قومی و بین الاقوامی ایشوز

جنگ اور امن کے دوراہے پر کھڑا افغانستان

افغان امور کے ماہر ، ممتاز صحافی اور تجزیہ نگارعقیل یوسف زئی کی تحریر 


نمائندہ خصوصی برائے امریکی صدرزلمے خلیل زاد گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کابل کا دو بار دورہ کرچکے ہیں۔ 18 نومبر کو انہوں نے کابل میں گفتگو کرتے ہوئے پھر سے طالبان کو مذاکرات کی پیشکش کی تاہم اسی روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں پاکستان کے کردار پر غیر ضروری تنقید کرکے دھمکی آمیز لہجہ استعمال کیا۔ اب یہ بات کسی کو سمجھ نہیں آرہی کہ ماسکو کانفرنس کی مخالفت کیوں کی گئی اور اگر امریکہ واقعتاً خطے میں امن اور مذاکرات کا خواہش مند ہے تو پاکستان، ایران، روس اور چین جیسے اہم اور پٹروسی ممالک کو اعتماد میں لئے بغیر وہ یہ کام کیسے کرپائے گا۔

 

نائن الیون کے واقعے کے 18 برس مکمل ہونے کے باوجود افغانستان میں امن قائم ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ۔بلکہ حالات روزبروز خراب ہوتے جارہے ہیں جس کے اثرات علاقائی اور عالمی سطح پر محسوس کئے جارہے ہیں اور خدشہ ہے کہ اگر صورتحال میں بہتری نہیں لائی گئی تو پورا خطہ ایک بار پھر نئی جنگ، کشیدگی اور محاذ آرائی کی لپیٹ میں آجائے گا۔ افغانستان خارجی قوتوں کے لئے کبھی موزوں اور سازگار علاقہ نہیں رہا۔ ایک بار پھر یہ تاریخی حقیقت درست ثابت ہورہی ہے کہ افغانستان پر حملہ اور قبضہ کرنا جتنا آسان ہے اتنا ہی کسی قبضے کو قائم رکھنا اور کسی خارجی قوت کے لئے اس سے باعزت طریقے سے نکلنا مشکل ہے، بلکہ ناممکن ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ انگریزوں نے سکینڈ اینگلو افغان وار کے بعد کہا تھا کہ افغانستان پر قبضے یا حکمرانی کا فارمولا اپنانا حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ نائن الیون کے بعد جب امریکہ کی قیادت میں 40 ممالک افغانستان میں القاعدہ اور طالبان کے خاتمے کا ایجنڈہ لے کر گھس گئے تو 2003-4 ء میں طالبان کی خواہش تھی کہ وہ سیاسی عمل کا حصہ بن جائیں مگر امریکہ نے حسب معمول طاقت کے نشے میں غلط اندازے لگا کر یہ موقع ضائع کیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2005ء کے بعد جو مزاحمت شروع ہوئی تو اس میں ہر سال شدت واقع ہوتی رہی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ جان بوجھ کر امن قائم ہونے نہیں دے رہا اور امن کی تمام کوششوں میں عملاً رکاوٹیں ڈالتا آیا ہے۔



ان کی  رائے میں افغانستان میں اڈے بنانا، فوجیں اُتارنا اور بدامنی کو فروغ دینا امریکہ کے ایک وسیع تر ایجنڈے کا حصہ ہے جس پر نائن الیون کی شکل میں عمل ہونا شروع ہوگیا اور اس قیام کا مقصد پاکستان ، ایران، روس، چین اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان میں بیٹھ کر پورے خطے کو کنٹرول کرنا تھا۔ حامد کرزئی جیسا ذمہ دار شخص بھی متعدد بار کہہ چکا ہے کہ امریکیوں نے 2003-4ء میں ان کو طالبان کے ساتھ مذاکرات اور مفاہمت سے منع کررکھا تھا۔ مذاکرات کی خواہش کا اظہار ڈاکٹر اشرف غنی کے صدر بننے کے بعد شدت اختیار کر گیا اور اشرف غنی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پاکستان اور بعض دیگر قوتوں کی حمایت سے اس کا آغاز بھی کیا۔ تاہم امریکہ ان کوششوں کی راہ میں رکاوٹیں ڈالتا رہا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مجوزہ کوششیں کبھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکیں۔ سال 2017-18 کے دوران افغانستان بدترین بدامنی اور حملوں کی زد میں رہا۔ ایک امریکی یونیورسٹی کی رپورٹ کے مطابق نائن الیون کے بعد افغانستان، پاکستان، عراق، شام اور یمن میں پانچ لاکھ سے زائد افراد دہشت گردی اور انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران مارے گئے۔ اس لسٹ میں افغانستان دوسرے نمبر پر رہا۔


2003-4 ء میں طالبان کی خواہش تھی کہ وہ سیاسی عمل کا حصہ بن جائیں مگر امریکہ نے حسب معمول طاقت کے نشے میں غلط اندازے لگا کر یہ موقع ضائع کیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ 2005ء کے بعد جو مزاحمت شروع ہوئی تو اس میں ہر سال شدت واقع ہوتی رہی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ جان بوجھ کر امن قائم ہونے نہیں دے رہا اور امن کی تمام کوششوں میں عملاً رکاوٹیں ڈالتا آیا ہے۔ ان کی  رائے میں افغانستان میں اڈے بنانا، فوجیں اُتارنا اور بدامنی کو فروغ دینا امریکہ کے ایک وسیع تر ایجنڈے کا حصہ ہے جس پر نائن الیون کی شکل میں عمل ہونا شروع ہوگیا اور اس قیام کا مقصد پاکستان ، ایران، روس، چین اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان میں بیٹھ کر پورے خطے کو کنٹرول کرنا تھا۔ حامد کرزئی جیسا ذمہ دار شخص بھی متعدد بار کہہ چکا ہے کہ امریکیوں نے 2003-4ء میں ان کو طالبان کے ساتھ مذاکرات اور مفاہمت سے منع کررکھا تھا۔

 

دوسری طرف کوشش کی گئی کہ امریکہ پر انحصار کرنے کے بجائے علاقائی سطح پر افغان مسئلے کا حل نکالا جائے۔ مگر ان تمام کوششوں کو امریکہ اور نیٹو فورسز نے آگے بڑھنے نہیں دیا۔ شاید اسی کے ردعمل میں دو بڑی عالمی قوتوں روس اور چین نے مستقبل کے خطرات خصوصاً داعش کے ممکنہ پھیلائو کے پیش نظر نئی صف بندی کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان کی مدد سے طالبان وغیرہ کے ساتھ علاقائی سطح پر رابطے کرکے امن لانے کی کوشش کی جائے۔ اس عمل کے دوران افغان طالبان کے ساتھ قطراور بیجنگ میں باقاعدہ ملاقاتیں کی گئیں جس پر امریکہ اور اس کے اتحادی غیرعلانیہ طور پر معترض رہے۔ گزشتہ ماہ کے دوران روس کے شہر ماسکو میں 10 ممالک پر مشتمل ایک اہم کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں پہلی بار طالبان کو ایک فریق کے طور پر مدعو کیا گیا اور ان کو آن دی ریکارڈ ایونٹ کا حصہ بنایا گیا۔ امریکہ اس کانفرنس میں شریک نہیں ہوا جبکہ افغان حکومت نے محض پیس کونسل کے ایک بے اختیار نمائندے کو کانفرنس میں بھیجنے پر اکتفا کیا۔ یہ اس جانب واضح اشارہ تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ماسکو اور چین کے کردار اور عمل دخل سے خوفزدہ اور اس کے مخالف ہیں۔ بعض لوگ امریکہ کی جانب سے سی پیک کی مبینہ مخالفت کو بھی اسی تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ دوسری طرف افغان طالبان کا یہ مؤ قف اب بھی برقرار ہے کہ وہ امریکہ کے ساتھ ہی بات کریں گے کیونکہ افغان حکومت بے اختیار ہے اور امریکہ سے حتمی بات تبھی ہوگی جب وہ نکلنے پر یا افغان سرزمین چھوڑنے پر آمادہ ہو۔ نمائندہ خصوصی برائے امریکی صدرزلمے خلیل زاد گزشتہ چند ہفتوں کے دوران کابل کا دو بار دورہ کرچکے ہیں۔ 18 نومبر کو انہوں نے کابل میں گفتگو کرتے ہوئے پھر سے طالبان کو مذاکرات کی پیشکش کی تاہم اسی روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹی وی انٹرویو میں پاکستان کے کردار پر غیر ضروری تنقید کرکے دھمکی آمیز لہجہ استعمال کیا۔ اب یہ بات کسی کو سمجھ نہیں آرہی کہ ماسکو کانفرنس کی مخالفت کیوں کی گئی اور اگر امریکہ واقعتاً خطے میں امن اور مذاکرات کا خواہش مند ہے تو پاکستان، ایران، روس اور چین جیسے اہم اور پٹروسی ممالک کو اعتماد میں لئے بغیر وہ یہ کام کیسے کرپائے گا۔ المیہ یہ ہے کہ افغانستان اور افغانستان پر مشتمل پٹی میں ایک بار پھر ایک نئی مگر انتہائی پیچیدہ جنگ یا پراکسی وار کی درپردہ کوششیں جاری ہیں۔ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے لئے نئے طریقے اور خطرناک ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں اور ایک کوشش یہ بھی کی جارہی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں کے بعد اب دونوں ممالک کے عوام کو بھی آپس میں لڑایا جائے۔

علاقائی چیلنجز کے حوالے سے 2019 بہت اہم ہے شاید یہی وجہ ہے کہ نئی پراکسیز اور نئی منصوبہ بندی کا آغاز کیا جاچکا ہے اور سفارتی حلقوں میں یہ خدشہ بہت عام ہے کہ 2019-20 کے دوران اس اہم جغرافیائی خطے میں بہت توڑ پھوڑ ہونے والی ہے۔ ماضی کے تجربات، بعض واقعات اور بداعتمادی کے باوجود کوشش یہ کی جانی چاہئے کہ پاکستان ایک بڑی اور ذمہ دار ریاست کے طور پر ان کوششوں کو ناکام بنا دے جو کہ مختلف قوتوں کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کو مزید دور کرنے کے لئے جاری ہیں۔

بعض دیگر ممالک بھی اس گیم میں ایک سپرپاور کے اتحادی ہیں۔ کہا جارہا ہے کہ افغانستان کے پشتون علاقوں میں حزب اسلامی، طالبان اور بعض دیگر قوتوں کو شیئر ہولڈرز بنا کر بعض مطالبات کی آڑ میں ان علاقوں میں اسلامی قوانین نافذ کرنے کی کوشش کی جائے اور اس فارمولے کے تحت پاکستان کی سرحدوں پر طالبان طرز کا کوئی ایسا نظام لایا جائے جس کے ذریعے ماضی کی غلطی کو دہراتے ہوئے سرکاری سرپرستی میں پشتون بیلٹ کو پھر سے انتہا پسندی کے قبضے میں دے دیا جائے اور باقی کے افغانستان کو پرامن بنایا جائے۔ یہ فارمولہ قابل عمل ہے یا نہیں یہ بعد کی بات ہے تاہم ایسا ہونے کی صورت میں پاکستان کے پشتون علاقوں خصوصاً خیبرپختونخوا اور بلوچستان پر کتنے خطرناک اثرات مرتب ہوں گے اس کا محض اندازہ ہی لگایا جاسکتا ہے۔ زلمے خلیل زاد ایک خطرناک منصوبے پر کام کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس منصوبے میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان ریاستی اور عوامی سطح پر بدگمانی اور کشیدگی کو ہوا دینا بھی شامل ہے۔ زلمے خلیل زاد کے پاکستان کے بارے میں خیالات کبھی مثبت نہیں رہے اور صدر ٹرمپ کی افغان پالیسی میں ان کو اہم مقام حاصل ہے۔ اس صورتحال کے تناظر میں ہی بعض واقعات کو بنیاد بنا کر عملی کوشش کی گئی کہ دونوں پڑوسی ممالک کو ایک دوسرے کے خلاف لاکھڑا کیا جائے۔ اس ضمن میں جنرل رازق، مولانا سمیع الحق اور اس کے بعد ایس پی طاہر داوڑ کی ہلاکتوں کی مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ ان تمام واقعات میں شعوری اور عملی کوششیں کی گئیں کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے پر الزامات پر آمادہ اور مجبور کیا جائے اور یہ تاثر لیا جائے کہ ریاستی سطح پر اہم افراد کی ہلاکتیں یا ٹارگٹ کلنگ کی جارہی ہے۔ ان واقعات کے پس پردہ اسباب شاید کچھ اور ہوں تاہم کوشش کی جاتی رہی کہ ان واقعات کو پاک افغان کشیدگی کو بڑھاوا دینے کے لئے استعمال کیا جائے۔ ایس پی طاہر داوڑ کی لاش کی ننگرہار سے برآمدگی، اس کی آڑ میں پاکستان پر سنگین الزامات اور لاش کی حوالگی کے معاملے کو سیاسی مقاصد کے لئے بعض افغان حلقوں کے طرزِ عمل نے بہت سے ایسے سوالات کو جنم دے رکھا ہے جن کا جواب اور پس منظر ڈھونڈنے اور جانے بغیر مستقبل کے ممکنہ حالات، سہ فریقی تعلقات اور دیگر معاملات کا تجزیہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ ایس پی داوڑ کے قتل نے پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں مزید بگاڑ کے راستے ہموار کردئیے ہیں۔ یہ ایک افسوسناک واقعہ تھا اور اس کے اصل محرکات کا پتہ لگانے کے لئے لازمی تھا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرکے اصل مجرمان اور ان کے مقاصد کا سراغ لگا لیتے۔ تاہم افغانستان اور پاکستان کے بعض لبرل اور قوم پرست انتہا پسندوں نے بدگمانیاں پیدا کرکے معاملے کو اور بھی پیچیدہ بنا دیا ہے۔ کوشش کی گئی کہ اس واقعے کی آڑ میں عوام کے اندر دوطرفہ منافرت کو فروغ دیاجائے اور قوم پرستی کو منفی مقاصد کے لئے استعمال کیا جائے۔ لگ یہ رہا ہے کہ مسئلہ اب افغانستان اور پاکستان کے دوطرفہ تعلقات اور ان کے اثرات تک محدود نہیں رہا بلکہ چند اور ایسے ''ہاتھ'' بھی ہیں جوکہ صورتحال کو بگاڑ کر کشیدگی کو مزید بڑھانے کے فارمولے پر عمل پیرا ہیں۔

 

ماسکو کانفرنس کے دوران امریکہ اور افغانستان کی عدم شرکت بعض عزائم کا کھلا اظہار اور اشارہ تھا۔ پاکستان کے بعض امریکہ نواز حلقوں کے طرز عمل سے ظاہر یہ ہورہا ہے کہ اندرون خانہ ''کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے'' بعض عالمی کھلاڑیوں کے عزائم نہ صرف پاکستان اور افغانستان کو قریب آنے نہیں دے رہے بلکہ اب ان کے عوام کو لڑانے کی کوششوں کا باقاعدہ آغاز کیا جاچکا ہے۔ کوئی بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ پاکستان کی افغان پالیسی مثالی رہی ہے تاہم اس تلخ حقیقت کو بھی نہیں جھٹلایا جاسکتا کہ پاکستان کو عالمی اور علاقائی کھلاڑیوں نے دیوار سے لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اور یہ کہ ''دوسروں'' کی افغان پالیسی بھی انتہائی خطرناک مبہم، پیچیدہ اور منفی رہی۔ علاقائی چیلنجز کے حوالے سے 2019 بہت اہم ہے شاید یہی وجہ ہے کہ نئی پراکسیز اور نئی منصوبہ بندی کا آغاز کیا جاچکا ہے اور سفارتی حلقوں میں یہ خدشہ بہت عام ہے کہ 2019-20 کے دوران اس اہم جغرافیائی خطے میں بہت توڑ پھوڑ ہونے والی ہے۔ ماضی کے تجربات، بعض واقعات اور بداعتمادی کے باوجود کوشش یہ کی جانی چاہئے کہ پاکستان ایک بڑی اور ذمہ دار ریاست کے طور پر ان کوششوں کو ناکام بنا دے جو کہ مختلف قوتوں کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کو مزید دور کرنے کے لئے جاری ہیں۔ اس سارے عمل میں کٹھ پتلیاں اپنا کام کرتی رہیں گی مگر ذمہ دار لیڈر شپ کا تقاضا ہے کہ اِن چالوں کو سمجھا جائے۔ وقتی کامیابی و ناکامی سے قطع نظر دوررس بنیادوں پر مبنی پالیسی پر عمل کیا جائے تاکہ خطے میں امن کو بحال کیا جاسکے۔


  [email protected]

 

یہ تحریر 335مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP