قومی و بین الاقوامی ایشوز

کیا ہم سازش اور سازشیوں کو بھول جائیں

دسمبر 1971 کی جنگ کے پس منظر میں معروف صحافی جبار مرزا کی ایک تحقیقی تحریر جس میں بھارت اور مکتی باہنی کے باہمی گٹھ جوڑ کو بے نقاب کیا گیا ہے۔

ڈھاکہ ڈوبا نہیں تھااُسے بین الاقوامی سازش سے ڈبویا گیا تھا۔ میں کسی کو مورد الزام ٹھہرانے نہیں چلا‘ وہ تاریخ کا المیہ ہے اور تاریخ کسی کو معاف نہیں کیا کرتی۔ جذبے‘ خلوصِ نیت اور قوتِ ایمانی بلاشبہ بہت بڑے اور مؤثر ہتھیار ہیں اور باطل قوتوں کے خلاف غزوۂ بدر سے آج تک استعمال ہوتے آئے ہیں۔ مگر زمینی حقائق اور جنگی حکمت عملی ایک الگ حربی قوت ہے۔ جنرل کمال متین الدین نے سقوط ڈھاکہ کے حوالے سے اپنی کتاب ’’ٹریجڈی آف ایررز‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’بھارت اور بنگلہ دیش کی مشترکہ ایسٹرن کمانڈ کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑا کے پاس تین لاکھ فوج تھی۔ نیم فوجی دستوں سمیت پانچ لاکھ تھے جبکہ چین کی سرحد پر تعینات فوج کی حمایت بھی اسے حاصل تھی۔ ایک لاکھ مکتی باہنی گوریلا اس کے علاوہ تھے۔ او رمکتی باہنی کے تین لڑاکا بریگیڈ بھی تھے۔ اتنی بڑی فوج جو ہر قسم کے اسلحہ سے لیس ہونے کے ساتھ ساتھ جسے فضائیہ کی مدد بھی حاصل تھی سوویت یونین نے جس کی صف بندی کے لئے فعال کردار ادا کیا تھا‘ ہوائی جہاز اور ٹینک دینے کے ساتھ ساتھ پوری جنگی منصوبہ بندی کی تشکیل بھی کی تھی۔ اس کے مقابلے میں مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوجی صرف پینتالیس ہزار تھے۔ جن میں ڈاکٹر‘ انجینئر‘ سپلائی کا عملہ‘ لانگری‘ ڈرائیور اور ایجوکیشن والے نکال کر بمشکل چونتیس ہزار (34) کے قریب لڑاکا فوج تھی اور انہیں فضائیہ کی امداد بھی میسر نہ تھی۔ پھر سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ جب پاکستانی فوجی بھارت کی پیش قدمی روکنے کے لئے آگے بڑھتے تو مکتی باہنی پاکستانی فوجیوں کے گھروں پر حملے کرتے اور کچھ عقب سے فوج پر گوریلا کارروائیاں کرتے یوں پاکستانی فوج کو کئی ایک محاذوں پر دشمن کا سامنا تھا۔‘‘

حمودالرحمن کمشن نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ’’مشرقی پاکستان کی فوج نے ہوائی اور بحری امداد کے بغیر بڑی کم افرادی قوت کے ساتھ جنگ لڑی تھی۔‘‘ اس میں شک نہیں کہ مشرقی پاکستان میں موجود فوج ساڑھے سات کروڑ بنگالیوں اور باغیوں کی بغاوت کچلنے کے لئے ناکافی ہی نہیں انتہائی قلیل بھی تھی۔ باوجود اس کے تقریباً نو ماہ تک یعنی 7مارچ 1971سے 16دسمبر 1971تک مسلسل باغیوں سے نبردآزما رہی جو قابل ستائش بھی ہے اور بابِ شجاعت بھی اور پھر بھی 26دنوں تک 21نومبر سے 15دسمبر 1971تک بھارت کی پانچ لاکھ عددی اعتبار سے برتر فوج کو روکے رکھا۔ بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورس کی تقریباً 88بٹالین جن کی تعداد تقریباً 83ہزار افراد پر مشتمل تھی‘ وہ بھی پاکستانی افواج کے خلاف جارحیت میں پیش پیش تھی۔ مشرقی پاکستان میں پولیس کا کردار انتہائی گھناؤنا تھا۔ علاقے کا ایس ایچ او فوج کو بھی اپنی وفاداری کا یقین دلاتا رہتا تھا اور علیحدگی پسندوں کی پشت پناہی بھی کیا کرتا تھا۔ فوج چونکہ جغرافیائی طور پر محل وقوع سے شناسا نہیں تھی‘ اس لئے باغیوں کی سرکوبی کے لئے جہاں کہیں کارروائی کرنا مقصود ہوتی تو علاقے کے ایس ایچ او کو اطلاع کی جاتی تھی‘ پھر پولیس کی شمولیت سے ریڈ کیا جاتا تھا۔ مگر ایس ایچ او اس سے پہلے باغیوں کو مطلع کر دیا کرتا تھا اور یوں ناکامیاں آڑے آتی چلی گئیں۔ ایسی صورت حال میں افواج پاکستان کہاں تک لڑتیں ۔ سول انتظامیہ کی حالت بھی بھروسے کے لائق نہ تھی۔

7مارچ 1971کو کرفیو اور سنسر کے باوجود ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں شیخ مجیب الرحمن نے جلسہ کیا اور بندوق کی نوک پر مکتی باہنیوں نے ریڈیو پاکستان ڈھاکہ سے براہ راست شیخ مجیب کی باغیانہ تقریر نشر کرائی۔ اس سے پہلے 6 مارچ کو بنگالی فوجیوں نے بپھرے ہوئے عوام کو کنٹرول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ 8مارچ کو فوجی حکومت کے خلاف عدم تعاون کی تحریک شروع کر دی گئی تھی۔ 10مارچ کو پی آئی اے کے ملازمین نے ہوائی جہازوں سے انگریزی عبارت پی آئی اے مٹا کر بنگلہ دیش ایئرلائن کے الفاظ لکھ دیئے تھے۔ 23 مارچ 1971کو پاکستان کا چوبیسواں یوم پاکستان ڈھاکہ میں یوم مزاحمت کے طور پر منایا گیا تھا۔ مشرقی پاکستان کی ساری سرکاری عمارتوں پر اس روز بنگلہ دیش کا پرچم لہرایا گیا تھا۔ بھارت‘ روس اور برطانیہ کے سفارت خانوں پر بھی بنگلہ دیش کے جھنڈے چڑھا دیئے گئے تھے۔الغرض کئی ممالک بشمول روس جیسی سپر پاور اور بھارت جیسی چال باز حکومت مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے کے لئے قیام پاکستان کے دن سے ہی کوشاں تھی۔ اگرتلہ سازش ہو یا بھارتی جہاز کا اغوا ‘ہر ایک جارحیت اور سازش پاکستان کو دولخت کرنے کی چالیں تھیں۔ پھر 16دسمبر 1971کے سانحہ کے بعد افواج پاکستان کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جا رہا تھا۔ تمام 93ہزار جنگی قیدیوں کو فوجی کہہ کر تذلیل کی جاتی رہی۔ حالانکہ ان 93ہزار پاکستانی قیدیوں میں پچاس ہزار کے قریب سویلین تھے جن میں عورتیں‘ بچے‘ بوڑھے اور دیگر دفتری عملہ شامل تھا۔ بہاریوں کے بارے میں بھی عام تاثر یہی ہے کہ وہ بھارت کے صوبہ بہار سے تعلق رکھتے ہوں گے۔ حالانکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ سید آل محمد رضوی نے اپنی کتاب ’’مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش تک‘‘ میں لکھا ہے۔ ’’حقیقت یہ ہے کہ جو بھی غیربنگالی‘ جو مغربی پاکستان سے گیا ہو یا بھارت سے ہجرت کر کے وہاں جا بسا ہو‘ اسے مشرقی پاکستان کے مقامی لوگ یعنی بنگالی ’’باہری مانس‘‘ کہا کرتے تھے۔ مانس بنگالی زبان میں آدمی کو کہتے ہیں اور باہری سے مراد غیربنگالی مہاجر یا باہر سے آیاہوا ہے۔ یوں پھر باہری مانس کثرت استعمال سے سکڑ کر بہاری بن گیا۔‘‘ تحریک پاکستان کے معروف قلمکار اور تاریخ دان جنہیں مصور حقیقت بھی کہا جاتا ہے‘ خواجہ افتخار اپنی کتاب ’’دس پھول ایک کانٹا‘‘ (قائداعظم سے شیخ مجیب الرحمن تک) میں لکھا ہے کہ شیخ مجیب الرحمن افواج پاکستان کا ہیڈکوارٹر (GHQ) بھی راولپنڈی سے ڈھاکہ لے جانے کا آرزومند تھا۔ 1957کے حوالے سے خواجہ صاحب نے وہ واقعہ لکھا کہ۔ ’’جب سہروردی صاحب پاکستان کے وزیراعظم تھے تو ایک روز مجیب الرحمن ان کے پلنگ پر بیٹھا ان کے پاؤں دبا رہا تھا۔ اس موقع پر مجیب نے سہروردی صاحب سے کہا تھا کہ بابا۔۔۔ اب پاکستان کی حکومت پر آپ بلاشرکت غیرے براجمان ہیں اور میری خواہش ہے کہ آپ پاک فوج کے ہیڈکوارٹر کو ڈھاکہ منتقل کرنے کے احکامات فوری طور پر جاری کر دیں۔‘‘ اس پر سہروردی صاحب نے مجیب الرحمن کو جھاڑ پلا دی تھی۔ شیخ مجیب الرحمن نے سقوط ڈھاکہ سے ایک آدھ سال پیشتر ڈھاکہ کے پلٹن میدان میں پاکستان کے مسلمانوں کو فریب دینے کے لئے قرآن پاک ہاتھ میں اٹھا کر حلفاً کہا تھا کہ اس کے دل و دماغ کے کسی بھی گوشے میں پاکستان کو دولخت کرنے کا اگر دھندلا سا تصور بھی موجود ہو تو خداوند کریم اس کو اور اس کے افراد خانہ کو ایک ساتھ دنیا سے اٹھا لے۔ شاید وہ قبولیت کا لمحہ تھا کہ 15اگست 1975کو کرنل فاروق الرحمن اور ان کے ساتھیوں نے شیخ مجیب اور اس کے اہل خانہ کو ایک ساتھ موت کے گھات اتار دیا تھا۔ ایک اطلاع کے مطابق اس کی لاش تین روز تک دھان منڈی والے اس کے گھر عبرت کا نشان بنی پڑی رہی جہاں بیٹھ کے وہ پاکستان کو دولخت کرنے کے تانے بانے بنتا رہا تھا۔ وہ مکتی باہنی جو شیخ مجیب نے گوریلا کارروائیوں کے لئے اور اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لئے قائم کی تھی‘ اس کے آخری لمحات میں کام نہ آئی۔ مکتی باہنی شیخ مجیب الرحمن کی ہدایت پر باغیوں کا ایک گروہ تھا جنہیں بھارت نے ٹریننگ دی تھی۔ کچھ دیگر سرکاری اداروں سے بغاوت کر کے مکتی باہنی دہشت گرد تنظیم کا حصہ بنے تھے۔ مشرقی پاکستان میں پاکستان پولیس‘ مشرقی پاکستان رائفلز انصار اور مشرقی بنگال رجمنٹ کی بٹالین اور بری‘ بحری اور فضائی افواج کے بعض باضابطہ یونٹوں کے مشرقی پاکستانی ارکان جنہوں نے حکومت کے خلاف بغاوت کر دی تھی‘ انہی عناصر نے آخر کار مکتی باہنی اور اس کی قیادت کے لئے جواز فراہم کیا تھا۔ جن مسلح بنگالی فوجیوں نے 25مارچ 1971کو اعلان بغاوت کیا تھا‘ وہ بھی تعداد میں کافی تھے۔ روسیوں اور بھارتیوں کی جانب سے جن غیر فوجیوں کو مرحلہ وار تربیت دی گئی تھی ان کی تعداد سوا لاکھ تھی۔اس طرح مکتی باہنیوں میں بنگالیوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ ستاسی ہزار پانچ سو تھی ۔ ان میں بھارتی فوج کے پچاس ہزار گوریلا شامل نہیں ہیں۔ بعض اوقات مکتی باہنیوں کی صحیح تعداد کا اندازہ کرنا اس لئے مشکل ہو جاتا تھا کہ تقریباً ہر بنگالی اگر نہیں بھی تو پھر بھی بہت بڑی تعداد میں بنگالی باغیوں کی مدد کر رہے تھے۔ قریب قریب ہر محکمے میں مکتی باہنی کسی نہ کسی صورت میں موجود تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جب 21نومبر 1971کو بھارت نے مشرقی پاکستان پر حملہ کیا جنہیں گزشتہ نو ماہ سے پاکستانی افواج نے روکا اور پاکستانی سرحد سے دور رکھا ہوا تھا جب وہ حملہ آور ہوئے تو مکتی باہنی گوریلے ان کے ساتھ شریک ہو گئے۔

سیاسی بحران کے زمانے میں شیخ مجیب کی عوامی لیگ اور بائیں بازو کی دوسری جماعتوں نے اپنے زیر زمین لڑاکا گروہوں کو خفیہ طور سے تربیت دے کر انہیں چھوٹے ہتھیار استعمال کرنے اور دہشت گردی کی کارروائی کرنے کے لئے منظم کر دیا تھا۔ طلباء‘ دانشور اور سابق فوجی بھاری تعداد میں اس تنظیم میں شامل ہو گئے تھے۔ جنہوں نے اعلیٰ فنی اور خصوصی باغیانہ کارروائیوں کے لئے ایک بنیاد فراہم کر دی تھی۔ اس طرح 11اپریل 1971 کو ان تمام شرپسند یا علیحدگی پسند عناصر کو یک جا کر کے مکتی باہنی کے نام سے ایک باضابطہ علیحدہ فوج تشکیل دی گئی تھی جس کا کمانڈر انچیف کرنل ریٹائرڈ ایم اے جی عثمانی کو مقرر کیا گیا تھا۔

16دسمبر 1971کے سانحہ کے بعد افواج پاکستان کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جا رہا تھا۔ تمام 93ہزار جنگی قیدیوں کو فوجی کہہ کر تذلیل کی جاتی رہی۔ حالانکہ ان 93ہزار پاکستانی قیدیوں میں پچاس ہزار کے قریب سویلین تھے جن میں عورتیں‘ بچے‘ بوڑھے اور دیگر دفتری عملہ شامل تھا۔ بہاریوں کے بارے میں بھی عام تاثر یہی ہے کہ وہ بھارت کے صوبہ بہار سے تعلق رکھتے ہوں گے۔ حالانکہ ایسا بالکل بھی نہیں ہے۔ سید آل محمد رضوی نے اپنی کتاب ’’مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش تک‘‘ میں لکھا ہے۔ ’’حقیقت یہ ہے کہ جو بھی غیربنگالی‘ جو مغربی پاکستان سے گیا ہو یا بھارت سے ہجرت کر کے وہاں جا بسا ہو‘ اسے مشرقی پاکستان کے مقامی لوگ یعنی بنگالی ’’باہری مانس‘‘ کہا کرتے تھے۔ مانس بنگالی زبان میں آدمی کو کہتے ہیں اور باہری سے مراد غیربنگالی مہاجر یا باہر سے آیاہوا ہے۔ یوں پھر باہری مانس کثرت استعمال سے سکڑ کر بہاری بن گیا۔‘‘

مئی 1971تک تقریباً آدھے سے زیادہ باغیوں کو پاکستانی افواج نے غیر مسلح تو کر دیا تھا مگر بہت بڑی تعداد میں باغی پہلے سے طے شدہ پناہ گاہوں میں چلے گئے تھے۔بھارت نے مشرقی پاکستان کی سرحد کے قریب 59تربیتی کیمپ قائم کئے ہوئے تھے جہاں باغیوں کو تربیت دی جاتی تھی۔ ان کے تربیتی پروگرام میں نظریاتی تبلیغ‘ لسانی معاملات کی تحریکی طور سے تیاری شامل تھی۔ مکتی باہنی اتنی بڑی تنظیم تھی کہ اسے منظم کرنے کے لئے اور ان کی تربیتی سرگرمیوں کو مربوط بنانے کے لئے بھارت نے باقاعدہ ایک تھری سٹار جرنیل اوبان سنگھ تعینات کر رکھا تھا۔ ان کیمپوں میں ہتھیاروں کے استعمال سمیت بنیادی فوجی تربیت دی جاتی تھی لیکن اصل زور تخریبی اور دہشت انگیز کارروائیوں کے لئے کمانڈو والی تربیت اور آتش گیر مادوں‘ بارودی سرنگوں اوردستی بموں کی تربیت پر دیا جاتا تھا۔ پروفیسر اور ٹیچر عوام میں مخالفانہ جذبات ابھارنے اور لوگوں کو مکتی باہنی تنظیم کے لئے بھرتی کا جذبہ پیدا کرتے تھے۔ دریائی اور سمندری ذرائع مواصلات کو مفلوج کرنے کے لئے زیرآب تربیت پر بھارت خصوصی توجہ دیتا تھا۔ اس سلسلے میں ابتدائی چھان پھٹک بھارتی بحریہ کے افسران کیا کرتے تھے۔ تقریباً300باغیوں کو زیر آب تخریب کار کی حیثیت سے تیار کرنے کے لئے اگرتلہ سے کوچین بذریعہ ہوائی جہاز لے جایا گیا تھا۔ اتنی تعداد میں ہی فراگ مینوں کو بھارتی بحریہ کے انسٹرکٹروں نے تربیت دی تھی۔ بعض منحرف آبدوز کاروں اور گوریلا فراگ مینوں کی نگرانی میں مغربی بنگال میں دریائے بھیراتی میں پلاسی کے مقام پر تربیت دی گئی تھی۔ باغیوں کی تعلیمی صلاحیت‘استعداد ‘ذہنی اور دلچسپیوں کے پیش نظر انہیں تین حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ گریجویٹس اور انڈر گریجویٹس کو چھوٹے ہتھیاروں‘ راکٹ لانچروں‘ سمیت میپ ریڈنگ اور گوریلا طرز کی تربیت دی جاتی تھی۔ جبکہ انڈر میٹرک کو آتش گیر مادوں ‘ بارودی سرنگوں‘ دستی بموں کے استعمال‘ پلوں‘ زمین دوز نالوں اور دوسری اہم تنصیبات کو اڑانے کی تربیت کے ساتھ ساتھ مارٹر گن کے استعمال کی مہارت بھی دی جاتی تھی۔ توپ خانے اور سگنل کی ٹریننگ ڈیرہ دون کے تخریبی کیمپ میں دی جاتی تھی۔ باغیوں کی اپنی تنظیمی کمان کے لئے انہیں میں سے منتخب طلباء کو اسپیشل کمشن بھی دیا جاتا تھا جنہیں بھارتی فوج کے زیرانتظام تین ماہ کی ہنگامی تربیت ڈیرہ دون میں دی گئی تھی۔ باغی تنظیم یعنی مکتی باہنی کے افراد کو عموماً ایف ایف (فریڈم فائٹر) کہا جاتا تھا۔ ان باغیوں کو باقاعدہ یونٹوں میں اس طرح ترتیب دیا گیا تھا کہ ہر یونٹ میں 500افراد ہوتے تھے۔ ان یونٹوں کو ایس بی آر یعنی سوادھن (آزاد) بنگال رجمنٹ کہا جاتا تھا۔ تورا کے مقام پر باغیوں کے تین بریگیڈ کھڑے کئے گئے تھے جن میں ہر بریگیڈ 3000افراد پر مشتمل تھا۔ مکتی باہنی کی تنظیم سازی اسلحہ بندی و غیرہ سب بھارتی فوج نے کی تھی۔ مکتی باہنی عورتوں کا دستہ بھی تیار کیا گیا تھا جو غیرملکی نامہ نگاروں‘ کالم نگاروں اور تجزیہ کاروں سے رابطے میں رہتی تھیں۔

مکتی باہنی شیخ مجیب الرحمن کی ہدایت پر باغیوں کا ایک گروہ تھا جنہیں بھارت نے ٹریننگ دی تھی۔ کچھ دیگر سرکاری اداروں سے بغاوت کر کے مکتی باہنی دہشت گرد تنظیم کا حصہ بنے تھے۔ مشرقی پاکستان میں پاکستان پولیس‘ مشرقی پاکستان رائفلز انصار اور مشرقی بنگال رجمنٹ کی بٹالین اور بری‘ بحری اور فضائی افواج کے بعض باضابطہ یونٹوں کے مشرقی پاکستانی ارکان جنہوں نے حکومت کے خلاف بغاوت کر دی تھی‘ انہی عناصر نے آخر کار مکتی باہنی اور اس کی قیادت کے لئے جواز فراہم کیا تھا۔ جن مسلح بنگالی فوجیوں نے 25مارچ 1971کو اعلان بغاوت کیا تھا‘ وہ بھی تعداد میں کافی تھے۔ روسیوں اور بھارتیوں کی جانب سے جن غیر فوجیوں کو مرحلہ وار تربیت دی گئی تھی ان کی تعداد سوا لاکھ تھی۔اس طرح مکتی باہنیوں میں بنگالیوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ ستاسی ہزار پانچ سو تھی ۔ ان میں بھارتی فوج کے پچاس ہزار گوریلا شامل نہیں ہیں۔ بعض اوقات مکتی باہنیوں کی صحیح تعداد کا اندازہ کرنا اس لئے مشکل ہو جاتا تھا کہ تقریباً ہر بنگالی اگر نہیں بھی تو پھر بھی بہت بڑی تعداد میں بنگالی باغیوں کی مدد کر رہے تھے۔ قریب قریب ہر محکمے میں مکتی باہنی کسی نہ کسی صورت میں موجود تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جب 21نومبر 1971کو بھارت نے مشرقی پاکستان پر حملہ کیا جنہیں گزشتہ نو ماہ سے پاکستانی افواج نے روکا اور پاکستانی سرحد سے دور رکھا ہوا تھا جب وہ حملہ آور ہوئے تو مکتی باہنی گوریلے ان کے ساتھ شریک ہو گئے۔

مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوجی آپریشن کے دوران جو باغی بھاگ کر بھارت گئے انہیں وہیں بارڈر کے قریب ہی بھارت نے کیمپوں میں رکھ لیا تھا جن میں سے اکثر گوریلا ٹریننگ لے کر واپس اپنے گھروں میں آ گئے تھے اور بنگالیوں سے ملتی جلتی شکلوں والے بھارتی گوریلا بھی تربیت یافتہ بنگالیوں کے ساتھ آ کر قیام پذیر ہو گئے تھے۔ بظاہر وہ ٹرینڈ شدہ سارے افراد شریف شہریوں جیسی زندگی گزارنے لگ گئے تھے مگر جب بھارت نے مشرقی پاکستان پر حملہ کیا تھا تو سارے تربیت یافتہ باغی مکتی باہنی میں شامل ہو کر بھارتی فوجیوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو گئے تھے۔

بھارت نے باغیوں کے لئے بہت پہلے اپنے بارڈر کھول دیئے تھے۔ وہ مختلف راستوں سے مشرقی پاکستان میں داخل ہوتے اور کوئی نہ کوئی کارروائی کر کے واپس بھارت چلے جاتے تھے اور بعض دفعہ وہیں ڈھاکہ کے آس پاس پناہ گاہوں میں چلے جاتے تھے۔ باغیوں کے لئے بھارت نے اپنا متروک شدہ اسلحہ دیا۔ اس کے علاوہ باغی اسرائیل‘ سوویت یونین‘ بلجیئم‘ ہانگ کانگ اور چیکوسلواکیہ سے فراہم شدہ اسلحہ بھی استعمال کرتے تھے۔ بھارت کارروائی کی خبروں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا رہا۔ مگر پھر اچانک بنگالیوں کی ساری کاوشوں کو یکسر نظر انداز کر کے سارا کریڈٹ خود لینا شروع کر دیا تھا۔ ویسے بھی ابتدائی طور پر مجموعی کنٹرول اور عملی رابطہ بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس کی ذمہ داری تھی مگر بہت جلد وہ سارا کام بھارتی فوج نے سنبھال لیا تھا۔ ہر بنگالی بریگیڈ باضابطہ بھارتی فوج کے ایک بریگیڈیئر کی کمان میں تھی۔ سقوط مشرقی پاکستان سے چند برس قبل بریگیڈیر شا بیگ سنگھ اور بریگیڈیئر جگجیت سنگھ اروڑا جن کے بریگیڈ ہیڈکوارٹرز بالترتیب اگرتلہ اور تورا میں تھے‘ وہ اپنے علاقوں میں قائم تخریب کاروں کے بریگیڈ کی بھی کمان کرتے رہے۔ مکتی باہنیوں نے دو اور باغی گروہ ’’طوفان باہنی‘‘ اور ’’بیمان باہنی‘‘ (بنگلہ دیش ایئر فورس) کے نام سے دو اور فوجوں کی تشکیل بھی کی تھی۔ بھارت نے روس کی مالی اور تکنیکی مدد سے بیٹائی میں مکتی باہنیوں کی فضائی کارروائیوں کے لئے ایک ہوائی اڈے کی تعمیر بھی شروع کی تھی۔ بہرطور جب 16دسمبر 1971کو بھارتی فوج ڈھاکہ میں داخل ہوئی اور بنگلہ دیش بنا تو اندراگاندھی نے غرور اور تحقیر آمیز لہجے میں کہا کہ آج مسلمانوں سے ایک ہزار سالہ اقتدار کا بدلہ لے لیا ہے۔ 16دسمبر 1971 کازخم بہت گہرا ہے۔ ہم اسے کیسے بھول سکتے ہیں۔ ہم سازش اور سازشیوں کے منفی کردار کو بھی بھلا کیسے بھول سکتے ہیں

The date of the start of full-fledged war between India and Pakistan in 1971 is a contested issue. The date popularly given out is 3 December, the one announced by India, but this is merely the date the war spread to include the Western sector. In a sense India's involvement in the war may be taken to be from March, and its involvement in the politics of the province perhaps from even earlier. Numerous Bangladeshi pro-liberation accounts blithely recount close contact and coordination with authorities prior to the military action taken by the Pakistani Regime, as well as in-year. Many of the Pakistani officers I spoke to described Indian involvement and casualties in 'actions' in East Pakistan throughout the year……. 'The big operations are always done by the Indians', reported The Guardian on 18 September 1971, after an ethnic Bengali, who blended in with the local population and needed no translation, visited the training camps of the Mukti Bahini in India and crossed in to East Pakistan with a guide on his own. Of the couple of hundred Bengali 'volunteers' who were said to be in the border area he visited, only six had been given any training at all and only three had taken part in any operation”………… “The American government was correct in its assessment that India had already decided to launch a military operation in East Pakistan when Mrs. Gandhi came to Washington in early November pretending that she was still seeking a peaceful solution”.

(Sarmila Bose, Dead Reckoning: Memories of 1971 Bangladesh War, Pages 172, 173)

India’s Role in 1971 War

یہ تحریر 222مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP