قومی و بین الاقوامی ایشوز

شدت پسندوں کے خلاف کومبنگ آپریشن کی ضرورت اور اہمیت

کوئٹہ کے انسانیت سوز سانحے کے بعد عوام، سیاسی اور عسکری قائدین کا جو شدید ترین رد عمل سامنے آیا وہ بے جا اور غیرمتوقع اس لئے نہیں تھا کہ پاکستان کے عوام اور ان کے مخافظوں کو ایک بار پھر یہ پیغام دینا تھا کہ ملک کے اندر دہشت گرد اور دہشت گردی دونوں موجود ہیں۔ حملہ آوروں نے ایک ایسے وقت کا انتخاب کیا جب عوام 14اگست یعنی جشن آزادی کی تیاریوں میں مصروف تھے۔ اس واقعے نے ان تیاریوں کو سوگ میں تبدیل کرنے کی کوشش کی حالانکہ اس واقعے کے چند روز بعد ملکی سطح پر جس انداز سے عوام نے جشن آزادی منایا بلامبالغہ حالیہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ قائدین اور عوام سانحہ کوئٹہ کو اس موقع پر نہیں بھولے مگر ساتھ ساتھ انہوں نے بھرپور شرکت کر کے انتہا پسندوں کو عملاً یہ پیغام دیا کہ پاکستان کے کروڑوں عوام اپنے ملک کی اونرشپ لے کر اپنے بعض خدشات اور شکایات کے باوجود میدان میں ڈٹے ہوئے ہیں۔ یہ انتہا پسندوں کے لئے عوام کا ایک غیراعلانیہ مگر عملی پیغام اور اقدام تھا۔ اس جذبے کے باوجود سوال یہ ہے کہ دیگر سانحات سے کیسے بچا جائے۔

 

افواج پاکستان کے سربراہ جنرل راحیل شریف اور دیگر قائدین لمحوں کے اندر کوئٹہ پہنچے اور انہوں نے اس سانحے میں سوگواروں کو اکیلا نہیں چھوڑا اور ساتھ میں اس روز متعدد فیصلے بھی سامنے آئے۔ ان فیصلوں پر عمل کرنے میں بھی کسی قسم کی دیر نہیں لگائی گئی اور متعدد دیگر اقدامات راولپنڈی اور اسلام آباد کے اعلیٰ سطحی اجلاسوں کے دوران کئے گئے۔ آرمی چیف نے جہاں ایک طرف نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد اور سُست روی کے حوالے سے عوام اور متاثرین کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے کھلے عام تحفظات کا اظہار کیا وہاں انہوں نے ملک بھر کے تمام شہروں اور علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف کومبنگ آپریشن کے احکامات بھی جاری کئے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آپریشن ضرب عضب نے نہ صرف یہ کہ دہشت گردوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے اور ان کے مراکز کو تباہ کر دیا ہے بلکہ ان کے سہولت کاروں اور حامیوں کے خلاف بھی لاتعداد کارروائیاں کی گئی ہیں۔ تاہم اس تلخ حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے اور متعین گروہ کے خلاف اہداف کے حصول کا کام محض افواج پاکستان کے بس کی بات نہیں ہے۔ یہ تصور کرنا کہ انتہاپسندی کا خاتمہ کرنا صرف فوج کا کام ہے ایک حقیقت پسندانہ اپروچ قطعاً نہیں ہے۔ آرمی چیف نے جن خدشات کا اظہار کیا ہے اس کا ایک مضبوط پس منظر موجود ہے اور اس پس منظر کو جانے اور جانچے بغیر مسئلے کا حل نکالنا ممکن نہیں ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہر سطح پر ملک سے شدت پسندی کا خاتمہ یقینی بنایا جائے۔ غالباً یہ کہنا بھی درست نہیں ہو گا کہ جس دہشت گردی یا انتہاپسندی کا آج ہم سامنا کر رہے ہیں وہ محض ہماری سابقہ پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔ یہ حقیقت ہمیں بہرحال تسلیم کرنا پڑے گی کہ انتہاپسندانہ نظریات کی ترویج اور فروغ کے پیچھے بہت سے داخلی اور خارجی عوامل موجود ہیں اور ان عوامل کی بیخ کنی کرنے کے لئے تمام ریاستی اداروں، سیاسی قوتوں اور عوام کو اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہو گا۔

 

بدقسمتی یہ ہے کہ بعض سیاسی قوتیں بوجوہ اب بھی مصلحت ، خوف اور ابہام سے کام لیتی دکھائی دے رہی ہیں اور ان کا خیال ہے کہ فوج یا ریاست کے دیگر متعلقہ اداروں نے ہی سب کچھ کرنا ہے۔ یہ درست ہے کہ ملک کا دفاع کرنا افواج پاکستان کی ذمہ داری ہے تاہم ایساکرنے کے لئے عوام اور سیاسی قوتوں کو، بغیر کسی ابہام کے، فوج کے پیچھے کھڑا ہونا ہوتا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان 20نکات پر مشتمل ہے۔ اگر ان نکات کا جائزہ لیا جائے تو ان میں سے نصف سے زیادہ حکومت، سیاسی پارٹیوں، عوامی نمائندوں اور عوام کے کرنے والے کام ہیں۔ مشاہدے میں آیا ہے کہ آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کے دائرہ کار کو زیادہ تر فاٹا اور صوبہ خیبر پختون خوا تک محدود رکھا گیا ہے۔ جبکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ کومبنگ آپریشن کا دائرہ کار دیگر صوبوں میں بھی، جہاں جہاں ضرورت ہے، پھیلایا جائے تاکہ پورے ملک کو شدت پسندوں اور دہشت گردوں سے پاک کیا جا سکے۔

 

بہرطور نیشنل ایکشن پلان پر اگر کلی طور عملدرآمد ہو چکا ہوتا تو شائد حالات اور بھی بہتری کی طرف مائل ہو چکے ہوتے بہرکیف دیر آید درست آید کے مصداق اس وقت نیشنل ایکشن پلان پر بیک وقت پورے پاکستان میں یکساں عمل کی اشد ضرورت ہے۔ اگر اس کے تمام میں سے 70فیصد نکات پر عمل کیا گیا ہوتا تو آج اس کے اثرات اور نتائج یقیناًبہت بہتر اور مختلف ہوتے۔ گزشتہ 8ماہ کے دوران افواج پاکستان اور دیگر فورسز نے نہ صرف بے پناہ قربانیاں دیں بلکہ نہ تھکنے والے عمل کے ذریعے ہر محاذ پر دہشت گردوں کا پیچھا کرنے کی پالیسی بھی اپنائی۔ تاہم بعض قوتوں نے واقعتا دہشت گردوں کو تحفظ فراہم کیا اور جب آپریشن کا آغاز ہوا تودہشت گردوں نے نہ صرف افغانستان کے سرحدی علاقوں کا رخ کیابلکہ وہ پاکستان کے شہروں میں بھی منتقل ہو گئے۔ شہروں میں ان کا پیچھا کرنا اور ان کے ہمدردوں کا صفایا کرنا یقیناًسول اداروں کا کام تھا۔ تاہم تین صوبوں میں سول اداروں نے ایسا کرنے سے گریز کیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فوج اور انٹیلی جنس اداروں کو یہ کام بھی اپنے ہاتھ میں لینا پڑا۔ انتظامی معاملات یا اختیارات کا اپنا ایک اثر ہوا کرتا ہے اگر سول انتظامیہ اپنے فرائض احسن طریقے سے ادا نہیں کر پا رہی تو اس کے منفی نتائج لازمی ہوا کرتے ہیں۔ ہم نے یہی نتائج بھگتے اور اس سے نمٹنے کے لئے غالباً آرمی چیف نے کومبنگ آپریشن کے احکامات جاری کئے۔ اگر یہ کام پہلے کیا گیا ہوتا اور اس میں مصلحت یا ابہام سے کام نہیں لیا جاتا تو ہم بہت سے سانحات سے بچ جاتے اور شہر شدت پسندوں کے ٹھکانوں یا پناہ گاہوں کے مراکز نہیں بنتے۔ یہ حقیقت اب ماننی پڑے گی کہ شدت پسندوں کو اب بھی محفوظ علاقے دستیاب ہیں۔

 

ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق آپریشن ضرب عضب کے بعد ملک کے مختلف علاقوں میں تقریباً 200حملے کئے گئے ہیں جن میں سے صرف ایک صوبے یعنی خیبرپختونخوا میں کئے گئے حملوں کی تعداد 101ہے۔ دوسری طرف اسی رفتار کے ساتھ فورسز اور پولیس نے جوابی کارروائیاں بھی کیں اور ٹارگٹڈ آپریشنز کی تعداد ہزارووں میں بتائی جا رہی ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق صوبے میں سینکڑوں شدت پسندوں کو مارا جا چکا ہے۔ (900سے زائد) جبکہ 5000 سے زائد گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں۔ اگر یہی پالیسی دیگر صوبوں یا شہروں میں اپنائی جاتی اور سول حکومتیں بوجوہ رکاوٹیں ڈالنے سے گریز کرتیں تو اب تک نیشنل ایکشن پلان کے زیادہ تر اہداف حاصل کئے بھی جا چکے ہوتے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 18ماہ قبل قومی اتفاق رائے سے نیشنل ایکشن پلان کی منظوری کے بعد ملک کے چاروں صوبوں میں سب سے زیادہ کارروائیاں صوبہ خیبرپختونخوا میں ہوئیں جبکہ دوسرے نمبر پر فاٹا رہا۔ تاہم دیگر صوبوں میں حیرت انگیز طور پر سب سے کم کارروائیاں ہوئیں۔

 

دستیاب معلومات کے مطابق نیشنل ایکشن پلان کی کاؤنٹر ٹیررازم پالیسی کے تحت صوبہ خیبرپختونخوا میں ان 18مہینوں کے دوران فورسز کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں، ان کے سہولت کاروں اور حامیوں کے خلاف تقریباً 21500 کارروائیاں ہوئیں۔ ان کارروائیوں میں پاکستان کی آرمڈ فورسز (فوج) تین انٹیلی جینس ایجنسیوں، ایف سی اور پولیس نے حصہ لیا۔ معلومات کے مطابق اس عرصے کے دوران تقریباً 1300مطلوب شرپسندوں کو مارا گیا۔ 5500گرفتار ہوئے جبکہ 800زخمی ہوئے۔ پشاور سمیت صوبے کے تقریباً 19اضلاع میں ٹارگٹڈ آپریشن کئے گئے۔ اور یہ سلسلہ بغیر کسی وقفے کے جاری رہا۔ ان کارروائیوں کا رد عمل کالعدم تنظیموں کے جوابی حملوں کی صورت میں آتا رہا اور شرپسندوں نے متعدد خودکش حملوں کے علاوہ تقریباً ایک درجن سے زائد بڑے حملے کرائے جس کے نتیجے میں اندازاً 250سے زائد افراد شہید ہوئے۔ وزارت داخلہ کی دستیاب معلومات کے مطابق گزشتہ18ماہ کے دوران ملک بھر میں دہشت گردی کے کل185واقعات یا حملے ہوئے ہیں۔ ان میں سے صرف صوبہ خیبرپختونخوا میں کرائے گئے حملوں کی تعداد 108ہے۔ اگر اس تناسب کو دیکھا جائے تو فاٹا اور تین دیگر صوبوں کے مجموعی حملوں کی تعداد صوبہ خیبرپختونخوا کی تعداد سے کم ہے۔ صوبے میں لاؤڈ سپیکر کے غلط استعمال کے خلاف کئی کارروائیاں کی گئی اور تقریباً 2500مقدمات درج کئے گئے۔ اس دوران پولیس فورس کو بطور خاص نشانہ بنایا گیا اور کئی افسران سمیت درجنوں اہلکاروں کو شہید کیا گیا۔ جبکہ سیاسی کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بھی جاری رہا۔

 

بہرکیف اس میں کوئی شک نہیں کہ خیبرپختونخوا کے عوام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواج پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ پشاور کور کو جس طریقے سے سول حکومت، سیاسی قائدین اور عوام کا تعاون حاصل رہا اسی کا نتیجہ ہے کہ صوبے کے حالات میں بہت کم عرصے میں مثبت تبدیلیاں آئی ہیں۔ صوبے کے عوام نے لاتعداد کارروائیوں سے قبل فورسز کے ساتھ عملی تعاون کیا اور ان کو تمام تر ممکنہ خطرات کے باوجود معاونت فراہم کی۔ بے شمار چیک پوسٹوں کے باوجود کبھی بھی عوام ہدفِ شکایت زبان پر نہیں لائے۔ کیونکہ ان کو حالات اور ضروریات کا ادراک تھا۔ صوبے کی تقریباً تمام پارٹیاں فورسز کے پیچھے کھڑی ہو گئیں اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ حالات بہتر ہوتے گئے۔ بہرحال کومبنگ آپریشن کیوں ضروری ہے اور اس کی اہمیت کیا ہے۔ اس بارے میں ماہرین یہ دلائل دیتے ہیں ۔

 

-1حسب توقع ایسے ہزاروں افرادآپریشن سے قبل فاٹا سے نکل کر شہروں اور دیگر مقامات میں منتقل ہوئے۔ جو کہ دہشت گردی میں براہ راست ملوث تھے یا دہشت گرد تنظیموں کا حصہ تھے۔ ان کا سراغ لگانا لازمی ہے۔ اور ان کا خاتمہ بھی ناگزیر ہو چکا ہے۔ ایسا کئے بغیر مسئلے کا مستقل حل نکالنا ممکن نہیں ہے۔

-2شہروں میں پناہ لینا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ نائن الیون کے بعد بھی جب دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں ہوئیں تومتعدد جنگجو شہری علاقوں سے گرفتار ہوئے اوریہ یقینی بات ہے کہ ان دہشت گردوں نے آپریشن سے گھبرا کر مختلف  شہروں کا رخ کیا ہو گا۔

-3مجوزہ آپریشن کے نتیجے میں جہاں ایک طرف چھپے ہوئے دہشت گردوں کا سراغ لگا کر ان کی بیخ کنی ہو سکے گی وہاں ان کے حامیوں اور سہولت کاروں پر بھی ہاتھ ڈالا جا سکے گا اور ایسا ہونے سے شدت پسندوں کے وہ ٹھکانے اور ہمدرد  بھی ختم ہو جائیں گے جن کے باعث یہ ایک علاقے سے دوسرے میں منتقل ہوتے رہتے ہیں اور محفوظ رہتے ہیں۔

-4ایسا کرنے سے سول اداروں کو بھی اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہو جائے گا اور وہ عناصر بھی سامنے آ جائیں گے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ سول اداروں میں رہتے ہوئے بوجوہ شدت پسندوں کے ہمدرد یا حامی ہیں۔  

-5مختلف عسکری اور سول انٹیلی جنس اداروں کے درمیان کوارڈی نیشن اور تعاون بڑھ جائے گا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ گر اس روٹ لیول پر لوکل ادارے نہ صرف یہ کہ بر وقت ایکشن میں آ سکیں گے بلکہ بوقت ضرورت وہ ایک میکنزم کے ذریعے ایک دوسرے کی معاونت بھی کر سکیں گے۔

-6یہ بہت لازمی ہے کہ پولیس اور دیگر اداروں کو دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے عملی تربیت فراہم کی جائے۔ کومبنگ آپریشن کے دوران متوقع طور پر یہ میکنزم بھی عملی ہو جائے گی اور فوج پر انحصار کم ہونا شروع ہو جائے گا۔

-7کومبنگ آپریشن کے ذریعے ان خارجی قوتوں اور ان کے مقامی کارندوں کا سراغ ملنے میں بھی مدد مل جائے گی جو کہ مختلف طریقوں سے شدت پسندوں کی معاونت کرتی آ رہی ہیں کیونکہ ایسے عناصر کے لئے شہروں میں نقل و حرکت اور سرگرمیاں دیگر علاقوں کی نسبت زیادہ آسان ہوتی ہے۔


مضمون نگار ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔

[email protected]

یہ تحریر 234مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP