قومی و بین الاقوامی ایشوز

ٹی ڈی پیز کی واپسی اور مستقبل کے چیلنجز

ٹی ڈی پیز کی واپسی اور مستقل بنیادوں پر بحالی کے لئے فاٹا امور کے ماہرین کی تجاویز پر مبنی ممتاز صحافی عقیل یوسفزئی کی ایک خصوصی تحریر

15جون 2014 کے روز شمالی وزیرستان کو جنگجوؤں سے آزاد کرانے کے لئے ’’آپریشن ضرب عضب‘‘ کے نام سے جس فوجی کارروائی کا آغاز کیا گیا تھا وہ فورسز کی بہتر حکمت عملی‘ حکومت کی سرپرستی اور قبائلی عوام کی قربانی کے باعث اب اپنے اختتام پر ہے۔ اگلے مرحلے کے طور پروزیرستان کی دو تحصیلوں کو متاثرین (آئی ڈی پیز) کی واپسی کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ توقع ہے کہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران 10 لاکھ کے لگ بھگ متاثرین کی مرحلہ وار واپسی مکمل ہو جائے گی۔ یہ اپنی نوعیت کی سب سے بڑی اور خطرناک ترین فوجی کارروائی تھی جس کی تکمیل میں فورسز کو تقریباً 10 مہینے لگ گئے اور فورسز کے علاوہ عوام کو بھی قربانیاں دے کر وزیرستان کی ’’بازیابی‘‘ کا ٹاسک پورا کرنا پڑا۔ رپورٹس کے مطابق جنوبی وزیرستان کے 90 فیصد علاقے اب فورسز اور حکومت کی عملداری میں آ چکے ہیں۔جبکہ آپریشن خیبر ون کے باعث نہ صرف یہ کہ خیبر ایجنسی سے جنگجوؤں کا صفایا کیا گیا ہے بلکہ بڑی حد تک پشاور کو بھی محفوظ بنایا جا چکا ہے۔ انہی کارروائیوں کا نتیجہ ہے کہ 16 دسمبر کے سانحۂ پشاور کے بعد شہر میں کوئی بڑی دہشت گرد کارروائی نہیں ہوئی اور سال 2007 کے بعد شہر اور صوبے کے عوام نے پہلی بار سکھ اور اطمینان کا سانس لیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق فاٹا کے اندر اب ایسا کوئی علاقہ نہیں رہا جہاں جنگجوؤں کا ماضی کی طرح کوئی قبضہ‘ ٹھکانہ‘ یا ہولڈ ہو۔ یہ تاثر بھی کسی حد تک پایا جاتا ہے کہ آپریشن کے دوران ہائی ویلیو ٹارگٹس کو اس طریقے سے نشانہ نہیں بنایا گیا جس کی ضرورت تھی یا توقع کی جا رہی تھی تاہم اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ انتہائی پیچیدہ علاقوں کو کلیئر کرایا گیا‘ مراکز تباہ کر دیئے گئے‘ لیڈر شپ کو بھاگنے پر مجبور کیا گیا‘ سیکڑوں جنگجو مارے گئے اور ہزاروں ٹن گولہ بارود اور اسلحہ ان سے چھین لیا گیا۔ یہ بھی سب کو ماننا پڑے گا کہ فورسز نے بھاگنے والوں کا ہر علاقے اور ہر سطح پر مسلسل پیچھا کیا اور ان افراد پر پاکستان کی سرزمین تنگ کر دی گئی جنہوں نے پاکستان کو بالعموم اور فاٹا کو بالخصوص لمبے عرصے سے یرغمال بنایا ہوا تھا۔ (متعدد دیگر سفارتی اور سیاسی راستے بھی اپنائے گئے) پڑوسی ملک افغانستان میں 40 کے قریب ممالک کی جدید افواج نے عرصہ تیرہ چودہ سال میں طالبان کے خاتمے کو یقینی نہیں بنایا جبکہ عراق‘ لیبیا‘ شام‘ یمن اور متعدد دیگر ممالک میں بھی یہی صورت حال ہے۔ ایسے میں یہ کہنا کہ چند ہفتوں یا مہینوں میں فاٹا سے طالبان کی بیخ کنی ہو سکے گی‘ شاید مناسب تقاضا یا مطالبہ نہیں ہے۔

مشاہدے میں آیا ہے کہ فوج نے بوجوہ وہ کام بھی کئے جو ان کے کرنے کے نہیں تھے۔ مثال کے طور پر متاثرین کی بحالی‘ ان کو امداد کی فراہمی اور ان کی مسلسل مدد یا نگہداشت جیسی ذمہ داریاں اخلاقی اور قانونی طور پر حکومتی اداروں کی تھیں تاہم یہ فرائض بھی فوج کو ادا کرنا پڑے۔ متاثرین کی واپسی کے بعد فوج کی اب ذمہ داری رہ جاتی ہے کہ وہ طالبان وغیرہ کو پھر سے گھسنے یا قبضہ نہ کرنے دیں اور اس مقصد کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں۔ آباد کاری اور ذہن سازی جیسے کام فوج کے مینڈیٹ یا ذمہ داریوں میں نہیں آتے بلکہ یہ کام قبائل کے تعاون سے دیگر حکومتی اداروں نے کرنے ہیں۔

سال 2014 کے دوران افغانستان کے مختلف علاقوں میں طالبان کے ہاتھوں تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار ہلاکتیں ہوئیں جن میں نیٹو، افغان فورسز اور پولیس کے تقریباً 5000 جبکہ 3699 عام شہری‘ سرکاری ملازمین شامل ہیں (اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ)۔ اس کے مقابلے میں پاکستان اس عرصے کے دوران ہلاکتوں کی تعداد کے تناسب سے اس کے باوجود کافی بہتر رہاہے کہ طالبان کے بعض گروپوں نے نام نہاد مذاکراتی عمل کے دوران بھی حملے جاری رکھے اور فورسز نے حکومت کی خواہش کے احترام میں کئی مہینوں تک معمول کی اپنی کارروائیوں سے بھی گریز کئے رکھا۔ یہی وہ عرصہ تھا جس کے دوران جنگجو اور ان کے کمانڈرز نرمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مذاکرات کی آڑ میں وزیرستان سے دیگر مقامات خصوصاً افغانستان منتقل ہونا شروع ہو گئے۔

افغانستان کے مقابلے میں سال 2014 کے دوران پاکستان کے اندر طالبان کے حملوں میں کل 1730 افراد جاں بحق ہوئے تاہم اس عرصے میں فورسز نے پورے ملک میں 130 چھوٹی بڑی کارروائیاں کر کے تقریباً 1950 جنگجوؤں کو ہلاک جبکہ اتنی ہی تعداد میں گرفتاربھی کیا۔ بہتر حکمت عملی کے باعث 2014 کے دوران خودکش حملوں کی تعداد میں 2013 کے مقابلے میں 40 فیصد کمی واقع ہوئی (PIPS Report)

اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ حالیہ کارروائیاں (15جون کے بعد) نائن الیون کے بعد پاکستان کے اندر کی جانے والی کارروائیوں میں سب سے مؤثر اور نتیجہ خیز ثابت ہوئیں۔ فورسز نے جہاں ایک طرف کم ترین عوامی اور فوجی نقصان کے ساتھ ذمہ دارانہ کارروائیاں کر کے پورے ملک میں جنگجوؤں کا پیچھا کیا‘ وہاں دوسری طرف 10 لاکھ کے لگ بھگ متاثرین کو تحفظ کی فراہمی کے علاوہ ضروریات اور سہولیات کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جبکہ اس امر پر بھی توجہ دی گئی کہ قبائلیوں سمیت پورے ملک کے عوام اور سیاسی قوتوں کو یہ یقین دلایا جائے کہ یہ آپریشن عوام کے تحفظ کی خاطر کئے جا رہے ہیں۔اس رویے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ماضی کے برعکس اس بار عوام اور ان کے نمائندے بھی فوج اور حکومت کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے اور یوں کسی بڑے نقصان یا تعطل کے بغیر وزیرستان اور دیگر علاقوں میں مؤثر کارروائیاں کی گئیں۔

سانحۂ پشاور نے قومی اتفاق رائے کی راہ میں حائل بعض رکاوٹیں بھی دور کر دیں اور یوں پہلی بار حکومت‘ اہل سیاست‘ فوج اور عوام اس نکتے پر اکٹھے ہو گئے کہ پاکستان کودہشت گردی سے پاک کرانا ناگزیر ہو چکا ہے۔ اسی جذبے کے تحت پڑوسی اور دوست ممالک خصوصاً افغانستان کے ساتھ بحالئ اعتماد کے ایک تیز ترین عمل کا آغاز کیا گیا اور ایک ایسا ماحول تخلیق کیا گیا جس کا چند ماہ قبل تک تصور بھی ممکن نہ تھا۔ اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ افغانستان اور دیگر اتحادیوں کا اعتماد حاصل کر کے ان کو تعاون پر آمادہ کیا جائے اور کراس بارڈر ٹیررازم کے خاتمے کے لئے مشترکہ کوششوں کے سلسلے کا آغاز کیا جائے۔ اس کام میں بھی کامیابی حاصل ہوئی اور فریقین نے متعدد مشترکہ آپریشن بھی کئے۔ انٹیلی جنس شیئرنگ کی ایسی ہی ایک کوشش کے نتیجے میں 11 مارچ 2015 کو افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں پاکستانی طالبان کے تین اہم ترین کمانڈروں کو نشانہ بنایا گیا جس نے طالبان کو ہلا کر رکھ دیا۔ اگلے روز ایک اور کارروائی کے دوران پاکستان ایئرفورس نے وادی تیراہ میں 48شدت پسندوں کو نشانہ بنایا۔ یوں 24 گھنٹے کے اندر دو بڑے ٹارگٹ نشانہ بنائے گئے۔ اس تناظر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ 15 جون 2014 کے بعد بہت کچھ بدل چکا ہے اور مزید اچھی خبروں کی پیش گوئیاں بھی کی جا رہی ہیں کیونکہ اب واقعتا پہلی والی صورت حال نہیں رہی۔

ہر ایسی کارروائی یا پالیسی کے دو بڑے پہلو ہوا کرتے ہیں ۔ ایک یہ کہ اہداف کس طریقے اور کتنے عرصے میں حاصل کئے گئے اور بعد میں اس کے نتائج کیا نکلیں گے اور دوسرا یہ کہ اس علاقے یا خطے کے امن کو مستقل بنیادوں پر کس طرح قائم یا یقینی بنایا جائے۔ ماہرین کے مطابق پہلا مرحلہ تو مکمل ہو چکا اور متاثرین کی واپسی اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ وزیرستان کو کلیئر کرایا جا چکا ہے۔

دوسرے مرحلے کے دوران فوج کا کردار عملاً محدود ہو جاتا ہے اور حکومتی اداروں اور عوام کا کردار بڑھ جاتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امن کا قیام مستقل بنیادوں پر فورسز کا نہیں بلکہ حکومت کے دیگر اداروں اور عوام کی ذمہ داریوں کے ذریعے ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ فوج نے بوجوہ وہ کام بھی کئے جو ان کے کرنے کے نہیں تھے۔ مثال کے طور پر متاثرین کی بحالی‘ ان کو امداد کی فراہمی اور ان کی مسلسل مدد یا نگہداشت جیسی ذمہ داریاں اخلاقی اور قانونی طور پر حکومتی اداروں کی تھیں تاہم یہ فرائض بھی فوج کو ادا کرنا پڑے۔ متاثرین کی واپسی کے بعد فوج کی اب ذمہ داری رہ جاتی ہے کہ وہ طالبان وغیرہ کو پھر سے گھسنے یا قبضہ نہ کرنے دیں اور اس مقصد کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں۔ آباد کاری اور ذہن سازی جیسے کام فوج کے مینڈیٹ یا ذمہ داریوں میں نہیں آتے بلکہ یہ کام قبائل کے تعاون سے دیگر حکومتی اداروں نے کرنے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دیگر ادارے ایسا کرنے کی نیت یا صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں۔ بدقسمتی سے ماضی کے حالات کے تناظر میں اس کا جواب نفی میں ہے اور اب بھی ایسی کوئی نیت‘ صلاحیت یا تیاری نظر نہیں آ رہی۔ اس ضمن میں ہم سوات کی مثال دے سکتے ہیں جو فاٹا یا وزیرستان کے مقابلے میں صوبائی حکومت کی عملداری کے باعث زیادہ بہتر تھا۔ آپریشن کے بعد وہاں تعمیر نو کے سلسلے میں سول اداروں کی کارکردگی انتہائی خراب‘ سست اور غیر فعال رہی۔ سول اداروں نے وہ ذمہ داریاں بھی پوری نہیں کیں جن کے لئے یہ قائم ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ کئی برس گزرنے کے بعد بھی فوج وہاں پر بہت سی ذمہ داریاں نبھا رہی ہے‘ یا سول اداروں کی معاونت کر رہی ہے۔ فاٹا کا انتظامی اور سیاسی ڈھانچہ صوبے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ سست‘ نااہل اور فرسودہ ہے۔ ایسے میں اگر تعمیر نو اور ذہن سازی کے لئے تیز ترین عمل اور اقدامات کا آغاز نہیں کیا گیا تو خدشہ ہے کہ صورت حال پھر سے خراب ہو جائے گی اور اتنی قربانیاں رائیگاں جائیں گی۔

(ماضی میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے)

قبائل‘ حکومتی اداروں اور سیاسی قوتوں کو اب یہ رویہ ہر صورت میں ترک کرنا پڑے گا یعنی کہ فوج ہی نے سب کام کرنے ہیں۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا اور ساتھ میں پروپیگنڈے اور مبینہ الزامات کی روش بھی جاری رکھی گئی تو اس کے انتہائی منفی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اور حالات کے ستائے ہوئے عوام کا سیاسی اشرافیہ اور اپنے اداروں پر رہا سہا اعتماد بھی ختم ہو جائے گا۔ ریاست کو اب کرنا کیا چاہئے اس بارے میں حالات پر گہری نظر رکھنے والے ماہرین نے مختلف آرا کا اظہار کیا ہے۔

دفاعی تجزیہ کار بریگیڈیئر (ر) محمود شاہ کے مطابق فوج کا کام سرحدوں کو محفوظ رکھنے اور ایسے عناصر سے ملک کو صاف رکھنے کی حد تک ہے ۔ نیشنل ایکشن پلان تقریباً 20 نکات پر مشتمل ہے اور اس پر بھی سیاسی قوتوں نے اتفاق رائے کا اظہار کیا ہے۔ ان 20 نکات میں سے تقریباً 15 ایسے ہیں جن پر عمل کرانا حکومت اور اہل سیاست کا کام ہے۔ سوال یہ ہے کہ اتنے عرصے کے دوران ان نکات پر کس قدر کام ہوا اور اس کے اثرات یا نتائج کیا نکلے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اہل اقتدار اور اہل سیاست اب بھی کوئی بڑی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں اور یہ ایک بڑا المیہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں محمود شاہ نے کہا کہ اب تک جو کچھ ہوتا رہا اس کا زیادہ تر کریڈٹ فوجی قیادت ہی کو جاتا ہے۔ آپریشن کو کامیاب بنانا‘ متاثرین کی نگہداشت کرنا اور افغانستان کے علاوہ امریکہ اور چین کا اعتماد حاصل کرنا بھی اعلیٰ فوجی قیادت کی محنت اور نیک نیتی کا نتیجہ ہے۔ فوجی قیادت عوام اور سیاسی قیادت کو ساتھ لے کر جس طریقے سے آگے بڑھی اور جو نتائج دے گئی‘ ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دیگر ریاستی ادارے اور سیاسی قوتیں بھی اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں اور مستقل امن اور استحکام کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔

قبائلی امور کے نامور صحافی ناصر داوڑ کے مطابق وہ 15 سال سے قبائل کی رپورٹنگ کرتے آئے ہیں۔ بنوں میں موجودفوجی حکام اور اہلکاروں نے جس طریقے سے متاثرین کا خیال رکھا‘ وہ قابل ستائش ہے۔ اس رویے کے باعث پہلی دفعہ وزیرستان کے عوام اور فوج کے درمیان اعتماد سازی اور انڈر سٹینڈنگ پروان چڑھی اور دوریاں ناقابل یقین حد تک کم ہو گئیں۔ متاثرین کی سوچ میں دو بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ ایک یہ کہ پاکستان کی فوج ان کی دشمن نہیں بلکہ دوست اور نگہبان ہے جبکہ دوسری یہ کہ جن لوگوں نے ان کو کسی بھی جواز کی آڑ میں یرغمال بنایا وہ ان کے دوست نہیں تھے۔ ایسی صورت حال میں جب یہ لاکھوں لوگ واپس جائیں گے تو ماحول یکسر تبدیل ہو گا۔ اب یہ حکومت کے رویے پر ہے کہ وہ اس جذبے کو کس طرح قائم رکھتی ہے۔ ناصر داوڑ کے مطابق فوج کو چاہئے کہ وہ متاثرین کی واپسی کے بعد بھی ان کے معاملات سے لاتعلق نہ رہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ عوام فرسودہ پولیٹیکل انتظامیہ سے پہلے ہی نالاں ہیں۔ اب ان کو نیا تجربہ ہو چکا ہے اور وہ اپنے حقوق جان چکے ہیں۔ اگر ان کو اسی نظام کے تحت ڈیل کرنے کا راستہ اپنایا گیا تو ان کو مایوسی ہو گی۔ تعلیم‘ صحت‘ مواصلات اور تعمیر نو کے تمام منصوبوں اور محکموں میں فوج کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ اس ضمن میں مانیٹرنگ کے آپشن پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ جو ہم آہنگی فوج اور قبائلی عوام کے درمیان استوار ہو گئی ہے اس کے بعد عوام کی توقعات بھی بڑھ گئی ہیں۔ اگر ان کو ساتھ لے کر چلا جائے اور ان کو پولیٹیکل انتظامیہ کے رحم و کرم پر نہ چھوڑا جائے تو مستقبل قریب کا وزیرستان قطعاً مختلف ہو گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بنوں کیمپ میں جس رویے کا فوجی حکام نے مظاہرہ کیا اگر وہ بعد میں بھی قائم رہا تو اس کے بہترین نتائج برآمد ہوں گے۔

سینئر تجزیہ کار اور ٹی وی میزبان شمس مہمند نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ فاٹا میں وسیع ترین سیاسی اور انتظامی اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ فاٹا کو موجودہ سٹیٹس کے ذریعے چلانا اب ممکن ہی نہیں رہا۔ اس کا سٹیٹس تبدیل کئے بغیر مسائل کا مستقل حل نہیں نکلے گا۔ کینسر کا علاج ڈسپرین کی گولی سے ممکن ہی نہیں۔ فاٹا کو حکومتی اور سیاسی سطح پر پرانے طریقوں سے چلانے کا دور گزر چکا۔ اب بڑی تبدیلیاں لانی ہوں گی اور یہ کام فوج یا عوام کا نہیں۔ حکومت اور سیاسی قیادت نے مستقل بنیادوں پر اقدامات نہیں کئے تو آپریشن بے معنی ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق 16 دسمبر 2014 کے سانحۂ پشاور نے قوم اور سٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کیا ہے۔ اب اس کے ثمرات پر توجہ دی جائے۔

حال ہی میں قبائلی عمائدین کا پشاور میں جرگہ کرانے والی پختونخوا اولسی تحریک کے ترجمان نے اپنا مؤقف بیان کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فاٹا کے لئے جو امداد آرہی ہے وہ یہاں کے عوام پر خرچ کی جائے اور اس بات کو بھی یقینی بنایا جائے کہ اکنامک کو ریڈور کے منصوبے سے فاٹا کو بھی مستفید ہونے دیا جائے۔ فاٹا کے عوام کو حالات کے جبر نے طالبان کے شکنجے میں دے رکھا تھا۔ وہ پرامن لوگ ہیں اور تعلیم و ترقی چاہتے ہیں۔ اگر ان کے حقوق کا تحفظ کیا گیا اور اصلاحات کی گئیں تو مستقل بنیادوں پر امن قائم ہو جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انتہاپسندی کے خاتمے کے لئے خارجہ پالیسی میں تبدیلی اور پراکسی وار کا خاتمہ بھی لازمی ہے۔ ریاستی اداروں کو اسی جانب خصوصی توجہ دینی ہو گی۔

سینئر تجزیہ کار اور اینکر حسن خان سے جب ان کی رائے پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ ماضی کے مقابلے میں ریاست کی پالیسیاں اور اقدامات حقیقت پسندانہ اور عملی ہیں جبکہ افغانستان کے ساتھ تعلقات بھی بہت بہتر ہو گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں یہ تلخ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ عسکریت پسندی اور اُن کے سرچشمے اپنی پوری نظریاتی اور عددی قوت کے ساتھ موجود ہیں اور اب یہ لوگ نئی صف بندیاں کرنے میں مصروف ہیں۔ ان کے باہمی اختلافات بھی ختم ہو رہے ہیں اور عالمی سطح پر بھی ان کے حامی موجود ہیں۔ اس لئے ہمیں کسی قسم کی خوش فہمی نہیں رہنی چاہئے بلکہ اس کی جانب توجہ دینی ہے کہ مستقل بنیادوں پر کیا اقدامات اور پالیسیاں اپنائی جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ امن کے قیام سے زیادہ مشکل کام یہ ہے کہ اس کو برقرار کیسے رکھا جائے۔

ان ماہرین کے علاوہ بعض صاحب الرائے قبائلی باشندوں سے جب ان کی رائے پوچھی گئی تو انہوں نے مختلف تجاویز پیش کیں اور مطالبہ کیا کہ امن و امان کے ساتھ تعمیر نو پر خصوصی توجہ دی جائے۔

فاٹا میں تعمیرِ نو اور دیر پا امن کے لئے تجاویز
1فاٹا کو الگ صوبہ بنایا جائے یا اس کو صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ بنایا جائے تاکہ یہاں کے عوام کو ملک کے دیگر شہریوں کی طرح حقوق حاصل ہوں۔ اس کے لئے صدرمملکت کا ایک حکم ہی کافی ہے۔

2کرپٹ پولیٹیکل انتظامیہ اور ان کے مراعات یافتہ افراد سے عوام کو چھٹکارا دلایا جائے جبکہ چیک اینڈ بیلنس کا ایسا نظام لایا جائے جس سے اداروں کی فعالیّت کو ممکن بنایا جا سکے۔

3فاٹا کو این ایف سی ایوارڈ کا حصہ بنایا جائے اور بجٹ کی شرح کو بڑھایا جائے۔ ممبران اسمبلی ‘ پولیٹیکل حکام اور مراعات یافتہ ملکان کو قابل مواخذہ بنایا جائے اور عدالتی نظام کو جدید بنایا جائے۔

4وزیرستان سمیت تمام قبائلی ایجنسیوں میں انڈسٹریل سٹیٹ بنائے جائیں۔ مثال کے طور پراگر صرف مہمند ایجنسی کی ماربل انڈسٹری کو جدید بنا دیا جائے تو اس کی آمدنی سے پورے فاٹا کے اخراجات پورے ہو سکتے ہیں۔

5قبائلی ممبران پارلیمنٹ کو فاٹا کی قانون سازی میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے اور سیاسی سرگرمیوں کو یقینی بنایا جائے۔

6فاٹا اور بندوبستی علاقوں کی سرحدوں کی حفاظت کے لئے قائم فورس ایف سی کو وفاق اور دیگر صوبوں سے واپس بلایا جائے اور غیرملکیوں کی آمد کے تمام راستے اور امکانات ختم کرنے کے اقدامات اٹھائے جائیں۔

7ملکان اور ان کے اثر و رسوخ کو سکولوں اور دیگر اداروں سے ختم کرنے اور فروغ تعلیم کے لئے سپیشل ٹاسک فورس تشکیل دی جائے۔

سچی بات تو یہ ہے کہ وزیرستان آپریشن کی کامیابی اور دیگر متعدد اقدامات نے حکومت کو ایک بڑا موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ فاٹا، پختونخوا اور پاکستان میں مستقل امن اور تعمیر و ترقی کے لئے بروقت اور مؤثر پالیسیاں بنائے۔ [email protected]

یہ تحریر 292مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP