قومی و بین الاقوامی ایشوز

چار ملکی مذاکرات کا مستقبل

افغان طالبان کی جانب سے چارملکی مذاکراتی عمل میں غیر مشروط شرکت سے انکار نے خطے میں امن کے قیام کے امکانات کو فی الحال معدوم کردیا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر طالبان نے انکار پر مبنی اپنے رویے پر نظر ثانی نہیں کی تو افغانستان کے مختلف صوبوں کے علاوہ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں بھی جنگ کی شدت اور رفتار میں اضافے کا امکان بڑھ جائے گا۔ مری مذاکرات کے بعد جب مذکرات کے دوسرے مرحلے کے تعین سے قبل ملاعمر کی ہلاکت کی خبر لیک ہوگئی تو مذاکراتی عمل کا تسلسل ٹوٹ گیا اور حملوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔ اس دوران افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں داعش نے جڑیں پکڑنی شروع کیں تو دوسری طرف طالبان ہرات‘ قندوز‘ غزنی اور بعض دیگر صوبوں پر ایسے حملہ آور ہوئے کہ افغان حکومت کے علاوہ نیٹو فورسز کے اوسان بھی خطا ہوگئے۔ اس عمل نے طالبان کو نفسیاتی برتری دلانے میں اہم کردار ادا کیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ مذاکرات کی مجوزہ کوششوں سے مختلف بہانوں کی آڑ میں پیچھے ہٹنا شروع ہوگئے۔ دسمبر 2015 کے دوران پھر سے کوششیں شروع کی گئیں کہ پاکستان کے ذریعے افغان حکومت اور طالبان کو پھر سے مذاکرات کی میز پر لایا جائے تاہم ان کوششوں کے دوران حسبِ سابق پاکستان سے بعض غیرضروری توقعات وابستہ کی گئیں جن پر پورا اُترنا شاید پاکستان کے لئے زمینی حقائق کے تناظر میں ممکن نہیں تھا۔ فروری کے مہینے میں کہا گیا کہ مارچ کے پہلے یا دوسرے ہفتے کے دوران اسلام آباد میں مذاکراتی عمل کا آغاز ہو گا تاہم بوجوہ ایسا ممکن نہ ہو سکا اور اب طالبان نے یہ واضح موقف لیا ہے کہ وہ چار ملکی مذاکراتی عمل میں شرکت نہیں کریں گے۔

 

سب سے بڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ طالبان کے اچانک انکار کی وجوہات کیا ہیں اور وہ کون سی مبینہ شرائط ہیں جو کہ وہ افغان حکومت یا دیگر سٹیک ہولڈرز سے منوانا چاہ رہے ہیں۔ اس ضمن میں مختلف قسم کی باتیں زیرِ گردش ہیں تاہم فریقین ان شرائط یاانکار کے اسباب کے بارے میں مکمل خاموشی کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ بعض حلقوں کا مفروضہ ہے کہ جن کمانڈروں سے پاکستان رابطے میں تھا وہ حکومتِ پاکستان کی بعض کارروائیوں کے باعث پاکستان سے ناراض ہیں یا چاہتے ہیں کہ حکومت مذاکراتی عمل سے قبل ان کی بعض شکایات اور خدشات کا ازالہ کرے تاہم پاکستان بوجوہ ایسا کرنے کی پوزیشن میں دکھائی نہیں دے رہا۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ امریکہ حسبِ سابق ڈبل گیم کی اپنی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ اس کے بنیادی کردار کو نظرانداز کرکے چین کو آگے لا کر کوئی بڑا کریڈٹ دیا جائے۔ یہ حلقے امریکہ پر افغانستان میں داعش اور بعض دیگر کی مبینہ معاونت کا الزام بھی لگارہے ہیں اور ان کا موقف ہے کہ امریکہ بعض دیگر عوامل کے علاوہ داعش کے ذریعے روس‘ چین اور خود افغانستان پر دباؤ ڈالنے کا حربہ استعمال کررہا ہے اور منصوبے میں مبینہ طور پر بعض بااثر افغان حکام بھی امریکہ کے شراکت دار ہیں۔ مذکورہ حلقوں کا مؤقف ہے کہ امریکہ کو پاکستان اور چین کے بعض منصوبوں کے علاوہ پاکستان اور روس کی حالیہ قربت بھی پسند نہیں ہے اور یہ بھی کہ اس اہم ملک کو ان کوششوں پر بھی اعتراض ہے جو کہ ایک ریجنل بلاک کے قیام کے لئے چین کی خواہش کے مطابق کی جارہی ہیں۔

 

دوسری طرف اس نکتہ نظر کوبھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ افغان طالبان اپنی نفسیاتی بالادستی کی آڑ میں واقعتاً بعض شرائط منوانے کی پوزیشن میں ہیں اور وہ ماضی کے تجربات اور طریقہ واردات کی روشنی میں مذاکرتی عمل کے آغاز سے قبل ممکنہ حدتک بعض اقدامات یا یقین دہانیاں چاہتے ہیں۔ اگرچہ مذاکراتی عمل میں افغانستان کی نمائندگی کرنے والے ڈپٹی فارن منسٹر حکمت کرزئی کہہ چکے ہیں کہ افغان طالبان کی بعض شرائط پر بات کی جاسکتی ہے تاہم دوسری جانب سے اس کا رسپانس نہیں دیاجارہا اور مختلف قسم کے بیانات کے ذریعے معاملے کو لٹکانے کا رویہ اپنایا گیا ہے۔ طالبان کے دوحہ دفتر کے ترجمان ڈاکٹر وردگ کا وہ بیان بھی بہت سے سوالات کو جنم دینے کا باعث بنا ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ طالبان کو مذاکراتی عمل میں شرکت کی باقاعدہ دعوت بھی نہیں ملی ہے۔ دوسری طرف کابل کا دورہ کرنے والے پاکستان کے سینئر صحافی طاہر خان نے دعویٰ کیا کہ طالبان سربراہ ملا اختر منصور نے اپنے کمانڈروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ مذاکرتی عمل کے آغاز کی ناکامی کی صورت میں متوقع حملوں سے بچنے کے لئے یا تو پہاڑوں پر چلے جائیں یا ان علاقوں کا رخ کریں جہاں طالبان کا ہولڈ ہے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر چند دنوںیا ہفتوں کے اندر مذاکرات کے مستقل یا حتمی انعقاد کا خاکہ واضح نہیں ہوا تو دو طرفہ کارروائیوں کی شدت اور تعدادمیں یکدم اضافہ ہوجائے گا اور اس صورت حال کے منفی اثرات سے پاکستان پر بھی اثر انداز ہوں گے۔

 

اس تمام تر پس منظر میں یہ سوال بھی بہت اہمیت رکھتا ہے کہ نئے منظر نامے میں پاکستان کی پالیسیاں اور ترجیحات کیا ہیں؟ اگر صورت حال بگڑجاتی ہے تو اس کے پاکستان کے حالات پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ اس بارے میں بھی تجزیہ کار مختلف الخیال آراء کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں ۔بعض حلقے یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ اگر پاکستان دوسروں کی توقعات اور مطالبات کے نتیجے میں افغانستان طالبان کو میز پر لانے میں واقعتاً سنجیدہ ہے تو وہ پاکستان کے اندر بعض پاکستانی طالبان کے ساتھ مذاکرات سے گریزاں کیوں ہے۔ بعض بااثر حلقوں کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کو افغانستان کے اندر بعض پاکستانی کمانڈروں کے خلاف کارروائی یا حوالگی کے ساتھ اپنے تعاون کو مشروط کرنا چاہئے جبکہ متعدد کا مؤقف ہے کہ کسی بھی بڑے کردار سے قبل پاکستان کو بھارت کے کردار پر بھی امریکہ اور افغانستان کے ساتھ بات کرنی چاہئے۔ ان زیرِ گردش تبصروں اور تجاویز کے مضبوط پس منظر سے انکار نہیں کیا جاسکتا تاہم اس تلخ حقیقت کو بھی نظرانداز کرنا ممکن نہیں ہے کہ وار انڈسٹری کے اس درپیش ماحول میں پاکستان کو جہاں خود کئی سنگین چیلنجز کا سامنا ہے ‘وہاں اس کو اس خدشے نے بھی اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے کہ طالبان مخالف افغان حکمرانوں یا سیاسی قائدین پر پاکستان کے بعض خدشات کے تناظرمیں کس حد تک اعتماد کیا جاسکتاہے۔ ایسے ہی خدشات کا افغان حکام اور عوام کو بھی سامنا ہے۔ ایسے میں لازم ہے کہ پہلے ایک دوسرے کو قریب لانے کے راستے ڈھونڈے جائیں۔

 

اس بداعتمادی سے نکلنے کی اشد ضرورت ہے۔ دیکھا جائے تو یہ کوئی ناممکن کام ہرگز نہیں کیونکہ دونوں ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور حالات میں بھی یکسانیت ہے۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ دونوں ممالک محض سرکاری حکام اور غیر متعلقہ افراد پر انحصار کے بجائے ایسے لوگ تلاش کریں جن کو خطے کے حالات کا ادراک ہو اور ان کے مفادات وار انڈسٹری سے وابستہ نہ ہوں۔ دونوں جانب ایسے بہت سے معتبر لوگ موجود ہیں جن سے کام لیا جاسکتا ہے۔ ایسا ہونا اس لئے بھی لازمی ہے کہ عالمی طاقتوں پر انحصار کم کیا جائے اور باہمی کوششوں سے بداعتمادی کے علاوہ دہشت گردی کا بھی خاتمہ کیا جاسکے۔ دوسری طرف روایتی اور مقبول عام تبصروں اور اطلاعات کے برعکس پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں ماضی کے مقابلے میں کافی خوشگوار تبدیلی محسوس ہونے لگی ہے اور توقع کی جارہی ہے کہ دونوں پڑوسی ممالک اپنے اقدامات اور دوست ممالک کی کوششوں سے سال 2016 کے درمیانی عرصے میں ایک دوسرے کے اور بھی قریب آجائیں گے۔ باخبر سفارتی حلقو ں کے مطابق دونوں ممالک علاقائی استحکام کے ایک ایسے مجوزہ روڈ میپ پر کام کررہے ہیں جس کے نتیجے میں ایک طرف جہاں کراس بارڈر ٹیررازم کا خاتمہ ممکن ہو سکے گا وہاں خطے کے امن کے لئے مستقبل کی ایک مشترکہ حکمتِ عملی کا آغاز بھی ہو پائے گا۔ اگرچہ سانحہ اے پی ایس کے بعد ہی ایسے کسی مشترکہ روڈ میپ پر کام کا آغاز ہوگیا تھا تاہم افغانستان میں کئے گئے بعض بڑے حملوں کے نتیجے میں افغان حکمرانوں کے الزامات اور سخت رویے نے اس عمل کو بریک لگا دیئے اور مفاہمتی کوششیں پھر سے الزامات در الزامات کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ اب کے روڈ میپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بھی اُسی سلسلے کی کڑی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس عمل کو چین کی حمایت اور معاونت حاصل ہے۔ بلکہ یہاں تک کہا جارہا ہے کہ مجوزہ روڈ میپ کو چین کے علاوہ بعض وسطی ایشیائی ممالک تُرکی‘ جاپان‘ روس اور ایران کی محدود حمایت بھی حاصل ہے۔ سفارتی حلقوں کے مطابق خطے میں ایک ایسی ریاستی میکنزم یا انڈر سٹینڈنگ کی کوششیں کی جارہی ہیں جس کے نتیجے میں میں عالمی انتہا پسندی یا دہشت گردی کا راستہ روکا جاسکے گا اور جن معاملات پر خطے کے بعض ممالک کے درمیان فاصلے یا اختلافات موجود ہیں‘ ان ممالک کو قریب لانے کی کوششیں کی جائیں گی۔ انہی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ ماضی کے برعکس گزشتہ کئی مہینوں سے پاکستان اور افغانستان کی حکومتوں یا اداروں کے درمیان روایتی بیان بازی کا سلسلہ کم بلکہ ختم ہو کر رہ گیا ہے اور اعتماد سازی میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ تاہم چند ہفتوں کے دوران کابل اورجلال آباد سمیت متعدد بڑے شہروں میں کئی حملے ہوئے تاہم افغان حکام نے ذمہ دارانہ اور محتاط رویہ اپنائے رکھا اور ماضی کی طرح الزامات لگانے سے گریز کیا۔ دوسری طرف اعلیٰ ترین سطح پر پاکستان کا رویہ بھی برادرانہ اور مثبت رہا۔ اس ضمن میں امریکہ اور افغانستان کا بعض مواقع پر یہ کہنا بہت اہمیت رکھتا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین سے بعض عناصر کے خاتمے کے لئے جو کارروائیاں کررہا ہے وہ کافی حد تک اطمینان بخش اور نتیجہ خیز ہیں۔ سفارتی حلقوں کے مطابق دونوں ممالک کو قریب لانے میں چین کاکردار بہت نمایاں اور اہم ہے اور اس کی وجہ‘ وہ چین کے مفادات اور دلچسپی بتاتے ہیں جو کہ ان دو ممالک کے استحکام‘ بہتر تعلقات اور امن سے مشروط ہیں۔ چین جس رفتار اور سنجیدگی کے ساتھ دنیا کی سیاست اور اقتصادی دوڑ میں اپنی جگہ بنا رہا ہے اس کو جاری رکھنے یا مزید کامیاب بنانے کے لئے اس خطے میں امن کا قیام اور سیاسی استحکام ناگزیر ہے اور ایسا تبھی ممکن ہے جب اس علاقے میں امن ہو اور دونوں پڑوسی ممالک کی کشیدگی یا بداعتمادی کا خاتمہ ہو۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے بعض طبقے اب بھی افغانستان کے تمام مسائل کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی پالیسی پر گامزن ہیں تاہم امریکہ‘ بھارت یا بعض دیگر فریقین کے کردار کے بارے میں یہ لوگ بالکل خاموش ہیں حالانکہ اس بات کا اب دستاویزی سطح پر اعتراف موجود ہے کہ معاملہ صرف پاکستان کے کردار تک محدود نہیں تھا بلکہ پاکستان تمامتر گیم کا ایک جزو تھا۔ یکطرفہ الزامات‘ بیانیئے اور پروپیگنڈے کا ایک منفی پہلو یہ نکل آیا کہ دونوں ممالک کی حکومتیں قریب آنے کے بجائے ایسے حلقوں کے دباؤ کے باعث مزید دورہوئیں اور حالات خراب ہوتے گئے۔

 

امریکہ کی طرح بھارت کا کردار بھی دونوں ممالک کی دوطرفہ کشیدگی کا ایک بنیادی سبب رہا۔ بھارت نے ایک مستقل پالیسی کے تحت مختلف طریقے اور ذریعے استعمال کرکے دونوں ممالک کے درمیان تلخی کو ہوا دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہ کہنا کسی حد تک ٹھیک ہے کہ بعض حلقوں نے بھارت کے افغانستان میں کردار کوبڑھا چڑھا کر پیش کیا اور معاملات کی خرابی کی زیادہ ذمہ داری اس ملک پر ڈالی تاہم زمینی حقائق کے تناظر میں امریکہ کی طرح بھارت کے کردار کو بھی کسی طور مثبت یا غیرجانبدارانہ نہیں کہا جاسکتا۔ یہ درست ہے کہ کسی بھی ملک کے ساتھ اچھے یا برے تعلقات رکھنا ہر ملک کا اندرونی معاملہ ہے تاہم اس معاملے کو کسی تیسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کا کوئی جواز بھی قابلِ برداشت نہیں ہوتا۔ اس تاثر کا خاتمہ خود افغانستان کے حق میں ہے کہ بھارت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں کررہا۔ محض مفروضے یا تاثر سے بات نہیں بنے گی کہ افغانستان کے امن یا استحکام کی کنجی اسلام آباد کے پاس ہے یا افغانستان کے بعض حلقوں کے مطابق وہاں امن اس لئے نہیںآرہا کہ پاکستان گڈ طالبان کے خلاف کابل کی خواہش کے مطابق کارروائی نہیں کررہا۔ اب کی بار دونوں جانب حقیقت پسندی کا مظاہرہ ناگزیر ہوچکا ہے۔ دونوں ممالک کو عملی اقدامات کے ذریعے کراس بارڈر ٹیررازم کے خاتمے کے لئے اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ اپنی اپنی سرزمین کو دوسرے کے خلاف استعمال کرنے نہ دیا جائے۔ اس بات پر بھی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے کہ بعض اہم ممالک کے کردار اور عزائم کو سامنے رکھتے ہوئے ان پر نظر رکھی جائے اور اس تناظر میں ان واقعات یا کارروائیوں کے سدِباب کے لئے اقدامات کئے جائیں جو کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی یا تصادم کا سبب بنتی ہیں۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ جب بھی دونوں ممالک قریب آتے ہیں‘ خفیہ ہاتھ‘ کوئی ایسی حرکت یا کارروائی کر تے ہیں جس کے نتیجے میں پورا عمل سبوتاژ ہوجاتا ہے۔ بظاہر تو یہ بات خوش آئندہ ہے کہ بلیم گیم کا سلسلہ کافی حد تک کم یا ختم ہوگیا ہے تاہم اس دو طرفہ رویے کو باہمی ضرورت اور اعتماد سازی کے ذریعے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں ماہرین کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کے عوام کو مختلف ضرورتوں اور طریقوں سے ایک دوسرے کے قریب لایا جائے اور بدگمانیوں یا افواہوں کے خاتمے کے لئے ریاستی سطح پر بعض اقدامات کئے جائیں۔ اس حوالے سے تجارت پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سال 2004-5 کے دوران دونوں ممالک کے درمیان چار سے پانچ ارب ڈالر کی تجارت ہوا کرتی تھی۔ سال 2011 کے بعد یہ دو سے ڈھائی ارب ڈالر کے درمیان رہی ہے حالانکہ اس میں اضافہ ہونا چاہئے تھا۔ تجارت کی شرائط اگر نرم اور ریگولر کی جائیں اور بعض رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جائے تواس سے نہ صرف یہ کہ دونوں ممالک کو بہت فائدہ ہو گا بلکہ یہ عمل عوام کو قریب لانے کا ذریعہ بھی بنے گا۔


مضمون نگار ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ 

[email protected]

یہ تحریر 357مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP