قومی و بین الاقوامی ایشوز

ایس سی او ممبران ممالک کا باہمی تعاون

شنگھائی تعاون تنظیم"Shanghai Cooperation Organisation" ایک یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور عسکری تعاون تنظیم ہے۔جسے شنگھائی میں 14جون 2001 کو قائم کیا گیا تھا، اس کا آغاز اور الحاق تو26 اپریل 1996 کو ہوگیا تھا۔ چین، روس ، قازقستان، کرغزستان اور تاجکستان اس کے ممبر تھے۔ اسے شنگھائی پانچ(Shanghai Five) کہا جاتا تھا۔ پھر جب 15 جون2001 کو ازبکستان نے اس تنظیم کی رُکنیت حاصل کی تو اس کا نام بدل کر شنگھائی تعاون تنظیم(SCO) کردیا گیا۔

پاکستان 2005 سے اس تنظیم کا مبصر ملک تھا جو تنظیم کے اجلاسوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتا رہا ہے لیکن شنگھائی تعاون تنظیم کے دسویں اجلاس جو دس گیارہ جون2010 کو ازبکستان کے شہر تاشقند میں منعقد ہوا تھا، میں پاکستان نے تنظیم کا ممبر بننے کی درخواست دے دی تھی، مگر اس کی منظوری تنظیم کے پندرھویں سالانہ اجلاس میں 2015 کی 9 جون کو روس کے شہر اوفا میں دی گئی لیکن باقاعدہ اور مستقل ممبر شپ کا نوٹیفکیشن9 جون2017 کو قازقستان کے شہر آستانہ میں تنظیم کے سترھویں اجلاس میں جاری ہوا۔

شنگھائی تعاون تنظیم کی رُکنیت سے پاکستان کو خطے کے مفادات اور ترقی کے علاوہ دہشت گردی اورانتہا پسندی کے خلاف تعاون میںمدد ملے گی۔ بھارت سمیت شنگھائی تعاون تنظیم کے ممبر ملکوں کی تعداد آٹھ ہوگئی ہے۔ ان آٹھوں ممبر ملکوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ یقین غالب ہے کہ اگلے کسی اجلاس میں یہ مطالبہ سامنے آسکتا ہے کہ اگر افغانستان کا فوجی حل نہیں ہے تو پھر وہاں امریکی اور نیٹو فورسز کیا کررہی ہیں، اُن کا انخلاء ہو جانا چاہئے۔

شنگھائی تعاون تنظیم ایک اُبھرتی ہوئی تنظیم ہے جس تیزی سے وہ دنیا کی توجہ حاصل کرتی جارہی ہے، لگتا ہے ایک نیاجہان آباد ہونے جارہا ہے دُنیا کے سات ایٹمی ملکوں میں سے چار ملک شنگھائی تعاون تنظیم میں شامل ہیں اور پانچ ویٹو پاور میں سے 2 شنگھائی تعاون تنظیم کا حصہ ہیں۔ دنیا تبدیل ہو رہی ہے توسیع پسندانہ عزائم کے ملکوں والے حکمران جان گئے ہیں کہ جارحیت اور ہٹ دھرمی مہذب قوموں کا شیوہ کبھی نہیں رہا۔ میونخ میں سکیورٹی کونسل کے اجلاس میں 16فروری 2018 کو پاکستان کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ  نے کہا تھا کہ خود پر قابو رکھنا بہترین جہاد ہے۔ انہوں نے دسمبر2017 میں سینٹ میں خطاب کرتے ہوئے بھی کہا تھا کہ ''ہم بھارت کے ساتھ تنازعات کو بات چیت سے حل کرسکتے ہیں جنگ سے نہیں، ہماری افواج بھارت سمیت تمام ہمسایہ ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات کے حق میں ہیں۔ اور اگر تنازعات  سویلین حکومت مذاکرات  کی مدد سے حل کرنا چاہیں تو  ہم کسی بھی پہل کی حمایت کریں گے، جس کے جواب میں راجستھان میں بارمیر کے نزدیک میڈیا سے بات کرتے ہوئے بھارتی آرمی چیف جنرل راوت نے بھی کہا تھا کہ ''ہم بھی چاہتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ ہمارے رشتے بہتر ہوں۔''

شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم سے چین اور روس، پاکستان اور بھارت کو مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کی میز پر لانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ دہشت گردی دُنیا کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ دہشت گردی صرف تقریبات میں بم پھاڑنا یا تخریبی سرگرمیاںہی نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں وہ اقتصادی ہوں ، فوجی یا جمہوری۔ جہاں جارحیت، ہٹ دھرمی اور توسیع پسندی ہوگی وہ دہشت گردی میں شمار ہوگی، دنیا میں کوئی ملک تنہا دہشت گردی پر قابو نہیں پاسکتا۔ یہ اجتماعی المیہ ہے اسے یکجہتی سے ہی ختم کیا جاسکتا ہے یا اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم اس سلسلے میں دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جنگی مشقیں شروع کرنے جارہی ہے۔ جو امن مشن 2018 کہلائیں گی۔ مذکورہ مشترکہ مشقیں اگست سے ستمبر2018 یعنی سال رواں میں ہوں گی۔ اس کا اعلان پاکستان کے وزیرِ دفاع خرم دستگیر نے کیا تھا جو سال رواں کی پہلی سہہ ماہی میں شنگھائی تعاون تنظیم کے خصوصی اجلاس میں شرکت کے لئے بیجنگ گئے ہوئے تھے۔ یہ وہ دن تھے جب افواجِ پاکستان کے آرمی چیف جنرل قمر جاوید روس کے دورے پر تھے، مشترکہ جنگی مشقوں کی تصدیق پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نے25 اپریل کو اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کی تھی۔

شنگھائی تعاون تنظیم کی مشترکہ جنگی مشقوں کا مقصد خطے میں امن و استحکام اور ترقی و خوشحالی کے لئے مشترکہ کمیونٹی بنانے اور دفاعی جنگی مشقوں کے ذریعے مشترکہ دشمن تلاش کرنا ہے، ان مشقوں کی میزبانی روس کرے گا، ہر چند کہ ان مشترکہ جنگی مشقوں کی تفصیلات ابھی سامنے نہیںآئیں مگر ذرائع کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو بے اثر کرنا اور جنگ کی تیاریوں کو جانچنے کے علاوہ ممکنہ حملوں کو روکنے جیسے اقدام اور حکمت پر غور کرنا ہے، کسی بھی ملک کی فوج محض بیرونی خطرات کے بچائو کے لئے ہی نہیں ہوتی بلکہ اسے اپنے ملک کی جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ نظریاتی سرحدوں کی بھی نگہداشت اور حفاظت کرنی ہوتی ہے۔ افواجِ پاکستان دنیا کی افواج میں منفرد مقام رکھتی ہے، بے شک ترتیب کے لحاظ سے ساتویں بڑی فوج ہے مگر جنگی حکمتِ عملی، دلیری اور سرفروشی میں اس کا کوئی ثانی نہیں۔ پیشہ ورانہ طور سے تو وہ بہت نمایاں مقام پرہے، پاکستانی فوج کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ وہ عالمِ اسلام کی پہلی ایٹمی صلاحیت کی حامل فوج ہے اس کی خدمات کا ایک عالم گواہ ہے، جہادِ افغانستان ہو، آپریشن سوات، ضربِ عضب، ردالفساد الغرض آزمائش کی ہر گھڑی میں اس کا کردار مثالی رہا، انسدادِ دہشت گردی کی حالیہ لہر اور ماضی قریب کے فتنوں سے نبرد آزمائی میں افواجِ پاکستان کی قربانیاں امریکی اور نیٹو افواج کی مجموعی قربانیوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ عالمی امن کی حفاظت اور سرد جنگ کے خاتمے میں افواجِ پاکستان کا کردار تاریخِ عالم میں سنہری حروف سے لکھا جاچکا ہے۔ امریکہ اور مغربی یورپ، سوویت یونین حتیٰ کہ بھارت بھی افواجِ پاکستان کی صلاحیتوں اور جذبۂ جہاد کے اعتراف سے انکاری نہیں، شنگھائی تعاون تنظیم کی متوقع مشترکہ جنگی مشقوں میں یقینا بعض ممبر ملکوں کی افواج کو پاکستانی فوجیوں سے سیکھنے کو بہت کچھ ملے گا ۔

شنگھائی تعاون تنظیم کے فی الحال آٹھ مستقل ممبر ہیں۔ اور دہشت گردی کا تقریباً سب کو سامنا ہے۔ مگر اس سفر میں پورے خلوص سے شمولیت ہی امن کی ضمانت ہوسکتی ہے اگر بغل میں چھری اور منہ میں رام رام ہو تو شنگھائی تعاون تنظیم کی یکجہتی اور امن کی ساری کاوشیں رائیگاں چلی جائیں گی۔ سال رواں کی 13 فروری کو کابل چیف آف ڈیفنس کانفرنس میں افواجِ پاکستان کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے دو ٹوک الفاظ میںکہا کہ ''پاکستان کی زمین کسی کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے اور دوسرے ممالک کی زمین بھی پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہئے۔ علاقائی امن اور استحکام کا راستہ افغانستان سے ہو کر گزرتا ہے خطے اکٹھے ترقی کیا کرتے ہیں انفرادی ملکوںکی طرح نہیں۔ مشترکہ سوچ اور تحمل کے ساتھ تمام چیلنجز کا مقابلہ کیا جاسکتاہے، پاکستان اپنا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہے۔''

دہشت گردی اور تخریب کاری کے علاوہ منشیات بھی نسلوںکو تباہ کررہی ہیں۔ شنگھائی  تعاون تنظیم اس حوالے سے بھی سرگرم ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے ممبر ممالک کے انسدادِ منشیات حکام نے دُنیا بھر میں منشیات کی تیاری اور سمگلنگ کے پھیلنے کی وجہ سے اس کے انسداد کے لئے تعاون کو بڑھانے کا اعادہ بھی کیا ہے، یہ عہد شنگھائی تعاون تنظیم کے ممبر ممالک کے انسدادِ منشیات کے سربراہوں کی کانفرنس میں کیا گیا۔ کانفرنس میں منشیات اور نفسیاتی مادوں کے استعمال کی روک تھام کے بارے ایک مسودہ پیش کرنے پر بھی اتفاق ہوا۔ طے پایا کہ اقوامِ متحدہ  کے انسدادِ منشیات کنونشن کے اختیار کا تحفظ کیا جائے گا، چین کے نیشنل نارکوٹک کنٹرول کمشن کے  ڈپٹی ڈائریکٹر لیویوجن نے کہا کہ ''انہیں امید ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے رُکن ممالک منشیات کے کنٹرول میں تعاون کی کامیابیوں کو مضبوط کریں گے۔

بہر طور ایس سی او ممبران ممالک کی دہشت گردی کے خلاف مشترکہ مشقیں ہوں یا پھر انسدادِ منشیات کنونشن ۔ ان سب کا مقصد خطے میں امن کا قیام اور عوامی ترقی کے زیادہ سے زیادہ امکانات تلاش کرنا ہے۔ بلا شبہ سماجی و معاشرتی ترقی اور خطے کی اقوام کے باہمی روابط ہی میں فلاح کا راز پوشیدہ ہے۔


مضمون نگار ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 285مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP