ہمارے غازی وشہداء

رات کٹ جائے گی گُل رنگ سویرا ہو گا

 پاکستانی قوم نے افواج پاکستان کے ساتھ مل کر بد ترین دہشت گردی کا مقابلہ کیا۔
 دہشت گردوں سے یہ جنگ بہت طویل اور صبر آزما تھی۔ پاک فوج نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے ملک کو دہشتگردوں سے پاک کیا ۔ یہ سفر 22 سال پر محیط ہے۔ ہمارے روشن کل کے لیے کئی مائوں نے اپنے جوان بیٹوں کو قربان کر دیا، بہنوں نے اپنے پیارے بھائی راہ حق میں شہید کیے تاکہ پاکستانی قوم چین سے رہ سکے، بچوں نے اپنے والد وطن پر قربان کیے اور تا حیات ان کی شفقت سے محروم ہو گئے مگر ان کی وطن سے محبت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ بہت سی خواتین نے اپنے شریک حیات کو قوم پر نثار کیا مگر ان کا جذبہ حب الوطنی غیر متزلزل رہا۔
آپریشن ردالفساد پہلے کیے گئے آپریشنز کے ثمرات کو برقرار رکھنے کے لیے فروری2017میں لانچ کیا گیا۔ اس کا مقصد ملک کو اسلحے اور فسادی گروپوں سے پاک کرنا تھا۔ ملک بھر میں انٹیلی جینس بیسڈ آپریشنز سے امن قائم کیا گیا۔ پاکستانی عوام نے پاک فوج کا بھرپور ساتھ دیا اور امن وامان کی صورتحال میں بہتری پر سکھ کا سانس لیا۔
پاکستان کے لیے جان کا نظرانہ پیش کرنے والے شہدا پاکستان کا اثاثہ ہیں اور پاکستان میں امن و استحکام ان شہدا کی قربانیوں کا ثمر ہے۔ میجر مدثر صغیر شہید کا شمار آپریشن ردالفساد کے شہدا میں ہے۔ میجر مدثر صغیر شہید22 مارچ 2017 کو اورکزئی ایجنسی کے علاقے کلایہ میں شہادت کے درجے پر سرفراز ہوئے۔
 اورکزئی ایجنسی کے علاقے عثمان خیل، کلائیہ گائوں میں ایک گھر میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر پاک آرمی نے آپریشن کیا۔
 میجر مدثر صغیر نے آپریشن میں رضا کارانہ حصہ لیا۔ دہشتگردوں نے پیش قدمی کرنے والے میجر مدثر صغیر اور ان کے ساتھیوں پر فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں میجر مدثر صغیر سینے پر گولی لگنے سے شہید ہوگئے۔ جوابی کارروائی میں پاک فوج کے جوانوں نے تمام دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔  مدثر صغیر شہید کا تعلق کہوٹہ سے تھا۔ شہید کی نماز جنازہ  پشاور میں ادا کی گئی اور ان کو گارڈ آف آنر کے ساتھ  سپرد خاک کیا گیا۔میجر مدثر صغیر کو تمغۂ بسالت سے نوازا گیا۔
میجر مدثر شہید کے والدین ان کے آپریشن سے واپس آنے کے منتظر تھے مگر صرف ان کی شہادت کی خبر گھر تک پہنی۔  شہید کی والدہ نے پرنم آنکھوں کے ساتھ بتایا کہ مدثرکو بچپن سے پاک فوج میں شمولیت اختیار کر نے کا بیحد شوق تھا۔مدثر سنجیدہ طبیعیت کے مالک تھے اور بہن بھائیوں سے شفقت سے پیش آیا کرتے۔والدین کا احترام کرتے اور بہت خیال رکھتے تھے۔ان کی آپریشن پر جانے سے قبل اپنی بہن سے بات ہوئی۔ انہیں آپریشن سے پہلے اندازہ ہو گیا تھا کہ شاید اب وہ گھر لوٹ کر نہ آئیں اور وطن پر شہید ہو جائیں۔ میجر مدثر صغیر شہید کے بچے بھی پاک فوج میں شمولیت اختیار کرنے کی خواہاں ہیں۔ اپنے والد کو کھونے کے باوجود ان کے بچوں کے حوصلے بلند ہیں اور پاکستان سے ان کی محبت اور مضبوط ہو گئی ہے۔
میجر مدثر صغیر شہید کی والدہ نے ان کے بچپن کے بارے میں بتایا کے میجر شہید کو کرکٹ کھیلنے کا شوق تھا اور انہیں اچھی کتب پڑھنے کا شوق بھی تھا۔


 میجر مدثر صغیر کی اہلیہ نے جب ان کے خون سے تر پاک آرمی کے یونیفارم کو وصول کیا تو ان کی زبان سے الحمدللہ کے الفاظ جاری ہوئے۔ان  کی اہلیہ کی ہمت اور حوصلہ قوم کی بیٹیوں کے لیے مشعل راہ ہے ۔


 میجر مدثر شہید اپنے والدین کے اکلوتے بیٹے تھے ۔وہ ایک پیار کرنے والے بھائی تھے ۔ وہ اپنے خاندان کا بہت خیال کرتے اور سب کی مدد کرنا چاہتے تھے۔  اپنی دونوں بہنوں سے ان کو بہت پیار تھا۔بہنیں ان کاذکر کرتے ہوئے اشکبار ہو جاتی ہیں۔
میجر مدثر صغیر18اگست198 کو کیتھل ہون موضع کہوٹہ میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم راولپنڈی سے حاصل کی۔  103 پی- ایم- اے لانگ کورس سے پاس آئوٹ ہوئے۔انہوں نے 16 اپریل 2006 کو کمیشن حاصل کیا۔ آپ کا تعلق 27 پنجاب رجمنٹ سے تھا۔ میجر مدثر نے ایم-بی-اے کی ڈگری نمل یونیورسٹی اسلام آباد سے حاصل کی مگر فوج کے علا وہ کوئی اور پیشہ اختیار نہیں کیا۔ میجر انہیں  پاک فوج اور وطن سے جنون کی حد تک پیار تھا۔
میجر مدثر ، مشکل سے مشکل آپریشن کو نہایت سکون کے ساتھ لیڈ کرتے اور اپنے ساتھ آپریشن میں شریک جوانوں کی حوصلہ افزائی کیا کرتے۔ میجر مدثر شہید اپنی ڈیوٹی اور آپریشنز پر پوری توجہ مرکوز رکھتے۔ میجر مدثر صغیر شہید اپنی پیشہ ورانہ تربیت اور قابلیت کی وجہ سے آپریشنز کو لیڈ کرتے۔
میجر مدثر شہید کی شہادت کے بعد ان کی ایک بچی کی ولادت ہوئی جو اپنے والد کے بارے میں اپنی والدہ اور بہن بھائیوں سے دریافت کرتی ہے۔
 میجر مدثر صغیر کی اہلیہ نے جب ان کے خون سے تر پاک آرمی کے یونیفارم کو وصول کیا تو ان کی زبان سے الحمدللہ کے الفاظ جاری ہوئے۔ان  کی اہلیہ کی ہمت اور حوصلہ قوم کی بیٹیوں کے لیے مشعل راہ ہے ۔
 شہدا کے خون کا ثمر قوم کو امن کی صورت میں ملا اور قوم تا قیامت شہدا کی قرض دار رہے گی۔ اپنی قیمتی جان کا نذرانہ وطن عزیز کے لیے دینا صرف بلند حوصلہ لوگوں کا کام ہے۔
 پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ردالفساد آپریشن کے بعد واضح کمی دیکھنے میں آئی۔ 2020 میں دہشت گردی کے واقعات میں 169 لوگوں کی اموات ہوئیں جو کہ 2013 میں یہ 4000 تھیں۔ 2022 میں اب تک ان کی تعداد188 ہے۔پاکستان کے لیے ایک روشن گل رنگ سویرا منتظر ہے جس کی لالی میں شہدا کے خون کا عکس ہے ۔  آنے والی نسلیں امن اور ترقی کی فضا میں سانس لیں گی جو شہدا کے خون سے معطر ہیں۔ ||


[email protected]  


 

یہ تحریر 162مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP