ہمارے غازی وشہداء

'مجاہد' کی شہادت کا سفر

قطارمیں موجود اپنی یونٹ کے آفیسرز کا تعارف کرواتے ہوئے ونگ کمانڈر عمران دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہے تھے۔ صف کے آخر میں موجود اس چمکتی آنکھوں اور روشن مسکراہٹ والی آفیسر کے سامنے پہنچ کر عمران گویا ہوئے، سر یہ فلائیٹ لیفٹیننٹ ردا ہیں ۔
مجھے وہ چہرہ کچھ شناسا لگا۔ کیسی ہیں آپ ردا؟ میں نے پوچھا۔
الحمدللہ سر، میں خیریت سے ہوں فلائیٹ لیفٹیننٹ ردا پر وقار اور شائستہ انداز سے بولیں۔ یہ لہجہ بھی مجھے کچھ مانوس محسوس ہوا۔ 
میرے تذبذب کو جانچتے ہوئے ونگ کمانڈر عمران نے کہا سر یہ فلائیٹ لیفٹیننٹ مجاہد کی بیٹی ہیں۔
فلائیٹ لیفٹیننٹ مجاہد ؟ میں زیرِ لب بڑبڑایا اور ایک لمحے کے لئے سوچ میں پڑ گیا۔ 
اوہ اچھا سر مجاہد !! میرے ذہن میں جھماکا ہوا۔
وہ 19 ستمبر 1994 کی ایک اداس صبح تھی۔ رسالپور کی فضا میں موجود پاک فضائیہ کا وہ تربیتی T-37 طیارہ بے قابو ہو کرانتہائی تیزی سے زمین کی جانب بڑھ رہا تھا۔ جہاز اپنی بلندی کوکم کرتا ہوا قریباً 18000 فٹ پر آچکا تھا۔ فلا ئیٹ لیفٹیننٹ مجاہد اپنے تمام تر تجربے اور مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے جہاز کی ناک کو واپس فضا میں بلند کرنے کی تگ و دو میں مصروف تھے۔ تاہم ان کی تمام ترتدابیر کے باوجود جہاز نے نہ ہی اپنا رخ بدلا اور نہ زمین کی جانب بڑھنے کی اپنی رفتار کو سست کیا ۔
 فلائیٹ لیفٹیننٹ مجاہد نے اس دوران ایک نظر اپنے بائیں جانب بیٹھے انڈر ٹریننگ پائلٹ ایویشن کیڈٹ عاصم کی طرف دیکھا۔ نیلی آنکھوں والے نوعمر عاصم پراچہ کے لئے یہ ایک مکمل طور پر دہشت زدہ کر دینے والی صورتِ حال تھی۔اپنے قلیل تجربے کے باعث وہ اس ہنگامی حالت میں بذاتِ خود کچھ بھی کرنے سے قاصر تھے، اس لئے فقط اپنے انسٹرکٹر کو بغور جہاز سے نبردآزما ہوتا دیکھ رہے تھے۔ 
جہاز سرعت سے زمین کی طرف بڑھ رہا تھا۔ فلائیٹ لیفٹیننٹ مجاہد نے ایک نگاہ جہاز کی بلندی دکھانے والے آلے پر ڈالی۔ وہ اب جہاز کی اونچائی14000  ہزار فٹ سے بھی کم دکھا رہا تھا۔ انہوں نے ایک آخری سعی کے طور پر ایک مرتبہ پھر اپنی چیک لسٹ کو باآوازِ بلند دہرایا،کہ وہ کوئی اہم ایکشن بھول نہ رہے ہوں۔ اور پھر اپنی تمام تر استعداد کو استعمال کرتے ہوئے انہوں نے طیارے کو اس ناگہانی حالت سے نکالنے کی ایک اور بھرپور کوشش کی۔ تاہم ان کی یہ جد و جہد بھی ایک بے سود کاوش ثابت ہوئی۔ جہاز نے اپنے رخ کو تبدیل کرنے سے انکار کر دیا ۔
اپنے وسیع تجربے کی روشنی میں فلائیٹ لیفٹیننٹ مجاہد نے بھانپ لیا تھا کہ اب یہ تمام کوششیں ایک لاحاصل تگ و دو ہیں۔ ہر گزرتا لمحہ قیمتی تھا اور وہ فیصلے کی گھڑی تھی۔ جہاز کی بلندی اب صرف 10000 فٹ رہ گئی تھی۔ اور پھر آخرکار فلائیٹ لیفٹیننٹ مجاہد نے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے جہاز کو چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے عاصم پراچہ کو مخاطب کیا اورپرسکون انداز سے بولے، عاصم تیار ہو جا، ہمیں جہاز چھوڑنا پڑے گا۔
اس کے بعد فلائیٹ لیفٹیننٹ مجاہد نے عاصم کو متوجہ کر کے جہاز سے ایجیکشن(چھلانگ لگانے کے عمل)کی تمام مشق دہرائی۔ انہوں نے ایک گہرا سانس لیا اوراپنے جسم کو مکمل طور پر سمیٹتے ہوئے ایک نظر آسمان کی جانب ڈالی اور پھر بلند آواز میں پکارے، عاصم، ایجیکٹ !!
 مگر حیران کن طور پر عاصم کی طرف سے کوئی بھی جواب یا ردِعمل نہیں آیا۔ انہوں نے گردن گھما کر عاصم کی طرف دیکھا تو انہیں محسوس ہوا کہ عاصم اپنی نشست پر منجمد ہو چکے تھے۔ فلائیٹ لیفٹیننٹ مجاہد ایک مرتبہ پھر چلائے، 
عاصم ایجیکٹ !!میں کہہ رہا ہوں ایجیکٹ !! 
مگر ایویشن کیڈٹ عاصم پراچہ کے اعصاب نے ان نازک لمحات میں جواب دے دیا تھا۔ قطعی طور پر ایک نوآموز پائلٹ ہونے کی وجہ سے عاصم اس طرح کی حقیقی ہنگامی صورتحال کے لئے تیار نہ تھے ۔ ان کی سوچنے سمجھنے کی حس مفلوج ہوچکی تھی۔ 
 بلاشبہ ہر اڑان سے قبل انسٹرکٹر اپنے زیرِتربیت پائلٹ کو ہر طرح کے ہنگامی حالات سے نپٹنے کی مکمل مشق کرواتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اس کا شاگرد مکمل طور پر اڑان کے لئے تیار ہے۔ اسی طرح ایویشن کیڈٹ عاصم بھی پرواز سے قبل ان تمام مراحل سے گزرے تھے۔ مگر ان کے تو وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ عمومی طور پر انتہائی محفوظ سمجھے جانے والے T-37 طیارے پر آج انہیں درحقیقت ہنگامی صورتحال درپیش آسکتی ہے۔ اسی لئے شاید اپنی کم عمری کے باعث وہ صدمے کی کیفیت میں آچکے تھے۔فلائیٹ لیفٹیننٹ مجاہد اپنی تمام کوشش کے باوجودعاصم کو اس اضطراب سے نہیں نکال پا رہے تھے اور صورتحال بدستور جوں کی توں تھی۔
پاک فضائیہ کی ہمیشہ سے یہ قابلِ فخر روایت رہی ہے کہ ایسی کسی بھی ہنگامی حالت میں جب جہاز کو فضا میں چھوڑنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہو تو انسٹرکٹر کبھی بھی اپنے زیرِ تربیت پائلٹ سے پہلے جہاز سے ایجیکٹ نہیں کرتا۔ انہی روشن حکایتوں کے امین فلائیٹ لیفٹیننٹ مجاہد بھی کبھی ایسا نہیں سوچ سکتے تھے کہ وہ عاصم کو اس حالت میں طیارے میں تنہا چھوڑ کر خود اپنی جان بچالیتے۔ وہ بقیہ عمر اس بوجھ کو نہیں اٹھا سکتے تھے کہ انہوں نے اپنی ذمہ داری سمجھے جانے والے زیرِتربیت پائلٹ پر اپنی ذاتی زندگی کو ترجیح دی۔
مگر جہاز اب بہت زیادہ بلندی کھو چکا تھا اورزمین انتہائی تیزی سے قریب آرہی تھی۔ دو عدد قیمتی زندگیاں ایک نازک دھاگے کے ساتھ بندھی ہوئی تھیں۔ طیارے کا زمین سے تصادم اب یقینی تھا اور بچائو کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی۔
٭
فلائیٹ لیفٹیننٹ سید مجاہدعلی کی پیدائش یکم مئی 1965 کو راولپنڈی میں ہوئی۔ وہ چار بہن بھائیوں میں تیسرے نمبر پر تھے۔ ان کے والد سیدزاہد علی پاکستان آرڈیننس فیکٹری واہ سے منسلک تھے جن کی مجموعی شہرت ایک انتہائی ایماندار اور محنتی شخص کی تھی۔ انہوں نے تمام عمر اس بات کا اہتمام کیا کہ وہ اپنی اولاد کی پرورش میں رزقِ حلال، اور تربیت میں بہترین اخلاقی اقدار کو ملحوظ رکھیں۔ 
سید مجاہد علی نے ابتدائی تعلیم سر سید کالج واہ کینٹ سے حاصل کی۔ پی اے ایف کالج سرگودھا سے ایف ایس سی کرنے کے بعد انہوں نے پی ایف اکیڈمی رسالپور سے23جون 1989 کو پاک فضائیہ میں باقاعدہ کمیشن حاصل کیا۔ پی اے ایف بیس میانوالی سے فائٹر جہازوں کی تربیت مکمل کرنے کے بعد فلائیٹ لیفٹیننٹ مجاہد پہلےF-6  اور اس کے بعد میراج طیاروں پر تعینات ہوگئے۔ بعد ازاں رسالپور کے فلائنگ انسٹرکٹرز سکول سے گریجویشن کرنے کے بعد ان کی تعیناتی بطور انسڑکٹر T-37  طیاروں پر ہوگئی۔ 
فلائیٹ لیفٹیننٹ مجاہد دسمبر 1992 میں رشتہ ازدواج سے منسلک ہوئے۔ جب24  سالہ ناہید اسلم ان کی انتہائی مصروف زندگی میں ایک خوشگوار ہوا کا جھونکا بن کر آئی تھیں۔ 16 ستمبر 1993  کو اللہ تعالیٰ نے اس جوڑے کو ردا علی کی شکل میں ایک خوبصورت تحفے سے نوازا ۔  کچھ دنوں میں ہی وہ ننھی سی گڑیا فلائیٹ لیفٹیننٹ مجاہد کی زندگی کی سب سے قیمتی متاع بن گئی۔ جب بھی وہ آفس سے گھرواپس آتے تو ردا کو اپنی گود میں اٹھا لیتے۔ ردا بھی اب ان سے بیحد مانوس ہوگئی تھی اور ان کے گھر میں داخل ہوتے قدموں کی چاپ کو بھی پہچان لیتی تھی۔ 
٭
T-37  طیارہ اب زمین سے مزید قریب آچکا تھا۔ نہ صرف فیصلے کے لئے وقت انتہائی قلیل تھا بلکہ فلائیٹ لیفٹیننٹ مجاہد کے پاس انتخاب بھی بے انتہا محدود تھے۔ ان کا ذہن نہایت تیزی سے کام کر رہا تھا۔ عاصم کو ایجیکشن کے لئے آمادہ کرنا اب ایک بے سود جستجو تھی۔
اور پھر وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ان کٹھن حالات میں انہوں نے ایک انتہائی حیران کن عزم کر لیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ عاصم کی جہاز سے ایجیکشن کا عمل وہ بذاتِ خود سرانجام دیں گے ۔ 
یہ جاننا ضروری ہے کہ تربیتی اور جنگی جیٹ جہازوں میں پائلٹ کی سیٹ ایجیکشن کا عمل ایک انتہائی پیچیدہ کارروائی ہوتی ہے۔ جیسے ہی ایجیکشن کے لئے ہینڈل کو کھینچا جاتا ہے، تو ایک لمحے میں خودکار نظام کے تحت سسٹم میں نصب شدہ کارتوس سیٹ کے نیچے موجود راکٹ کو فائر کر دیتے ہیں، جو پھر انتہائی تیزی سے سیٹ کو ایک خاص بلندی تک لے جاتے ہیں۔ یہ تمام عمل اتنی سرعت کے ساتھ ہوتا ہے کہ انسانی جسم کی استعداد اس کا احاطہ نہیں کرسکتی۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ جب ہینڈل کھینچ دیا جاتا ہے تو اس کے بعد پائلٹ کو اپنا جسم سمیٹنے کی بھی مہلت نہیں ملتی۔ اس تمام عمل کو اچھی طرح جانتے بوجھتے ہوئے بھی کسی دوسرے کی ایجیکشن کی کوشش کرنا لامحالہ خودکشی کے مترادف تھا۔
تاہم فلائیٹ لیفٹیننٹ مجاہد کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ وہ اب مزید وقت ضائع نہیں کر سکتے تھے کہ دو زندگیاں اسی ایک فیصلے سے جڑی ہوئی تھیں۔ انہوں نے بغیر کسی تذبذب کے عاصم کی سیٹ پر نصب ایجیکشن ہینڈل کی طرف اپنا بایاں ہاتھ بڑھا دیا۔ وحشت زدہ عاصم نے خالی نظروں سے ایک مرتبہ ان کے چہرے کی جانب دیکھا، جہاں صرف ایک باپ کی شفقت تھی۔ اور پھر اسی لمحے فلائیٹ لیفٹیننٹ مجاہد نے وہ ہینڈل کھینچ دیا۔ ایک کان پھاڑ دینے والا دھماکہ ہوا اور عاصم کی سیٹ طیارے کی کینوپی کو توڑتے ہوئے دور فضا میں بلند ہوگئی۔ فلائیٹ لیفٹیننٹ مجاہد نے ایجیکشن ہینڈل کو کھینچتے ہی پیچھے ہٹنے کی کوشش کی مگراب یہ ایک بے سود کوشش تھی۔ باہر کی جانب فائر ہوتی سیٹ نے ان کے بائیں بازو کو مکمل مجروح کر دیا تھا۔ تکلیف کی ایک ناقابلِ برداشت لہر ان کے بازو سے ہوتی ہوئی ان کے تمام جسم میں سراعیت کر گئی۔ اس گھڑی انہوں نے جہاز کی ٹوٹی ہوئی کینوپی سے باہر فضا میں جھانکا۔ دور آسمان میں انہیں عاصم کا نارنجی پیراشوٹ تیرتا ہوا نظر آگیا۔ اس منظر کو دیکھ کر اس شدید تکلیف میں بھی انہیں ایک تسکین کا احساس ہوا۔ 
جہاز اپنی بہت سی بلندی کھو چکا تھا۔ شدید تکلیف اور نقاہت کے عالم میں فلائیٹ لیفٹیننٹ مجاہد نے اب اپنی سیٹ کے ہینڈل کوکھینچنے کی تگ و دو شروع کردی۔ درد کی شدت بڑھتی جارہی تھی۔ انہوں کو اپنے حوصلے کو مجتمع کیا اور ہینڈل کو کھینچنے میں اپنے زخمی جسم کا تمام زور صرف کر دیا۔ اس سعی میں ان کے حلق سے ایک گھٹی ہوئی چیخ برآمد ہوئی تاہم اس کے ساتھ ہی سیٹ کا ایجیکشن سسٹم بھی ایکٹیویٹ ہوگیا۔ ایک دھماکے کے ساتھ ان کی سیٹ بھی فضا میں بلند ہوگئی۔ چند ساعتوں میں انہیں ہوش آیا تو احساس ہوا کہ وہ نہایت تیزی سے زمین کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ اپنی گردن کو اٹھا کر انہوں نے اوپر کی جانب دیکھا تو وہی ہوا جس کا اندیشہ تھا۔ جہاز کی انتہائی کم بلندی اور تکنیکی پیچیدگی کے باعث ان کا پیراشوٹ نہیں کھل سکا تھا۔ مگر ان جاں شکن لمحات میں بھی بہرحال انہیں ایک گہری طمانیت کا احساس تھا کہ انہوں نے اپنا فرض نبھا دیا تھا۔
اور پھر زمین کی جانب تیزی سے بڑھتے ان کے سفر میں کچھ انتہائی عزیز لوگوں اور گھر میں منتظر کچھ پیار کرنے والوں کے چہرے ایک لمحے کے لئے ان کی نظروں کے سامنے آگئے۔ چھوٹی ردا نے بھی کچھ پل کے لئے ان کے کندھے پر سر رکھ دیا۔ ان کے چہرے پر ایک دھیما سا تبسم ابھر آیا ۔ زمین اب بالکل سامنے آچکی تھی۔ انہوں نے اپنے جسم کو اس کے ساتھ تصادم سے قبل تھوڑا سا سمیٹ لیا اورپھر کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے ایک ابدی نیند کے لئے اپنی آنکھوں کو ہمیشہ کے لئے بند کردیا۔
شہادت کا اعزاز اب کچھ ہی فاصلے پر ان کا منتظر تھا۔ ||


مضمون نگار مختلف موضوعات پر لکھتے ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 87مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP