نقطۂ نظر

نئے سپہ سالار کے نام ایک خط

نامور صحافی‘ شاعر‘ ادیب اور متعدد کتابوں کے مصنف محمود شام کی تحریر

جناب سپہ سالار وقت! 
آپ کو اللہ تعالیٰ نے بلا شبہ ایک عظیم مرتبے سے نوازا ہے۔ دُنیا کی ایک بہترین فوج کے سربراہ بننے کا اعزاز یقیناًایک تاریخ ساز موقع ہے۔ پاکستان مملکت خداداد۔ قدرت کے بہترین وسائل سے آراستہ ہے۔ یہ ایسی سر زمین ہے جہاں تاریخ ہزار ہا سال سے انگڑائیاں لے رہی ہے، جہاں فاتحین کے گھوڑوں کی ٹاپوں کی چاپ اب بھی سنائی دیتی ہے۔ عظیم فاتح سکندر بھی اس سر زمین کی آرزو میں پہنچ گیا تھا، سالٹ رینج میں اس کے گھوڑے نمک کی خوشبو اور ذائقے سے مسحور ہوئے تھے، مغل شاہسوار، اسی مقدس زمین سے گزر کر تخت دہلی تک پہنچتے رہے ہیں، غزنوی، ابدالی، درّانی بھی اپنی تلوار کی دھار سے یہاں کی وادیوں کی آنکھیں خیرہ کرتے رہے ہیں۔

مرا عشق ہے پاکستان

 

مرا عشق ہے پاکستان
اس پہ نچھاور ہے میری کل پونجی میری جان
مرا عشق ہے پاکستان
اس کی مٹی سے وابستہ 
خواب‘ گلاب اور جیون
اس کے ہر اک ذرے میں ہے
میرے دل کی دھڑکن
اس کے رنگ وروپ کی خوشبو ہے میری پہچان
مرا عشق ہے پاکستان
بھوک اور ننگ کا ساتھی میرے آنسو پونچھنے والا
اچھے دنوں کا یار،مری خوشیوں پر جھومنے والا
میرے دل اور آنکھ کی ٹھنڈک
ہونٹوں کی مسکان ،
مرا عشق ہے پاکستان


ڈاکٹر اختر شمار

*****


اس خطّے کی اہمیت کبھی بھی کم نہیں رہی ہے۔ صرف قرون اولیٰ نہیں، قرون وسطی، یا اب جدید دَور کی صدیاں، کبھی مغل اس کی خوبصورتی کی کشش میں یہاں آکر تخت نشیں ہوتے رہے، اپنے ساتھ فارسی، ترکی، روایات، تاتاریوں کی قہر سامانیاں لاتے رہے۔ سولہویں صدی سے اٹھارہویں صدی ان کی تھی۔ اٹھارہویں صدی کے وسط سے انگریز کا جبر اس خطّے پر مسلط ہوا۔ 1947 سے ہم ایک آزاد مملکت ہیں۔ کوئٹہ سے پشاور تک اور ادھر ڈھاکے سے چٹاگانگ تک قائد اعظم کی قیادت میں دُنیا کی سب سے بڑی مسلم مملکت کا وجود عمل میں آیا۔


یہ داستان تو بہت طویل ہے۔ لیکن تاریخ کے جس مقام پر بھی کسی کو ذمہ داری ملتی ہے اس مقام اور اس موڑ کو پورے ماضی کے تناظر میں دیکھنے سے ہی وہ روڈمیپ تشکیل دیا جاسکتا ہے جس سے منزل مقصود تک پہنچا جاسکتا ہے۔ آپ پاکستان کی تاریخ کے جس موڑ پر ایک عظیم سپاہ کے سالار بنے ہیں وہاں بہت سی نیک نامیاں بھی اس ادارے کے پاس ہیں اور بہت سے چیلنج بھی درپیش ہیں۔ ان میں سے کچھ معرکے نئے ہیں کچھ گزشتہ سے پیوستہ ہیں۔ کچھ، بلکہ زیادہ، ہمارے ایک ’اتحادی‘ کے پیدا کردہ ہیں۔ اس سے کہیں زیادہ ہمارے ہمسائے کے شر سے تخلیق ہوتے رہتے ہیں جس نے پاکستان کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا ہے۔ یکے بعد دیگرے مختلف نسلوں کے ذہن میں یہ بات بٹھائی گئی ہے کہ پاکستان بھارت ماتا کے جسم کو کاٹ کر بنایا گیا ہے۔ اس خبط کے ذریعے بھارتی قیادتیں اپنی نئی نسل کو بھی پیچیدگیوں میں الجھاتی رہتی ہیں۔ اپنے سنگین مسائل پر پردہ ڈالنے کے لئے انہیں پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی اور افسانہ طرازی ہی زیادہ نتیجہ خیز لگتی ہے۔


1979 سے پاکستان نے افغانستان اور روس کی جنگ کے تناظر میں امریکی پالیسیوں پر عملدرآمد کرکے اپنے لئے، اپنے مستقبل کے لئے خطرناک رُجحانات کی بنیاد رکھ دی۔ بیسویں صدی کی آٹھویں دہائی سے ہم سکیورٹی۔ سرمایہ کاری، اقتصادی انحطاط کے ساتھ ساتھ معاشرتی، سماجی، اخلاقی بحرانوں میں اُلجھتے جارہے ہیں۔ بین الاقوامی سازشیں بڑھتی جارہی ہیں۔ بھارت بھی اس صورت حال سے پورا فائدہ اٹھارہا ہے۔ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہماری قومی قیادتیں اس دورانئے میں تجربہ کار تھیں نہ پختہ کار۔ آپس میں اتنی دست و گریباں کہ ملک دشمنوں کے خلاف بھی متحدہ نہ ہوسکیں۔ اس لئے گزشتہ چند دہائیوں اور بالخصوص نئے ہزاریے کے آغاز، اکیسویں صدی کی پہلی دہائی سے سیاسی خلاء کے باعث پاک فوج کے کندھوں پر زیادہ ذمہ داری آن پڑی ہے۔ پاکستان کے مایوس، بے کس، بے بس عوام اپنی فلاح اور صورت حال میں بہتری کے لئے فوج کی طرف ہی دیکھتے ہیں۔ کیونکہ ان کے ذہنوں میں یہ سوچ واضح ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج بہترین پیشہ ور ادارہ ہیں، جنہیں وہ اپنا پیٹ کاٹ کا انتہائی اعلیٰ تربیت کا موقع بھی دیتے ہیں۔ پاک فوج میں ڈسپلن ہے ، مملکت کا درد ہے ۔اپنے وطن کی سلامتی کے لئے فوج کے عام سپاہی سے لے کر اعلیٰ ترین عہدیدار اپنی جان دینے سے گریز نہیں کرتے۔ جبکہ ملک میں ایک سیاسی، سماجی اور اخلاقی افراتفری رہی ہے۔ دوسری طرف دُنیا میں ناانصافیوں، مسلمان حکمرانوں کی نا اہلیوں، دہشت گردی کے نام پر مسلم دُنیا کے خلاف امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے ایک مسلسل جنگ برپا کر رکھی ہے۔ فلسطین اور کشمیر میں تو اسرائیل اور انڈیا کے مظالم 1948 سے جاری تھے۔ بعد میں عراق، لیبیا، مصر،الجزائر، یمن، شام اور دوسرے ملکوں میں مغرب کی خوفناک پالیسیوں نے القاعدہ، داعش، جیسی انتہا پسند اور خطرناک تنظیموں کو جنم دے دیا ہے جن کی سوچ تو بارہویں صدی کے قبائل کی ہے۔ لیکن انہیں اکیسویں صدی کے مہلک ہتھیار میسر آگئے ہیں۔


جب ہمارے ہاں متعدد ادارے اپنی اپنی ذمہ داریاں اُس انداز میں نبھا نہیں پائے جس طرح نبھانے چاہئے تھے۔ مگر یہ امر باعث فخر ہے کہ ہماری مسلح افواج ہر خطرے کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہیں، تربیت یافتہ ہیں، مسائل کی سنگینی کا ادراک رکھتی ہیں۔ فوج کے تعلیمی ادارے وطن عزیز کے بے پایاں معدنی وسائل کے بارے میں تحقیق کرتے رہتے ہیں اور عظیم وطن کو درپیش مسائل کی شناخت، تشخیص اور ان کا علاج بھی تلاش کرتے رہتے ہیں۔ فوج کی درسگاہیں، فوج کے اسپتال بین الاقوامی معیار کے حامل ہیں۔


ایسی سماجی اور سیاسی بحرانی صورت حال میں آپ نے فوج کی کمان سنبھالی ہے، مگر آپ کو ورثے میں ایک عظیم مثالی تربیت اور ترقی یافتہ ادارہ ملا ہے آپ کو ایک عظیم سپہ سالار کی جانشینی کا شرف حاصل ہورہا ہے ۔ آرمی چیف پہلے بھی بہت آئے۔ بہت بہادر، ذہین، صحیح وقت پر صحیح فیصلے کرنے والے، لیکن جنرل راحیل شریف اپنی مستعدی، سچی سوچ، پختہ ارادوں اور بروقت فیصلوں کی وجہ سے بہت ہی نیک نام اور مقبول جنرل بن گئے۔اتنے پسندیدہ کہ قوم کی اکثریت کی آرزو تھی کہ ان کو توسیع دی جائے۔ لیکن وہ اپنے پیشہ ورانہ فرائض تک محدود رہے انہیں جہاں جس وقت ہونا چاہئے تھا، وہیں ہوتے تھے۔ فاصلے، لمحے ان پر حاوی نہیں ہوسکے۔فرائض کی انجام دہی کو انہوں نے اپنے کسی ذاتی آرام، معاملے کو اس پر ترجیح نہیں دی۔ یہ تین سال مسلسل تگ و دو، جدو جہد، سفر کے 3سال تھے۔ قوم نے ،نہ آسمان نے، نہ اس سرزمین نے،کسی آرمی چیف کو یوں مسلسل حرکت میں دیکھا۔ وہ پاکستان کے اس پہلے سے فرض شناس اور نیک نام ادارے کے اعتبار میں اور نیک نامی میں مزید اضافہ کرگئے ہیں۔


آپ ایک ایسے عظیم سپہ سالار کے بعد اس مقدس ادارے کے سپہ سالار بنے ہیں۔ چیلنج اب بھی موجود ہیں۔ مسائل اب بھی سر اٹھارہے ہیں۔ قوم اب بھی آپس میں بٹی ہوئی ہے۔ بھارت کی طرف سے اب بھی در اندازی اور سازشیں جاری ہیں جو اس کی 70سالہ حالیہ تاریخ نہیں بلکہ ایک ہزار سالہ پرانی تاریخ کا مسلسل کردار ہے۔
آپ نے اپنی زندگی کے قیمتی سال اس عظیم ملک اور اس اعلیٰ ادارے کی خدمت میں گزارے ہیں۔بھارت ہی نہیں پورے خطّے پر آپ کی نظر ہے۔ دُنیا میں کیا ہورہا ہے۔ یہ بھی آپ کے علم میں ہے۔ اس وقت انتہا پسندی۔ دہشت گردی ایک بڑا مسئلہ ہے جس سے پاک فوج ضرب عضب کے ذریعے نمٹ رہی ہے۔ بہت سی کامیابیاں حاصل ہوچکی ہیں۔ بہت سی باقی ہیں۔ اس فوجی کارروائی کے لئے جن ہم وطنوں کو اپنے گھروں سے بے دخل ہونا پڑا ان کے معاملات فوری توجہ کے طالب ہیں۔ اس کا کوئی ٹائم فریم بھی ہونا چاہئے۔ دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی فصلیں جہاں تیار ہورہی ہیں وہاں دل اور ذہن جیتنے باقی ہیں۔ دہشت گردوں کے قافلے افغانستان سے آرہے ہیں، افغانستان سے بھی معاملات درست کرنا ضروری ہے۔ پاک فوج نے ہی اس میں پہل کی تھی۔ افغان ہمارے مسلمان بھائی ہیں، ہم نے ان کے لئے بہت کچھ کیا ہے۔ پیار محبت سے ،سفارت کاری سے، کوششیں ناگزیر ہیں کہ انہیں بھارت کے دامِ ہمرنگِ زمیں سے نکالا جائے۔ یہ مرحلہ سیاسی اور فوجی قیادت مل کر طے کرتی ہے اور اسے اولیت دینا ہی پاکستان کے مفاد میں ہے۔


دہشت گردی کے بعد سب سے زیادہ ترجیح سی پیک۔ پاکستان چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کی تکمیل اور کامیابی کو درکار ہے۔ اس سے تمام پاکستان کی اور بالخصوص پسماندہ علاقوں کی تقدیر تبدیل کی جاسکتی ہے۔ ہزاروں بلکہ لاکھوں افراد کو روزگار مل سکتا ہے۔ اس پر شور بہت مچا۔ خوشیاں بہت منائی گئیں۔ لیکن اس کے لئے کماحقہ تیاری نہیں کی گئی۔ بلوچستان کے نوجوانوں کو مطلوبہ شعبوں کی تعلیم اور تربیت دی جانی چاہئے تھی۔ ان کو چین بھیجا جاتا۔ وہ چینی کمپنیوں کی ضرورت کے مطابق تربیت حاصل کرتے۔ اب بھی ترجیح اسی امر کو ملنی چاہئے کیونکہ اگر یہ مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اتریں گے تو چینی کمپنیاں ان کو ملازمت نہیں دیں گی۔ لازماً یا تو یہ ملازمین دوسرے صوبوں سے آئیں گے یا پھر چینی یہاں برسر روزگار ہوں گے، ہر صورت میں بلوچستان میں محرومی کااحساس بڑھے گا۔ بلوچستان میں پاک فوج نے محرومی اور کشیدگی کم اور ختم کرنے کے لئے بہت محنت کی ہے۔ بہت سی سکیمیں شروع کی ہیں۔
de-radicalisation
کے تحت بلوچستان کے نوجوانوں کو بھی تربیت دی گئی ہے۔ میں نے خود کوئٹہ چھاؤنی میں نوجوانوں کو یہ تربیت حاصل کرتے دیکھا ہے۔


سی پیک پاکستان کے لئے بہت سود مند اور بہت سے بحران ختم کرنے کا ذریعہ بن سکتا ہے لیکن ہماری سیاسی قیادتیں اسے صرف متنازع بنارہی ہیں۔اس کے لئے اپنے نوجوانوں اور کارکنوں کو مطلوبہ تعلیم و تربیت نہیں دے رہی ہیں۔ اگر فوج کے زیر انتظام کیڈٹ کالج۔ یونیورسٹیاں اس تربیت کا ذمہ لے لیں تو پاکستان کا مستقبل مزید محفوظ اور روشن ہوسکتا ہے۔
پاکستان میں سیاسی قیادتوں اور فوجی قیادتوں کے درمیان تنازع اور تصادم کی بھی ایک طویل تاریخ ہے۔ اس لئے پاکستان کے عوام ہر وقت اندیشوں میں الجھے رہتے ہیں۔ اب تک پاک فوج نے گزشتہ دہائی میں سیاسی قیادتوں کی راہ آسان کی ہے۔ جمہوری حکومتوں کو اپنی اپنی معیاد پوری کرنے میں سہولت دی ہے۔ جس کا اعتراف دُنیا بھر میں کیا گیا ہے۔ فوج نے پاکستانیوں کو ہر آفت اور ہر بحران میں مکمل تعاون فراہم کیا ہے ۔ زلزلہ ہو، سیلاب یا کوئی اچانک آفت، پاک فوج ہی سامنے آئی ہے۔


پاکستان کے سب سے بڑے شہر، تجارتی اور صنعتی مرکز، کی روشنیاں اور رونقیں بھی اگر بحال ہوئی ہیں تو یہ پاک فوج اور رینجرز کی شبانہ روز کوششوں سے ہی ہوئی ہیں۔ اس کا اعتراف کراچی کے عام شہری بھی کرتے ہیں اور سیاسی جماعتیں بھی اس کی تائید کرتی ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ فوجی کارروائی کے ذریعے ہونے والے نتائج کو مستحکم کیا جائے۔ اب ضرورت ہے سیاسی حل کی۔ کراچی کے شہریوں کو اپنی مرضی سے منتخب کئے گئے نمائندوں کو کام کرنے کا موقع دیا جائے۔ بلوچستان کے ساتھ ساتھ کراچی بھی بھارت کی نظر میں کھٹکتا ہے۔ یہاں بھی تخریب کاری کی اس کی تاریخ ہے۔ کراچی کے شہری جتنے محفوظ ہوں گے، امن سے اپنا کاروبار کرسکیں گے، اتنی ہی غیر ملکی ایجنٹوں کو مایوسی ہوگی، ان کا نیٹ ورک توڑنے کے لئے شہر کے بلدیاتی نظام کو بھرپور انداز میں چلنا چاہئے۔


آپ کے تجربے، مشاہدے، فکر سے توقع کی جاتی ہے کہ اب اس خطّے میں طاقت کا توازن درست سمت میں ہوگا۔ اپنے ہمسایوں سے ہمارے سیاسی، اقتصادی، سماجی اور تعلیمی تعلقات بہتر ہونے چاہئیں۔ چین تو ہمارا ہر موسم کا ساتھی ہے۔ اسے ہماری سلامتی اور ترقی کی ہم سے زیادہ فکر ہے۔ اس سے ہمارا تعاون ہر شعبے میں ہے۔ پاک فوج اور چینی فوج کے درمیان تعلقات مثالی ہیں۔ عسکری تربیت۔ فوجی ہتھیاروں کی تیاری میں ایک دوسرے سے تعاون بھرپور ہے۔ اب دوسرے ہمسایوں سے بھی ہمارے تعلقات میں استحکام پیدا ہونا چاہئے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی اور فوجی قیادت مل کر اپنے قومی مفادات کا تعین کریں۔ آئندہ دس پندرہ سال کے لئے روڈ میپ تشکیل دیا جائے۔
میں جانتا ہوں کہ امن کی یہ کوششیں پاکستان کی تمام قیادت کی سعی لاحاصل رہی ہیں کہ ہمارے ہمسائے بالخصوص ہندوستان، افغانستان (اور اب بنگلہ دیش بھی) ہمیں صرف تعصبات کی نظر سے دیکھتے آئے ہیں۔ یقیناًہم امن چاہتے ہیں مگر برابری اور عزت کے ساتھ۔


پاکستان کے ماضی میں اتنے نشیب و فراز آئے ہیں ایسے ایسے المیے برپا ہوئے ہیں کہ یہاں کی تاریخ اور تمدن دوسرے جمہوری ملکوں سے مختلف ہیں۔ یہاں مسلح افواج کی تربیت، فرائض کی انجام دہی میں ایک تسلسل ہے۔ عالمی تناظر میں پاک فوج کا کیا کردار ہونا چاہئے، یہ نظریہ بھی واضح ہے۔ بھارت کے عزائم اور خواہشوں کے بارے میں بھی پاک فوج کی پالیسیاں قطعی ہیں ۔ افغانستان ہمارا اب بھارت سے زیادہ دشمن بن رہا ہے۔ اس پر بھی پاک فوج کی تحقیق اور مشاہدہ ہر پہلو سے صراحت رکھتا ہے۔ ایران، اومان، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، مشرقِ وسطیٰ، امریکہ، برطانیہ سب سے عسکری تعلقات عملیت پسندی کے عکاس ہیں۔ سابق آرمی چیف نے جن 25ملکوں کے دورے کئے ان سے یقیناًپاکستان کو عسکری اور سیاسی فوائد حاصل ہوئے ہیں۔


پاکستان کا مستقبل سیاسی اور فوجی قیادت میں بہترین مفاہمت سے ہی محفوظ ہوسکتا ہے۔ پاکستان کے عوام کی دلی تمنا یہی ہے کہ یہاں بہتر حکمرانی ہو، قومی خزانے کی لوٹ مار ختم ہو، بیرونی قرضوں کا بوجھ کم ہو، غیر ممالک سے مالیاتی اداروں سے جو امداد یا قرضے لئے جاتے ہیں وہ انہی منصوبوں پر خرچ ہوں جن کے لئے حاصل کئے جاتے ہیں۔ قوم کو یقین واثق ہے کہ آپ کے تجربے، لگن اور جذبے کی بدولت نہ صرف پاک فوج دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرے گی بلکہ مملکت کے دوسرے اداروں کو بھی حوصلہ، تقویت اور رہنمائی ملے گی۔
انشاء اﷲ آپ کے 3سال پاکستان کو مزید استحکام اور عسکری طاقت دیں گے۔ 
پاک فوج زندہ باد۔ پاکستان پائندہ باد۔


[email protected]

یہ تحریر 366مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP