گیت :  ''  تو کہ ناواقف آداب غلامی ہے ابھی
 رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے''
نے اسے ملک گیر شہرت بخشی تھی۔ نیلو بیگم کو اور ساتھ ہی فلم سات لاکھ کا گانا ''آئے موسم رنگیلے سہانے جیا نہیں مانے'' اور ایسی کئی مشہور ترین فلموں کی ہیروئن 30 جنوری 2021 کو اپنے خالقِ حقیقی سے جاملیں۔
یکم مارچ2021 کو ماضی کے نامور اور خوبرو اداکار لالی وڈ کے رانجھا فلم سٹار اعجاز درانی اس دنیائے فانی سے کوچ کر گئے۔
25 مارچ2021 کو اطلاع ملی کہ پی ٹی وی کی پہلی انائونسرکنول نصیر مختصر علالت کے باعث انتقال کرگئیں۔ پچپن سے ان کا نام سنتے آئے تھے۔ ان کو دیکھتے آئے تھے۔ دو تین بار ملاقات بھی ہوئی۔ انتہائی نفیس نپے تُلے  لہجے میں بات کرتی ہوئی مسکراتی ہوئی شائستہ سی خاتون کنول نصیر۔
ابھی کنول کے جانے کا دُکھ منانے کا موقع ہی نہ ملا کہ 26 مارچ2021 کی صبح ایسی خبر آگئی جس نے حقیقتاً  پیروں تلے سے زمین نکال دی۔ میری اُستاد میری ماں جیسی دوست جو میری غلطیوں پر سرزنش کرتی ، کبھی میری احمقانہ حرکتوں پر مسکرا دیتی۔ 26 مارچ کو صبح ساڑھے چار بجے  حسینہ معین کے گھر سے فون آیا کہ حسینہ آپا ہمیشہ کے لئے ہم سے جدا ہوگئی ہیں۔ میرا اور حسینہ آپا کا ساتھ 2004 سے تھا۔ جب میں میڈیا سائیکالوجی کاتھیسس کر رہی تھی تو میریMentoring حسینہ آپا نے کی تھی۔ استاد شاگرد کا رشتہ کب دوستی میں بدلا پتہ ہی نہ چلا کہ جب تک روز حسینہ آپا  سے ایک گھنٹہ فون پر بات نہ ہوجاتی چین ہی نہیں آتا تھا۔ حسینہ آپا سے بہت کچھ سیکھا، ان کے ساتھ مختلف تقاریب میں جانا، ان کے پراجیکٹس میں ان کی معاونت کرنا، ڈرامہ اور کردار نگاری کی ورکشاپس ان کے ساتھ مختلف اداروں میں منعقدکرنا۔
حسینہ معین ایک نام نہیں ایک عہدتھیں۔ اپنے قلم سے انہوں نے ببانگ دہل منوایا کہ '' اے عورت تیرا نام'' شہزوری، حسینہ معین کا نام ہی کسی بھی ڈرامے کی کامیابی کی ضمانت ہوا کرتا تھا۔ آج کی نسل سوچ بھی نہیں سکتی کہ جب حسینہ آپا کے ڈرامہ سیریل آن ایئر ہوتے تو کیسے سڑکیں ویران ہو جاتیں تھی۔ شہزوری مرزا عظیم بیگ چغتائی کی کتاب تھی جس کی ڈرامائی تشکیل حسینہ آپ نے کی تھی۔ اس کے بعد کرن کہانی لکھا جو پی ٹی وی کا پہلا اوریجنل ڈرامہ تھا جس میں اداکارہ بابرہ شریف کومتعارف کروایا گیا۔ پھر زیر ،زبر،پیش، انکل عرفی، پرچھائیاں، تنہائیاں ، اَن کہی ، دھوپ کنارے اور ایسے لاتعداد سپر ہٹ سیریلز کی خالق۔
ان کو جب بریسٹ کینسر تشخیص ہوا اور انہوں نے مجھے بتایا تو میں رو پڑی۔ انہوں نے میری کاندھے پر ہاتھ رکھ کر مسکراتے ہوئے کہا '' دیکھو میں نے اپنے حصے کی خوشیاں enjoy کی ہیں نا تو اپنے حصے کے دُکھ بھی تو کھلے دل سے قبول کرنے چاہئیں۔
2 اپریل2021 میں معروف لوک فنکار شوکت علی ہم سے جدا ہوگئے۔ شوکت علی جو لوک گلوکاری کا ایک بڑا نام تھے۔ 1965 اور71 کی جنگ میں انہوں نے بہت ولولہ انگیز ترانے بھی گائے اور ساتھ ہی ان کے گائے ہوئے دوسرے گانوں نے بھی بہت دھوم مچائی ہوئی تھی۔' چھلہ، کدی تے ہنس بول وے، کیوں دُور دُور رہندے او حضور میرے کولوں، دشمن مرے تے خوشی نہ کریئے۔' ان کے لئے ان کے ہی گائے ہوئے گانے کے یہ الفاظ ہی لکھوں گی ۔
 'سانوں پتہ نئیں وچھوڑا کِنوں کہندے نے ، اَسی تے پہلی وار و چھڑے'
6 مئی کو زندگی سے بھرپور اداکارہ سنبل شاہد کرونا کی جنگ میں زندگی ہار گئیں۔ سنبل آپابہت منکسر المزاج اور بذلہ سنج خاتون تھیں لیکن ڈیڑھ سال پہلے ان کے جوان بیٹے شہزاد پیرا گلائیڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہو کر زندگی گنوا بیٹھے تھے۔ اس کے بعد سنبل آپا کی زندگی بالکل ہی بدل گئی تھی وہ جوہر وقت ہنستی مسکراتی رہتی تھیں وہ سنبل آپا کہیں کھو گئی تھیں۔ سنبل شاہد معروف اداکارہ بشریٰ انصاری کی چھوٹی بہن تھیں۔
9 مئی2021 کو ایک عہد تمام ہوا۔ ماضی کی فلموں اور ٹی وی کی مقبول اداکارہ طلعت صدیقی طویل علالت کے بعدرضائے الٰہی سے وفات پاگئیں۔ وہ معروف اداکارہ عارفہ صدیقی اور معروف رقاصہ ناہید صدیقی کی والدہ تھیں۔
14 مئی2021 کو اطلاع ملی کہ معروف ادیب، مزاح نگار اور انکل سرگم کے مشہور کردار کے خالق فاروق قیصر خالقِ حقیقی سے جاملے۔اپنے میڈیا سائیکالوجی کے کے سلسلے میں اکثر ان سے گفتگو رہتی تھی اور وہ بہترین طریقے سے کردار کی تخلیق اور فن پتلی تماشا جانتے تھے، انہیں پتا تھا کہ کیسے ایک پیغام کو پتلیوں کے ذریعے پیش کیا جاسکتا ہے۔ وہ اکثر سمجھایا کرتے تھے کلیاں اور ''پتلی تماشہ'' ہمارے بچپن کی خوبصورت یادوں میں سے ایک یاد ہے۔ آج بھی لوگ ماسی مصیبتے اور انکل سرگم کے کرداروں کے سحر سے باہر نہیں نکل سکے۔
8جون 2021 کو پاکستان کی میوزک انڈسٹری کا ایک روشن ستارہ گل ہوگیا۔ فرہاد ہمایوں ، معروف گلو کار اور موسیقار 42 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ وہ ماضی کی معروف اداکارنودی شہزاد کے بیٹے تھے۔
27 جون 2021 ماضی کی مشہور صداکارہ اور اداکارہ بیگم خورشید شاہد ہمیں ہمیشہ کے لئے چھوڑ کر چلی گئیں۔ وہ انتہائی پرعزم خاتون تھیں۔ موسیقی میں انہوں نے روشن آراء بیگم کی شاگردی اختیار کی تھی اور پھر ان کے ساتھ پرفارم بھی کرتی تھیں۔ لاہور سینٹر سے کئی مشہور ڈراموں میں یاد گارکردار کرنے والی بیگم خورشیدشاہد کا سب سے مشہور ترین ڈرامہ '' فہمیدہ کی کہانی استانی راحت کی زبانی'' آج بھی لوگوں کو یاد ہے۔ وہ جب بھی کراچی آتیں یا ہم لاہور جاتے تو ان سے لازمی ملاقات ہوتی تھی۔
بیگم خورشید شاہد مشہور اداکار سلمان شاہد کی والدہ تھیں۔
یکم جولائی 2021 کو پاکستان کی میڈیا انڈسٹری اپنی ایک بہت باصلاحیت لکھاری سے محروم ہوگئی۔ اسماء نبیل لکھاری، شاعرہ اور پروڈیو سرتھیں۔ انہوں نے انڈسٹری کے لئے تھوڑا مگر انتہائی جاندار لکھا کہ آج بھی ان کے لکھے ہوئے الفاظ کی گونج سنائی دیتی ہے۔ حساس طبیعت رکھنے والی خاتون جس نے معاشرے کے سنگین مسائل کو اپنے قلم کے ذریعے ٹی وی سکرین پر اُجاگر کیا اور دیکھنے والوں کو اس طرف توجہ دینے پر مجبور کیا۔ 
یکم جولائی 2021 کو ہی ڈرامہ سیریل ''شمع'' اور 'آخری چٹان' جیسے مقبول ڈراموں سے شہرت پانے والے ٹی وی کے انتہائی نفیس اداکار انور اقبال شدیدعلالت کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔ انور بھائی کی وفات سے ٹی وی انڈسٹری بلامبالغہ ایک بہترین انسان اور ایک لاجواب اداکار سے محروم ہوگئی۔
31 جولائی2021 کو اُردو کے مشہورشاعر نقاش کاظی انتقال کر گئے۔ مشاعروں میں ان سے اس غزل کی ہمیشہ فرمائش ہوتی تھی۔
میرا نصیب تو سوکھی زبان کا ساحل ہے۔
یہ اور بات کہ آنکھیں سمندری لائو
میں رزم گاہ یں تنہا ہوں عشق کے زد پر
قیامِ حسن میں جتنے ہیں لشکری لائو
کسی بھی تال پہ  نقاش گائو امن کے گیت
جو آگ لا نہ سکو تو پیمبری لائو
16جولائی2021کو بے مثال اداکاری کا ایک اور باب بند ہوگیا۔1990 کی دہائی کی معروف اداکارہ نائلہ جعفری جو ایک عرصے سے کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا تھیں انتقال کرگئیں۔ 
17 جولائی 2021 کو80 کی دہائی کی معروف اداکارہ سلطانہ ظفر جو اپنے مخصوص لہجے میں اور باوقار شخصیت کی وجہ سے کافی مشہور تھیں امریکہ میں انتقال کر گئیں۔ ان کے مشہور ڈراموں میں شاہین، آخری چٹان اور تنہائیاں شامل ہیں۔
ماں ماں ہوتی ہے۔ چاہے سگی ہو یا منہ بولی ہو۔ اس کے پیار کو نہ پایا جاسکتا ہے نہ بیان کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اس کے اس دُنیا سے جانے کے بعد ہو جانے والا خلا پُر کیا جاسکتا ہے۔ بس دل سے یہی کراہ نکلتی ہے۔
'مائے نی میں کنوں آکھاں ۔۔۔۔  درد وچھوڑے دا'
کیونکہ 
تو میرے پاس نہیں اور میرے پاس بھی ہے
یقین ہی نہیں آتا تیری جدائی کا
40 برس تک اپنی اداکاری سے لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کرتے رہنے والی بہترین شخصیت کی مالک دردانہ بٹ (جن کو میں اماں کہتی تھی) کرونا سے لڑتے ہوئے اپنے چاہنے والوں کو افسردہ چھوڑ کر12اگست 2021کو خا لقِ حقیقی سے جا ملیں۔  دردانہ بٹ شعبہ اداکاری کا ایک بڑا نام 'اماں' کافی عرصے تک شعبۂ تعلیم سے منسلک رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ 70 کی دہائی میں اداکاری کے میدان میں قدم رکھا۔ ان کی بے ساختہ اداکاری اور چہرے کا بھولپن لوگوں کے دلوں میں گھر کرجاتا۔
صدارتی انعام یافتہ پشتو زبان کی مشہور شاعرہ، افسانہ نگار، ڈرامہ نگار، براڈ کاسٹر اور خواتین کے حقوق کی علمبردار زیتون بانو جو کافی عرصے تک ریڈیو پاکستان پشاور اور پی ٹی وی پشاور سے وابستہ رہیں14 ستمبر2021 کو اپنے خالقِ حقیقی سے جاملیں۔
پاکستان ٹی وی اور فلم کے 70 اور80 کی دہائی کے معروف خوبرو  ادا کار سپرہٹ  ڈرامہ سیریل 'آخری چٹان' کے ہیرو''طاہر بن یوسف'' طلعت اقبال Dallasمیں2 ہفتے تک ہسپتال میں زندگی اور موت کی جنگ لڑتے لڑتے ستمبر میں اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئے۔ ان کی رحلت کی خبر شوبزانڈسٹری کے ساتھ ساتھ ان کے مداحوں کے لئے بھی بہت دکھ کا باعث تھی۔
اب شخصیت کا ذکر لکھنے لگی ہوں، بخدا دل خون کے آنسو رورہا ہے کہ ان کے لئے میں '' تھا'' کا لفظ کیسے لکھوں؟ بھائی جو بہنوں کا مان ہوتے ہیں ایسے ہی میرا بھائی میرا مان تھا، ہے اور رہے گا۔ میرا بھائی میرا مان جسے دُنیا عمر شریف کے نام سے جانتی ہے جو ایشیا کا کامیڈی کنگ کہلاتا تھا۔
رشتے دلوں کے ہوتے ہیں اور کبھی کبھار خون کے رشتوں سے کہیں زیادہ مضبوط اور اٹوٹ ۔ ایسا ہی رشتہ میرا عمر بھائی کے ساتھ تھا۔ عمر بھائی میرے سگے بھائی نہیں تھے مگر وہ سگوں سے بھی بڑھ کر تھے۔
2 اکتوبر 2021کو یہ خبر ملی کہ میرا بھائی اپنی ساری دنیاوی تکالیف یہیں چھوڑ کر اپنے رب کے حضور پیش ہوگیا ہے ۔ پورے ملک میں سوگواری کی لہر دوڑ چکی تھی۔ ہر چینل پر بریکنگ نیوز  چل رہی تھی۔ سوشل میڈیا خبروں سے بھر گیا تھا۔ سب کو ہنسانے والا آج سب کو  رُلاکر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چلاگیا ہے۔
چار دن بعد بھائی کا جسدِ خاکی جرمنی سے سبزہلالی پرچم میں لپٹا ہوا آیا۔ وہ شخص جس نے ہمیشہ پاکستان کی بات کی، جس کے ہر ڈرامے میں پاکستان کی محبت کا پیغام ہوتاتھا۔ آج پاکستان نے بھی اپنے اس بیٹے کو اسی محبت سے نوازا۔ اپنے پرچم میں لپیٹ لیا۔
عمر بھائی اہلِ بیت  اور اولیاء کرام کے بہت زیادہ عقیدت مند تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ ان کو حضرت عبداﷲ شاہ غازی کے مزار کے احاطے میں دفنایا جائے۔
ابھی عمر بھائی کا غم بالکل تازہ تھا کہ10 اکتوبر 2021 کو دل چیر دینے والی خبر ملی کہ محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان رب تعالیٰ کے حضور چلے گئے ۔یہ ذہن مائوف ہورہا تھا کہ یا اﷲ یہ کیا ہو رہا ہے، میرے ذہن میں28 مئی کا نعرئہ تکبیر اﷲ اکبر گونجنے لگا کہ جب پاکستان اﷲ کے فضل و کرم  اور ڈاکٹر عبدالقدیرخان اور اُن کی ٹیم کی شب و روزمحنت کے بعد دنیا کے نقشے پر پہلا ایٹمی ملک بن کر اُبھرا۔ یہ قوم ہمیشہ آپ کی مقروض رہے گی ۔ ڈاکٹر خان!!
سوچتی ہوں کہ دھلیں گے یہ اندھیرے کیسے 
لوگ رخصت ہوئے اور لوگ بھی کیسے کیسے
معروف کالم نگار، شاعر ، استاد ڈاکٹر اجمل نیازی  سے کون واقف نہیں۔مجھ سمیت دنیا بھر میں ان کی تحریر اور شاعری کے مداح موجود ہیں۔ تحریر اور شاعری تو اپنی جگہ، ان کی شخصیت میں جو سحر تھا وہ انسان کو جکڑ لیتا تھا۔ سُرخ سفید رنگت، سر پر پگڑی چہرے پر وقار  اور آنکھوں میں خاص قسم کا دبدبہ ۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ 2016 میں ہلال کے اپریل کے شمارے  میں معین اختر کی برسی پر میں نے ایک آرٹیکل لکھا تھا۔ ہلال کے ایڈیٹر یوسف عالمگیرین نے مجھے کہا '' ڈاکٹر اجمل نیازی آپ کے آرٹیکل کی بہت تعریف کررہے تھے۔ ان کو بہت اچھا لگا۔''  اور وہ پورادن میں ایک عجیب سی سرشاری میں رہی کہ جس قدآور شخصیت کی ایک دنیا مداح ہو، وہ آپ کی ایک چھوٹی سی کاوش کی تعریف کرے تو اس خوشی کی انتہا الفاظ میں بیان نہیں ہوسکتی۔
18 اکتوبر کو ڈاکٹر اجمل نیازی اس فانی جہان سے لافانی جہاں کے سفر پر چلے گئے۔ ڈاکٹر اجمل نیازی بے شک اب اس دنیا میں نہیں ہیں لیکن ان کی تحریریںاور ان کی شاعری ان کو ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رکھے گی کیونکہ
اِک شخص جزیرہ رازوں کااور ہم سب اس میں رہتے ہیں
اِک گھر ہے تنہا یادوں کا اور ہم سب اُس میں رہتے ہیں
15 نومبر 2021 کا دن اپنے ساتھ یہ خبر لایا کہ '' وکھری ٹائپ'' منفرد لہجے کے ٹی وی اور تھیٹر کے سینئر ادا کار سہیل اصغر انتقال کرگئے ہیں۔ ڈیڑھ برس قبل ان کی آنت کی سرجری ہوئی تھی۔ کچھ عرصہ پہلے ان کی طبیعت بگڑنا شروع ہوگئی تھی۔ فون پر ان سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ کمزوری بہت محسوس کرتا ہوں میںنے کہا کہ سر انشاء اﷲ اﷲ پاک آپ کو شفاء عطا فرمائیں گے، آپ تو ہمارے قیمتی اثاثہ ہیں اور اصغر ندیم سید کے ٹی وی سیریل '' خواہش'' کے'' رلیا'' اور چاند گرہن کے جہانیاں شاہ کو کوئی کیسے بھول سکتا ہے۔  26 دسمبر کو ملک کے ممتاز مزاحیہ شاعر سرفراز شاہد اس جہانِ فانی سے کوچ کر گئے ۔
جاتے جاتے دے جاتے ہیں
گہرے لوگ سنہرے لوگ
رب ذوالجلال سے دعا ہے کہ نیا سال ہم سب کے لئے خوشیوں کی خبریں لے کر آئے کسی کا کوئی پیارا اس سے نہ بچھڑے، کسی کی آنکھ میں کوئی آنسو نہ آئے اور 
خدا کرے کہ میری ارضِ پاک پر اُترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو ||


[email protected]
 

یہ تحریر 179مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP