متفرقات

آپ تاریخ میں نام کہاں لکھوانا چاہتے ہیں

مذہب کو کسی مملکت سے ماورا نہیں ہونا چاہئے۔ مملکت ایسی مذہبی حدود وقیود کا تعین کرے کہ مملکت اور مذہب متصادم نہ ہوں۔ مذہب کے نام پر مملکت کے ستونوں کو کمزور نہ کیا جائے۔ کسی مذہبی جماعت‘ تنظیم یا لشکر کے سربراہ کو دین کی کامل اتھارٹی حاصل نہیں ہے۔ کوئی فرد یا ادارہ اگر مذہب کے کسی امر کی خلاف ورزی کررہا ہے تو ریاست سے شکایت کی جائے۔ ریاست یہ فیصلہ کرے کہ کون درست ہے کون غلط۔ کسی فرد کو یا تنظیم کو اجازت نہیں ہوسکتی کہ وہ کسی دوسرے فرد یا تنظیم کو جسمانی طور پر ختم کردے۔ ایک دوسرے کے مسلک کا احترام کیا جائے۔ جس طرح قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا جرم ہے اسی طرح مذہب کو اپنے ہاتھ میں لینا بھی خطرناک ہے۔ اسلام دین فطرت ہے۔ قیامت تک آنے والے ادوار کے لئے بھی آخری دین ہے۔ اس لئے اس کا مطالعہ‘ اس میں تحقیق اور اجتہاد اس کو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق زیادہ مؤثر اور ہمہ گیر بناسکتے ہیں۔ اسے چند علمائے کرام اور صرف دینی جماعتوں کے حوالے کرکے اسے غیر مؤثر نہیں بنانا چاہئے۔

قوم ایک ہوگئی ہے۔

تمام سیاسی جماعتیں ہم خیال ہیں۔

سانحۂ پشاور نے سب کے ضمیر جگا دیئے ہیں۔

میں اپنے کانوں میں انگلیاں دے رہا ہوں۔

میں یہ جھوٹ نہیں سن سکتا۔ میں اس منافقت کا عینی شاہد نہیں بن سکتا۔

درسگاہوں کی دیواروں پر تازہ لہو کے چھینٹے۔

تاریخ خون میں ڈوبی کتابوں کے اوراق کھولتی ہوئی۔

سکول یونیفارم میں آخری سانسیں لیتے بچپنے۔

علم کی جنّت کو روندتے جہنّمی۔

بن کھلے غنچوں کو مسلتے درندے۔

میں اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ رہا ہوں۔ ایسے منظر نہیں دیکھے جاتے۔ میں اپنے مستقبل کو یوں ہلاک ہوتے نہیں دیکھ سکتا مگر یہ کیا۔ میں نے آنکھیں بند کرلی ہیں۔ پھر بھی یہ کمسن‘ خوبصورت‘ چہرے میری طرف دیکھ رہے ہیں۔ چیخیں سنائی دے رہی ہیں۔ ابّو! آپ کہاں ہیں؟ امی‘ بچاؤ۔ طالبان ہم سب کو مار دیں گے۔

میں نے ہاتھ آنکھوں سے اُٹھا لئے ہیں۔

بٹ کے رہے گا ہندوستان

لے کے رہیں گے پاکستان

میں انہی کی عمر کا ہوں۔ یہ جو بچے بچیاں جان بچانے کے لئے بھاگ رہے ہیں۔ میں بھی اس عمر میں اس طرح بھاگ رہا ہوں۔ مجھ پر کرپانیں اُٹھانے والے‘ تلوار چلانے والے‘ بلّم برسانے والے تو سکھ ہیں‘ ہندو ہیں‘ میں ان سے الگ وطن حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ یہ کہہ رہے ہیں۔ ہم بھارت ماتا کے ٹکڑے نہیں ہونے دیں گے۔

’راج کرے گا خالصہ ۔ ہور کرے نہ کو‘

’مُسلوں کو ہم مار مار کے ختم کردیں گے‘

مال گاڑی کے باہر سے گرتی لاشوں کی چیخیں سنائی دے رہی ہیں۔

گھوڑوں کی ٹاپیں۔ ’’بچ کے نہ جائیں مُسلے۔‘‘

میری ماں نے اپنی گرفت مجھ پر مضبوط کردی ہے۔ میرے ابا جی ڈبے کی درز سے آنکھ لگا کر دیکھ رہے ہیں کہ حملہ آور کتنے قریب آگئے ہیں۔

یہاں تو ماں گھر پر میرے لئے کھانا تیار کررہی ہے۔ اس کی گود مجھے نصیب نہیں ہے۔

میرے والد تو شمالی وزیرستان میں ضرب عضب میں گئے ہوئے ہیں۔

اپنے آزاد وطن میں‘ ایٹمی ملک میں‘ میں اکیلا رہ گیا ہوں۔

بندوقیں شعلے اگل رہی ہیں۔

ہماری پرنسپل ہماری ماں بن گئی ہے۔

ہماری پرنسپل ہمارا باپ بن گئی ہے۔

وہ بھیڑیوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہوگئی ہے۔

یہ ہمارا مستقبل ہے۔ یہ قوم کی امانت ہیں‘ جو میری تحویل میں دی گئی ہے۔ میں انہیں تمہارے انتقام کا ایندھن نہیں بننے دوں گی۔

آگ لگ گئی ہے۔ مسلمانوں کے گھروں کو جلایا جارہا ہے۔

ہماری پرنسپل پر پیٹرول چھڑکا جارہا ہے۔

علم کو شعلہ دکھا دیا گیا ہے۔ دانش کو زندہ جلایا جارہا ہے۔

واہگہ پریڈ میں اپنے عظیم پرچم کی تقریب سے پُرجوش واپس آنے والے خودکش بم دھماکے سے اڑا دیئے گئے ہیں۔

بہادر قابل فخر پاک فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹر میں دہشت گرد گھس آئے ہیں۔ مقابلہ جاری ہے‘ ہماری منزل شہادت ہے۔

نماز جمعہ ادا کی جارہی ہے۔ خودکش بم بار نے بٹن دبا دیا ہے۔ نمازی بریگیڈیئر‘ کپتان‘ بچے‘ خون میں لت پت‘ مسجد کی صفیں سرخ ہوگئی ہیں۔

گنج بخش فیض عالم ‘ مظہرِ نورِ خدا

ناقصاں را پیر کامل‘ کاملاں را رہنما

داتا دربار‘ عقیدتمند‘ جسموں کی دھجیاں‘ خون‘ آگ‘ بارُود کی بُو۔

واہ کینٹ‘ جسم فضا میں اُڑ رہے ہیں‘ آگ بھڑک رہی ہے۔

کوئٹہ‘ پھر ایک دھماکا‘ ہزارہ برادری کے نوجوان بزرگ پلک جھپکنے میں ریزہ ریزہ‘ جنازے‘ انصاف کے انتظار میں۔

ڈرون اڑ رہے ہیں‘ میزائل برس رہے ہیں‘ وادیاں خون میں نہا رہی ہیں۔ باجوڑ‘ وانا‘ پارا چنار‘ مالاکنڈ‘ بنوں‘ کوہاٹ‘ ڈیرہ اسماعیل خان‘ ایبٹ آباد‘ نوشہرہ‘ کراچی‘ ملتان‘ لاہور‘ پنڈی‘ اسلام آباد‘ کہیں اجل اپنے نشان ثبت کر رہی ہے‘ کہیں تاریخ اوراق سیاہ کررہی ہے۔

داستانِ حرم۔ غریب و سادہ و رنگیں ہے

آرمی پبلک سکول کے درو دیوار نے جس درندگی کا نظارہ کیا۔ آڈیٹوریم نے اپنی آغوش میں اپنے لاڈلوں کو جس طرح خون میں نہائے دیکھا۔ یہ درسگاہ بھی اس صدمے سے سالہا سال باہر نہیں آسکے گی۔ کونسی ماں اپنے جگر کے ٹکڑوں کو اپنے سامنے زندگی سے محروم ہوتے دیکھ سکتی ہے۔ اس سانحے نے حکمرانوں کو‘ قوم کو‘ دانشوروں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ میڈیا یہی کہہ رہا ہے۔ وقتی طور پر ایسا ہی محسوس ہورہا ہے۔

لیکن یہ پہلا المیہ تو نہیں ہے۔ 1979ء میں سوویت یونین کی افواج کو افغانستان سے نکالنے کی جنگ میں جب سے ہم نے مغرب کی رفاقت کا فیصلہ کیا تھا‘ اس وقت سے آتش و آہن کا کھیل ہم اس پر امن خطے میں دیکھتے آرہے ہیں۔ روسی فوجیں چلی گئیں‘ سوویت یونین منہدم ہوگیا۔ افغانستان میں خود افغان حکمران بن گئے‘ مگر ہم اندر ہی اندر اس وقت سے منہدم ہورہے ہیں۔ ہمارا انہدام رکنے میں نہیں آتا۔ 11 ستمبر 2001ء کے بعد سے تو دنیا ہی بدل گئی ہے۔ اسلام شدت پسند مذہب کی حیثیت سے جانا جارہا ہے۔ مسلمان ریاستیں‘ مسلم حکمران بے اثر ہیں۔ لیکن مسلمانوں کی انتہا پسند تنظیمیں مہلک ہتھیاروں اور ہلاکت خیز دھماکوں کے ساتھ زیادہ تر مسلمان ملکوں میں سرگرم ہیں۔ ان کے ہاتھوں سے مرنے والے بھی زیادہ تر مسلمان ہی ہیں۔


دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو اپنے لئے اولین مسئلہ اور سب سے بڑا خطرہ نہیں سمجھا۔ کبھی اسے صرف امریکہ کی جنگ کہہ کر انتہا پسندی کے خاتمے سے گریز کیا گیا۔ کبھی اسے حالات وواقعات کا ردّعمل خیال کیا گیا۔ 1979ء سے اب تک پھر نائن الیون کے بعد آرمی پبلک سکول کے اندوہناک سانحے تک‘ مختلف ادوار کی مختلف وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ترجیحات دیکھ لیں کہ ان کی فہرست میں دہشت گردی کا خاتمہ کس نمبر پر رہا ہے۔ نتیجہ تو اسی کا نکلتا ہے‘ جس کے لئے کوشش کی جاتی ہے۔


آرمی پبلک سکول میں خونریزی‘ الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے۔ یہ 1979ء سے شروع غارت گری کا ایک تسلسل ہے۔ مذہب کے جوش کو جنون میں تبدیل کردیا گیا۔ امریکہ نے اپنے مدّ مقابل کمیونزم سے انتقام کے لئے بوتل سے جو جن نکالا تھا‘ اب باوجود کوشش کے اسے واپس بوتل میں دھکیلنے میں کامیاب نہیں ہو رہا ہے۔ یا وہ اسے بند کرنا ہی نہیں چاہتا۔ کیونکہ وہ خود تو محفوظ ہے۔ وہ اپنے شہریوں کو تو سب سے قیمتی‘ معزز‘ مقدس انسان سمجھ کر ان کی حفاظت کے لئے اربوں ڈالر خرچ کررہا ہے۔ نئی نئی ٹیکنالوجی ایجاد کررہا ہے مگر دوسرے ملکوں کے شہری اس کے نزدیک کوئی قیمت نہیں رکھتے۔ اپنے ایک شہری کے تحفظ کے لئے اسے کسی بھی ملک کے سیکڑوں شہری مارنے پڑ جائیں تو یہ اس کے قانون‘ آئین اور اخلاقی اقدار کے عین مطابق ہے۔ لیکن دوسری طرف امریکہ کو دنیا سے نیست و نابود کرنے کی دعوے دار لڑاکا اسلامی انتہا پسند تنظیمیں بھی اپنے ہی مسلمان بھائیوں کو ہلاک کررہی ہیں۔ اپنے ہی مسلم ملکوں کی املاک تباہ کررہی ہیں۔ اپنے ہی مستقبل کو برباد کررہی ہیں۔

یہ سب کچھ کیوں ہورہا ہے۔ اس پر بہت تحقیق ہوچکی۔ دنیا بھر میں اس حوالے سے کتابیں قلمبند کی جاچکی ہیں۔ سب سے زیادہ دستاویزات تو امریکہ میں طبع ہوئی ہیں۔ اسلام اور قرآن کا مطالعہ‘ تحقیق اور تشریح بھی سب سے زیادہ امریکہ میں ہی کی گئی ہے۔ ہم پاکستان میں رہنے والے تو خود بھی اس تلخ سچائی کا مشاہدہ اور تجربہ کرتے آرہے ہیں۔ حکمران یکے بعد دیگرے جس طرح رسوا ہو کر تاریخ کی بھول بھلیوں میں گم ہورہے ہیں۔ ان کی گم گشتگی بھی اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ پاکستان حکمرانی کے لئے ایک مشکل خطہ بن رہا ہے۔ بعض اوقات تو حکمرانوں کی بے بسی اور عوام کی بے کسی دیکھ کر یہ کہنا پڑتا ہے کہ یہ ناقابل انتظام اور ناقابل اصلاح بن رہا ہے۔ ہم نے غالب کی طرح یہ سمجھ لیا ہے کہ مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہوگئیں۔۔

اور جب آپ مشکلات کو آسان خیال کرنے لگیں تو آپ مسائل کو مسائل ہی نہیں سمجھتے۔ انگریزی میں تو یہ کہا گیا کہ سارا کوڑا قالین کے نیچے ڈال کر یہ خیال کرلیا جاتا ہے کہ کمرہ بہت صاف ستھرا ہے۔ ایسی مثالیں‘ کہاوتیں‘ محاورے اور ضرب الامثال مہذب ملکوں کے لئے ہوتی ہیں۔ ہمیں تو اس کے بجائے یہ کہنا چاہئے کہ ہم سب گولہ بارود‘ بندوقیں‘ بم‘ پستول‘ قالین کے نیچے رکھ کر سمجھتے ہیں کہ ہم محفوظ ہیں مگر وہ کبھی اوجڑی کیمپ کی طرح پھٹ جاتے ہیں۔ کبھی حساس تنصیبات ان کا نشانہ بنتی ہیں۔ کبھی سکولوں کے بچے‘ کبھی سربسجدہ نمازی‘ کبھی نماز جنازہ ادا کرتے سوگوار۔ ہم نے دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو اپنے لئے اولین مسئلہ اور سب سے بڑا خطرہ نہیں سمجھا۔ کبھی اسے صرف امریکہ کی جنگ کہہ کر انتہا پسندی کے خاتمے سے گریز کیا گیا۔ کبھی اسے حالات وواقعات کا ردّعمل خیال کیا گیا۔ 1979ء سے اب تک پھر نائن الیون کے بعد آرمی پبلک سکول کے اندوہناک سانحے تک‘ مختلف ادوار کی مختلف وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ترجیحات دیکھ لیں کہ ان کی فہرست میں دہشت گردی کا خاتمہ کس نمبر پر رہا ہے۔ نتیجہ تو اسی کا نکلتا ہے‘ جس کے لئے کوشش کی جاتی ہے۔

1979ء سے مذہبی شدت پسندی کی باقاعدہ اور باضابطہ طور پر سرکاری سرپرستی کی گئی جس کے نتیجے میں ان رجحانات کو سیاسی‘ مذہبی اور اخلاقی طور پر بہت زیادہ تقویت بھی ملی۔ مذہبی ادارے‘ مذہبی تنظیمیں‘ مذہبی جرائد‘ مذہبی ریڈیو‘ مذہبی ٹیلی ویژن‘ مذہبی لشکر‘ رفتہ رفتہ مملکت یا ریاست یا سٹیٹ سے زیادہ طاقت ور ہوتے گئے ہیں۔ انہیں دوسرے ملکوں سے بھی مالی‘ سیاسی‘ سفارتی اور مذہبی حمایت ملتی گئی ہے‘ جس کی وجہ سے وہ پاکستان کے بجائے ان ملکوں کے مفادات کو برتری دیتے ہیں۔ ان امور‘ مراحل اور رجحانات پر غیر جانبدارانہ اور غیر جذباتی تحقیق کی ضرورت ہے۔ کس کس علاقے میں انتہا پسندی کی شدت کی سطح کیا ہے۔ کونسا مسلک کہاں زیادہ غالب ہے۔ اپنے حلقۂ عقیدت میں شامل بزرگوں کو کیا ہدایات دی جاتی ہیں۔ نوجوانوں کو کیا ترغیبات دی جاتی ہیں۔ یہ جائزہ فوج کے زیر اہتمام یونیورسٹیاں بھی لیں‘ سرکاری جامعات بھی‘ نمل‘ لمز‘ ہمدرد‘ جناح یونیورسٹی برائے خواتین جیسے پرائیویٹ تعلیمی ادارے بھی۔ اس تحقیق کی روشنی میں مملکتِ پاکستان ایک واضح اور جامع مذہبی پالیسی کا اعلان کرے۔ پھر اس پر مکمل عملدرآمد کیا جائے۔ حکومتی مشینری‘ سیاسی ادارے‘ علمائے کرام سب اس کی روح کے مطابق تعمیل کروائیں۔ یہ خود عظیم مذہب اسلام کی ساکھ کی بحالی کے لئے ناگزیر ہے۔ اسلام اسلام ہے۔ نہ یہ سیاسی اسلام

(Political Islam)

ہے۔ نہ یہ انتہا پسند اسلام

(Radical Islam)

ہے۔

ہم نے دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو اپنے لئے اولین مسئلہ اور سب سے بڑا خطرہ نہیں سمجھا۔ کبھی اسے صرف امریکہ کی جنگ کہہ کر انتہا پسندی کے خاتمے سے گریز کیا گیا۔ کبھی اسے حالات وواقعات کا ردّعمل خیال کیا گیا۔ 1979ء سے اب تک پھر نائن الیون کے بعد آرمی پبلک سکول کے اندوہناک سانحے تک‘ مختلف ادوار کی مختلف وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی ترجیحات دیکھ لیں کہ ان کی فہرست میں دہشت گردی کا خاتمہ کس نمبر پر رہا ہے۔ نتیجہ تو اسی کا نکلتا ہے‘ جس کے لئے کوشش کی جاتی ہے۔


مذہبی پالیسی کی تشکیل اور اعلان کے بعد تمام قومی سیاسی جماعتیں اپنے ملک گیر کارکنوں‘ مذہبی تنظیمیں اپنے عہدیداروں اور کارکنوں کے ذریعے عوام کو آگاہ کریں‘ خبر دار کریں‘ اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ ریڈیو‘ ٹی وی‘ اخبارات وجرائد کے ذریعے اس کی اشاعت کی جائے۔ خصوصی طور پر وفاق کے زیر اہتمام علاقوں‘ خیبر پختونخوا‘ جنوبی پنجاب میں دل اور ذہن پنپنے کی تحریک چلائی جائے۔


اس واضح مذہبی پالیسی کے ساتھ ساتھ سیکورٹی پالیسی کا بھی اعلان کیا جائے۔ ہم برسوں سے عدم تحفظ کا شکار ہیں اور ابھی میرے جائزے کے مطابق آئندہ پندرہ بیس برس تک کم از کم یہ دہشت گردی اور انتہا پسندی جاری رہے گی۔ کیونکہ اس کے لئے لشکر تیار کئے جارہے ہیں‘ ذہن تعمیر کئے جارہے ہیں۔ پاکستان کی مسلّح افواج شمالی وزیرستان میں ’ضرب عضب‘ کامیابی سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پوری قوم یہ جان چکی ہے کہ سپہ سالار‘ جنرل راحیل شریف دہشت گردوں کے سارے تانے بانے ختم کرنے کا عزم کرچکے ہیں۔ اب اچھے برے طالبان یا پاک فوج کے حامی‘ مخالف گروپ نہیں رہے۔ اب وہ صرف دہشت گرد ہیں۔ اب صرف پاک فوج مسلّح ہونی چاہئے۔ کوئی اور لشکر‘ تنظیم‘ گروپ مسلّح نہیں ہونا چاہئے۔ پاکستان میں بھی یہ کہا جاتا رہا۔ مغرب اور بھارت تو اب بھی کہتے ہیں کہ مسلّح تنظیمیں‘ فوج نے تیار کی ہیں‘ جہاد کو پرائیویٹائز کیا گیا۔ صدر جنرل پرویز مشرف کی سپہ سالاری کے دَور سے اس پالیسی میں قطعی تبدیلی آئی۔ انہوں نے بھی دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے صحیح وقت پر صحیح فیصلے کئے۔ اس لئے وہ خود بھی دو بار حملوں کا ہدف بنے اور بال بال بچے۔ مگر اب جنرل راحیل شریف کی قیادت میں یہ پالیسی اور زیادہ واضح ہوگئی ہے‘ اعادہ بھی کیا جارہا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک فوج چین سے نہیں بیٹھے گی۔

قبائلی علاقوں میں تو انتقام کی روایت سالہا سال چلتی ہے۔ اس لئے انتہا پسندی میں شامل قبائلی لشکری اپنی روایت کے مطابق انتقام لے رہے ہیں۔ فوجی تنصیبات پر حملے۔ ٹریننگ پریڈز‘ واہگہ‘ لیفٹیننٹ جنرل مشتاق‘ دوسرے اعلیٰ فوجی افسروں اور اب فوجی افسروں کی اولادوں پر حملے ان ہی انتقامی کارروائیوں کا حصہ ہیں‘ جن کا واحد مقصد پاک فوج کو کمزور کرنا ہے۔ کیونکہ یہی ایک ادارہ ہے جس نے تمام نامساعد حالات ملک میں افراتفری کے باوجود اپنے آپ کو مستحکم کر رکھا ہے۔ تعلیم‘ تحقیق‘ تربیت‘ تنظیم میں رکاوٹ نہیں آنے دی ورنہ ہماری پارلیمنٹ‘ عدلیہ‘ میڈیا‘ تعلیمی ادارے سب ہی زوال کی طرف گامزن ہیں۔

مذہبی پالیسی کی تشکیل اور اعلان کے بعد تمام قومی سیاسی جماعتیں اپنے ملک گیر کارکنوں‘ مذہبی تنظیمیں اپنے عہدیداروں اور کارکنوں کے ذریعے عوام کو آگاہ کریں‘ خبر دار کریں‘ اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ ریڈیو‘ ٹی وی‘ اخبارات وجرائد کے ذریعے اس کی اشاعت کی جائے۔ خصوصی طور پر وفاق کے زیر اہتمام علاقوں‘ خیبر پختونخوا‘ جنوبی پنجاب میں دل اور ذہن پنپنے کی تحریک چلائی جائے۔


اس وقت پاکستان کی سالمیت کی جنگ لڑی جارہی ہے۔ انسانی زندگیوں کے تحفظ کی لڑائی ہورہی ہے۔ یہ جمہوریت اور آمریت کے درمیان معرکہ نہیں ہے۔ یہ قانون کی یکساں حکمرانی کی جنگ ہے۔


ایک اور امر بھی انتہائی غور طلب ہے کہ جن نوجوانوں کو کشمیر اور افغان جہاد میں بھیجاگیا اور ان کی مالی کفالت کی گئی۔ جب نائن الیون کے بعد پالیسی بدلی گئی تو ان کو لاوارث چھوڑ دیا گیا۔ یہ جن سے رابطے میں رہتے تھے‘ ان لوگوں کے تبادلے دوسرے شعبوں میں کردیئے گئے۔ لیکن ان جہادیوں کو کچھ نہیں بتایا گیا کہ اب ان کی ڈیوٹی کہاں ہوگی۔ انہیں پولیس اور خفیہ ادارے تنگ کرتے رہے۔ پھر مختلف انتہا پسند تنظیموں نے اپنا لیا۔ اس بڑی تعداد سے دوبارہ رجوع کیا جائے‘ ان سے خدمات لی جائیں‘ جہاد ان کے نزدیک ایک جذبہ ہے‘ رومان ہے‘ ملک میں ان سے مختلف مشن مکمل کروائے جائیں‘ کرپشن کے خلاف‘ جہالت کے خلاف یہ مؤثر کردار ادا کرسکتے ہیں۔ انتہا پسند ذہنوں کو اعتدال پسند ذہنوں میں تبدیل کرنے کے لئے پاک فوج نے جس

De-radicalisation

کے پروگرام شروع کر رکھے ہیں‘ ان کا دائرہ وسیع کیا جائے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں‘ محکمۂ تعلیم‘ پرائیویٹ یونیورسٹیاں اس پروگرام کو اپنائیں۔ انتہا پسندی کی جڑیں اکھاڑنے کے لئے‘ جہاں جہاں خودکش بمباروں کی فصلیں تیار ہورہی ہیں۔ ان نرسریوں کو ختم کرنے کے لئے یہ پروگرام ناگزیر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا نظام صدیوں سے چل رہا ہے۔ اس میں قہاری و جبروت بھی شامل ہے۔ لیکن ساتھ رحمت و مہربانی بھی۔ فوجی کارروائیاں‘ پھانسیاں بھی اپنی جگہ ضروری ہیں‘ لیکن نوبت یہاں تک کیوں پہنچتی ہے۔ اس لئے پاکستانیوں کو بچپن سے ہی پاکستانیت اور اعتدال کی طرف راغب کرنا لازمی ہے۔ ایسی فضا پیدا کی جائے جس میں پھر انتہا پسندی جڑیں نہ پکڑ سکے۔ یہ تحقیق بھی لازمی ہے کہ فوج کو کمزور کرنے میں کس کا فائدہ ہے۔ انتہاپسند دہشت گرد اسے بم دھماکوں‘ حملوں کے ذریعے کمزور کرنے کے درپے ہیں۔ سیاسی انتہا پسند‘ جمہوریت اور آمریت کی مباحث میں اُلجھا کر فوج سے نفرت پیدا کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کے تحفظ کے نام پر بھی ایسا ہوتا ہے۔ آزاد عدلیہ‘ آئین کی بالادستی کے خوش نما الفاظ اور اصطلاحات کے ذریعے بھی عوام میں فوج کو استبدادی قوت کا تصور دیا جاتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد اکثر فوجی جنرلوں نے بعض حلقوں کی خوشنودی‘ بین الاقوامی این جی اوز کی رکنیت حاصل کرنے کے لئے اپنی کتابوں میں اپنی ہی فوج کے ایسے واقعات بیان کئے ہیں۔ بعض سابق سفارت کار بھی اسی جرم کا ارتکاب کرتے آرہے ہیں۔

مذہبی پالیسی کی تشکیل اور اعلان کے بعد تمام قومی سیاسی جماعتیں اپنے ملک گیر کارکنوں‘ مذہبی تنظیمیں اپنے عہدیداروں اور کارکنوں کے ذریعے عوام کو آگاہ کریں‘ خبر دار کریں‘ اس پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔ ریڈیو‘ ٹی وی‘ اخبارات وجرائد کے ذریعے اس کی اشاعت کی جائے۔ خصوصی طور پر وفاق کے زیر اہتمام علاقوں‘ خیبر پختونخوا‘ جنوبی پنجاب میں دل اور ذہن پنپنے کی تحریک چلائی جائے۔


اعتدال پسند‘ روشن خیال اور خاموش پاکستانی اکثریت اب یہ چاہتی ہے کہ پاکستان کے سیاستدان‘ دانشور‘ علماء‘ قانون دان اور پاکستان کی مسلّح افواج مل کر آئندہ بیس سال کے لئے ایسا روڈ میپ بنائیں‘ جو ایک قطعی‘ واضح‘ مذہبی اور مملکتی پالیسی تشکیل کرے‘ سارا ملک اس کے تحت چلے‘ سکول‘ یونیورسٹیاں‘ کالج‘ ملکی قوانین کے تحت چلتے ہیں تو مسجدیں‘ دینی مدارس بھی کیوں نہ ریاستی قوانین کے پابند ہوں۔ کسی کو بھی کھلی چھوٹ نہیں مل سکتی۔


اس وقت پاکستان کی سالمیت کی جنگ لڑی جارہی ہے۔ انسانی زندگیوں کے تحفظ کی لڑائی ہورہی ہے۔ یہ جمہوریت اور آمریت کے درمیان معرکہ نہیں ہے۔ یہ قانون کی یکساں حکمرانی کی جنگ ہے۔ ایک المیہ یہ ہے کہ ہمارے حکمراں طبقے‘ سیاستدان خود مذہب کا مطالعہ نہیں کرتے‘ حضور اکرمﷺ کے زمانے‘ خلفائے راشدین‘ بنو امیہ‘ بنو عباس‘ عثمانیہ دور کے اوراق میں نہیں جھانکتے کہ وہ حکومتیں کیسے چلتی تھیں۔ مختلف فتنوں کی سرکوبی انہوں نے کیسے کی۔ شریعت کے نفاذ کے نام پر قرآن کی یکجائی اور اس قسم کے امور پر پہلے بھی تنازعات اٹھائے گئے۔ ان کا تدارک کیسے ہُوا۔ کتابیں موجود ہیں۔ سید امیر علی کی تاریخ اسلام۔ ڈاکٹر حمیداللہ کے خطبات بہاولپور۔ علامہ عبدالحئی کتانی کی ’التراتیب الاداریۃ‘ کی تلخیص۔ دور نبوی کا نظام حکومت۔ ڈاکٹر محمد یٰسین مظہر صدیقی کی مکّی عہد نبویﷺ میں اسلامی احکام کا ارتقا۔ ابو الحسن بن محمد کی احکام سلطانیہ۔ ڈاکٹر محمد حمید اللہ کی رسول اللہؐ کی حکمرانی اور جانشینی اور رسول اکرمؐ کی سیاسی زندگی۔ یہ ایسی تصنیفات ہیں جن کا مطالعہ نہایت ضروری ہے اور بھی ایسی تحقیق پر مبنی دستاویزات موجود ہیں جن سے ہم عین شریعت کے مطابق آج کے دور کے لوازمات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اچھی حکمرانی

(Good Governance)

کرسکتے ہیں۔ حضرت علیؓ کی نہج البلاغہ سے بہت رہنمائی مل سکتی ہے۔ ملک میں سب سے زیادہ خلفشار سیاستدانوں کی کم علمی‘ بے عملی اور نااہلی سے پیدا ہُوا ہے۔جتنی بھی انتہا پسندی اور شدت گیری ہے‘ یہ سیاسی جماعتوں کی اپنے قومی فریضے سے کوتاہی کا نتیجہ ہے‘ یہ مذہب سے ناآشنا ہیں‘ مذہب کی تعلیمات جاننا نہیں چاہتے۔ اس لئے مذہب سے ولولۂ تازہ حاصل کرنے کی بجائے مذہب سے ڈرتے ہیں۔ مذہبی تنظیموں کے سامنے عجز کا شکار ہوجاتے ہیں‘ اپنی خراب حکمرانی اور نااہلی چھپانے کے لئے علماء کے دامن بلکہ بُکل میں پناہ لیتے ہیں اور نتیجے میں اس کی بھاری قیمت چکاتے ہیں۔ مذہب کی مختلف تاویلات روکنے کے بجائے قائداعظم کے بعد آج تک کی حکومتیں مذہبی جماعتوں کے سامنے سر جھکاتی رہی ہیں۔ مک مکا کرتی رہی ہیں۔ اسی لئے آج مذہب مختلف شدت پسند فرقوں اور تنظیموں کی صورت میں 18 کروڑ پاکستانیوں کے لئے آتش فشاں بنا ہُوا ہے۔ عرب دنیا میں سعودی عرب سمیت کوئی مسجد اپنے طور پر انتظام نہیں کرسکتی۔ آئمہ کرام‘ خطیب‘ فقیہہ سب ریاست کے تابع ہیں۔ ترکی اور ملائشیا میں بھی ایسا ہی ہے۔ صرف پاکستان میں یہ ہر قاعدے اور ہر ضابطے سے آزاد ہیں کسی قسم کے ڈسپلن کو نہیں مانتے۔ یہاں جس قسم کی تقریریں ہوتی ہیں جمعہ کے خطبات‘ مملکت‘ حکومت کے خلاف‘ فوج کے خلاف کسی دوسرے مسلم ملک میں یہ تصور نہیں کیا جاسکتا۔ برصغیر میں یہ سلسلہ دراصل انگریز کے دور میں زیادہ مضبوط ہُوا۔ وہ تو غیر ملکی استعمار تھا‘ غیر مسلم بھی تھا۔ اس کے خلاف یہ رویہ یقیناًدرست تھا۔ لیکن ایک آزاد مسلم مملکت وجود میں آنے کے بعد جہاں اپنوں کی اور مسلمانوں کی حکومت تھی‘ وہاں تو اس رویے میں تبدیلی ضروری تھی۔ مل جل کر کوئی ڈسپلن بنانا چاہئے تھا۔ جو اسلام کے اور آج کے تقاضوں کے مطابق ہوتا۔ پاکستان میں اسلام کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ اسلام کے اجارہ داروں اور ٹھیکیداروں کو ضرور خطرہ ہوسکتا ہے۔

دین کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنا خود دین کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے۔ دین اور سیاست اس طرح ساتھ نہیں چل سکتے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں بار بار ثابت ہورہا ہے۔ پاکستان کے عوام نے انتخابات میں بار بار اس حقیقت پر مہر لگائی ہے کہ انہوں نے کسی مذہبی سیاسی جماعت کو اکثریت دے کر حکومت کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں نہیں دی ہے۔ البتہ ہمارے منتخب حکمراں مذہبی جماعتوں اور پریشر گروپوں سے ڈر کر انہیں حکومت میں شامل کرتے رہے ہیں۔ اس حقیقت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ پارلیمانی جمہوریت‘ صدارتی نظام‘ مارشل لاء‘ سرمایہ دارانہ نظام نے اس ملک کے مسائل حل نہیں کئے‘ اچھی حکمرانی نہیں آسکی‘ اس لئے پاکستانیوں کی ایک بڑی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ شاید اب شریعت کا نفاذ ہی آخری پناہ گاہ ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت کی حکمرانی کے نعرے کی وجہ سے ملک میں ایک طبقے میں طالبان کے لئے نرم رویّہ موجود رہا ہے لیکن یہ طبقہ بھی شریعت کا نفاذ‘ بم دھماکوں بچوں کی ہلاکتوں‘ مسجدوں میں نمازیوں کے قتل عام کے ذریعے نہیں چاہتا۔ لاشیں بہت گر چکیں‘ خون بہت بہہ چکا‘ پاکستان کی رسوائی بہت ہوچکی‘ مذہب اسلام بہت بدنام ہوچکا۔

اس وقت پاکستان کی سالمیت کی جنگ لڑی جارہی ہے۔ انسانی زندگیوں کے تحفظ کی لڑائی ہورہی ہے۔ یہ جمہوریت اور آمریت کے درمیان معرکہ نہیں ہے۔ یہ قانون کی یکساں حکمرانی کی جنگ ہے۔

اعتدال پسند‘ روشن خیال اور خاموش پاکستانی اکثریت اب یہ چاہتی ہے کہ پاکستان کے سیاستدان‘ دانشور‘ علماء‘ قانون دان اور پاکستان کی مسلّح افواج مل کر آئندہ بیس سال کے لئے ایسا روڈ میپ بنائیں‘ جو ایک قطعی‘ واضح‘ مذہبی اور مملکتی پالیسی تشکیل کرے‘ سارا ملک اس کے تحت چلے‘ سکول‘ یونیورسٹیاں‘ کالج‘ ملکی قوانین کے تحت چلتے ہیں تو مسجدیں‘ دینی مدارس بھی کیوں نہ ریاستی قوانین کے پابند ہوں۔ کسی کو بھی کھلی چھوٹ نہیں مل سکتی۔ تمام کتابیں‘ اخبارات‘ رسائل‘ ٹی وی چینل پر بھی اس مذہبی پالیسی کا اطلاق ہو۔ پاکستان میں انتہائیں بہت زیادہ شدت اختیار کر گئی ہیں‘ فاصلے بڑھ گئے ہیں‘ متوازی حکومتیں چل رہی ہیں‘ مملکت کے اندر بہت سی مملکتیں بن گئی ہیں‘ انتہاؤں کو قریب لانے ان کے درمیان پُل قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ قانون کا یکساں نفاذ سب کے لئے ہو‘ میرٹ کی حکمرانی ہو‘ کلیدی عہدوں پر صرف ان ہی افراد کا تقرر ہو جواِس کی اہلیت رکھتے ہوں‘جہاں حکمران اپنے قریبی دوستوں‘ رشتے داروں کا تقرر نہ کریں۔

مذہب کو کسی مملکت سے ماورا نہیں ہونا چاہئے۔ مملکت ایسی مذہبی حدود وقیود کا تعین کرے کہ مملکت اور مذہب متصادم نہ ہوں۔ مذہب کے نام پر مملکت کے ستونوں کو کمزور نہ کیا جائے۔ کسی مذہبی جماعت‘ تنظیم یا لشکر کے سربراہ کو دین کی کامل اتھارٹی حاصل نہیں ہے۔ کوئی فرد یا ادارہ اگر مذہب کے کسی امر کی خلاف ورزی کررہا ہے تو ریاست سے شکایت کی جائے۔ ریاست یہ فیصلہ کرے کہ کون درست ہے کون غلط۔ کسی فرد کو یا تنظیم کو اجازت نہیں ہوسکتی کہ وہ کسی دوسرے فرد یا تنظیم کو جسمانی طور پر ختم کردے۔ ایک دوسرے کے مسلک کا احترام کیا جائے۔ جس طرح قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا جرم ہے اسی طرح مذہب کو اپنے ہاتھ میں لینا بھی خطرناک ہے۔ اسلام دین فطرت ہے۔ قیامت تک آنے والے ادوار کے لئے بھی آخری دین ہے۔ اس لئے اس کا مطالعہ‘ اس میں تحقیق اور اجتہاد اس کو نئے دور کے تقاضوں کے مطابق زیادہ مؤثر اور ہمہ گیر بناسکتے ہیں۔ اسے چند علمائے کرام اور صرف دینی جماعتوں کے حوالے کرکے اسے غیر مؤثر نہیں بنانا چاہئے۔

اعتدال پسند‘ روشن خیال اور خاموش پاکستانی اکثریت اب یہ چاہتی ہے کہ پاکستان کے سیاستدان‘ دانشور‘ علماء‘ قانون دان اور پاکستان کی مسلّح افواج مل کر آئندہ بیس سال کے لئے ایسا روڈ میپ بنائیں‘ جو ایک قطعی‘ واضح‘ مذہبی اور مملکتی پالیسی تشکیل کرے‘ سارا ملک اس کے تحت چلے‘ سکول‘ یونیورسٹیاں‘ کالج‘ ملکی قوانین کے تحت چلتے ہیں تو مسجدیں‘ دینی مدارس بھی کیوں نہ ریاستی قوانین کے پابند ہوں۔ کسی کو بھی کھلی چھوٹ نہیں مل سکتی۔

پاکستان کے پارلیمانی ارکان‘ سیاستدانوں‘ میڈیا‘ وکلاء‘ این جی اوز سب سے دہشت گردوں کے ہاتھوں ہلاک کئے جانے والے شہیدوں کی روحیں سوال کر رہی ہیں کہ شریعت کے نام پر خون کب تک بہتا رہے گا‘ یہ ہتھیار بند ‘شریعت کا مقدس نام استعمال کر کے‘ اپنی مرضی کا مذہب کب تک مسلط کرتے رہیں گے۔

اسلام کی تعلیمات‘ اسلام کی تاریخ کہیں زیادہ عظیم‘ کہیں زیادہ مقدس ہے۔ جنرل راحیل شریف جس ذہن اور واضح پالیسی کے تحت دہشت گردی کے خاتمے کے لئے میدان میں نکلے ہوئے ہیں‘ یہی کھلا ذہن اب سیاستدانوں کا بھی ہونا چاہئے۔ ریاست اسی صورت میں محفوظ اور مستحکم ہوسکتی ہے۔ تاریخ کے اوراق ہمیں آواز دے رہے ہیں۔ مدینہ منورہ کی ریاست‘ بغداد کی ریاست‘ دمشق کی ریاست‘ قسطنطنیہ کی ریاست۔ سب ہمارے ذہنوں پر دستک دے رہی ہیں‘ ہلاکتیں‘ قتال اسلام نہیں ہے۔ شریعت مسجدوں میں‘ مدرسوں میں‘ سکولوں میں‘ نمازیوں اور طلبہ وطالبات کو قتل کرنے سے نافذ نہیں ہوسکتی۔ محمدؐ عربی کے خطبات پڑھو‘ ابوبکر صدیقؓ، عمرفاروقؓ، عثمان غنیؓ، علی حیدرؓ کی تقریریں سنو۔ آئمہ کرام کیا کہہ رہے ہیں‘ مجدد الف ثانیؒ کیا فرماتے ہیں۔ قائداعظم کے فرمودات کا مطالعہ کرو۔

پاکستانیوں کی قیادت کے دعویدارو! قرآن پاک قدم قدم پر رہنمائی کے لئے موجود ہے‘ تاریخ کے اوراق مشعل راہ بن سکتے ہیں‘ اچھی حکمرانی کے لئے بھی آج کے دور میں‘ ہر ملک میں مثالیں موجود ہیں۔ تمہیں خود یہ طے کرنا ہے کہ تمہارا نام قاتلوں میں لکھا جائے یا انسانیت کے محافظوں میں۔


[email protected]

یہ تحریر 357مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP