قومی و بین الاقوامی ایشوز

رجب طیب اردگان اور پاک ترک تعلقات

ترکوں کی پاکستان سے اور پاکستانیوں کی ترکوں سے دوستی کا مجھے ذاتی طور پر پہلی دفعہ مارچ 1973ء میں تجربہ ہوا تھا۔ ارزِروم سے استنبول تک کسی نے مجھے ایک لمحے کے لئے بھی تنہا نہ چھوڑا۔ میں بذریعہ ریل انقرہ تک اور پھر بحری جہاز سے بحیرہ اسود پار کر کے استنبول پہنچا تھا۔ (اُس وقت تک ابھی پل کی تعمیر عمل میں نہیں آئی تھی) سارے راستے میں وہ سب سے پہلے مجھ سے پوچھتے پاکستانی؟ میں جب اثبات میں جواب دیتا تو وہ اگلا سوال کرتے کہ بھٹو یا مجیب؟ میں جب بھٹو کہتا تو ہر کوئی بے اختیار مجھ سے معانقے کو دوڑتا۔ دو دن کے سفر میں کسی نے بھی مجھے کوئی چیز خرید کر نہ کھانے دی ہر کسی کی کوشش ہوتی کہ وہ مجھے ڈائننگ کار تک ساتھ لے جائے اور جب استنبول پہنچ کر میں نے شاہین پیلس میں قیام کا فیصلہ کیا تو اس ہوٹل کی انتظامیہ نے میرے ساتھ وہی سلوک کیا جو پہلی دفعہ 1988میں مدینہ پاک کے لوگوں نے میرے ساتھ کیا تھا۔ بمشکل انہوں نے رات قیام کے پیسے لئے۔ ان کے چہروں کی شفافیت ان کے باطن کی آئینہ دار تھی۔ وہ مجھے اپنا ہم وطن اپنا بھائی سمجھ رہے تھے۔ ایک دو اپنے گھر لے گئے۔ بچوں اور بیگم سے ملوایا۔ آج بھی ترک لوگوں کے دلوں میں پاکستانیوں کے لئے بے پناہ محبت ہے۔ 1965کی پاک بھارت جنگ میں ترکی نے پاکستان کو دفاعی امداد دینے کا اعلان 11ستمبر کو کر دیا تھا۔ اس سے پہلے 30ستمبر 1947کو جب پاکستان اقوام متحدہ کا رکن بننے والا دنیا کا 56واں ملک بنا تھا تو پاکستان کی حمایت میں ترکی کے مندوب نے بھرپور تقریر کی تھی یہی وجہ تھی کہ اجلاس میں موجود 54ممالک میں سے 53نے پاکستان کی حمایت کی تھی۔ اکیلے افغانستان نے مخالفت کی تھی۔ مزید برآں 20دسمبر 1971کو جب ذوالفقار علی بھٹو نے سول مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور صدر مملکت کا حلف اٹھایا تھا تو 24جنوری 1972کو سب سے پہلے جو غیرملکی دورہ انہوں نے کیا تھاوہ ترکی کا تھا۔ وہ اس روز صبح انقرہ پہنچے تھے اور مختصر قیام کے بعد شام واپس آ گئے تھے۔ ترکی نے بھٹو کو مکمل حمایت کا یقین دلایا تھا۔ ترک حکمرانوں اور لوگوں کے دلوں میں پاکستانیوں کے لئے بے پناہ محبت ہے۔2005کے زلزلے میں دامے‘ درمے‘ سخنے پاکستان کی مدد کو پہنچ کر ترکوں نے اپنی بے مثال دوستی اور ایثار کی روایت برقرار رکھی۔ گزشتہ برس دسمبر میں پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے ترکی کے وزیر اعظم جناب رجب طیب اردگان نے جب مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان ہمارا دوسرا گھر ہے۔ تو یقیناًانہیں اس دعوے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے صحیح کہا تھا کہ اس میں نہ تو کوئی تصنع کا عمل دخل تھا اور نہ ہی محض لفاظی بلکہ وہ ان کے دل اور روح کی گہرائیوں سے ابھرنے والے جذبات تھے۔

رجب طیب اردگان موجودہ مسلم رہنماؤں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کی انسان دوستیقابلِ مثال ہے۔ وہ جس طرح ترکی کو کامیابیوں سے ہمکنار کرنے میں سرگرم ہیں اس طرح دنیا کے دیگر انسانوں کی کامیابیوں کے بھی متمنی ہیں وہ کسی قسم کے جھمیلوں میں پڑے بغیر مذہب مسلک سے بلند ہو کر انسان کو جوڑنا چاہتے ہیں۔ بظاہر ان کا تعلق قدامت پسند سیاسی پارٹی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی سے ہے۔ لیکن ان کی سوچ لبرل‘ روشن خیال اور ترقی پسند ہے۔ انہی کی کوششوں سے ترکی کو 2005میں یورپی یونین میں آبزرور ممبر شپ دی گئی۔ 2009میں کردوں کے ساتھ پچیس سالہ مسئلہ جس میں قریب قریب 40ہزار جانیں تلف ہوئیں نہایت تدبّر اور دانش کے ساتھ حل کیا۔ جن شہروں اور قصبوں کے نام ترکی زبان میں تھے ان کے نام کردش میں پہلے کی طرح بحال کر دیئے۔ غیرملکی سرمایہ کاروں کو ترکی میں سرمایہ لگانے کی دعوت دی۔ کئی سرکاری ریگولیشنز اٹھا لئے۔ اس سے جی ڈی پی آٹھ فیصد تک بڑھا۔ طیب اردگان جب وزیراعظم بنے تھے تو ترکی نے آئی ایم ایف کا 23.5بلین ڈالر قرض دینا تھا۔ لیکن انہوں نے اپنی حکیمانہ اقتصادی پالیسی کی وجہ سے بہت سارا قرض اتارا۔ 2009میں وہ قرض 7بلین ڈالر رہ گیا تھا۔انہوں نے آئندہ کسی قسم کا قرض نہ لینے کی ٹھانی جس میں نہ صرف وہ کامیاب رہے بلکہ 2013کے اختتام تک ترکی آئی ایم ایف کے چنگل سے جان خلاصی کرا چکا ہے۔ بے روزگاری کی شرح 2010کے اعداد و شمار 16.1فیصد سے کم ہو کر یورپی یونین کی شرح دس فیصد تک آ گئی ہے۔ یہ اقتصادی میدان میں امید افزا کامیابی ہے۔ رجب طیب اردگان نے افراط زر پر قابو پایا۔ 18سال کی عمر سے تمام افراد کو مفت طبی سہولتیں دی جائیں گی۔ ریٹائرمنٹ کی عمر میں دھیرے دھیرے اضافہ کیا جائے گا۔ 2036سے ریٹائرمنٹ کی عمر 65سال ہو جائے گی اور 2048میں مرد اور عورت کے لئے یہی عمر برابر ہو جائے گی۔ تمام پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی پر پابندی کا قانون بنایا اور اس پر سختی سے عمل درآمد بھی کرایا۔ قبرص کے مسئلے پر برسوں سے یونان سے جو تنازعہ چلا آ رہا تھا یونان سے تعلقات کو معمول پر لانے کے علاوہ سیاسی اقتصادی رشتے استوار کئے۔ 2007میں رجب طیب اردگان اور یونانی وزیراعظم کو ستاس کرامن لیس (Kostas Karamanlis) دونوں نے ایورس دریا کے پل پر ملاقات کی۔ یہی دریا دونوں کے درمیان حدِ فاصل ہے۔ ’’گریک- ترکش‘‘ نیچرل گیس پائپ لائن کا افتتاح کر کے دیرینہ رقابتوں کو ختم کیا۔ یہی نہیں بلکہ اس عمل سے علاقے میں روس کی توانائی میں برتری متاثر ہوئی۔

رجب طیب اردگان موجودہ مسلم رہنماؤں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ان کی انسان دوستی قابلِ مثال ہے۔ وہ جس طرح ترکی کو کامیابیوں سے ہمکنار کرنے میں سرگرم ہیں اس طرح دنیا کے دیگر انسانوں کی کامیابیوں کے بھی متمنی ہیں وہ کسی قسم کے جھمیلوں میں پڑے بغیر مذہب و مسلک سے بلند ہو کر انسان کو جوڑنا چاہتے ہیں۔ بظاہر ان کا تعلق قدامت پسند سیاسی پارٹی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی سے ہے۔ لیکن ان کی سوچ لبرل‘ روشن خیال اور ترقی پسند ہے۔

2005میں آرمینیا اور ترکی کے درمیان بین الاقوامی فضائی راستے کھول دیئے۔ عراق کے ساتھ 48تجارتی معاہدے کئے بلکہ 33برسوں میں پہلی بار ترکی کے صدر نے عراق کا دورہ کیا۔ عراقی کردستان کے تعلقات میں گرم جوشی پیدا کرنے کے لئے اربیل میں ترکش یونیورسٹی قائم کی۔ موصل میں ترکش قونصل خانہ کھولا۔

شام کے ساتھ تعلقات میں بہتری پیدا کی جس کی وجہ سے 57سال بعد 2004میں شام کے صدر نے ترکی کا دورہ کیا تھا۔ عراق کے ساتھ ترکی ویزہ کی پابندیاں ختم کیں۔ رجب طیب اردگان نے سپین کے دورے کے دوران خواتین کے سر پر سکارف کے حق میں تقریر کی۔ ترکی میں سپریم کورٹ میں مقدمے کی پیروی کر کے سکارف پہننے پر عمل درآمد کرایا۔ 2003میں امریکہ نے عراق پر حملہ کیا تو لاجسٹک سپورٹ کے لئے ترکی نے امریکہ کی کسی قسم کی مدد کرنے اور عراق کے خلاف اپنی دھرتی استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔

رجب طیب اردگان 26فروری 1954کو استنبول کے نواح قاسم پاشا کے ایک خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ خاندان بنیادی طور پر جارجین تھا۔ جو بطوی سے ہجرت کر کے رزی (Rize) میں سکونت پذیر ہوا تھا۔ اردگان کا بچپن رزی میں گزرا۔ وہاں ان کے والد ترکش کوسٹ گارڈ (Turkish Coast Guard) کے ممبر تھے۔ طیب اردگان نے نوجوانی میں استنبول میں بند‘ ڈبل روٹیاں اور برگر فروخت کر کے والد کی معاشی ضرورتوں میں ہاتھ بٹایا۔ 1965میں قاسم پاشا ایلیمنٹری سکول سے اور 1973میں استنبول رئیلجئس ووکیشنل ہائی سکول (امام ہاتپ سکول) سے گریجوایشن کیا۔ ایوپ ہائی سکول سے ہائی سکول ڈپلومہ اور پھر عسکری سکول آف اکنامکس اور کمرشل سائنسز سے بزنس ایڈمنسٹریشن کا امتحان پاس کیا۔ بعد ازاں ادارہ یونیورسٹی بنا دیا گیا۔ طیب اردگان فٹ بال کے بہترین کھلاڑی ہیں۔ قاسم پاشا فٹ بال کلب ان کے نام سے منسوب کر دیا گیا ہے۔

1978ء میں ایک کانفرنس میں ایمنی کو دیکھا تو اسے ایمنی اردگان (Emine Erdogan) بنا کر گھر بسا لیا۔ طیب اردگان کی بیگم ایمنی اردگان گلباران سیرت (Siirat) میں 1955میں پیدا ہوئیں۔ اس جوڑے کے دو بیٹے احمد براق اور نجم الدین بلال جبکہ دو بیٹیاں اسریٰ اور سمینہ ہیں۔

پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران رجب طیب اردگان نے پاکستان اور ترکی کے باہمی تعاون‘ بین الاقوامی تعلقات‘ دہشت گردی کے خاتمے اور دفاعی تعاون پر زور دیا ہے انہوں نے پاکستان اور ترکی کے تعلقات کو دنیا میں بے مثال قرار دیتے ہوئے سٹرٹیجک پارٹنر شپ کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کا اعادہ کیا ہے۔ تجارت معیشت‘ سیاحت اور تعلیم و تربیت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ اور علاقائی امن و سلامتی کے لئے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔

رجب طیب اردگان1994 سے1998 تک استنبول کے میئر رہے۔ اسی عرصے میں انہوں نے دنیا بھر کے میئر صاحبان کی کانفرنس بلوائی۔ یہیں سے میئروں کی گلوبل منظم کانفرنسوں کا آغاز ہوا۔2001ء میں ’’جسٹس اینڈ ڈیویلپمنٹ پارٹی‘‘ قائم کی۔ جسے ترکی زبان میں AK پارٹی کہا جاتا ہے۔ پاکستان کے حالیہ دورے کے دوران رجب طیب اردگان نے پاکستان اور ترکی کے باہمی تعاون بین الاقوامی تعلقات‘ دہشت گردی کے خاتمے اور دفاعی تعاون پر زور دیا ہے انہوں نے پاکستان اور ترکی کے تعلقات کو دنیا میں بے مثال قرار دیتے ہوئے سٹرٹیجک پارٹنر شپ کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کا اعادہ کیا ہے۔ تجارت معیشت‘ سیاحت اور تعلیم و تربیت کے شعبوں میں تعاون کو فروغ اور علاقائی امن و سلامتی کے لئے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ دونوں ممالک کے مابین مشترکہ دفاعی پیداوار اور تحقیق و ترقی کے شعبوں میں دفاعی تعاون کو فروغ دینے کا فیصلہ بھی ہوا۔ اسلام آباد وزیراعظم ہاؤس میں پاکستانی وزیراعظم میاں محمدنوازشریف اور ترکی کے وزیرِاعظم رجب طیب اردگان کی ہونے والی ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان سیاسی مشاورتی عمل کے فروغ کے لئے ارکارنِ پارلیمنٹ‘ سول سوسائٹی‘ تاجر اور میڈیا کے لوگوں کے وفود ایک دوسرے کے ملک کا دورہ کریں گے۔ نجی شعبے کی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ دونوں ممالک میں ایک دوسرے کے نجی بینکوں کی برانچیں قائم کی جائیں گی۔ دونوں ممالک کے عوام کی زندگی سنوارنے پر پیش رفت کی جائے گی جمہوری نظم کے فروغ میں تعاون کیا جائے گا۔ ترکی کے وزیراعظم طیب اردگان نے میاں محمد نوازشریف کو ترکی کے دورے کی دعوت دی جو بخوشی قبول کرلی گئی۔ انہوں نے اسی مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ’’حکومت پاکستان کی ترجیح امداد نہیں‘ تجارت ہے۔ ترک سرمایہ کار موقع سے فائدہ اٹھائیں‘‘ جبکہ ترک وزیرِاعظم نے کہا کہ’’ ہم دوطرفہ تجارتی حجم بڑھانا چاہتے ہیں پاکستان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلیں گے۔‘‘

ترکی پہلے ہی ہمیں مواصلات اور توانائی کے شعبوں میں مثالی تعاون فراہم کررہا ہے جس میں بالخصوص وزیرِاعلیٰ پنجاب محمدشہباز شریف کی کوششوں سے صوبائی دارالحکومت لاہور میں میٹروبس سروس اور سالڈویسٹ مینجمنٹ کے منصوبوں پر عمل درآمد ہے جس سے شہریوں کو بے پناہ سہولتیں حاصل ہیں۔ اگر پاکستان ترکی کی معاونت سے توانائی کے بحران پر قابو پالے تو یہاں موجود قدرتی وسائل کی بدولت ہم اپنے ملک کو سونا اگلنے والی دھرتی میں بدل سکتے ہیں۔ پاکستان اپنے انفرادی محلِ وقوع اور بعض مخصوص عالمی حالات کی وجہ سے دنیا بھر کی توجہ کا مرکز ہے۔ یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کو جی ایس پی پلس(GSP+) کا درجہ دیا جاچکا ہے۔ پاکستانی مصنوعات کو یورپی ممالک میں اپنی جگہ بنانے کا موقع ملا ہے‘ حکومتِ پاکستان کی طرف سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جی ایس پی سے آگاہ کرنے کی ضرورت ہے۔

جی ایس پی (GENERALISED SYSTEM OF PREFERENCES) دراصل یہ وہ ترجیحی اقدام ہے جس کے تحت یورپی یونین کے ممبر ممالک کو 75 ایسی پاکستانی مصنوعات جن کی تفصیل جی ایس پی معاہدے میں شامل ہے‘ برآمد کرنے پر کوئی ڈیوٹی وصول نہیں کی جائے گی۔ یہ سہولت جی ایس پی پلس میں ہے جو خاص طور سے پاکستان کے لئے ہے ان اشیاء کے علاوہ اگر کوئی چیز پاکستانی صنعت کار یا کارخانہ دار یورپی یونین کو برآمد کرنا چاہے گا تو وہ محض جی ایس پی کی روشنی میں برائے نام ڈیوٹی دے گا۔ موجودہ حکومت تجارت پر فوکس کئے ہوئے ہے قوموں کی زندگی میں تجارت ہی سرخروئی کا باعث ہوا کرتی ہے‘ اﷲ تعالیٰ کو کاشت کاری کے بعد اگر کوئی پیشہ سب سے زیادہ پسند ہے تو وہ تجارت ہے۔

پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ دنیا کے کپاس پیداکرنے والے بارہ بڑے ملکوں میں پاکستان کا نمبر چوتھا ہے۔ یہاں سالانہ 75لاکھ ایکڑ پر کپاس کاشت کی جاتی ہے جس سے15 ملین کے قریب روئی کی گانٹھیں پیدا ہوتی ہیں اس وقت دنیا میں تقریباً 800 ارب ڈالر ٹیکسٹائل مصنوعات کی تجارت ہوتی ہے جس میں پاکستان صرف 16ارب ڈالر کی ٹیکسٹائل مصنوعات برآمد کرتا ہے جو بہت ہی کم ہے ہمارے ہاں جس قدر روئی کی پیداوار ہے اس مناسبت سے بیڈ شیٹس‘ تولیہ‘ بنیانیں‘ جرابیں اور دیگر مصنوعات تیار کرکے کم ازکم ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات ہمیں64 ارب ڈالر تک لے جانی چاہئیں جو دنیا کی ٹیکسٹائل ٹریڈ کا8 فیصد بنتا ہے۔ چاول اور چمڑے کی برآمدات جو فی الحال 25 ارب ڈالر ہے اسے اگر بڑھا کر40 ارب ڈالر تک لے جائیں اور ملکی مصنوعات کو رواج دے کر غیر ملکی مصنوعات میں تھوڑی کمی کرکے موجودہ درآمدات کو43 ارب ڈالر سے کم کرکے 35ارب ڈالر تک لے آئیں تو زرمبادلہ کے لئے ہمیں آئی ایم ایف یا ورلڈ بنک کے ایوانوں تک فریادی بن کے جانے کی ضرورت نہیں رہے گی اور جب ملک 64 ارب ڈالر کی مصنوعات برآمد کرنے لگ جائے گا تو کم از کم 60 لاکھ بے روزگاروں کو روزگار میسر آئے گا‘ درآمد برآمد اور تجارتی محاسن موجودہ حکومت بہت بہتر طریقے سے انجام دے سکتی ہے کیونکہ موجودہ انتظامی سیٹ اپ تجارت پیشہ افراد پر مشتمل ہے لیکن تجارت کے فروغ کے لئے توانائی کے بحران پر قابو پانا حکومت کی پہلی ترجیح ہونا چاہئے پاکستان کی معیشت کی بہتری اور استحکام کے لئے کوئی پارٹی فرد یا ملک کوشش کرے اسے پاکستان کی کامیابی سمجھا جانا چاہئے۔

یورپی یونین میں شامل 27ممالک جن میں آسٹریا‘ بیلجیئم‘ کروشیا‘ قبرص‘ بلغاریہ ‘ چیک جمہوریہ‘ اسٹونیا‘ ڈنمارک‘ فن لینڈ‘ فرانس‘ اٹلی‘ یونان‘ جرمنی‘ ہنگری‘ لتھوینیا‘ آئر لینڈ‘ لیٹویا‘ لگزمبرگ‘ مالٹا‘ پولینڈ‘ پرتگال‘ رومانیہ‘ سلوواکیہ‘ سلووینیہ‘ سپین‘ سویڈن اور برطانیہ شامل ہیں‘ ان ممالک کے بلاک کی جانب سے عمومی ترجیح سکیم جی ایس پی پلس (جس کا پہلے ذکر آچکا ہے) کا مقصد ترقی پذیر ممالک سے درآمد بڑھا کر ان ملکوں کی معیشت کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ عین اسلامی نظریہ ہے جس پر غیر مسلم عملدرآمد کررہے ہیں‘ نبی آخرالزمان حضرت محمدﷺ کا فرمان ہے کہ چھوٹے دکاندار سے خریداری کو ترجیح دیا کرو تاکہ وہ بڑے دکانداروں کے برابر پہنچ جائے۔ فی الحال90 فیصد اشیاء پر ٹیرف زیرو فیصد ہوگا۔ ایک اندازے کے مطابق اس سکیم کے ذریعے سالانہ 574 ملین یورو کی مصنوعات پاکستان سے برآمد کی جائیں گی جن میں صرف ٹیکسٹائل کے شعبے میں سکیم کے پہلے سال میں650 ملین امریکی ڈالر کی مصنوعات برآمد کی جائیں گی۔ اس سکیم کا نفاذ نئے سال یکم جنوری2014 سے ہو چکا ہے۔ بدلے میں پاکستان سے 27 انسانی حقوق کے معاہدوں پر عمل درآمد کے لئے کہا گیا ہے جن میں سے بیشتر پر پاکستان پہلے ہی عمل کررہا ہے۔ ملک میں جمہوریت ہے‘ انسانی آزادی ہے۔خواتین کو ملازمتوں میں شریک کیا گیا ہے، دوبار ایک خاتون وزیرِاعظم کے منصب پر فائز رہ چکی ہیں وغیرہ وغیرہ۔

برآمدات تب بڑھیں گی جب ملک کی انڈسٹری کی بنیادی ضرورتوں گیس‘ بجلی‘ پانی‘ تحفظ کا خیال رکھا جائے گا‘ حکومت کی اس قسم کی کاوشیں لائق تحسین ہیں مگر دہشت گردی اور توانائی کے بحران پر قابو پانا پہلی ترجیح ہونا چاہئے۔ ان حالات میں ترکی کے ساتھ ساتھ دیگراسلامی ممالک سے بھی تعلقات میں گرم جوشی پیدا کرکے مسلم امہ کا بلاک بننا چاہئے جس کی آواز دنیا کے ایوانوں میں پذیرائی کی حامل ہو‘ جو نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر تک اخوت وبھائی چارے اور یکجہتی کی نوید ہو

یہ تحریر 205مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP