قومی و بین الاقوامی ایشوز

دو ہزار سترہ کے دوران پاک افغان تعلقات کا متوقع منظرنامہ

سال 2017جہاں پاکستان میں انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کی کوششوں کے حوالے سے فیصلہ کن برس ثابت ہو سکتا ہے وہاں ماہرین کا خیال ہے کہ خطے میں نئے اتحاد وں اور صف بندی کے پس منظر میں بھی یہ سال بہت اہمیت کا حامل ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ 2017کے دوران پاکستان کی سکیورٹی فورس کی جاری کارروائیوں کے نتیجے میں ملک سے دہشت گردی کے خاتمے میں بہت بڑی پیش رفت ہو گی کیونکہ ایسا کرنا نہ صرف پاکستان میں امن کے قیام کے لئے بہت لازمی ہے بلکہ ملک کے اندر جس قسم کے عالمی نوعیت کے منصوبے زیرتکمیل ہیں ان کی کامیابی کے لئے بھی مستقل امن ناگزیر ہو چکا ہے۔ اگرچہ بعض ماہرین کی رائے ہے کہ برسوں سے پنپنے والی دہشت گردی یا انتہاپسندی کے مکمل خاتمے میں مزید کئی سال لگ سکتے ہیں تاہم اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ جس سنجیدگی اور تیزی کے ساتھ انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے کوششیں کی جا رہی ہیں، قومی سطح پر موجود ہم آہنگی اور اتفاق رائے کا ماحول قائم رہا تو اس ناسور کے خاتمے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ یہ درست ہے کہ بعض عالمی اور علاقائی قوتیں اب بھی اس خطے میں اپنے اپنے مفادات کی جنگیں لڑنے میں مصروف ہیں تاہم یہ بھی غلط نہیں ہے کہ پاکستان کے اندر انتہاپسندوں کے نہ صرف بڑے مراکز تباہ کئے جا چکے ہیں۔ بلکہ عوام پر بھی یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ پاکستان میں اس طرز فکر کے حامل لوگوں کی گنجائش باقی نہیں رہی۔ چند برس قبل تک ایسے عناصر کے لئے بہت سے حلقوں میں ہمدردیاں پائی جاتی تھیں مگر اب ایسا نہیں ہو رہا اور اجتماعی سوچ اور رویوں میں کئی بنیادی تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اکثر ماہرین پاکستان میں امن کے قیام کے حوالے سے کافی پرامید اور مطمئن ہیں اور ان کا خیال ہے کہ کہ اگر ادارہ جاتی سطح پر قومی اتفاق رائے کے جذبے کے تحت نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کرایا گیا تو ملک میں بہت مثبت تبدیلیاں رونما ہوں گی اور عالمی سطح پر پاکستان کا امیج بھی بہتر ہو جائے گا۔ نئی فوجی قیادت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے جس عزم کا اظہار کرتے ہوئے سابقہ لائحہ عمل کے تسلسل میں جس نوعیت کے اقدامات کئے ہیں وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں رکھی جائے گی۔ 12دسمبر کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پورا دن کور ہیڈکوارٹرز پشاور میں گزاراجہاں انہوں نے اب تک کی ان کارروائیوں اور اقدامات کی تفصیلات معلوم کیں جو کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران دہشت گردی کے خاتمے کے لئے فاٹا اور صوبہ خیبرپختونخوا میں کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے پشاور میں قیام کے دوران افغانستان کے ساتھ سرحدی معاملات، افغان مہاجرین کی واپسی اور بارڈرمینجمنٹ کے ایشوز پر بھی کور کمانڈر پشاور اور دیگر اعلیٰ حکام سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور ان کو ہدایت کی کہ جو لائحہ عمل دو برس قبل اختیار کیا گیا تھا اس کو آگے بڑھاتے ہوئے اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ فاٹا اور پختونخوا سے دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ ہو اور ان قوتوں کا بھی راستہ روکا جائے جو کہ افغان سرزمین کو بوجوہ پاکستان کے خلاف استعمال کرتی آ رہی ہیں۔ انہوں نے جاری اقدامات اور کارروائیوں کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت کے علاوہ فاٹا کے متاثرین کی جلد واپسی اور بحالی سے متعلق اقدامات کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے ہدایت کی کہ بحالی کے کاموں میں کسی قسم کی کسر نہ چھوڑی جائے۔ یہ احکامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ عسکری قیادت اب فاٹا کو ہر قیمت پر کلیئر کرا کر وہاں امن کے قیام کے علاوہ نئے دور کے آغاز کے عزم میں سنجیدہ ہے اور غالباً اسی عزم کا نتیجہ ہے کہ وفاقی حکومت دیگر اسٹیک ہولڈرز اور سیاسی قوتوں کے ساتھ مل کر فاٹا میں وسیع تر بنیادی اصلاحات لانے کے لئے کوشش کر رہی ہے۔ فاٹا کومین سٹریم پالٹیکس کا حصہ بنانے کے بعد افغانستان کی سرحد سے متصل اس نازک جغرافیائی خطے کا پورا ڈھانچہ تبدیل ہو کر رہ جائے گا۔ اور شاید اسی کا نتیجہ ہے کہ بعض قوتیں اس تبدیلی یا کوشش کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوششیں کر رہی ہیں۔ جو قوتیں فاٹا میں مجوزہ اصلاحات کی مخالفت کر رہی ہیں ان میں اندرونی حلقوں کے علاوہ بعض بیرونی ہاتھ بھی کارفرما ہیں کیونکہ فاٹا بعض غیر ملکی قوتوں کے مفادات کے تناظر میں اب بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ وہ قوتیں چاہتی ہیں کہ یہاں بدامنی کے علاوہ سٹیٹس کو پرمبنی قوانین اور رویے موجود رہیں۔

ہم غازی ۔۔۔۔


ہم لعل جواہر مٹی کے
ہم رِم جھم رِم جھم برکھا میں
ہم چاندنی پیارے چندا کی
ہم بامِ فلک کا تارا ہیں
ہم خاکی‘ بحری اور ہم ہیں شاہپر
یہ مٹی‘ پانی اور فلک ہیں راہگزر
ہم قربان اپنی دھرتی پہ
اس ملک کے ہم رکھوالے ہیں
ہم اپنے وطن کے غازی ہیں
ہم ہوش و خرد کے پالے ہیں
ہم خاکی‘ بحری اور ہم ہیں شاہپر
یہ مٹی‘ پانی اور فلک ہیں راہگزر
یہ دھرتی ماں تو سانجھی ہے
ہم مل کے اس کو شاد کریں
ہاتھوں میں دے کے ہاتھ چلیں
اور آہنی اِک دیوار بنیں
ہم خاکی‘ بحری اور ہم ہیں شاہپر
یہ مٹی‘ پانی اور فلک ہیں راہگزر

سمیعہ نعمت

 

متعدد علاقائی اور عالمی طاقتیں افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے میں مصروف ہیں اور افغانستان ان طاقتوں کے لئے ایک سازگار میدان بنا ہوا ہے۔ یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ اگر افغانستان کے ساتھ معاملات درست نہیں ہوتے اور بعض طاقتیں افغان قیادت کو پاکستان کے خلاف اکسانے میں مصروف عمل رہیں تو پاکستان میں امن کی کوششوں کو کس نوعیت کے چیلنجز درپیش ہوں گے؟ ماہرین کا خیال ہے کہ اس ضمن میں بھی 2017 بہت اہم سال ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان اور بعض دیگر اہم ممالک ایک نئے بلاک یا نئی علاقائی صف بندی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

 

بارڈر مینجمنٹ کے سلسلے میں افغان حکومت کے تعاون سے گریز کے نقصانات خود افغانستان بھی اٹھاتا آیا ہے۔ پاکستان سے گئے انتہا پسند نہ صرف پاکستان میں کارروائیاں کر کے آتے ہیں بلکہ وہ افغانستان کے اندر کارروائیوں میں بھی حصہ لیتے ہیں اور وہ دوسرے ممالک کے لئے بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ افغان قیادت کو اس مسئلے کے حل کے لئے بھی ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔

 

پاکستان کے امن کے اور تین اہم پہلوؤں یا عوامل میں ایک یہ ہے کہ یہاں پر اندرونی کارروائیوں کے ذریعے نان اسٹیٹ ایکٹرز کا خاتمہ ، دوسرا سرحدوں کو محفوظ بنانا اور پڑوسیوں سمیت بعض عالمی قوتوں کے عمل دخل اور حقیقی کردار کا راستہ روکنا جبکہ تیسرا اہم پہلو یہ ہے کہ افغانستان کے ساتھ معاملات کو کیسے ہینڈل کیا جائے تاکہ جو قوتیں اس پڑوسی ملک کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہی ہیں ان کے عزائم کو ناکام بنایاجائے۔ پہلے کام یا پہلو کو اگر سامنے رکھا جائے تو اس کو کافی حد تک اس کے باوجود اطمینان بخش کہا جا سکتا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے دائرے کو دیگر علاقوں یا صوبوں تک پھیلانے کی اشد ضرورت ہے۔ جہاں تک سرحدوں کو محفوظ بنانے کا تعلق ہے اس پر بھی ممکنہ طور پر کام جاری ہے۔ سب سے اہم مسئلہ تیسرے فیکٹر کے بارے میں درپیش ہے کہ افغانستان کے ساتھ معاملات کو کیسے درست کیا جائے کیونکہ متعدد علاقائی اور عالمی طاقتیں افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے میں مصروف ہیں اور افغانستان ان طاقتوں کے لئے ایک سازگار میدان بنا ہوا ہے۔ یہ سوال بھی بہت اہم ہے کہ اگر افغانستان کے ساتھ معاملات درست نہیں ہوتے اور بعض طاقتیں افغان قیادت کو پاکستان کے خلاف اکسانے میں مصروف عمل رہیں تو پاکستان میں امن کی کوششوں کو کس نوعیت کے چیلنجز درپیش ہوں گے؟ ماہرین کا خیال ہے کہ اس ضمن میں بھی 2017 بہت اہم سال ثابت ہو سکتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان اور بعض دیگر اہم ممالک ایک نئے بلاک یا نئی علاقائی صف بندی کی جانب بڑھ رہے ہیں اور یہ کوشش کئی سالوں سے جاری ہے کہ عالمی قوتوں کے چنگل سے نکل کر علاقائی ترقی، استحکام اور امن کے لئے ایک روڈ میپ تیار کیا جائے۔ اس منصوبے میں چین کا کردار بہت اہم ہے جبکہ روس بھی اب یہی چاہتا ہے کہ وہ خطے میں اپنا ایک مثبت کردار ادا کرے کیونکہ سی پیک سمیت متعدد دیگر منصوبوں کے بعد جنوبی ایشیا اور وسط ایشیا کے درمیان عالمی ترقی اور ضروریات کے پس منظر میں جو منصوبے زیرتکمیل ہیں ان سے روس سمیت متعدد دیگر ممالک کو دور نہیں رکھا جا سکتا۔ اگرچہ افغانستان امریکہ اور بھارت کے درمیان یہ انڈرسٹیڈنگ موجود ہے کہ پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے تاہم پاکستان کی جغرافیائی اہمیت کے تناظر میں اس کو دیوار سے لگانے کی کوشش علاقائی منظر نامے کے مستقبل کے حوالے سے ممکن نہیں ہے۔

 

چین اور روس کے پاکستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے مراسم اور سنٹرل ایشیا تک تجارت کی رسائی کی اہمیت کو اگر سامنے رکھا جائے تو ثابت یہ ہوتا ہے کہ بھارت جس مقصد کے لئے افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنا چاہ رہا ہے وہ وسیع تر جغرافیائی اور اقتصادی اہمیت اور منظر نامے کے تناظر میں افغانستان کے لئے سومند ثابت نہیں ہو سکتا۔ اگرچہ افغان قیادت اب بھی پاکستان کے بجائے بھارت پر زیادہ اعتماد کر رہی ہے تاہم زمینی حقائق اور علاقائی ضروریات افغانستان کو اس سطح پر لے جانے کی اجازت نہیں دے رہی ہیں جہاں وہ مستقل یا کلی طور پر بھارت پر انحصار کر کے پاکستان کے ساتھ دشمنی کا رستہ اختیار کرے۔ قدرتی طور پر افغانستان کا زیادہ تر انحصار اب بھی پاکستان پر ہے اور مستقبل کے خوشحال افغانستان کے لئے بھی لازمی ہے کہ پاک افغان تعلقات بہتر اور دوستانہ ہوں۔ سنٹرل ایشیا دنیا بھر کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور افغانستان بھی چاہ رہا ہے کہ اس اہمیت سے وہ بھی فائدہ اٹھائے تاہم ایسا بوجوہ تب تک ممکن نہیں ہے جب تک پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بہتر نہ ہوں۔ پاکستان کے لئے بھی سنٹرل ایشیا کے تناظر میں ایک پُرامن دوست اور مستحکم افغانستان ناگزیر ہے۔ تاہم یہی وہ فیکٹر ہے جس پر بھارت اور بعض دیگر قوتوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں اور وہ کوشش کر رہی ہیں کہ خطے میں عدم استحکام موجود رہے تاکہ ایک نئے دور کی جانب کی جانے والی پیش رفت اور اس سے متعلقہ منصوبوں کا راستہ روکا جائے۔


حال ہی میں افغان سینٹ نے انکشاف کیا ہے کہ طالبان کو ایران اور امریکہ کی معاونت اور سرپرستی حاصل ہے۔ جبکہ اس سے قبل قندوز میں افغان فورسز کی ایک کارروائی کے دوران گرفتار کئے گئے بعض طالبان کمانڈرز سے ایسی دستاویزات برآمد کی گئیں جن سے ثابت ہوتا تھا کہ افغان طالبان کو بھارت اور بعض دیگر ممالک کے علاوہ بعض اسلامی ممالک بھی سپورٹ کرتے آ رہے ہیں۔ ایسے میں اب یہ کہنا زیادہ اہم نہیں رہا کہ افغانستان کے حالات کی ذمہ داری صرف پاکستان پر ڈالنے کے روائتی طریقے یا رویے کو آگے بڑھا کر دوسروں کے علاوہ اپنی کمزوریوں پر پردہ ڈالا جا سکے۔ یہ بات اب سب کو معلوم ہو چکی ہے کہ افغانستان میں مصروف عمل متعدد ’’ہاتھ‘‘ نہ صرف طالبان وغیرہ کی معاونت کر رہے ہیں بلکہ وہ افغانستان اور پاکستان کے تعلقات خراب کرنے میں بھی مصروف عمل ہیں تاکہ بد اعتمادی کو فروغ دے کر مجوزہ روڈ میپ کو ناکامی سے دو چار کیا جائے۔ موجودہ افغان قیادت اقتصادی ترقی کا ایجنڈہ لے کر برسراقتدار آئی تھی۔ اس کے صدر سمیت متعدد اہم لوگ ماہرین اقتصادیات کے طورپر اہم عالمی عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں اور غالباً اسی کا نتیجہ ہے کہ ڈاکٹر اشرف غنی اقتصادی استحکام پر بھرپور توجہ دے رہے ہیں۔ یہ کام تب تک ایک مستقل پلان کی شکل اختیار نہیں کر سکتا جب تک پاکستان اور افغانستان کے تجارتی معاملات اور روٹس کے استعمال کی پالیسی ہموار نہ ہو۔ افغانستان بھارت پرعارضی فائدے کے لئے تو انحصار کر سکتا ہے اور دونوں ممالک بعض دہشت گرد گروپوں کے حوالے سے اتحادی بھی بن سکتے ہیں مگر خطے کے مستقل اور پائیدار امن کے لئے پاکستان ہی وہ ملک ہے جس نے مرکزی اور کلیدی کردار ادا کرنا ہے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان کے اندر ان تمام گروپوں کا خاتمہ لازمی ہے جو کہ پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک میں کارروائیاں کر رہے ہیں یا کرتے تھے۔ تاہم یہ بھی لازمی ہے کہ افغانستان کی سرزمین بھی ان قوتوں یا گروپوں کو پناہ گاہیں فراہم نہ کرے جو کہ پاکستان میں لاتعداد کارروائیاں کرتے آئے ہیں اور ان کی اعلیٰ قیادت افغانستان میں چھپی ہوئی ہے۔ بارڈر مینجمنٹ کے سلسلے میں افغان حکومت کے تعاون سے گریز کے نقصانات خود افغانستان بھی اٹھاتا آیا ہے۔ پاکستان سے گئے انتہاپسند نہ صرف پاکستان میں کارروائیاں کر کے آتے ہیں بلکہ وہ افغانستان کے اندر کارروائیوں میں بھی حصہ لیتے ہیں اور وہ دوسرے ممالک کے لئے بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ افغان قیادت کو اس مسئلے کے حل کے لئے بھی ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے۔


3اور 4 دسمبرکو امرتسر میں ہونے والی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کے دوران افغان صدر نے جو کلمات ادا کئے اور بھارتی وزیراعظم نے بین الاسطور اس کی جو تائید کی وہ جذباتی رد عمل کی حد تک بھی غلط ہے اور مسئلے کے حل میں بھی اس رویے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ یہ کہنا کہ افغان مسئلے کی کنجی واقعتا پاکستان کے ہاتھ میں ہے زمینی حقائق کے برعکس ہے۔ افغان صدر کا یہ کہنا بھی حقیقت پر مبنی نہیں ہے کہ اگر پاکستان چاہے تو پانچ ماہ میں افغانستان میں امن قائم ہو جائے گا۔ یہ ایک جذباتی رد عمل تو ہو سکتا ہے عملاً یہ درست نہیں ہے۔ اگر مسئلہ اتنا ہی آسان اور سادہ ہوتا تو پاکستان گزشتہ کئی برسوں سے اپنے علاقوں میں ہزاروں کارروائیاں کیوں کرتا اور یہ سلسلہ، ریکارڈ جانی اور مالی نقصان کے باوجود، اب تک کیوں جاری رہتا۔ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس کے حل کے لئے بہت سے مراحل پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔


بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان کو افغانستان کی ناراضگی اور خدشات کے خاتمے کے لئے اب بھی سنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں۔ ان کے خیال میں بڑے بھائی اور ذمہ دار ملک کے طورپر پاکستان کے فرائض کئی گنا زیادہ ہیں اور اگر پاکستان نے بھی وہی رویہ اپنایا جو کہ افغانستان نے اختیار کیا ہوا ہے تو اس کا تمام فائدہ بھارت کو ہو گا اور پاکستان کو اس فائدے کا راستہ روکنے کے لئے افغانستان کو اپنے قریب لانا چاہئے۔ غالباً اسی کا نتیجہ ہے کہ حکومت پاکستان کے پشتون لیڈروں اور بعض وزرا اورٹیکنوکریٹس پرمشتمل فرنٹیئرز آف افغان نامی گروپ سے کام لینے کی کوشش کر رہی ہے جو کہ سابق وزیرداخلہ اور رکن قومی اسمبلی آفتاب خان شیرپاؤ کی قیادت میں کئی بار دونوں ممالک کو قریب لانے میں کامیاب رہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس گروپ کی کوششوں سے معاملات پھر سے درست ہونا شروع ہو جائیں گے اور بداعتمادی کے خاتمے میں بہت مدد ملے۔


اگر خدشات کی بجائے سال 2017کے لئے اقتصادی منظر نامے کی ضروریات اور بعض اہم دوست ممالک کی کوششوں پر نظر ڈالی جائے تو ثابت یہ ہوتا ہے کہ متعدد رکاوٹوں کے باوجود 2017نہ صرف پاکستان سے دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے اہم اور فیصلہ کن سال ثابت ہو گا بلکہ اس سال افغانستان اور پاکستان کے تعلقات بھی ایک مثبت اور نئے دور میں داخل ہو جائیں گے۔ کیونکہ بہتر تعلقات اور امن اور استحکام نہ صرف دونوں ممالک بلکہ یقیناًاہم علاقائی قوتوں کی بھی ضرورت ہے۔


[email protected]

یہ تحریر 383مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP