قومی و بین الاقوامی ایشوز

بی جے پی اور ہندوتوا کی تکمیل کا نظریہ 

بھارت میں برسرِ اقتدار جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی سرپرستی میں 15 دسمبر 2021 سے ان تمام ریاستوں میں جہاں بی جے پی کی حکومت ہے ،سرکاری سکولوں کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنے طالب علموں سے مسلمانوں کے خلاف حلف لیں کہ وہ ''بھارت کو ہندو ریاست بنانے اور بنائے رکھنے کے لئے لڑیں گے، مریں گے، ضرورت پڑی تو ماریں گے۔ کسی قیمت پر اپنے اس فیصلے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اپنے اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے ہمارے گرودیوی، ہمارے گرو دیوتا، بھارت ماتا ہم کو طاقت دے اور ہمیں کامیابی دے ۔'' بعدازاں بھارت کی شمالی ریاست اتر کھنڈ کے ضلع ہردیوار میں 17سے 19 دسمبر2021 تک اس شہر میں ہندو انتہا پسندوں کی مرکزی جماعت ''سنگھ پریوار'' کی سرپرستی میں بجرنگ دل ، بھارتیہ کشن سنگھ، شیو سینا، ویشوا ہندوپریشد، اخل بھارتیہ اور راشٹریہ سیوک سنگھ کی میزبانی میں تین روزہ سیمینار منعقد کیا گیا ۔اس طرح کے ہندوتوا مقاصد کے لئے منعقد کیے جانے والے کسی بھی سیمینار میں برسرِ اقتدار جماعت بی جے پی کے نمائندوں نے دہلی سے خصوصی طور پر شرکت کی۔سیمینار کا مقصد بھارت کو مسلمانوں سے پاک کرنے کے لئے منصوبہ بندی اور اس پربتدریج عمل درآمد کے طریقہِ کار کو طے کرنا تھا۔ تین روز تک بھارت کے طول و عرض سے آئے ہوئے ہندو انتہا پسند جماعتوں کے300 سے زیادہ رہنمائوں نے تقاریر کیں۔ہر مقرر کی تقریر انتہائی زہرآلود اور مسلمانوں کے خلاف نفرت سے بھری ہوئی تھی۔ مقررین کی اکثریت اس بات پر متفق تھی کہ ''بھارت سے مسلمانوں کا خاتمہ تلوار، ترشول اور برچھیوں سے ممکن نہیں۔ ان کی نسل کشی کے لئے جدید اسلحہ کا استعمال ضروری ہوگا۔'' تقاریر کے دوران بتایاگیا کہ'' اگر بھارت میں کل آبادی ایک ارب چالیس کروڑ ہے تو اس میں چالیس کروڑ مسلمان ہیں۔ مزید ایک دہائی میں مسلمانوں کی آبادی بھارت میں ہندوئوں سے بڑھ جائے گی۔ ہندوئوں کی شناخت ، مذہب اور دیش سب کچھ خطرے میں ہے۔ ہندو اگر بیدار نہ ہوئے تو پھر مسلمان ان کا نام و نشان مٹادیں گے۔'' 19 دسمبرکو سیمینار کے اختتام پر تمام شرکا اور سٹیج پر بیٹھے ہندوتوا نظریات کے حامل رہنمائوں نے وہی حلف اٹھایا جو کہ سکول کے طالب علموں سے لیا جارہا تھا۔ سیمینار میں سوامی پربھود آنند کا جو پیغام بھارت بھر کے جنونی مسلمان دشمن ہندوئوں کو پہنچایا گیا اس کے مطابق برما میں روہنگیا مسلمانوں کے قتل و غارت گری اور نسل کشی کو ضروری قرار دیاگیا۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بھارتی ریاست اترکھنڈ میں ہندو انتہا پسندوں کی بھارتی مسلمانوں کی نسل کشی کے حوالے سے تقاریر کا نوٹس لیتے ہوئے اسلام آباد میں بھارتی ناظم الامور کو طلب کرکے پاکستان کا شدید احتجاجی مراسلہ اس کے حوالے کیا لیکن اس سے قبل بھارت میں معروف اداکار نصیر الدین شاہ نے کرن تھاپر کو WIRE نامی سوشل میڈیاویب سائٹ پر انٹرویو دیتے ہوئے اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف منظم انداز میں نفرت پھیلانے میں ہندوئوں کی اعلیٰ سیاسی قیادت شامل ہے۔ برسرِ اقتدار جماعت نے باقاعدہ حکمت عملی کے تحت بھارت پر ماضی میں حکمرانی کرنے والے مغلوں کے خلاف نفرت پھیلانے سے اپنی سیاست کا آغاز کیا اور پھر اپنی اس نفرت کو آج کے مسلمانوں کی نسل کشی کی طرف لے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ اترکھنڈ میں جس طرح کی شرانگیز تقاریر کی گئیں ان کے خلاف نریندر مودی سرکارکی طرف سے کسی بھی طرح کی کارروائی کا امکان نہیں۔ نصیرالدین شاہ نے کہا کسانوں کے احتجاج کے دوران بی جے پی کے ایک وزیر کے صاحبزادے نے اپنی گاڑی پُرامن احتجاج کرنے والے کسانوں پر چڑھاکر درجنوں مرد و خواتین کچل دیئے۔ آج تک نہ تو اس وزیر کے صاحبزادے کی گرفتاری عمل میں آئی ، نہ ہی اس سے وزارت واپس لی گئی۔ ا نہوں نے مزید کہا کہ بھارت کے انتہا پسند ہندو مسلمانوں کو خوف زدہ کرنا چاہتے ہیں لیکن ہم خوف زدہ نہیں ہیں۔ جس ملک میں گائے کا قتل پولیس انسپکٹر کے قتل سے زیادہ اہمیت رکھتا ہو تو اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ  اقتدار پر قابض انتہا پسند ہندو بھارت کو کس طرح کے انجام سے دوچار کرنے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو بدترین خانہ جنگی کی طرف دھکیلا جا رہاہے۔ ہم20 کروڑ اگر اپنے بچائو کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تو اس کا نقصان مسلمانوں کو نہیں بھارت کو ہوگا۔


اگر تاریخ پر نظر دوڑائیں تو راشٹریہ سیوک سنگھ کی بنیاد برطانوی ہند میں1925 میں رکھی گئی جس کا سارا فلسفہ'' مہا بھارت'' کے قیام اور وہاں ہندو مت کے راج کے گرد گھومتا تھا۔ یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ تاجِ برطانیہ سے آزادی کی تحریک میں راشٹریہ سیوک سنگھ کی قیادت میں اس سے وابستگی رکھنے والوں کا کوئی کردار نہیں تھا۔ اسی بنیاد پر بھارت کے بعض مؤرخین راشٹریہ سیوک سنگھ کی تشکیل و قیام میں برطانوی راج کو ملوث قرار دیتے ہیں۔


نصیر الدین شاہ کے جذبات اپنی جگہ لیکن اترکھنڈ میں جو کچھ کہاگیا اس پر پاکستان کا احتجاجبلا وجہ نہیں۔سوامی شکن بانڈے کا یہ کہنا کہ اگر ہمارے میں سے صرف 100 افراد جدید اسلحہ کے ساتھ 20 لاکھ مسلمانوں کو قتل کردیں تو بھارت ہمیشہ کے لئے محفوظ اور یہاں سے مسلمانوں کا خاتمہ ہوجائے گا کیونکہ باقی مسلمان ہندو دھرم اختیار کرلیں گے توپنڈال میں سے سیکڑوں افراد نے اپنی خدمات پیش کرنے کے لئے نعرے لگادیئے۔ اسی طرح سوامی پربھود آنند نے بھارتی فوج ، پولیس، سرکاری ملازمین اور عام ہندو شہریوں کو ہندو مت کے تحفظ اور بھارت کی سلامتی کے لئے اسلحہ خرید کر ہر جگہ جہاں بھی مسلمان نظر آئے، اسے روہنگیا مسلمانوں کی طرز پر مار ڈالنے کے لئے جس طرح کی جذباتی تقریر کی اس پر نہ صرف بھارتی سرکار کی خاموشی ظاہر کرتی ہے کہ وہ اترکھنڈ کے مذہبی سیمینارکو سیاسی حربے کے طور پر استعمال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے بلکہ اس بات کے خدشات بھی موجود ہیں کہ ہندو انتہا پسند غنڈے اپنے مذہبی پنڈتوں کے احکامات پر عمل درآمد کی کوشش میں مسلمانوں کی جان و مال کے لئے خطرے کا باعث بن کر گائوماتا کا گوشت کھانے والے مسلمانوں کو قتل کرنے جیسے اقدامات کو دہرانے کی کوشش کریں۔
اگر تاریخ پر نظر دوڑائیں تو راشٹریہ سیوک سنگھ کی بنیاد برطانوی ہند میں1925 میں رکھی گئی جس کا سارا فلسفہ'' مہا بھارت'' کے قیام اور وہاں ہندو مت کے راج کے گرد گھومتا تھا۔ یہ بھی تاریخی حقیقت ہے کہ تاجِ برطانیہ سے آزادی کی تحریک میں راشٹریہ سیوک سنگھ کی قیادت میں اس سے وابستگی رکھنے والوں کا کوئی کردار نہیں تھا۔ اسی بنیاد پر بھارت کے بعض مؤرخین راشٹریہ سیوک سنگھ کی تشکیل و قیام میں برطانوی راج کو ملوث قرار دیتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ وہ اس دور کے برہمنوں یا ہندو اشرافیہ کے انگریزوں سے تعلقات اور دوستانہ مراسم کو سمجھتے ہیں۔ ہندو مت کی بنیاد پر اس جماعت کی تشکیل کو سیاست سے الگ رکھتے ہوئے خالصتاً ہندو دھرم اور ہندو تہذیب و تمدن کے تحفظ کے نام پر استوار کیاگیا لیکن جس انداز سے تنظیم میں شمولیت اختیار کرنے والوں (جن میں اکثریت برہمنوں کی تھی) کو فوجی طرز کے نظم و ضبط کا پابند بناتے ہوئے ان کی شناخت کرکے جو یونیفارم منتخب کی گئی اس کا ہندو تہذیب اور ہندو دھرم کے پہناوے سے دور کا بھی واسطہ نہیں تھا۔ علاوہ ازیں اپنے افکار کے پھیلائو کے لیے جیسے تنظیم کی قیادت نے مذہبی پروہتوں ، ہندوئوں اور سوامیوں نے گٹھ جوڑ کے بجائے جدید انگریزی تعلیم کے مراکز سکولوں اور کالجوں کو اپنا ہدف بنایا۔ جہاں سے فارغ ہونے والے طلباء کو مستقبل میں بھارت کی باگ ڈور سنبھالنی ہے جس میں فوج، بیورو کریسی ، عدالتی نظام ، سیاست اور تدریس کے شعبے شامل تھے جبکہ عام ہندو شہری اس تنظیم اور اس کے مقاصد سے ناواقف تھے۔
راشٹریہ سیوک سنگھ کا نام آزادی کے بعد بھارت میں اس وقت سامنے آیا جب 30 جنوری1948 کو آر ایس ایس کے نظریے سے متاثر پونا سے تعلق رکھنے والے اعلیٰ ذات کے ہندو نوجوان نتھو رام گوڈسے نے مہاتما گاندھی کو دن دیہاڑے بھرے مجمعے میں قریب سے گولیاں مار کر قتل کردیا۔ یہ بھارت کے سیکولرنظام پر ہندوتوا کا پہلا حملہ تھا جس میں آزادبھارت کے بانی کوصرف اس لئے قتل کردیاگیا کہ وہ ''مہابھارت'' کے قیام اور ''بھارت ماتا'' کے بٹوارے کو روکنے میں نہ صرف ناکام رہا بلکہ اس نے برطانوی ہند میں مسلمانوں کے لئے دو قومی نظریہ کی بنیاد پر الگ ریاست پاکستان کے قیام میں قائداعظم محمدعلی جناح کی حمایت بھی کی۔ مہاتما گاندھی کے قتل کی وجوہات بھارتی اخبار ات میں شائع ہوئیں تو بھارتی پارلیمنٹ میں اپوزیشن نے برسرِ اقتدار کانگریس جماعت اور اس کی قیادت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ان سوالات کے جواب میں وزیرِاعظم جواہر لال نہرو سمیت دیگر کانگریسی وزراء نے بیانات دیئے کہ قیامِ پاکستان عارضی بندوبست ہے، جلد ہی ''مہابھارت'' کی تکمیل ہوگی۔ نتھو رام گوڈسے مہاتما گاندھی کے قتل کے جرم میں گرفتار ہوا۔ اسے موت کی سزا ملی لیکن راشٹریہ سیوک سنگھ بھارت کے ہندوئوں کو قیامِ پاکستان کی بدولت ادھورے بھارت میں ہندو دھرم کو بطورِ نظام اپنانے میں ناکامی کا پیغام دینے میں کامیاب ہوگئی۔ ہندو راشٹریہ سیوک سنگھ کے نظریے کی طرف متوجہ ہونے لگے تو بھارت کی مضبوط ترین بانی سیاسی جماعت کانگریس کی مقبولیت میں کمی آنے لگی تو جواہر لال نہرو اور اس کی کابینہ نے ایک طرف مقبوضہ کشمیر پر اقوامِ متحدہ کی طرف سے کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے سے متعلق قرار داد پر عملدرآمد سے انحراف کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف سازشوں کی صورت میں ''گریٹر پختونستان'' اور بلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی کے لئے سرگرم عناصر کی مالی سرپرستی شروع کردی۔ ساتھ ہی بھارت میں مسلمان اقلیت کو ہندو مسلم فسادات کی آڑ میں خوف زدہ کرکے اپنے ساتھ ملائے رکھنے کی حکمت عملی کو فروغ دیاگیا۔ اس مقصد کے لئے ہر ریاست میں موجود بڑے ہندو پنڈتوں و پروہتوں کو استعمال کیا گیا جو اس وقت تک راشٹریہ سیوک سنگھ کا حصہ نہیں تھے بلکہ اسے اپنے مفادات کے لئے خطرہ سمجھتے تھے ۔
راشٹریہ سیوک سنگھ کو بھارت میں ہندو دھرم کو بطور نظام نفاذ کی کوئی جلدی نہیں تھی۔ وہ مربوط منصوبہ بندی کے ساتھ اپنا مقصد حاصل کرنا چاہتے تھے جو کہ دیرپا ہو۔ ایسے سیاسی چہرے کے لئے اس کا انتخاب ''بھارتیہ ماتا سنگھ'' پارٹی تھا جس کی تشکیل 1951 میں عمل میں آچکی تھی۔ اندرا گاندھی کی طرف سے ملک میں ''ایمرجنسی'' لگائے جانے پر کانگریس جماعت کی مقبولیت کم ہوئی تو بی جے پی کو 1977 میں 77سیٹوں کے ساتھ ''جنتا پارٹی'' اور دیگر جماعتوں کو ساتھ ملا کر اقتدار میں آنے کا موقع ملا لیکن یہ اتحاد جلد ہی دم توڑ گیا۔1984 کے انتخابات میں بی جے پی صرف2سیٹیں حاصل کرسکی۔ اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کو بچانے کے لئے راشٹریہ سیوک کے تعاون سے بی جے پی نے ایودھیا میں بابری مسجد کے مقام پر رام کی جنم بھومی کے برسوں پُرانے تنازع کو اپنی سیاست کا محور بنا کر پورے بھارت میں مہم کا آغاز کیا۔ اس حکمت عملی نے بی جے پی کو بھارت کی بہت سی ریاستوں میں انتخابات کے دوران کامیابی دلائی۔ یہ ساری مہم ہندو دیش پر مغرب سے آنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت کی بنیاد پر چلائی گئی۔ ہندوئوں کو بتایا گیا کہ کس طرح مسلمان حملہ آوروں نے خطے میں ان کی ہندو ریاستوں کو برباد کیا۔ مسلمان فاتحین نے قبضہ کے بعد مندروں کو گرا کر ان کی جگہ مساجد تعمیر کیں۔ قتلِ عام کیا ،املاک لوٹیں، ہندو عورتوں کو باندیاں بنا کر گھروں میں ڈالا، یہاں تک کہ رام جنم بھومی کو گراکر وہاں بھی مسجد تعمیر کردی گئی، جو بابری مسجد کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس پروپیگنڈے نے جادوئی کام کیا۔ بی جے پی کی مقبولیت کو چار چاند لگ گئے ۔ہر طرف مسلمان، اسلام اور پاکستان کے خلاف نفرت کا جادو سرچڑھ کر بولنے لگا۔ ستمبر سے اکتوبر 1990 میں بابری مسجد کی جگہ رام مندرکی تعمیر کے مطالبے کو لے کر ایل کے ایڈوانی کی قیادت میں نکالی گئی ''رتھ یاترا'' بھارت میں سیکولرازم کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوئی۔ ہزاروں کے مجمعے کے ساتھ اس یاترا کا آغاز 25 ستمبر 1990 کوجنوب مشرقی ساحلی شہر سومنات سے ہوا جو بھارت کی مختلف ریاستوں میں سانپ کی طرح بل کھاتے ہوئے35 شہروں سے ہو کر 30 اکتوبر کو جب دس ہزار کلو میٹر کا سفر طے کرتے ہوئے اتر پردیش کے شہر ایودھیا پہنچا تو لاکھوں کا مجمع ملکی وغیر ملکی میڈیا کے اڑھائی ہزار نمائندوں کے ہمراہ تھا۔ رتھ یاترا کے نام پر نفرت کی آندھی میں بھارتی ریاستوں گجرات، مہاراشٹر، اندھرا پردیش، بہار اور اتر پردیش میں مسلم کش فسادات پھوٹ پڑے۔ ہندواس قدر جذباتی ہو چکے تھے کہ مختلف شہروں میں ہندوئوں نے اپنے خون سے بھرے ہوئے مٹکے ایل کے ایڈوانی  کے حوالے کئے تاکہ ایودھیاپہنچنے پر یہ خون رام کی جنم بھومی پر بہایا جاسکے۔ایل کے ایڈوانی اپنے ہمراہ ہندوئوں کے جذبات اور ان کے دل و دماغ میں مسلمانوں کے خلاف لگی ہوئی آگ کو دیکھ کر خوف زدہ ہوچکا تھا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں پورے بھارت میں خانہ جنگی کا لاوا نہ اُبل پڑے جو سب کچھ جلا کر خاک کردے۔ اس نے رتھ یاترا کو دہلی میں کئی روز تک روکے رکھا۔ وہ چاہتا تھا کہ وزیراعظم وی پی سنگھ اسے گرفتار کرکے لے جائے لیکن بھارت سرکار ایل کے ایڈوانی سے زیادہ خوف کا شکار تھی کہ اگر ایڈوانی کو حراست میں لیاگیا تو بپھرے ہوئے ہندو دہلی کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔
رتھ یاترا کا اختتام ہوا تو سیاسی طور پر بھارت کی تقدیر راشٹریہ سیوک سنگھ کی سرپرستی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھ میں آچکی تھی۔ یہ اب بی جے پی کی مرضی تھی کہ وہ کب اور کس طرح بھارت کے سیاسی مندر کا فیصلہ کرتی ہے۔ یکم ستمبرسے نومبر1990 تک مختلف شہروں میں مسلمانوں کے خلاف پھوٹ پڑنے والے فسادات میں20260 مسلمانوں کی شہادت نے مستقبل میں مسلمانوں کے لیے خطرے کی گھنٹی پہلے ہی بجا دی تھی۔1992 میں جب ہندو انتہا پسندوں نے بابری مسجدکو شہید کیا تو اس موقع پر بھی فسادات میں 566 مسلمان شہید کر دیئے گئے۔ کھلے عام دہشت گردی کی اس کارروائی نے ہندواکثریت کے دل و دماغ میں نفرت کا ایک ایسا بیج بودیا جس کی آنے والے برسوں میں آبیاری جاری رہی۔ فروری2002 تک مسلمان اقلیت کے خلاف نفرتوں کی یہ فصل مکمل طور پر پک کر تیار ہو چکی تھی جسے کاٹنے کے لیے، بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق ایودھیا سے گجرات کے شہراحمدآباد  آنے والی ریل گاڑی کی ان دو بوگیوں میں آگ لگا دی گئی جن میں ہندو یاتری سوار تھے۔ یہ آگ احمدآباد سے پہلے گودھرا ریلوے سٹیشن کے پلیٹ فارم پر اس وقت لگائی گئی جب ریل گاڑی روانہ ہوکر سٹیشن کی حدود سے نکل رہی تھی۔ احمدآباد پہنچنے تک 27 فروری کو آدھی رات کے بعد سرمنی ایکسپریس کی دو بوگیوں کو آگ لگی، احمد آباد پہنچنے تک 25 خواتین و بچوں سمیت60 کے قریب ہندو یاتری جل کر ہلاک ہوچکے تھے۔28 فروری کو گجرات کے طول وعرض میں ابھی مسلمان سوئے ہوئے تھے جب ان پر ہندوئوں نے حملہ کردیا۔ تین روز تک انتہائی بے دردی سے مسلمان مردوں، خواتین اور بچیوں کو قتل کیا جاتا رہا۔ تحقیقات کے نتیجے میں منظر عام پر آنے والے حقائق کے مطابق گجرات کی پولیس بھی مسلمانوں کے قتل عام میں شامل رہی، خاص کر گلبرگ سوسائٹی میں جہاں مسلمانوں کی ایک ہفتہ تک جلی ہوئی لاشیں اٹھانے والا کوئی نہیں تھا۔ یہاں سوسائٹی سے ملحقہ پولیس کے ٹریننگ کیمپ میں مقیم پولیس اہلکاروں نے کھل کر مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی۔ وہاں سے فوج کی چھائونی صرف تین کلو میٹر کے فاصلے پر تھی اور سوسائٹی سے آنے والی چیخیں صاف سنائی دے رہی تھیں لیکن فوج تماشائی بنی رہی۔ بعدازاں تحقیقات میں بتایا گیا کہ فوج کے پاس امدادی کارروائیوں کے لئے نفری کو متاثرہ علاقوں میں بھیجنے کے لئے ٹرانسپورٹ دستیاب نہیں تھی۔
گجرات کے ان مسلم کش فسادات میں کتنے گھر جلائے گئے ، مارے گئے افراد میں عورتوں ، مردوں ، بچوں کی تعداد کتنی تھی، آج تک یہ حقائق سامنے نہیں لائے جاسکے۔ نریندر مودی گجرات کا وزیرِاعلیٰ 2002 کے مسلم کش فسادات کا منصوبہ ساز قرار پایا، راشٹریہ سیوک سنگھ کا اہم لیڈر اور موجودہ بھارتی وزیرِ داخلہ امیت شاہ اس وقت وزیرِاعلیٰ نریندر مودی کا مشیر خاص تھا جس کے خلاف عدالت کے حکم پر مسلمانوں کے منظم قتلِ عام کا مقدمہ درج ہوا لیکن اس کی گرفتاری عمل میں نہ آسکی۔ نریندر مودی نے 18مارچ کو گجرات میں ہندوئوں کے ساتھ یکجہتی کے لئے نکالی گئی ایک ریلی میں امریکہ سے آئے ہوئے میڈیا کے نمائندوں کو ٹرک پر اپنے ساتھ کھڑا کیا اور انہیں بتایا کہ سنو میرے عوام کیا نعرہ لگا رہے ہیں۔ وہ بھارت سے مسلمانوں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ میں سیاستدان ہوں ۔ اپنے عوام کے مطالبات پر عملدرآمد کا پابند ہوں۔ نریندر مودی کے ریلی کے دوران ٹرک پر دیئے گئے انٹرویو کو امریکی اخبارات سے شہ سرخیوں کے ساتھ شائع کیا۔ انہوںے لکھا کہ نریندر مودی ہزاروں مسلمانو ں کا قاتل جس نے مسلمانوں کیETHNIC CLEANSING کا منصوبہ بنایااور اس پراپنی نگرانی میں عمل درآمد کرایا۔ امریکی اخبارات میں شائع ہونے والی انہی رپورٹس کی بنا پر نریندر مودی کا امریکی ویزہ منسوخ کرکے اسے ناپسندیدہ شخصیت قرار دیاگیا۔ نریندر مودی یا ہندوتوا کے پیروکاروں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ ان کی منزل دہلی میں بھارت کا اقتدار تھا جس کا تعین2002 میں گجرات کے مسلم کش فسادات نے کردیا تھا۔ راشٹریہ سیوک سنگھ اس وقت تک بھارت کے تمام قومی اداروں بشمول افواج و عدلیہ میں اپنی جڑیں مضبوط کر چکی تھی۔ گجرات اور دیگر شہروں کے اعلیٰ ذات کے ہندو بڑے سرمایہ کار اپنے سرمائے کے ساتھ ان کی پشت پر تھے۔ انتخابات میں مسلمانوں کا بھارت سے خاتمہ اہم سیاسی نعرے کی صورت اختیار کرچکا تھا۔ اسی نعرے کی بدولت بی جے پی نے بھارت میں اقتدار حاصل کیا اور2019 میں دو تہائی اکثریت ملنے کے بعد اس قابل ہوگئی کہ وہ1925 میں راشٹریہ سیوک سنگھ کے دستور کے بھارت کو ہندو ریاست میں ڈھال کر وہاں ہندو دھرم کو بطورنظام نافذ کرسکے لیکن یہ ہندوتواکا ادھورا ایجنڈا ہے جس میں ان کا ہدف بھارت میں فی الحال مسلمان اقلیت ہے۔ وہ عیسائی سکھ اقلیتوں کو اپنے لئے خطرہ نہیں سمجھتے لیکن مسلمانوں سے ضرور خوفزدہ ہیں۔ دوسری طرف ''مہا بھارت'' کی تکمیل کے حوالے سے پاکستان ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ مگر پاکستان پر براہِ راست حملہ آور ہونے سے ان کے پر جلتے ہیں۔ اسی لئے وہ سب سے پہلے بھارت کے اندر مسلمان اقلیت پر قابو پانا چاہتے ہیں۔ بابری مسجد کی شہادت سے لے کر گجرات میں مسلمانوں کے منظم قتلِ عام تک انہیں یہ ادراک ہو چکا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے نام پر نہ تو جمہوری حقوق اور جمہوریت کے علمبردار مغربی ممالک  اورامریکہ اپنے مفادات کے پیش نظر، زبانی کلامی مذمت کے علاوہ بھارت کے خلاف کسی طرح کی کوئی تادیبی کارروائی کریں گے نہ ہی عرب ممالک بھارتی مسلمانوں کی مدد کو آئیں گے۔ ہاں پاکستان ان کے لئے مشکلات ضرور کھڑی کرسکتا ہے جس کا اندازہ انہیں راشٹریہ سیوک سنگھ کی طرف سے منعقد کئے گئے سیمینار میں کی گئی تقاریر پر پاکستان کے شدید سفارتی ردِ عمل سے ہوگیا ہے۔نریندر مودی سرکار پاکستان کے ردِ عمل پر خاموش ہے کیونکہ اس موقع پر اس کی طرف سے پاکستان کے احتجاج کو مسترد کئے جانے کا مطلب عالمی سطح پر اس بات کی تصدیق ہوگا کہ مسلمان اقلیت کی نسل کشی کے لئے ہندو انتہا پسندوں کے عزائم کو بھارتی سرکارکی حمایت حاصل ہے۔ تاہم بھارتی سرکار کی خاموشی کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہندوتوا کے پیروکار اپنے ایجنڈے سے پیچھے ہٹ جائیں گے۔ راشٹریہ سیوک سنگھ بھارت میں غیر ہندوئوں ، خاص کر مسلمان اقلیت کے خلاف نفرت کو جس سطح پر لے آئی ہے، وہاں سے واپسی اب ان کے بس کی بات نہیں۔ اسی بات کو دیکھتے اور سمجھتے ہوئے بھارت میں بہت سے ہندو دانشور کھل کر اپنے اس خدشے کا اظہار کرنے لگے ہیں کہ بھارت تیزی سے ٹوٹ پھوٹ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ بھارت کی سلامتی مٹھی میں ریت کی طرح نکل رہی ہے جسے روکنا شاید اب بھارت کی فوج ، عدلیہ ، بیورکریسی اور پولیس جیسے اداروں کے لئے بھی ممکن نہ ہو، کیونکہ یہ سب ہندوتوا کے رنگ میں رنگے جاچکے ہیں۔ ||


مضمون نگارمعروف صحافی وتجزیہ کار ہیں۔

[email protected]



 

یہ تحریر 315مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP