متفرقات

نا قابل تسخیر جذبے

 جذبہ حب الوطنی ملکی آزادی کا محافظ ہو تا ہے۔ وہ اقوام کبھی اپنی آزادی کا تحفظ نہیں کر سکتیں جن کی ترجیحات میں جذبہ حب الوطنی نہ ہو۔ تاریخ عالم کے اوراق پر ایسے اَن گنت تذکرے ملتے ہیں جہاں لوگوں نے جذبہ حب الوطنی سے سرشار ہو کر بلند ہمتی اور جانفشانی سے وطن عزیز کی سرحدوں کا تحفظ کر کے دنیا کے سامنے عزم اور ہمت کی مثال قائم کی ہے۔ 
واقعات خواہ معرکہ بدر و حنین کے ہوں یا میدان کربلا کی شکل میں، خالد بن ولید کی داستان شجاعت ہو یا محمد بن قاسم کی سرفروشی کے قصے ۔ یہ ہماری روشن تاریخ کے درخشاں باب ہیں۔ اسی روشن تاریخ کو مشعل راہ بناتے ہوئے اپنے شہیدوں اور غازیوں کی سرفروشی ہمارے لیے دفاعی تیاری ، کامل اتحاد اور فوجی استحکام کا مستقل محرک ہے۔ 
تاریخ شاہد ہے کہ پاکستانی افواج نے ہمیشہ قومی تقاضوں کی آواز پر لبیک کہا۔ سرحدوں کی حفاظت ہو یا جنگ کا میدان ،امن و امان کا قیام ہو یا دہشت گردی سے نمٹنا ہو،زلزلوں اور سیلابوں کی صورتحال درپیش ہو یا پہاڑوں کا سینہ چیر کر اور زمین کی ناہمواریوں کو ہموار کر کے شاہراہِ قراقرم بچھانے کا مرحلہ، غرض کہ ہر محاذ پر مسلح افواج کے بہادر اپنا فرض اپنا خون دے کر ادا کرتے رہے ہیں۔ ہمارے سرفروش سپاہی میدان کارزار میں سپہ گری کے جوہر دکھانے کے ساتھ ساتھ حق بندگی ادا کرنے میں کبھی پیچھے نہیں رہے۔ وطن سے محبت ہی وہ جذبہ ہے کہ یہ مرد مومن ہر قسم کی آزمائش میں کامیابی سے گزرتے ہیں۔ 
اگست اور ستمبر کے درمیانی تین ہفتوں میں قومی اہمیت کے دو اہم دن آتے ہیں۔ پہلا یوم آزادی، دوسرا یوم دفاع ۔دونوں کا آپس میں بہت گہرا رشتہ ہے کیونکہ آزادی اور دفاع آپس میں لازم اور ملزوم ہیں۔ آزادی کو دائمی بنانے کے لئے دفاع اور حفاظت کا اہتمام بہت ضروری ہے ۔ 
14 اگست1947 کو مسلمانان برصغیر نے قائداعظم کی ولولہ انگیز قیادت میں لازوال قربانیوں کے بعد آزادی کی دولت حاصل کی۔ قیام پاکستان کا مطالبہ دو قومی نظریے کی بنیاد پر رکھا گیا۔ اور یہ دو قومی نظریہ ہی تحریک آزادی کی بنیاد تھا۔قائداعظم کی پرخلوص قیادت ، تحریک آزادی کے اکابرین کی انتھک محنت اور برصغیر کے مسلمانوں کے اتحادو اتفاق کی بدولت پاکستان معروض وجود میں آیا۔
6 ستمبر وہ یادگار دن ہے جب پوری قوم اپنی آزادی اور وطن عزیز کی سالمیت کے لئے سیسہ پلائی دیوار بن کر دشمن کی راہ میں کھڑی ہو گئی تھی۔جذبۂ قربانی اور ایثار کی زریں مثالیں ستمبر 1965 کی جنگ میں ملتی ہیں۔ یہ معرکہ حق و باطل سرفروشان وطن کی قربانیاں بڑے افتخار سے بیان کر تا ہے۔ ٹینکوں کی سب سے بڑی جنگ کو کس نے جیتا۔۔؟کون اپنی افواج کے شانہ بشانہ ڈٹ گئے۔۔؟ ان سب کے پیچھے ایک ہی جذبہ تھا اور وہ تھا جذبہ حب الوطنی۔۔۔۔۔۔ستمبر میں بھی وہی قوم سامنے آئی تھی جو حلقہ یاراں میں بریشم کی طرح نرم ہوتی ہے اور رزم حق و باطل میں فولاد بن جاتی ہے۔ 
جنگ ستمبر 1965 میں پاکستان کی کامیابی کی سب سے مقدم اور اہم ترین وجہ وہ جذبہ اور قوت ایمانی تھی جس کی بنیاد پر افواج پاکستان کے شانہ بشانہ پوری قوم کھڑی تھی۔ اس وقت نہ تو کوئی سندھی تھا نہ کوئی پنجابی تھا، نہ ہی کوئی پٹھان تھا اور نہ ہی کوئی بلوچی تھا۔ سب کی شناخت پاکستانی تھی جو اپنے اتحاد کی بنیاد پر تاریخ رقم کر رہے تھے۔
ایک غیر ملکی مبصر لوئیس کرار نے اس وقت لکھا : اس قوم کو کون شکست دے سکتا ہے جو موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھنا جانتی ہے۔ میں نے افواج پاکستان کے سپاہی سے لے کر جرنیل تک کو موت سے یوں کھیلتے دیکھا ہے جیسے بچے گلیوں میں کھِلتے ہیں۔
وطن سے محبت ایک فطری جذبہ ہے اور اس جذبے کا تقاضا ہے کہ ملک کا ہر شہری وطن کا باسبان ہو، محافظ ہو ، رکھوالا ، نگہبان اور سچا سپاہی ہو۔بحیثیت قوم ہمیں چاہیے کہ اپنے نصب العین کے گرد جمع ہوں اور متحد اور متفق ہو کر پاکستان کی سالمیت ، خوشحالی اور ترقی کے لئے کوشاں رہیں۔اگر ہم سب مل کر ذاتی مفادات کو قومی اور ملکی مفادات پر قربان کرنے کا جذبہ پیدا کریں گے تو ہمارا پیارا ملک جو ان گنت جانی اور مالی قربانیوں کے عوض ہمیں حاصل ہوا ہے ،بڑی تیزی سے ترقی کی منازل طے کرے گا۔ انشااللہ ! ||


[email protected]

یہ تحریر 178مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP