قومی و بین الاقوامی ایشوز

کیا مملکت سے بھی غیر جانبدار ہوا جاسکتا ہے

چند سال پہلے ایک سینئر بھارتی صحافی سے پاکستان کے ایک نجی ٹی وی چینل پہ پوچھا جارہا تھا کہ بھارتی حکومت نے کشمیر کو اپنے سیکولر ازم کے فلسفے کی نشانی کہا ہے‘ اس لئے اس پر مذہب کے حوالے سے بات نہیں کی جاسکتی۔ سینئر صحافی نے سیکولرازم کی پوری شدومد سے وکالت شروع کردی۔ انہیں کوئی تذبذب تھا نہ احساس کمتری کہ وہ ایک انتہائی متنازع مسئلے پر ایک کمزور دلیل کی حمایت کررہے ہیں۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب صدر جنرل پرویز مشرف نے کشمیر کے حوالے سے 7 علاقائی تجاویز دی تھیں اور بھارت کی طرف سے کہا گیا کہ یہ تجاویز جب باضابطہ طور پر آئیں گی تو بات کی جائے گی۔ اس پر بھی ایک بھارتی ایڈیٹر بڑے فخر اور اعتماد سے ٹی وی چینل پر کہہ رہے تھے کہ بھارت کے اپنے ضابطے ہیں‘ اپنی روایات ہیں‘ پاکستان کو انہیں سمجھنا چاہئے۔ صرف بھارت ہی نہیں‘ آزادی صحافت کے علم بردار امریکہ اور برطانیہ کے اخبار نویس بھی اپنی گفتگو اور اپنی تحریروں میں اپنی حکومتوں کی خارجہ پالیسیوں کا اسی طرح دفاع کرتے ہیں۔ ان کی کبھی یہ کوشش نہیں ہوتی کہ وہ یہ ظاہر کریں کہ ان کا ان پالیسیوں سے کوئی واسطہ نہیں یا وہ ان کے حق میں نہیں ہیں بلکہ وہ ان کی حمایت میں دلائل دیتے ہیں‘ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ صرف صحافیوں تک ہی یہ محدود نہیں ہے صنعت کار‘ تاجر‘ سیاست داں‘ ارکان پارلیمنٹ بھی اپنی مملکتوں کی بنیادی پالیسیوں کی توجیہہ پیش کرتے ہیں۔ اسے قومی بدقسمتی کہیں یا ایک فطری حقیقت کہ برسوں سے ہمارے ہاں جس طرح قومی امور میں تضادات پیدا ہوتے رہے ہیں‘ واقعات رونما ہوئے ہیں‘ حالات کا دھارا جس انداز سے بہا ہے‘ صحیح سوچ رکھنے والوں پر جس طرح مظالم روا رکھے گئے ہیں اس سے اکثر پاکستانیوں میں یہ رجحان پیدا ہوگیا ہے کہ اپنے آپ کو غیر متنازع ظاہر کرنے کے لئے ان بنیادی معاملات سے بھی الگ تھلگ رہنا چاہتے ہیں جو خود ان کی ذات‘ ان کے گھر‘ شہر اور گردوپیش کو متاثر کررہے ہوتے ہیں اور ان کی ایسے مواقع پر بالکل وہی کیفیت ہوتی ہے جس سے وہ والدین گزر رہے ہوتے ہیں جن کا بیٹا کسی بڑے جرم میں ملوث ہوکر گینگ وار میں یا پولیس مقابلے میں ہلاک ہوجائے اور ان سے لاش کی شناخت کے لئے کہا جائے تو وہ اس سے رشتہ ظاہر کرنے کا حوصلہ نہ پاسکیں۔ ہماری عزیز ازجان مملکت اس وقت جس دور سے بھی گزررہی ہے اس کی شناخت اندرونی اور بیرونی طور پر جو بھی ہے‘ وہ ہم سب کی جانبداری یا غیر جانبداری‘ فعالیت یا غیر فعالیت کا ہی عملی مظہر ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی اس نتیجے میں ملوث ہونے یا اس ذمہ داری میں شریک ہونے سے انکار نہیں کرسکتا۔ ہم چاہے سیاسی صفوں میں کھڑے ہوں‘ فوج میں شامل ہوں‘ بیوروکریسی میں سے ہوں‘ علمائے دین میں اپنا شمار کرواتے ہوں‘ دانشور کہلانا پسند کرتے ہوں‘ استاد ہونے پر فخر محسوس کرتے ہوں‘ جاگیرداری وجہ شہرت ہو‘ قبائلی سرداری کی شناخت رکھتے ہوں‘ طالب علم ہونے کا دعویٰ کرتے ہوں‘ شوبز سے واسطہ ہو‘ کھیلوں سے تعلق ہو‘ کسی بڑے مقام پر رہے ہوں یا عام رتبہ رکھتے ہوں‘ ملک اس وقت جس اخلاقی‘ آئینی‘ سیاسی‘ سماجی اور اقتصادی بحران سے دوچار ہے اس تک لمحہ بہ لمحہ‘ قدم بہ قدم پہنچتے ہم سب نے دیکھا ہے۔ رشوتیں ہمارے سامنے لی گئیں‘ ہم میں سے کتنوں نے خود بھی یہ ناجائز کمائی وصول کی ہوگی یا اپنے کسی کام کو جلد کروانے کے لئے خود کچھ غیر قانونی طور پر کسی کو دیا ہوگا۔ غلط مقاصد کے حصول کے لئے سفارش کروائی ہوگی۔ کتنے خاندان ایسے ہیں جنہوں نے اپنے نوجوانوں کو باہر بھجوانے کے لئے انسانی سمگلروں کو لاکھوں روپے دیئے ہیں۔ کتنوں نے مرضی کی نوکری حاصل کرنے کے لئے متعلقہ افسروں یا ان کے بروکرز کو خطیر رقوم دی ہیں‘ شادی پر کھانا کھلانے کے لئے تھانیداروں کو نوٹ دیئے ہیں‘ عدالتوں میں پیشی ملتوی کروانے کے لئے‘ اپنی مرضی کے فیصلے کے لئے پیسہ خرچ کیا ہے‘ کتنے ہیں کہ جب ان کے مخالف کی حکومت ختم کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ملک کو لٹیروں سے بچالیا گیا‘ کتنوں نے اپنے اقتدار کے لئے راہ ہموار کرنے کی خاطر فوج کو مجبور کیا کہ وہ مداخلت کرے‘ کتنے ہیں جنہوں نے اپنے نالائق بچوں کو امتحان میں پاس کروانے کے لئے دباؤ ڈلوائے‘ پیسے دیئے‘ کتنے ہیں جنہوں نے اپنے مخالفین کو پھنسوانے کے لئے ان پر مذہب کے حوالے سے غلط الزامات عائد کئے‘ ایجنسیوں کو مخبری کی۔ ہم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے لوگوں کو لوٹ مار کرتے دیکھا‘ لاشیں گراتے دیکھا‘ لیکن گواہی کا موقع آیا تو صاف انکار کردیا‘ جب برائی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے مقابلے اور جدوجہد کے لئے میدان میں ہونا ضروری تھا تو ملک چھوڑ دیا۔
سبھی تھے زہر کی نفرت کی کاشت میں شامل

پکی ہے فصل تو اب کاٹنے سے ڈرتے ہیں

ہم جو بھی ہیں‘ جیسے بھی ہیں‘ جن مسائل سے دوچار ہیں‘ جن بحرانوں سے گزررہے ہیں‘ وہ ہمارے مسائل ہیں‘ ہمارے بحران ہیں‘ ہمیں ان کا مقابلہ کرنا ہے‘ مسائل کو حل کرنا ہے‘ بحرانوں پر قابو پانا ہے‘ حالات سے پنجہ آزما ہونا ہے‘ حالات کو سازگار کرنا ہے۔ قوموں کی زندگی میں پچاس ساٹھ سال کچھ بھی نہیں ہوتے‘ مجموعی ترقی یا تبدیلی کے لئے انتظار کرنا پڑتا ہے لیکن دوسرے ملکوں میں تیزی سے ترقی ہورہی ہے اس سے فائدہ اٹھانے کے لئے لوگ وہاں پہنچنا چاہتے ہیں‘ اس لئے ایک طرف وہ زیادہ دیر صبر نہیں کرنا چاہتے‘ دوسری طرف وہ ملک کے اندر ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لئے عملی جدوجہد میں حصہ نہیں لیتے۔ دوسروں کی ترقی سے امیر بننا چاہتے ہیں۔ غیرجانبداری ممکن ہے کہ کسی مخصوص صورت حال میں اچھی بھی ہوتی ہو لیکن یہ زیادہ تر مسائل سے گریز‘ ذمہ داریوں سے انحراف کا دوسرا نام ہوتا ہے۔ عام طور پر صورت حال سے اور مقابلے سے بچنے کے لئے اسے اختیار کیا جاتا ہے۔ تاریخ کے اوراق کا کسی بھی صدی میں مطالعہ کرلیں آگے بڑھنے کے لئے اپنے ملک سے‘ قبیلے سے یا خطے سے جانبدار ہونا ضروری رہا ہے۔ ہماری مختصر سی تاریخ میں اتنے معرکے‘ مقابلے اور ہنگامے ہوچکے اور ہماری اکثریت اتنی تھک چکی کہ خاموش رہنے پر مجبور ہوگئی اور ایک یہ رجحان تیزی سے نمو پانے لگا کہ سیاسی وابستگیوں سے قطع تعلق کو عافیت کا نشان کہا جانے لگا۔ سیاست کو ایک انتہائی مذموم عمل قرار دے دیا گیا‘ آئین سازی میں اتنی تاخیر کی گئی کہ قومی مفادات ہی متعین نہیں ہوسکے۔ آئین مملکت اور حکومت کے دائرہ ہائے کار طے کرتا ہے‘ مملکت کی حدود کا تعین کرتا ہے‘ حکومت کے اختیارات بتاتا ہے‘ ہر حکومت کے کچھ حامی ہوتے ہیں کچھ مخالف۔ لیکن کسی مملکت میں رہنے والوں کے بارے میں یہ تصور ہی نہیں ہوسکتا کہ وہ اپنی مملکت کے مخالف ہوں۔ یہ انتہائی نازک اور حساس معاملہ ہے۔ یہ آئینی طور پر بھی طے ہوتا ہے اور پھر تاریخی عمل سے گزرتے ہوئے اس کی روایات مستحکم ہوتی ہے۔ پاکستان جیسی نئی مملکت میں ان حدود کا تعین اور وضاحت بڑی مشکل ہوتی ہے‘ اس کے لئے شعوری کوششیں بھی درکار ہوتی ہیں ان کا اعلانیہ اظہار بھی۔ ایک مملکت اور شہری کے درمیان آئین ہی ایک عمرانی معاہدہ ہے‘ اگر کہیں اس نازک رشتے میں ابہام ہو تو آئینی ماہرین یا عدالتیں اس کی تشریح کرتی ہیں۔ حکومت وقت کو عدالت کی تشریح کا احترام کرنا پڑتا ہے‘ مملکت کی علامتیں آئینی سربراہ( ہماری صورت حال میں صدر مملکت ) اعلیٰ عدالتیں اور مسلح افواج ہوتی ہیں‘ ہم سب کو تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری تاریخ میں مملکت کی ان علامتوں نے آئین سے اس قدر انحراف کیا ہے‘ آئین کو اپنی ضرورتوں اور مفادات کے لئے کبھی معطل کیا‘ کبھی ملتوی کیا‘ سرد خانے میں رکھا‘ ترامیم کیں کہ مملکت کی علامت بننے والے ادارے خود بھی متنازع ہوکر رہ گئے۔ اس تاریخی حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا‘ قائداعظم محمد علی جناح کے بعد پاکستان کے کسی سربراہ مملکت کو تمام پاکستانیوں کا احترام اور اعتماد حاصل نہیں رہا ہے۔ اسی طرح فوج نے ملک کے سول نظم و نسق کو جس طرح بار بار سنبھالا ہے‘ پھر ملک کے کئی علاقوں میں فوجی یا سول حکومتوں کے دور میں جو فوجی ایکشن ہوئے ہیں پہلے تو وہ اسی دور میں متنازع ہوگئے‘ آنے والی حکومت نے بھی انہیں نہیں اپنایا بلکہ اس کی مخالفت کی۔ ہماری افواج نے دشمن کی جارحیت کا مقابلہ کرتے ہوئے‘ وطن کی سرحدوں کا تحفظ کرتے ہوئے جو قربانیاں دیں‘ جس پیشہ وارانہ اعلیٰ استعداد کا مظاہرہ کیا‘ اپنے سے کئی گنا بڑی عسکری طاقت کے عزائم کو جس دلیری سے ناکام بنایا‘ اب یہ شجاعت‘ عسکری حکمت عملی اور خون کے نذرانے بھی کچھ حلقوں کی جانب سے متنازع بنادیئے گئے ہیں۔ بد قسمتی سے اس میں خود کچھ سابق جنرل‘ ایئر مارشل‘ ایڈمرل شامل ہیں‘ جو صرف اپنی ذات کو جمہوری ثابت کرنے کے لئے فوج کے ادارے کو تنقید کا ہدف بناتے ہیں‘ اور کالم لکھے جارہے ہیں‘ کتابیں تصنیف کی جارہی ہیں‘ یہ سب کچھ آزادی اظہار کے نام پر ہورہا ہے‘ جب تک ملک میں تحریر و تقریر پر حقیقی پابندیاں تھیں اور حق بات کہنے یا لکھنے پر سزائیں ملتی تھیں۔ آمریت اصلی معانی کے ساتھ مسلط تھی‘ کتنے لوگ تھے جو حکومت کے مظالم کے خلاف آواز بلند کرتے تھے۔ چند لکھنے والے‘ چند شاعر و ادیب تھے جنہوں نے آمرانہ اقدامات کے خلاف کچھ لکھا۔ سب کچھ ریکارڈ پر ہے‘ جمہوریت کے پمفلٹ لکھنے پر 25 سال کی سزائیں سنائی گئیں‘ حوالات‘ شاہی قلعے‘ منٹگمری اور مچھ جیسی بدنام زمانہ جیلوں میں کون لوگ جاتے رہے۔ ان کی جدوجہد اپنے ملک میں اپنی غیر منتخب حکومتوں کی نا انصافیوں کے خلاف تھی۔ انہوں نے کبھی جوش میں یا ناراضی میں مملکت کے مفادات کی حدیں پار نہیں کی تھیں۔ 1988ء سے جب سے سول حکومتوں کا دور شروع ہوا ہے اور اظہار کی آزادی ملی۔ حکومتوں سے زیادہ ہماری مملکت اس آزادی کا نشانہ بن رہی ہے۔ دنیا بھر میں خارجہ پالیسی پر کسی بھی مملکت کے سیاستدانوں‘ دانشوروں‘ کالم نگاروں‘ مبصروں اور ماہرین کا اتفاق ہوتا ہے۔ کشمیر کے معاملے پر بھارت کے تجزیہ نگاروں‘ سابق سفارت کاروں‘ جنرلوں کے تبصرے دیکھ لیں‘ کتنی مختلف اور متضاد حکومتیں آچکی ہیں لیکن اس مسئلے پر رائے یکساں ہی رہی ہے۔ امریکہ سے تعلقات ہوں یا روس سے معاملات‘ چین سے روابط کی بحالی‘ بھارت کے مفاد میں تجاویز دی جاتی ہیں۔ تنقید ہو تو امریکہ‘ روس اور چین کے اقدامات پر ہوتی ہے۔ جو بھی پالیسی بھارت نے بحیثیت قوم طے کی ہے بالواسطہ یا براہِ راست اس کے حق میں دلائل دیئے جاتے ہیں۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ کشمیرکا مسئلہ ہو یا بھارت کی دیگر پالیسیاں‘ اس میں ہمارا ہدف اپنی

چند لوگ اس شوق میں ہم حکومتی حدود سے گزر کر مملکت کی سرحدیں بھی پار کرجاتے ہیں اور بعض اوقات بھارت کے نقطہ نظر کی تعریف سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔ اس کے لئے اس احساس کمتری کو ہم جواز ٹھہراتے ہیں کہ وہاں کبھی مارشل لا نہیں لگا‘ ہمیشہ جمہوری تسلسل رہا ہے‘ یہ سوال نہیں کیا جاتا کہ وہاں کا یہ جمہوری تسلسل کشمیریوں کو ان کا حق خودارایت کیوں نہیں دے سکا‘ عوام کی اکثریت کی غربت کیوں دور نہیں کرسکا‘ وہاں قانون کانفاذ یکساں کیوں نہیں ہے‘ کرپشن عروج پر کیوں ہے‘ تمام مذاہب کو یکساں آزادی کیوں نہیں ہے‘ یہ سوال ہم بھارت کے دانشوروں سے نہیں کرتے۔
حکومتوں کی پالیسیاں رہتی ہیں۔ کسی کا مسئلہ ہوتا ہے پیپلز پارٹی کی مخالفت کرنا‘ کسی کا مقصد نواز شریف کو تنقید کا نشانہ بنانا اور اکثر کا شوق فوج کو ساری برائیوں کا ذمہ دار ٹھہرانا ہے۔ چند لوگ اس شوق میں ہم حکومتی حدود سے گزر کر مملکت کی سرحدیں بھی پار کرجاتے ہیں اور بعض اوقات بھارت کے نقطہ نظر کی تعریف سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔ اس کے لئے اس احساس کمتری کو ہم جواز ٹھہراتے ہیں کہ وہاں کبھی مارشل لا نہیں لگا‘ ہمیشہ جمہوری تسلسل رہا ہے‘ یہ سوال نہیں کیا جاتا کہ وہاں کا یہ جمہوری تسلسل کشمیریوں کو ان کا حق خودارایت کیوں نہیں دے سکا‘ عوام کی اکثریت کی غربت کیوں دور نہیں کرسکا‘ وہاں قانون کانفاذ یکساں کیوں نہیں ہے‘ کرپشن عروج پر کیوں ہے‘ تمام مذاہب کو یکساں آزادی کیوں نہیں ہے‘ یہ سوال ہم بھارت کے دانشوروں سے نہیں کرتے۔ اپنی تاریخ کا سیاہ ترین المیہ سقوط مشرقی پاکستان بھی گفتگو کے لئے ہمارا ایک محبوب موضوع ہے اس کی ساری ذمہ داری اس وقت کے فوجی حکمران‘ فوج کی پالیسیوں اور بھٹو پر ڈالنے کے جوش میں گزشتہ چند سال سے یہ نوبت آچکی ہے کہ ہم بھارت کی مداخلت کو یکسر بھلا چکے ہیں۔ اپنی سیاسی اور فوجی غلطیوں پر ضرور تنقید کریں لیکن ایک بڑے ہمسائے کی سیاسی سازشوں اور عملی فوجی مداخلت کے تاریخی حقائق کو تو فراموش نہ کریں۔ وہی بنیادی غلطیاں جو مشرقی پاکستان کے ضمن میں کی گئیں بلوچستان‘ سندھ اور سرحد میں بھی کی گئیں لیکن یہاں ہمسایہ ملک نے اس حد تک دلچسپی نہیں لی اور مداخلت نہیں کی اس لئے نتیجہ 1971ء جیسا نہیں ہوسکا۔ آزادی اظہار کی بدولت ذرائع ابلاغ میں ہر مسئلے اور ہر شعبے پر کھلی بحثیں ہورہی ہیں۔ کسی بھی موضوع پر بحث میں حصہ لینے کے لئے زیادہ سے زیادہ تیاری ضروری ہوتی ہے‘ بنیادی حقائق‘ اعدادوشمار‘ حوالے کے لئے ماڈریٹر کے پاس بھی ہونے چاہئیں اور شرکاء کے پاس بھی‘ سیمینارز میں بھی ایسا ہونا چاہئے یہ بھی احساس ہونا چاہئے کہ من حیث القوم کسی مسئلے پر پاکستان میں کیا رائے ہونی چاہئے‘ ملت کا مفاد کس حیثیت سے وابستہ ہے۔ قومی مفادات کا تعین تو ایک حساس معاملہ ہے لیکن یہاں تو بنیادی حقائق‘ اہم اعدادوشمار اور تاریخیں سامنے رکھنا بھی ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ وزراء کو بولنے کا شوق ہمیشہ ہی رہا ہے‘ وفاقی وزراء‘ صوبائی وزراء‘ سیکریٹری حضرات و خواتین سب ماشاء اللہ سامنے آرہے ہیں۔ کوئی ضروری نہیں سمجھتا کہ کچھ لکھا ہوا ساتھ رکھ لے‘ ان مباحثوں میں ایک ہی حکومت اور ایک ہی جماعت سے وابستہ مختلف عہدیدار مختلف موقف اختیار کررہے ہیں‘ جو ایک خطرناک رجحان کی غمازی کررہا ہے کہ حکومتوں کی پالیسیاں خود حکومت کے مختلف اہل کاروں کو معلوم نہیں ہیں۔ ان پالیسیوں کو اعلیٰ سطح سے نچلی سطح تک پہنچانے کا نظام موجود نہیں ہے اور نہ یہ اہلکار ان سے آگاہی ضروری سمجھتے ہیں۔ غیر ملکی سفارت کاروں‘ اخبار نویسوں کے سامنے ہم اپنی آزادی اظہار کا حق بھرپور استعمال کرتے ہیں۔ ان کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے ہمارے وزراء‘ سرکاری عہدیدار‘ سیاست داں‘ انتہائی رازداری کے معاملات بھی افشا کردیتے ہیں۔ دانشوروں اور خاص طور پر این جی اوز سے وابستہ خواتین و حضرات کا بھی یہی حال ہے۔ مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ ان غیر ملکیوں پر اپنی غیر جانبداری اور روشن خیالی کا رعب ڈال سکیں اور ان کی ہمدردیاں سمیٹ سکیں‘ یہی حال ہمارے علماء اور دینی تنظیموں کا ہے۔ یہ بھی چند اسلامی ملکوں کی حکومتوں کی حمایت حاصل کرنے کی خاطر یا بعض بین الاقوامی مسلم تنظیموں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لئے اپنی مملکت سے ماورا ہونے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔ وہاں ہم اس احساس کو بنیاد بنا لیتے ہیں کہ مملکت مذہب سے بالاتر نہیں ہوسکتی حالانکہ مذہب اور مملکت کا آپس میں کوئی تصادم نہیں ہوتا۔ اسلام کتنے ہی ملکوں کا مذہب ہے لیکن ان سب ملکوں کے اپنے اپنے مفادات ہیں اور وہ ان کا تحفظ بھی کررہے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے کچھ قومی مفادات ہیں یا نہیں‘ ہم ایک مملکت ہیں یا نہیں‘ مملکت ہیں تو اس کی علامات کو سب کے ساتھ انصاف کرکے محترم ہونا چاہیے یا نہیں‘ اظہار کی آزادی سے ہمیں قومی استحکام ملنا چاہئے یا نہیں۔ فوج کے سیاسی کردار پر تنقید ضرور ہونا چاہئے لیکن کیا اس حد تک کہ غیر ملکی فوج کے مقابلے میں بھی اس کی تذلیل کی جائے اور اسے تاریخ کا سب سے بڑا ولن بنادیا جائے۔ عدلیہ پر اس حد تک الزام تراشی ہو کہ اس کا احترام ہی ختم ہوجائے اور معاشرے کو لوٹنے والے‘ دن دہاڑے قتل کرنے والے‘ ماؤں کی گود اجاڑنے والے ہیرو بن جائیں۔ چند سیاستدانوں کی ہوس اقتداراور دولت کے لالچ کو موضوع بناکر سیاست جیسے اہم اور مقدس شعبے کو ہی مذموم قرار دیا جائے۔ مملکت کے تحفظ اور استحکام کی خاطر اس سے جانبداری ضروری ہے‘ اس میں کسی امر کو مانع نہیں ہونا چاہئے۔ قومی مفادات کا تعین ہونا چاہئے مگر کس طرح مملکت کا احترام ہونا چاہئے اور مملکت سے ہر شہری کو جانبدار ہونا چاہئے۔ لیکن مملکت کیا ہے‘ کون ہے‘ مملکت کا اظہار کن اداروں کے ذریعے ہوتا ہے اور یہ ادارے کیا ہر شہری سے جانبدار ہیں۔ ہر شہری سے یکساں سلوک کررہے ہیں‘ شہری کی سیاسی‘ مذہبی وابستگیوں سے قطع نظر اس کے حقوق دیئے جارہے ہیں‘ اس کو انصاف مل رہا ہے‘ اگر سب اس معیار پر پورا اتریں تب قومی مفادات کا تعین ہوسکتا ہے۔ یہ مملکتی ادارے اگر سب کے ساتھ یکساں انصاف کررہے ہوں تو ان کے جاری کردہ احکام اور تعین کردہ حدود ہی قومی مفادات کہلائیں گے اور سب ہی ان کا تحفظ کریں گے۔مملکت اور شہری دونوں کو ایک دوسرے سے جانبدار ہونا چاہئے اور ایک دوسرے کا احترام کرنا چاہئے۔

آزادیِ فکر

آزادی افکار سے ہے ان کی تباہی

رکھتے نہیں جو فکر و تدبر کا سلیقہ

ہو فکر اگر خام تو آزادی افکار

انسان کو حیوان بنانے کا طریقہ

علامہ اقبالؒ

یہ تحریر 236مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP