ہمارے غازی وشہداء

  دُہرا  فخر !

کالا خان کی میّت کو اُن کے والد اُسی دن لینے کے لیے یونٹ چلے گئے۔ میّت کو گھر لایا گیا۔ لوگ فخر کررہے تھے کہ آج اُن کے علاقے اور خاندان کا پہلا سپوت جنگ میں شہید ہو کر اپنے گائوں کی مٹی میں دفن ہونے کے لیے آیا ہے اور گائوں کا یہ پہلا شہید تھا جس نے میدانِ جنگ میں شہادت حاصل کی۔


 پاک فوج کے سرفروشوں کی شہادت کی کہانیاں، پاک فوج اور مُلک کی تاریخ کا قابلِ فخرباب رہی ہیں۔ شہادت کے یہ واقعات شاید سننے اور دیکھنے میں ایک سے ہی لگیں لیکن ہر شہادت اپنے خصوصی حالات کی وجہ سے یکسر مختلف ہوتی ہے اور پھر ہر کہانی صِرف شہادت پر ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ بہت سی کہانیوں کا آغاز شہادت کے بعد ہوتا ہے۔ وہ کہانی جس میں شہداء وطن کے لواحقین میدانِ جنگ میں لڑنے والے سپاہی کے جذبے کو پوری عمر اپنا فخر و وقار بنا کر رکھتے ہیں۔ایسی ہی کہانی حولدار کالا خان کی ہے جو 3 دسمبر 1971 کو حسینی والا سیکٹر میں (گنڈا سنگھ بارڈر) اپنے وطن اور اپنی پلٹن (3پنجاب) کی ناموس پر قربان ہو گئے۔ ان کی بہادری اور قربانی کے اعتراف میں انہیں تمغہِ جرأت عطا کیا گیا۔ 
حوالدار کالا خان کا تعلق گاؤں لنگا (چکوال) سے تھا جیسے کہ چکوال اور اس کے گردونواح کے لوگوں کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ جنگجو صفت اور ناموسِ وطن پہ جان دینے والے لوگ ہیں یہی خواص کالا خان میں تھے۔ کالا خان کے اپنے خاندان کے لوگ بشمول ان کے اپنے والد، چچا اور دیگر قریب اور دور کے رشتہ داروں میں اکثریت کا تعلق پاک فوج سے تھا۔ کالا خان کے والدولی محمد(8 پنجاب) نے48 اور65 کی جنگوں میں حصہ لیا۔ وطن کی مٹی سے محبت اور وفا کا جذبہ اُن کی خاندانی میراث تھا۔                                      
کالا خان10 مارچ1960 میں 3 پنجاب رجمنٹ میں شامل ہوئے۔ اپنی تعلیمی قابلیت اور شوق میں انہوں نے ترقی کی منازل طے کیں۔ آپ 1965میں رسالپور میں بم ڈسپوزل کورس کر رہے تھے کہآپ کو یونٹ میں بُلایا گیا۔ یونٹ آکر انہوں نے یونٹ کے انٹیلیجنس سیکشن میں خدمات سر انجام دیں۔1965کی جنگ میں انھیں اپنی پلٹن میں اہم ذمہ داریاں ملیں جو انہوں نے نہایت خوش اسلوبی سے سر انجام دیں۔ اسی دوران ایک کارروائی میں وہ جنگی قیدی بنے اور دشمن جو ان کے ڈیل ڈول کو دیکھ کر یہ سمجھ رہا تھا کہ وہ پاکستان کا فوجی آفیسر ہیں، اُن پر بے انتہا تشدّد کیا کہ ان سے کچھ راز نکل سکیں لیکن کالا خان ثابت قدم رہے اور قید سے6 ماہ بعد رہائی پر اپنی ہی پلٹن میں شامل ہوئے۔                                                                                                      
کالا خان 1971 میںNon Commissioned آفیسر تھے اورSchool of Military Intelligence میں عسکری خدمات سر انجام دے رہے تھے۔انہی دنوں پاک بھارت کشیدگی کے باعث جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے۔ اِس دوران اُنہیں فوری طور پریونِٹ پہنچنے کا حُکم ملا۔ اپنی قابلیت اور ذہانت کی وجہ سے اُنہیں لیفٹنٹ کرنل غلام حسین، کمانڈنگ آفیسر 3پنجاب کے ساتھ انٹیلی جینس حوالدار ڈیوٹی پر معمور کیا گیا۔ جو کہ جنگی حالات میں انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ جنگ1971 میں ان کی یونٹ کے سامنے جنگی میدان میں بارودی سرنگیں لگی ہوئی تھیں۔ کالا خان کے سی او، لیفٹیننٹ کرنل غلام حسین نے ان کی پلٹن کو اس رکاوٹ سے کامیابی سے  نکالنے پر مامور کیا۔ کالا خان نے یہ کام نہایت مستعدی اور پیشہ ورانہ طریقے سے سر انجام دیا۔ انہوں نے کمال بہادری سے بارودی سرنگوں میں راستہ تلاش کیا اور اپنے ساتھیوں کو اس سے نکلنے میں مدد دی۔3 دسمبر1971 ء کو حسینی والا سیکٹر میں ایک کامیاب حملے کے دوران اپنے CO کی طرف Automatic Machine Gun کا فائر کھُلتا دیکھ کر انھوں نے اپنے آپ کو CO کی ڈھال بنا دیا اور گولیوں کا برسٹ لگنے کی وجہ سے شہید ہو گئے۔ پاک فوج نے ان کی بہادری پر تمغہِ جرأت عطا کیا۔3 پنجاب کی جنگی تاریخ کا یہ ایک اہم باب تھا جس میں اِس  کے   30 بہادر سپوتوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے۔
گائوں لنگا میں کالا خان کی بیگم اپنے دو بچوں دس ماہ کے طارق اور اڑھائی سال کے طلعت کے ساتھ اُن کی کامیابی اور زندگی کی دُعا کر رہی تھیں۔ کالا خان کے والد جو خود ایک سابقہ فوجی تھے روزانہ ڈاکخانے میں سرحدوں پر لڑنے والے سپاہیوں کی خیریت پتہ کرنے جاتے کیونکہ اُس میں اُن کے اپنے قریب اور دور کے رشتہ دار سمیت اپنے بیٹے کی خیریت دریافت کرنا مقصود ہوتا۔ایک دن روزانہ کی طرح جب وہ ڈاکخانے پہنچے اور پوسٹ ماسٹر سے اپنے بیٹے کی خیریت کا احوال پوچھا اور کسی قسم کی کوئی چٹھی آنے کا دریافت کیاتو پوسٹ ماسٹر نے ہمیشہ کی طرح بتایا کہ آپ کی کوئی چٹھی نہیں ہے حالانکہ اُس دن کالا خان کی شہادت کا ٹیلی گرام پہنچ چکا تھا۔ کالا خان کے والد اپنے گھر واپس آئے اور گھر والوں کو بیٹھک خالی کرنے کو کہا جو اِس بات کا اِشارہ تھا کہ کوئی بڑا واقعہ رونما ہو ا ہے۔ تھوڑی دیر میں کالا خان کے ماموں جو قریب ہی میں رہتے تھے، وہ ٹیلی گرام ساتھ لے آئے جس میں کالا خان کی شہادت کی خبر تھی۔ یہ پورے گھر کے لیے ایک غیر یقینی سی صورتِ حال تھی۔ کالا خان کی بیگم جو اپنے دو کم سِن بچوں کے ساتھ بیٹھی تھیں اُن کی رفاقت کالا خان سے تین سال سے کم عرصے کی رہی اور ابھی وہ 20سال کی تھیں ، اُنہیں ایک اتنے بڑے سچ کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک ایسا سچ جس نے اُن کی زندگی کو یکسر تبدیل کر دیا۔                                                                                                                   
کالا خان کی میّت کو اُن کے والد اُسی دن لینے کے لیے یونٹ چلے گئے۔ میّت کو گھر لایا گیا۔ لوگ فخر کررہے تھے کہ آج اُن کے علاقے اور خاندان کا پہلا سپوت جنگ میں شہید ہو کر اپنے گائوں کی مٹی میں دفن ہونے کے لیے آیا ہے اور گائوں کا یہ پہلا شہید تھا جس نے میدانِ جنگ میں شہادت حاصل کی۔ لوگوں نے جب کالا خان کے والد جو بہت نمازی اور پرہیزگار تھے، سے پوچھا کہ آپ کو کیسے پتہ چلا کہ کالا خان شہید ہوئے ہیں جبکہ پوسٹ ماسٹر نے انہیں نہیں بتایا تو انہوں نے بتایا کہ وہ بیٹے کے لیے بے چین تو وہ ہر وقت رہتے تھے اور اس لیے وہ ڈاکخانے جاتے تھے لیکن کل رات مجھے ایک خواب آیا کہ ایک سبز رنگ کا پرندہ میرے دائیں کندھے پر آکر بیٹھا ہے اور جب میں نے اسے پکڑنا چاہا تو میرے ہاتھ سے نکل کراوپر اُڑ گیا۔ مجھے اس سے محسوس ہوا کہ میری کوئی قیمتی چیز مُجھ سے جانے والی ہے۔                                                                              
گائوں کے کُچھ لوگوں نے جب کُچھ آہ و بکا کرنا چاہی تو کالا خان کی والدہ نے سختی سے منع کیا کہ آج کا دن فخر کا ہے اور میں اللہ کے دیئے ہوئے اِس فخر پہ بہت مطمئن اور شہید کی ماں کا رُتبہ پانے پر بہت شُکر گزار ہوں۔ لوگوں نے صِرف معجزوں کا سُن رکھا تھا دیکھا نہیں تھا لیکن آج کا دِن معجزہ دیکھنے کا تھا۔ تدفین کے دِن یونٹ والوں نے بتایا کہ کالا خان کی شہادت آج سے 25 دن پہلے جنگی محاذ پر ہو گئی تھی جہاں اُن کی امانتََا تدفین کی گئی تھی اور آج 25دن کے بعد اُن کو اُن کے آبائی گائوں لنگا(ضلع چکوال) میں سپردِ خاک کیا جا رہا تھا۔دیکھنے والوں نے دیکھا کہ اُن کا کفن خون سے تازہ تھا اور یوں لگتا تھا جیسے شہادت چند لمحے پہلے ہی ہوئی ہو۔                                                                             
آفیسر سے میری یہ پہلی ملاقات تھی۔ فوجی آغازِ گفتگو میں، جیسا عمومی ہوتا ہے کہ بات کورس سے شروع ہوتی ہوئی یونٹ اور پھر کہاں کہاں پوسٹنگ ہوئی سے شروع ہو کر ٹوٹل فوجی گپ شپ۔ پھر کُچھ دیر بعد یہ محسوس نہیں ہوتا کہ ہم پہلی دفعہ ملے ہیں۔ یہ ملاقات قدرے مختلف ثابت ہوئی۔ آفیسر میں کُچھ ایسا تھا جو مُختلف تھا۔ ملاقات مختصر رہی اور اس وعدے پر کہ پھر ملیں گے، 3سال کا عرصہ لگ گیا۔ آج اتفاق سے ہم پھر سے آمنے سامنے تھے۔ طلعت نے1970 میں ایک فوجی سپاہی کے گھر آنکھ کھولی۔ ان کی عمر ابھی ڈھائی برس ہی تھی کہ اُن کے والد حوالدار کالا خان جنگِ 71 میں وطن پر قربان ہو گئے۔طلعت اور طارق دو بھائی تھے اور ان کے چھوٹے بھائی کی عمر 10 ماہ تھی۔ دونوں کو ہی اپنے والد یاد نہیں ہیں۔                                                                                                 
جیسا میں نے کہا کہ فوجی کی شہادت کی عظیم کہانی کے بعد ایک اور کہانی جنم لیتی ہے جو صبر، استقامت اور حوصلے کی ہے اور یہ کہانی اس کی فیملی کی ہے۔ چاہے اس میں اِس کی بیگم ہو، بچے ہوں یا ماں باپ، سب کو فخر کے ساتھ ایک محرومی میں رہنا ہوتا ہے اور یہ احساس صرف ان کا ہوتا ہے جسے اور کوئی نہیں جان سکتا۔ طلعت کو اپنے والد کی محرومی کا احساس کم رہا اور اس کی بُنیادی وجہ اس کے مُطابق ان کے خاندان اور گائوں کے لوگوں کا مضبوط رشتہ اور محبت تھی جس نے ہر دم اُنھیں طاقت دی اور یہ احساس کبھی نہ ہونے دیا کہ وہ والد کے بغیر ہیں۔ دادا، دادی، چچا، ماموں سب لوگ ہی اُن کے لیے سراپا محبت تھے۔ ابتدائی تعلیم گائوں سے حاصل کرنے کے بعد طلعت اپنے چھوٹے بھائی اور والدہ کے ساتھ لاہور آگئے تا کہ بہتر تعلیم حاصل کی جائے۔ چھٹی جماعت سے آگے کی زندگی کا یہ سفر ایک امتحان تھا۔انہوں نے اس چھوٹی عمر میں ہی بڑوں کی سی ذمہ داری کا بوجھ اُٹھایا۔چھوٹے بھائی کا بھی خیال رکھا اور والدہ کے بھی معاون ثابت ہوئے۔ اس عمر میں بچے کھلونوں کی خواہش کرتے ہیں،  ضد کرتے ہیں لیکن طلعت نے اپنی والدہ سے کبھی کُچھ نہیں مانگا ۔ ان کے مُطابق وہ جانتے تھے کہ والدہ کی معاشی حالت اتنی نہیں کہ وہ ان کی خواہش پوری کر سکتیں اور ان کی والدہ خود ایک خودّار خاتون تھیں۔ انہوں نے کبھی کسی سے کوئی احسان نہیں لیا۔ اس غُربت میں بھی وہ اپنی والدہ کی فیاضی کا ذکر کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ہماری تمام تر مُشکلات کے باوجود والدہ ہمیشہ انسان پرور رہیں۔ ان کے بچپن میں ایک ضرورت مند خاتون اپنے تین بچوں کے ساتھ کہیں رہنے کا سایہ تلاش کر رہی تھی جسے والدہ نے 4 ماہ کے لیے گھر میں رکھا۔ یہ تعلق اتنا مضبوط بنا کہ40 سال کے بعد بھی ان کی آپس میں محبت کا رشتہ قائم ہے۔                                                                             
نیلوفر بی بی (طلعت کی والدہ) کی حوالدار کالا خان شہید سے شادی1967 میں ہوئی۔ اس وقت اُن کی عمر 17سال تھی۔ کالا خان ان کی خالہ کے بیٹے تھے اور یہ تمام خاندان چکوال کی روایات کے مطابق زیادہ تر فوجی پیشے سے منسلک تھا۔ نیلوفر20 سال کی عمر میں بیوہ ہوئیں۔ اتنی کم عمر میں یہ صدمہ اور پھر آگے ایک بڑی زندگی پڑی تھی، لوگوں نے اور رشتہ داروں نے ان سے نئی زندگی شروع کرنے کا کہا لیکن ان خاتون پر آفریں ہے کہ انہوں نے کہا کہ میرے شوہر کی شہادت میرا فخر ہے جوکہ میرا سرمایہ حیات اور میری وجہ بخشش ہے۔ میں اسے اپنے دُنیاوی آرام کے لیے کھونا نہیں چاہتی اور اپنے بچوں کی پرورش کر کے اُن کو بھی مُجاہد بنائوں گی۔                                                                               
طلعت کی والدہ کے مطابق اُن کے علاقے کے لوگوں میں وطن سے محبت کا جذبہ زندگی سے زیادہ موت کو گلے لگانے کا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی بڑی بہن کے شوہر بریگیڈیر محمد مصطفی جو 1965 کی جنگ کے وقت کپتان تھے۔ جب جنگ ہوئی تو انہیں جنگ کے متعلق احکامات موصول ہوئے اور بتایا کہ اگلے دن تک رپورٹ کریں۔ کیپٹن مصطفی کے اہلِ خانہ نے اُسی دن ان کی شادی کر دی اور اگلے دن وہ جنگ میں شامل ہو گئے۔ یہ ایک غیور اور بہادر قوم کا شیوہ ہے کہ وہ مشکلات کو بھی ہنس کر گلے لگاتی ہیں اور تاریخ ساز لمحوں کی تعمیر کرتی ہیں۔                                                                                                                        
طلعت کی والدہ نے بتایا کہ ان کے فخر نے ہمیشہ انہیں قائم رکھا، محدود وسائل ہونے کے باوجود ان کا دِل مضبوط رکھا۔ انہوں نے اپنے گھر کے وسائل بڑھانے کے لیے خود بھی کام کیا۔3 پنجاب نے ان کے شوہر کی شہادت کے بعد بہت خیال کیا۔ یونٹ ان کے بچوں کو ہاسٹل میں پڑھانا چاہتی تھی لیکن انہوں نے بچوں کو اپنے سامنے رکھنا ضروری سمجھا ۔ اپنی تمام تر مجبوریوں کے باوجود بچوں کو پڑھایا اور پھر طلعت نے اپنے والد کے نقشِ قدم پر فوج جوائن کر لی۔ انہوں نے فوج کی زندگی میں بھی کامیابی حاصل کی اور بریگیڈئیر کے رینک تک گئے۔ اپنے PMA اور JCB کے وقت کو یاد کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ ان چار سالوں میں ان کے پاس والدہ ایک دفعہ بھی نہ آ سکیں کیونکہ ہمارے حالات ایسے نہ تھے کہ وہ آتیں۔ وہ اتنا احساس رکھتے تھے کہ ٹریننگ کے دوران ملنے والے وظیفے سے وہ گھر پیسے بھیجتے۔ اس سے پہلے جب وہ سکول میں پڑھتے تھے تو گرمیوں کی چھٹیوں میں بھی کام کرتے تا کہ والدہ کا بوجھ کم ہو۔                                                                                         
طلعت نے مُسکراتے ہوئے اپنے بچپن کے حالات بتاتے ہوئے کہا کہ میں، میرا بھائی اور والدہ کا ایک ہی چارپائی پر کئی سال تنگی سے سونا بھی ہمارا فخر ہے۔ اِن مُشکل حالات نے طلعت پر بھی گہرے اثرات مُرَتّب کیے۔ وہ بعد میں اپنے بچپن کی محرومیوں کو اپنے بچوں کی خواہشات کو پورا کر کے مطمئن کرتے۔ اُن کا کہنا تھا کہ اُنہیں یاد نہیں پڑتا کہ کسی  موقع پر اُنہوں نے بچوں کی خواہش کو ایک دفعہ کہنے پر پورا نہ کیا ہو۔ طلعت کا کہنا ہے کہ جب بھی وہ کسی غریب یا محتاج کو دیکھتے ہیں تو اُن کو اُس غُربت کی محرومی کا ظاہری نہیں بلکہ اندرونی احساس ہوتا ہے۔                                                                                                            
بریگیڈیر طلعت کے بیٹے عبداللہ بھی فوج کے متوالے تھے۔ وہ کہتے کہ زندگی ہے تو فوج میں ہے ورنہ نہیں۔ عبداللہ فوج میں سیلیکٹ ہو گئے اور آج پاک فوج کی 15 ایس پی آرٹلری یونٹ میں بطور کپتان خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ بریگیڈیر طلعت کی بڑی صاحبزادی مطیبہ مسعود کی شادی ائیر فورس آفیسر سے  اور چھوٹی صاحبزادی ڈاکٹر آمنہ مسعودکی شادی بھی ایک آرمی آفیسر سے ہوئی۔ بریگیڈیر طلعت کی بیگم جو ان کی خالہ کی بیٹی ہیں اپنی ساس کے بارے میں بتاتی ہیں کہ ان جیسی قوی حوصلے والی خاتون انہوں نے نہیں دیکھی انہوں نے مردانہ وار زندگی گزاری۔ میرے کبھی بھی کسی موقع پر آنسو آتے تووہ کہتیں کہ رونا نہیں بلکہ مسئلے کو بہادری سے حل کرو۔                                                                                                      
پاک فوج نے ماضی کے تجربات کی روشنی میں شہدا ء کی فیملیز کی معاشی مُشکلات کا بڑی حد تک تدارُک کر دیا ہے اور مسلسل بہتری کی کوشش جاری ہے تاکہ شہدا ء کے اہلِ خانہ کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ تاہم یہ سفر فخر اور کسک کا ہے جو جاری و ساری ہے اور بہادر قوموں کی یہی خوبیاں ہوتی ہیں۔ ۔۔۔   ||


[email protected]

یہ تحریر 372مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP