قومی و بین الاقوامی ایشوز

نئی صف بندی 2015اور اس کے بعد کا افغانستان

دسمبر 2014کے بعد خطے بالخصوص افغانستان اور اس سے ملحقہ پاکستانی علاقوں کی سیکیورٹی اور دیگر حالات کیسے ہوں گے؟ اس سوال نے ہر کسی کو پریشان کر کے رکھ دیا ہے کیونکہ افغانستان کے مستقبل کے بارے میں یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جا سکتا اور اس بات کا دوسروں کے علاوہ خود افغان حکمرانوں اور سیاستدانوں کو بھی احساس ہے کہ سال 2015 اس جنگ زدہ ملک کے لئے کئی حوالوں سے خطرناک سال بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ افغان لیڈر شپ کے خدشات کو لندن کانفرنس کے دوران بھی قدم قدم پر محسوس کیا گیا تاہم یہ امر قابل ستائش ہے کہ پاکستان‘ برطانیہ‘ امریکہ اور بعض دیگر اہم ممالک نے کانفرنس کے دوران ماضی کے برعکس اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ اس بار 90کی دہائی کی طرح افغانستان کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا اور اس کی امداد اور حمایت جاری رکھی جائے گی۔ لگ یہ رہا ہے کہ کافی تلخی اور تعطل کے بعد اب ایک نئی حکمت عملی کی بنیادیں رکھی جا رہی ہیں۔

نائن الیون کے واقعے کے بعد افغانستان کی سیکیورٹی کے معاملات عملاً نیٹو اور ایساف کی فورسز کے ہاتھوں میں رہے اور افغان ریاست اپنی سیکیورٹی کے لئے دوسروں کی محتاج رہی۔ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ تیرہ چودہ سال کی عالمی موجودگی کے باوجود افغانستان کی داخلی سیکیورٹی اور استحکام کو اب بھی اطمینان بخش نہیں کہا جا سکتا۔ ایک رپورٹ کے مطابق سال 2014 کے دوران کابل سمیت افغانستان کے مختلف علاقوں میں 370کے لگ بھگ حملے کئے گئے جن میں سیکڑوں افراد لقمۂ اجل بن گئے۔ صرف گزشتہ تین ماہ کے دوران تقریباً 40بار کابل جیسے شہر کو حملوں کا نشانہ بننا پڑا۔ دوسرے علاقے بھی حملوں کی زد میں رہے۔ افغانستان میں الیکشن کے بعد جب اقتدار کی منتقلی کے معاملے پر اشرف غنی اور عبداﷲعبداﷲ کے درمیان کشیدگی پیدا ہو گئی اور اس صورت حال نے کافی طوالت اختیار کی تو طالبان نے ان حالات سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے حملوں کی تعداد بڑھا دی جس کے باعث فورسز کوشدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کشیدگی کی صورت حال کے باعث افغان فورسز‘ پولیس اور انٹیلی جینس کی باہمی اعتماد سازی اور رابطہ کاری کو بھی نقصان پہنچا کیونکہ فورسز میں اکثریت نان پشتونوں کی ہے اور یہ اکثریت غیر اعلانیہ طور پر عبداﷲعبداﷲ کو سپورٹ کر رہی تھیں۔ لسانی رویوں کے اثرات دوسرے ریاستی اداروں پر بھی اثر انداز ہونے لگے اور شاید یہی وجہ تھی کہ امریکہ اور برطانیہ کو نئی حکومت کے فارمولے کے لئے ہنگامی طور پر خود میدان میں کودنا پڑا کیونکہ حالات قابو سے باہر ہو رہے تھے اور افغان قیادت تصادم کی راہ پر گامزن تھی۔ افغان عوام نے تمام تر خدشات اور خطرات کے باوجود الیکشن میں ریکارڈ ووٹ ڈال کر ا پنا فرض پورا کیا تھا مگر قیادت نے انتخابات کے نتائج کے معاملے پر بالغ نظری کا مظاہرہ نہیں کیا جس کی عوام کو ضرورت تھی۔ یہ طرز عمل نہ صرف افغانوں کے لئے ایک غیرسنجیدہ رویّے کا پیغام دے رہا تھا بلکہ اس نے امریکہ اور دوسرے اتحادی ممالک کو بھی تشویش میں مبتلا کر دیا اور ان کو محسوس ہونے لگا کہ تیرہ چودہ سال کی محنت اور سرمایہ کاری کے باوجود اگر صورت حال پھر بھی ایسی ہی رہی تو اس کے بہت خطرناک نتائج برآمد ہو سکتے ہی۔ بلاشبہ یہ چند مہینے بہت مایوس کن ثابت ہوئے۔

ہنگامی رابطہ کاری کے بعد افغانستان کے دو بڑے حریفوں یعنی اشرف غنی اور عبداﷲ عبداﷲ کو شراکت اقتدار کے ایک فامولے پر متفق تو کرایا گیا تاہم اس وقت بھی صورت حال یہ ہے کہ دوڈھائی مہینے کا عرصہ گزرنے کے باوجود مرکزی کابینہ کے قیام کو ممکن نہیں بنایا جا سکا اور اس اہم ترین مرحلے کے دوران بھی افغانستان کو ایڈہاک پر چلایا جا رہا ہے۔ شراکت اقتدار کے فارمولے کے بعد صدر اشرف غنی نے سعودیہ‘ چین‘ پاکستان اور برطانیہ جیسے ممالک کے دورے کئے تاہم ان تمام دوروں کے دوران وہ کابینہ جیسی اہم ضرورت کی موجودگی سے محروم رہے اور معاملات کا سارا بوجھ وہ اپنے کندھوں پر ڈال کر آگے بڑھتے رہے۔ لندن کانفرنس میں وہ 150 افراد پر مشتمل وفد لے کر گئے تھے۔ ان 150افراد میں سے اکثریت کا تعلق این جی اوز سے تھا۔ افغانستان کی این جی اوز کی تعداد دنیا کے کسی بھی ملک سے زیادہ ہے تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اقوام متحدہ اپنی رپورٹوں میں افغان سیاستدانوں کے بعد این جی اوز کو کرپشن کاسب سے بڑا ذریعہ بتا چکی ہے اور دیگر رپورٹس میں افغان سیاستدانوں کے بعد این جی او سیکٹر اپنی کرپشن‘ غلط بیانی اور بدانتظامی کے باعث دنیا کا بدترین سیکٹر ہے اور اسی سبب بعض حلقے ان این جی اوز کو افغانستان کے لئے طالبان سے بھی بڑا خطرہ سمجھ رہے ہیں۔

لندن کانفرنس کے اختتام پر جاری کردہ بیان میں جناب اشرف غنی نے حقائق کا ادراک کرتے ہوئے ان دفاعی، ادارہ جاتی اور معاشی مسائل اور ایشوز پر کھل کر اظہار خیال کیا جو کہ ان کے ملک کو درپیش ہیں۔ انہوں نے کھلے دل سے بعض ان مسائل کا اعتراف بھی کیا جو ریاست اور سیاست کے باعث افغانستان کے مستقبل کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔ جناب اشرف غنی نے پاکستان کے کردار اور کانفرنس میں وزیراعظم پاکستان کی شرکت اور یقین دہانیوں کو بطور خاص بہت سراہا اور امید ظاہر کی کہ پاکستان ایک مستحکم اور پرامن افغانستان کے قیام کی کوششوں میں فعال کردار ادا کر ے گا۔ انہوں نے اس موقع پر تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ گزشتہ تیرہ برس کے دوران طالبان کے ساتھ جنگ میں نیٹو اور ایساف کے 3400فوجی ہلاک جبکہ 30,000 کے لگ بھگ زخمی ہو چکے ہیں۔ انہوں نے ان فوجیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکہ حالیہ معاہدے کے بعد افغانستان کی سیکیورٹی کے لئے اپنی معاونت جاری رکھے گاجبکہ عالمی برادری معاشی ترقی اور معاشرتی استحکام کی مد میں مدد فراہم کرتی رہے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اور عبداﷲعبداﷲ بہت جلد کابینہ تشکیل دے دیں گے۔

اعداد و شمار سے قطع نظر اصل حقیقت یہ ہے کہ سال 2001سے اب تک افغانستان میں نیٹو اور ایساف کے تقریباً 6ہزار فوجی لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ان میں اکثریت امریکیوں کی ہے جبکہ طالبان کے حملوں اور مقابلوں کے دوران ایک رپورٹ کے مطابق افغان فورسز اور پولیس کے 25,000 سے40,000جوان مارے جا چکے ہیں۔ ایک اور رپورٹ کے مطابق عالمی اور افغان فورسز نے گزشتہ تیرہ برسوں کے دوران تقریباً 95,000طالبان مار ڈالے ہیں جو فورسز کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہیں۔ بہرحال سب سے بڑا ایشو اب بھی یہی ہے کہ 2015اور اس کے بعد کا افغانستان کیسے ہو گا اور عالمی علاقائی طاقتوں کا کردار کس نوعیت کا ہو گا۔ جب تک ان سوالات کا جواب نہیں ڈھونڈا جاتا، ایک مؤثر خاکہ نہیں بن سکے گا۔ ماہرین کا خیال ہے کہ طالبان، القاعدہ، داعش اور ان کے اتحادی جنوری کے بعد پوری شدت کے ساتھ حملہ آور ہوں گے تاکہ افغان حکومت اور فورسز کی صلاحیت کا امتحان لینے کے علاوہ عالمی سطح پر یہ پیغام بھی دیا جائے کہ وہ خطے کے عوام اور ریاستوں کو اب بھی چیلنج کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ بعض حلقوں کا موقف ہے کہ نئی عالمی و علاقائی صف بندی کے بعد انتہاپسندوں کے پاس کسی بڑی مزاحمت کے امکانات بہت کم ہو گئے ہیں۔ ان حلقوں کے مطابق طالبان جنوری اور اس کے بعد کے دو تین مہینوں کے دوران بھرپور حملوں کی پلاننگ تو کر چکے ہیں تاہم یہ حملے افغانستان پر قبضے کے لئے نہیں بلکہ مجوزہ مذاکرات کے دوران اپنی اہمیت اور طاقت منوانے کے لئے کئے جائیں گے۔ دوسری جانب افغان فورسز کی تعداد بھی اب ساڑھے تین لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔


بعض باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات کی حالیہ کوششوں اور اشرف غنی کے دورہ پاکستان کے بعد پیدا ہونے والے حالات افغانستان کے مستقبل پر بہت اچھے اثرات مرتب کریں گے۔ ان صاحب الرائے حلقوں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اب پہلے والی تلخی اور دوری نہیں رہی اور اس بات کے امکانات اب یقین میں تبدیل ہو رہے ہیں کہ دونوں ہمسایہ اور متاثرہ ممالک مستقبل میں ایک نئے تعلق کی بنیاد رکھنے جا رہے ہیں۔


سینئر صحافی سمیع یوسفزئی کے مطابق افغان حکومت کی اندرونی کشمکش، طالبان کی قوت‘ حملوں اور مورال میں اضافے کی وجہ بنی ہے جبکہ ریاستی اداروں کی غیرفعالیت بھی طالبان کو فائدہ دے رہی ہے۔ یوسفزئی کے مطابق وزارت داخلہ، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور آرمڈفورسز کے درمیان اس سطح کی انڈر سٹینڈنگ اور کوآرڈی نیشن نظر نہیں آرہا جس کی ضرورت ہے۔ اگر ان اندرونی عوامل اور کمزوریوں پر قابو نہیں پایا گیا تو ریاست کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔ سمیع یوسفزئی نے یہ بھی بتایا کہ شمالی وزیرستان کے آپریشن کے خوف اور ہلاکتوں سے بچنے کے لئے بے شمار طالبان سرحد پار کر کے افغانستان چلے گئے۔ جنہوں نے افغان طالبان کے لئے ایک بونس کا کام دیا اگر دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے انڈرسٹینڈنگ ہوتی تو صورت حال کافی مختلف ہوتی۔ بعض باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات کی حالیہ کوششوں اور اشرف غنی کے دورہ پاکستان کے بعد پیدا ہونے والے حالات افغانستان کے مستقبل پر بہت اچھے اثرات مرتب کریں گے۔ ان صاحب الرائے حلقوں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اب پہلے والی تلخی اور دوری نہیں رہی اور اس بات کے امکانات اب یقین میں تبدیلی ہو رہے ہیں کہ دونوں ہمسایہ اور متاثرہ ممالک مستقبل میں ایک نئے تعلق کی بنیاد رکھنے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اشرف غنی سابق صدر جناب حامد کرزئی کے مقابلے میں الزام تراشیوں اور عالمی طاقتوں پر انحصار کرنے کے بجائے پڑوسی ممالک اور ریجنل پاورز کے ساتھ نہ صرف اچھے تعلقات کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں بلکہ وہ پاکستان جیسی ان قوتوں کے اہم کردار کے بھی معترف ہیں جن پر افغانستان ماضی میں مسلسل الزامات لگاتا رہا ہے۔ اشرف غنی کے دورہ جی ایچ کیو کو ان کی پالیسی اور نیک خواہشات کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جبکہ افغان فورسز کی تربیت پر آمادگی اور یادگار شہداء پر حاضری کے ان کے طرز عمل اوراقدامات کو بھی پاکستان کے اندر طاقتور حلقوں میں بہت سراہا گیا۔ دورہ پاکستان کے دوران آرمی چیف جنرل راحیل شریف ‘ وزیراعظم نوازشریف اور سیاسی لیڈر شپ نے جناب اشرف غنی کا جس انداز میں خیرمقدم کیا اور افغان صدر نے اس گرم جوشی کے جواب میں جس طرز عمل کا مظاہرہ کیا دونوں ممالک کی تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس کے فوراً بعد آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے دورہ امریکہ کے دوران دہشت گردی اور پاک افغان تعلقات پر جس واضح اور دوٹوک موقف کا اظہار کیا اس پر بھی امریکہ متعدد دیگر ممالک اور افغانستان کے اندر بڑے اطمینان اور خوشی کا اظہار کیا گیا۔ امریکہ کی جانب سے اس بات کے اعتراف نے اعتماد سازی میں اور بھی اضافہ کیا کہ آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں ٹی ٹی پی کے علاوہ حقانی نیٹ ورک اور بعض دیگر گروپ بھی بڑی حد تک بے دخل یا کمزور ہو گئے ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ آپریشن کے نتائج کافی حوصلہ افزا ہیں۔ تینوں ممالک کے اندر چند ہی ہفتوں میں اتنی بڑی پیش رفت اس لئے ممکن ہوئی کہ نئی افغان قیادت اور پاکستانی قیادت ماضی کی غلطیوں کے بجائے مستقبل کے خدشات اور امکانات کا ادراک کر چکی ہیں اور اطمینان کی بات یہ ہے کہ اس تمام پراسس کو تینوں ممالک کے عوام کے علاوہ چین‘ ایران اور روس جیسے ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے۔ دوسری طرف پاکستان نے پشتون لیڈر شپ کے علاوہ شمال کی افغان قیادت کو بھی اعتماد میں لے رکھا ہے جس کے باعث افغان اسٹیبلشمنٹ کے اندر پاکستان کے بارے میں موجود خدشات اور شکایات کم ہوتی جا رہی ہیں۔ افغان حکومت اگرچہ اب بھی اندرونی بحرانوں کی زد میں ہے تاہم اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ خارجہ پالیسی کے معاملات پر اشرف غنی اور عبداﷲ عبداﷲ کے درمیان غیرمعمولی ہم آہنگی موجود ہے اور پاکستان عرصہ دراز کے بعد بہت سی ایسی تبدیلیاں لے آیا ہے جن کا افغانستان مطالبہ اور تقاضا کرتا آ رہا تھا۔

معروف صحافی اور اینکر سلیم صافی زیر بحث ایشوز پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ برسوں کی تلخیاں ہفتوں یا مہینوں میں ختم نہیں ہوا کرتیں تاہم یہ بات یقیناًخوش آئند ہے کہ ماضی کے برعکس دونوں ممالک کے درمیان وہ دوری اور تلخی نہیں رہی جو ماضی خصوصاً حامد کرزئی کے دور میں موجود تھی۔ جناب صافی کے بقول پراکسی وار، بلیم گیم کے بجائے باہمی تعاون کا راستہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے اور آثار بتا رہے ہیں کہ دونوں ممالک کی سیاسی اور عسکری قیادت ایک دوسرے کے قریب آ رہی ہیں۔ادھر امریکی سیکرٹری خارجہ کا وہ بیان بھی انتہائی اہم ہے جس میں انہوں نے لندن کانفرنس کے دوران یہ کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے قائم نہیں رہنے دیں گے اور یہ کہ دونوں ممالک کے اندر موجود دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے ان کی ہر ممکن معاونت کی جائے گی۔ ان تمام اقدامات‘ اعلانات اور اعتماد سازی کا ماحول تینوں اہم ممالک کے درمیان پہلے کبھی دیکھنے کو نہیں ملا۔ لگ یہ رہا ہے کہ حالات واقعتا بہتری کی جانب گامزن ہیں اور ایک نئی عالمی اور علاقائی صف بندی ہونے جا رہی ہے۔


ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان کے اندر 70 سے 80 لاکھ تک لوگ براہ راست عالمی امداد کے رحم و کرم پر ہیں۔ یہ بہت بڑی تعداد ہے۔ اگر عالمی امداد پر انحصار کے بجائے ملکی انتظامات کی راہ ہموار نہیں کی گئی تو یہ مستقبل میں افغان حکومت اور سوسائٹی کے لئے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔ اشرف غنی چونکہ خود عالمی سطح کے ماہر معاشیات ہیں اس لئے ان سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ خود انحصاری کے ذرائع ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور ان ذرائع کا سب سے زیادہ فائدہ کسی اور کے بجائے پاکستان کو بھی ہو گا۔


دوسری طرف جناب اشرف غنی کی کوشش ہے کہ سیکیورٹی کے ساتھ ساتھ افغانستان کی معیشت کو بھی مضبوط کیا جا رہا ہے۔اس مقصد کے لئے وہ نئے معاہدے کر رہے ہیں اور عالمی برادری نئی صف بندی کے بعد پھر سے راغب ہونے لگی ہے۔ ماہرین کے مطابق ایک پرامن افغانستان خطے کی اقتصادی ترقی کے لئے ناگزیر ہے۔ یہاں بھی پاکستان کا مفاد اور فائدہ دوسرے کسی بھی ملک سے زیادہ ہے کیونکہ افغانستان تک رسائی اور پھر سنٹرل ایشیائی وسائل سے فائدہ اٹھانے کے لئے پاکستان ہی وہ اہم روٹ اور ذریعہ ہے جس کی سب کو ضرورت ہے۔

سال 2003 سے لے کر سال 2005کے درمیان ساڑھے تین سے لے کے پانچ بلین ڈالرز کی تجارت ہوا کرتی تھی جو بعد میں تلخیوں کے باعث سکڑتی رہی اور اب ایک بلین تک آ گئی ہے۔ حالیہ اعتمادسازی اور رابطوں کے بعد امکان ہے کہ یہ سلسلہ پھر سے چل پڑے گا اور 2015 میں ڈھائی بلین تک پہنچ جائے گا۔ دوسری طرف 20سے زائد معاہدے پائپ لائن میں ہیں جن میں بجلی کا ایک اہم معاہدہ بھی شامل ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان کے اندر 70سے 80لاکھ تک لوگ براہ راست عالمی امداد کے رحم و کرم پر ہیں۔ یہ بہت بڑی تعداد ہے۔ اگر عالمی امداد پر انحصار کے بجائے ملکی انتظامات کی راہ ہموار نہیں کی گئی تو یہ مستقبل میں افغان حکومت اور سوسائٹی کے لئے بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے۔ اشرف غنی چونکہ خود عالمی سطح کے ماہر معاشیات ہیں اس لئے ان سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ خود انحصاری کے ذرائع ڈھونڈنے میں کامیاب ہو جائیں گے اور ان ذرائع کا سب سے زیادہ فائدہ کسی اور کے بجائے پاکستان کو بھی ہو گا۔ امریکہ میں مقیم ممتاز افغان صحافی اور تجزیہ کار ابراہیم ناصر افغانستان کے بہتر مستقبل سے بہت پرامید ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ 1990اور اب کے افغانستان میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ طالبان کی موجودگی اور حملوں کے باوجود آج کا افغانستان ادارہ جاتی‘ دفاعی‘ سیاسی اور اقتصادی سطح پر بہت بہتر اور مستحکم ہے۔ عالمی برادری موجودہ افغانستان کے ساتھ کھڑی ہے جبکہ ماضی کے برعکس پڑوسیوں کے ساتھ بھی تعلقات بہتر ہونے جا رہے ہیں۔ اگر پاکستان اور افغانستان کی اعتماد سازی بڑھتی ہے اور افغانستان کے طالبان کے دوبارہ قبضے کا کوئی امکان نہیں۔ یہ نہ تو افغانی چاہیں گے، نہ پڑوسی اور نہ ہی عالمی برادری اس کی اجازت دے گی۔ حملے بھی جاری رہیں گے مگر ساتھ ساتھ مذاکرات‘ اصلاحات اور اقتصادی و تعلیمی ترقی کے سلسلے بھی چلتے

رہیں گے، میں اس حوالے سے کافی مطمئن اور پرامید ہوں۔ مندرجہ بالا اسباب عوامل اور مباحث کے بعد تمامتر خدشات اور کمزوریوں کے باوجود اس نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے کہ اگر ریجنل پاورز کے درمیان اعتماد سازی بڑھتی گئی اور اس عمل کو عالمی برادری کی معاونت میسر رہی تو تمام تر رکاوٹوں کے ہوتے ہوئے بھی نہ صرف ایک بہتر افغانستان کا قیام ممکن ہے بلکہ ایک نئے علاقائی بلاک کا قیام بھی یقینی ہے۔

یہ تحریر 284مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP