قومی و بین الاقوامی ایشوز

آئیے 2020کے امکانات سمیٹنے کی تیاری کریں

 2019کے آخری دنوں میں قرائن و آثار بتارہے ہیں کہ 2020بہت ہی معرکہ خیز ہوگا۔
مجھے یاد پڑتا ہے کہ برسوں پہلے بہت سی بین الاقوامی تنظیموں، تھنک ٹینکوں کو 2020میں پاکستان نظر نہیں آتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ پاکستان قائم و دائم ہے۔ مشکلات کا سامنا ہے، لیکن پاکستان کے عوام اپنی روایتی استقامت اور مزاحمت کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ اندرونی اور بیرونی جارحیتوں کو ناکام بنارہے ہیں۔ تاریخ کے اوراق گواہی دیتے ہیں کہ انتہائی سفاکیت، دہشت گردی، انتہا پسندی اور تخریب کاری کے خاتمے میں پاکستان کی مسلح افواج پیش پیش رہی ہیں اور واہگہ سے گوادر تک پاکستانیوں نے بلا امتیاز رنگ و نسل   ،مذہب و فرقہ ملک کو پُر امن اور محفوظ بنانے میں پاکستان کی مسلح افواج کا بھرپور ساتھ دیا ہے ۔ گزشتہ دہائیوں میں پاکستان کے دشمنوں نے ہمیں غیر مستحکم کرنے کی سازشیں مسلسل جاری رکھیں۔ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر یورشیں ہوتی رہیں۔ ہمارے جانباز محافظ اپنی جانوں کی قربانیاں دے کر اس یلغار کو پسپا کرتے رہے۔ اس طرح پاکستان کے عوام اور مسلح افواج نے دشمنوں کی ان ساری پیشگوئیوں کو باطل ثابت کردیا جن کا پراپیگنڈہ وہ ہمارے وجود کے بارے میں کررہے تھے۔



پاکستانی قوم ایک اعتماد اور عزم کے ساتھ 2020میں داخل ہورہی ہے۔ اور لائق اطمینان امر یہ ہے کہ قافلے کواحساس زیاں ہے۔ گزشتہ 72برسوں میں جہاں جہاں غلطیاں ہوئیں،جس جس شعبے میں پسماندگی رہی، اسے دور کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ریاست کی طرف سے بھی یہ اہتمام کیا جارہا ہے ۔ حکومت کی جانب سے بھی اور ریاست کے دوسرے ستونوں کی بھی کوشش یہی ہے۔ اصل کامیابی یہی ہوتی ہے کہ آپ درپیش مسائل کی نشاندہی کرلیں۔ پھر ان کے حل کی ترجیحات مرتب کریں۔ قوم نے متفقہ طورپر کرپشن کے خاتمے کو سرفہرست رکھا۔موجودہ حکومت نے کرپشن کے انسداد کے لئے قائم ادارے نیشنل اکائونٹ ایبیلیٹی  بیورو ( نیب) کو پورے اختیارات، آزادی اور خود مختاری دی۔ اس لئے 2019میں بڑے بڑے بد عنوانوں پر ہاتھ ڈالا گیا۔ ان میں سے بعض کے مقدمات کی سماعت مکمل ہوئی۔ انہیں قانون کے مطابق سزائیں دی گئیں۔ اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ سرکاری محکموں میں اعلیٰ سطح پر کرپشن کا ماحول ختم ہونے لگا۔ شور مچایا گیا کہ بیورو کریسی خوف زدہ ہوگئی ہے۔ سیکرٹریٹ میں کام نہیں ہورہا ہے۔ اس دبائو کا مقصد یہ تھا کہ کرپشن کے خلاف مہم روک دی جائے۔ کرپٹ لوگوں سے سمجھوتے کرلئے جائیں مگر وزیر اعظم نے بار بار واضح کیا کہ وہ کرپٹ لوگوں کو نہیں چھوڑیں گے چاہے وہ کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں۔
2020پاکستان کی تاریخ اور جغرافیے کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ اپنے خطّے کی مناسبت سے بھی بہت اہم ہے۔ اس میں بہت سے اہم معرکے رُونما ہونے کے امکانات ہیں۔ خطّے میں بھارت میں پہلے ہی مودی سرکار کی طرف سے ایسے انسانیت دشمن اور خاص طور پر مسلم مخالف پالیسیاں نافذ کی جارہی ہیں جس کے باعث جنوبی ایشیا میں آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑے ملک میں کئی ریاستوں میں شورش برپا ہے۔ ہنگامے ہورہے ہیں۔ 2019میں ہی 5اگست کو مودی نے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے لئے بھارت کے آئین کے آرٹیکل 370کا خاتمہ کردیا۔ مقبوضہ کشمیر میں 5اگست سے تادم تحریر تمام مواصلاتی رابطے منقطع ہیں۔ انٹرنیٹ بند ہے۔ سوشل میڈیا کا بلیک آئوٹ ہے۔ 80لاکھ کشمیری اپنے گھروں میں محصور ہیں۔ دوسری ریاستوں سے مزید بھارتی فوج کشمیر پر مسلط کردی گئی ہے۔ پاکستان کی حکومت، عوام اور مسلح افواج نے مسلسل احتجاج کرکے عالمی رائے عامہ کی توجہ اس طرف مبذول کی ہے۔ دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑا ہے۔ سفارتی فورموں پر بھارت کی غیر انسانی پالیسیوں کو بے نقاب کیا ہے۔ لیکن انتہائی افسوسناک امر ہے کہ چند ایک اداروں کے سوا دنیا کے ممالک نے بھارت پر دبائو نہیں ڈالا ہے۔ حالانکہ سارے ترقی یافتہ ممالک مسلمان ملکوں میں کہیں بھی حقوق انسانی کی پامالی ہو تو صرف بیانات ہی نہیں دیتے بلکہ قانونی کارروائی بھی کرتے ہیں۔ مودی کے ان اقدامات کو اس لئے نظر انداز کیا جارہا ہے کہ ان ممالک میں سے بیشتر کے لئے بھارت ایک ارب سے زیادہ صارفین کی منڈی ہے۔ اکیسویں صدی میں تجارت کو انسانیت پر فوقیت دینے کی یہ مثال انتہائی شرمناک ہے۔ لیکن پاکستان نے اپنے انسانی فریضے کو بڑی حد تک ذمہ داری سے انجام دیا ہے۔ کئی بار جمعے کے روز پورے ملک میں بیک وقت احتجاج بھی کیا گیا ہے۔2020میں بھارت کے یہ مظالم پاکستان کو مزید کارروائیوں پر آمادہ رکھیں گے۔ بھارت نے کشمیر پر یہ جبر مسلط کرنے کے بعد مسلمانوں کے خلاف ایک اور آئینی بل منظور کیا جس میں آسام، تری پورہ اور دوسری ریاستوں میں موجود مسلمان پناہ گزینوں کی شہریت کو منسوخ کرکے نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔ اس وقت بھارت کی کئی ریاستوں میں اس کے خلاف مسلسل احتجاج ہورہے ہیں۔ ان ریلیوں میں صرف مسلمان ہی نہیں سکھ، عیسائی اور دیگر اقلیتیں بھی حصّہ لے رہی ہیںجبکہ بعض بڑے شہروں میں اصول پسند ہندو بھی پیش پیش ہیں۔
بھارت کے حکمرانوں کے یہ یکطرفہ استبدادی فیصلے بھارت کو تقسیم کررہے ہیں۔ پاکستان کے لئے یہ سنہری موقع ہے کہ سفارتی سطح پر بھارت کے ان سیاہ قوانین کے خلاف عالمی رائے عامہ ہموار کرکے ان حکمرانوں کے تعصب اور نفرتوں کو بے نقاب کیا جائے۔ اب جبکہ بھارت میں بھی وہاں کے عوام پُر زور احتجاج کررہے ہیں ہمیں چاہئے کہ عالم اسلام کی بھی اس طرف توجہ دلائیں۔کیونکہ بھارت میں مظالم کا اصل نشانہ مسلمان ہیں۔ اس لئے دنیا بھر کے مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ ان مسلم بھائیوں کو ان مظالم سے نجات دلائیں۔ او آئی سی کو اس سلسلے میں قیادت کرنی چاہئے۔
کئی تحقیقی اداروں کے مطابق بہت سے انسانی معاملات کے لئے 2020ایک فیصلہ کن سال ثابت ہوگا۔ خاص طور پر ماحولیات کے ماہرین اس سے بڑی امیدیں وابستہ کئے ہوئے ہیں۔ اور وہ مختلف ممالک  خاص طور پر امریکہ ۔ برطانیہ، کینیڈا، جاپان کی حکومتوں کو ماحولیات کے لئے بڑے اقدامات کرنے پر آمادہ کررہے ہیں۔ پاکستان میں بھی اس ضمن میں کوششیں کی جارہی ہیں۔ ماحولیات کی وزارت نے کئی طویل المیعاد اور فوری منصوبے تشکیل دیئے ہیں۔ لیکن اپنے مشاہدے مطالعے اور پیشہ ورانہ  تجربے کی روشنی میں مجھے پاکستان کی معیشت میں دور رس پیش رفت ہوتی نظر آرہی ہے۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ عالمی طور پر مسلمہ ماہر معاشیات ہیں۔ پاکستان میں بھی مختلف مواقع پر صوبائی اور وفاقی سطح پر انہوں نے کئی ایسے اقدامات کئے جس سے سندھ کی معیشت نے بہت ترقی کی۔ پھر پاکستان میں بھی بڑی تبدیلیاں رُونما ہوئیں۔ اس وقت بھی وہ بہت پُر اعتماد ہیں اور بار بار امید ظاہر کررہے ہیں کہ 2020/2021  کامالی سال پاکستانی معیشت کے لئے استحکام کا سال ہوگا۔ گزشتہ ایک سال میں حفیظ شیخ، رزاق دائود، ڈاکٹر عشرت حسین اور اسٹیٹ بینک کے گورنر نے جتنی محنت کی ہے ، معیشت کو دوبارہ پٹڑی پر لے آئے ہیں اور اب انہیں یقین ہے کہ جب کرنٹ اکائونٹ کا خسارہ ختم ہوگیا ہے تو باقی شعبوں میں بھی استحکام آئے گا۔ سب سے زیادہ پریشانی پاکستانی روپے کی بمقابلہ ڈالر گراوٹ تھی۔ اب ماہرین کے مطابق روپے کی قدر ایک جگہ ٹھہر گئی ہے۔ برآمدات درآمدات سے زیادہ ہوگئی ہیں۔ میں کوئی اقتصادی ماہر نہیں ہوں۔ ایک عام شہری کی حیثیت سے یہی جانتا ہوں کہ اگر کسی ملک کی درآمدات برآمدات سے زیادہ ہوں تو اس کو زیادہ ڈالر درکار ہوتے ہیں۔ اس کی اپنی کرنسی پھر ہزیمت کا شکار ہوتی رہتی ہے۔ اگر برآمدات زیادہ ہوجائیں تو پھر آپ کو ڈالر خرچ نہیں کرنا پڑتا۔ بلکہ آپ اسے کمانے لگتے ہیں۔ آپ کی کرنسی کی قدر بڑھنے لگتی ہے۔ برآمدات بڑھنے سے یہ فائدہ بھی ہوتا ہے کہ آپ کے کارخانے زیادہ پیداوار دینے لگتے ہیں آپ کی مشینیں دن رات چلتی ہیں۔ مصنوعات بھی زیادہ تیار ہونے لگتی ہیں۔ یہ معجزہ ویسے ہی رُونما نہیں ہوا۔ اس کے لئے بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیا گیا۔ اب پہلے کی طرح بجلی کی قلت کی شکایتیں نہیں ہیں۔ اس طرح گیس کی فراہمی بھی ضرورت کے مطابق کی گئی ہے۔ پانی تک رسائی بھی فراوانی سے ہوئی ہے۔ 2019کے آخر میں مہنگائی کی شکایت عام رہی۔ حتیٰ کہ اپنے ملک میں پیدا ہونے والی سبزیاں۔ پھل بھی بہت زیادہ گراں ہوتے رہے۔ خلق خدا تنگ آکر احتجاج کرتی رہی۔ سوشل میڈیا پر زیادہ ہنگامہ رہا۔ خاص طور پر ٹماٹر کی قیمت بہت زیادہ ہوئی۔ٹماٹر عام استعمال کی سبزی ہے۔ ہر گھر کی ضرورت ہے۔ اب یہ امید کی جارہی ہے کہ 2020کی پہلی ششماہی میں گرانی میں کچھ کمی آئے گی۔
پاکستان کے ایک نیک نام سیاستدان اور بانیان پاکستان میں سے ایک سردار عبدالرب نشترکے پوتے کی اہلیہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر بھی اس وقت وزیر اعظم کے معاونین میں شامل ہیں۔ ان کے پاس غربت کے خاتمے کا قلمدان ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ اس سمیت ایک اجتماعی پروگرام 'احساس' کے نام سے بنایا گیا ہے جس کے تحت غربا کے لئے دسترخوان کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔ لیکن اصل کارنامہ بے روزگاروں کے لئے اپنے روزگار کا اہتمام ہے جس کے تحت چھوٹے قرضے بھی دیئے جارہے ہیں اور نوجوانوں کو اپنا کاروبار شروع کرنے کے لئے رہنمائی بھی کی جارہی ہے۔
اب تک معیشت ہی اس حکومت کا سب سے کمزور شعبہ تھا۔ کیونکہ گزشتہ دونوں حکومتوں 2008سے 2013پھر 2013سے 2018۔ میں معیشت کو کسی خاص بصیرت کے تحت نہیں چلایا گیا۔ کرپشن کا دوردورہ رہا۔ قرضے لئے گئے۔ لیکن متعلقہ منصوبوں پر خرچ نہیں کئے گئے۔ اس لئے اس حکومت کو ایک لڑکھڑاتی معیشت ورثے میں ملی جسے اپنے پائوں پر کھڑے کرنے میں بہت زیادہ مشکلات پیش آئی ہیں۔
2019-2020 کے مالی سال کی آخری ششماہی جنوری 2020سے جون 2020میں یقینا مزید مشکلات کا سامنا ہوگا۔ لیکن اقتصادیات کے اتار چڑھائو سے واقفان حال کا اندازہ ہے کہ 2020-2021کے مالی سال کا بجٹ پاکستان کے لئے معاشی ترقی کی نوید لے کر آئے گا۔ معیشت کا اچھا دَور شروع ہونے کے بعد یہ حکومت دوسرے داخلی اور خارجی امور پر بھرپور توجہ دے سکے گی۔
عمران انتظامیہ کے لئے سب سے فائدہ مند یہ حقیقت رہی ہے کہ سیاسی اور فوجی قیادت بہت زیادہ ہم خیال اور ایک دوسرے کی مشکلات سمجھتے ہوئے ایک دوسرے سے معاونت کرتی آرہی ہیں جو کسی بھی ملک کی ترقی کے لئے ایک مضبوط بنیاد ہوتی ہے۔ اس سے پہلے دونوں حکومتوں کے ادوار میں سیاسی قیادت  فوجی قیادت سے اتنی ہم آہنگ نہیں رہی۔ اس لئے ملک کے لئے بہت سے امورپر دشواریاں پیدا ہوتی رہیں۔
پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان اس عرصے میں واضح طور پر یہ اعلان کرتے رہے کہ پاکستانی فوج عوام کی اس منتخب حکومت کے ساتھ کھڑی ہے اور وہ ہر شعبے میں اس کی معاونت کررہی ہے۔ پاکستان کے عوام کے لئے یہ یقین دہانی بہت ہی حوصلہ افزا رہی ہے۔ جب کوئی سیاسی حکومت کسی وجہ کے بغیر فوجی قیادت سے عدم تعاون کرتی ہے یا علانیہ اختلافات کا اظہار کرتی ہے تو پاکستان کے عوام میں مایوسی اور بے چینی پھیلتی ہے۔ سیاسی اور فوجی قیادت کے درمیان دوریوں سے سب سے زیادہ خوشی بھارت کو ہوتی ہے ۔کیونکہ بھارت کی پاکستان دشمن اور مسلم مخالف پالیسیوں کا اس شد و مد سے جواب نہیں دیا جاتا جس شدت سے یہ جواب اس وقت دیا جاتا ہے جب پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت ہم خیال ہوتی ہے۔ یا آج کل کی اصطلاح کے مطابق ایک صفحے پر ہوتی ہے۔
2019میں جس طرح پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادتیں یک آواز ہوکر بھارت کے کشمیر میں ظلم و ستم پر آواز بلند کرتی رہیں، پھر جب بھارت نے آزاد کشمیر میں باقاعدہ جارحیت کا ارتکاب کیا تو دنیا نے دیکھا کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار دفاعی طاقت کی حیثیت سے کیسے اس کا جواب دیا۔ بھارت کا ایک طیارہ بھی گرالیا گیا۔ ان کا پائلٹ بھی گرفتار کیا۔ ایک مہذب اور ذمہ دار ریاست کے حوالے سے اس جنگی قیدی کو پورا تحفظ بھی دیا گیا اور اسے رضاکارانہ طور پر بھارت کو واپس بھی کردیا گیا۔
2020میں بھی سیاسی اورفوجی قیادتوں میں اس ہم آہنگی سے بھارت کے جبر و استبداد کا مقابلہ تو کیا ہی جائے گا۔ اور بھارت کو سیاسی اور سفارتی فورموں پر شکست دی جائے گی۔ لیکن یہ ہم آہنگی دوست ممالک سے تعلقات کی بہتری میں بھی معاون ہوگی۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری( سی پیک) میں 2019کے ابتدائی مہینوں میں کچھ سست رفتاری آگئی تھی۔ اسے آخری سہ ماہی میں دور کردیا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور آرمی چیف کے چین کے دوروں اور چینی زعما کے پاکستان کے دوروں سے پاک چین تاریخی دوستی اور اقتصادی شراکت میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ 2020میں بھی کئی ملاقاتوں کا شیڈول ہے۔ سی پیک سے وابستہ ماہرین امکان ظاہر کررہے ہیں کہ جس طرح چین کے تعاون سے پہلے مرحلے میں توانائی کی قلت پر قابو پایا گیا ہے ، توانائی کی فراہمی کے بعد اب کئی زیر تکمیل منصوبے مکمل ہونے میں آسانی ہوگی۔ اس سے پاکستان کی برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا اور چین کی ایک پٹی۔ ایک شاہراہ کے فلسفے کو تقویت ملے گی۔ اس دوران بھارت کی طرف سے بھی پراپیگنڈہ ہوا۔ بعض امریکی حکام کی جانب سے بھی سی پیک کو چین کے فائدے میں اور پاکستان پر بوجھ قرار دیا گیا لیکن پاکستان اور چین کی قیادتوں، عسکری لیڈروں اور ماہرینِ معاشیات نے اس پراپیگنڈے کا تیر بہدف جواب دیا۔ سی پیک اپنی کامیابیوں کی طرف گامزن ہے۔ اس منصوبے سے سب سے زیادہ فائدہ گوادر کی بندرگاہ کو ہورہا ہے ۔ بہت گہرے سمندر والی یہ بندرگاہ جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کو چین کے قریب تر لارہی ہے۔چین کو اپنی مصنوعات نہ صرف وسطی ایشیا بلکہ یورپ تک لے جانے میں آسانی ہورہی ہے۔
2020کو ایک یہ خصوصی اہمیت بھی حاصل ہے کہ یہ امریکہ میں انتخابات کا سال ہے۔ امریکی صدارتی انتخابات صرف امریکہ میں ہی تبدیلی نہیں لاتے بلکہ اس کے اثرات پوری دُنیا کی سیاست اور معیشت پر مرتب ہوتے ہیں۔ موجودہ امریکی صدر ٹرمپ کی پالیسیاں دنیا بھر میں اور بالخصوص مسلم ممالک میں تنقید کا نشانہ ہیں۔ خود امریکہ میں ان کے مواخذے کی کارروائی جاری ہے۔ 2020کے نومبر میں پہلے منگل کو ہونے والے انتخابات کے حوالے سے 2020 امریکہ میں ایک مسلسل سیاسی خلفشار اور سرگرمیوں کا سال بنا رہے گا۔ ٹرمپ کی سفید فام دوست پالیسیاں زیر بحث آئیں گی۔ ان کے مشرق وسطیٰ سے متعلقہ فیصلے، چین کی تجارت دشمنی، افغانستان میں مزید فوجی بھیجنے کی پالیسیاں عالمی سطح پر بھی تنقید کا موضوع بنیں گی۔ امریکی خارجہ پالیسی اور داخلہ پالیسی انتخابی مہم کا مرکزی موضوع ہوں گی۔ امریکہ پاکستان سے اگر چہ دس ہزار میل دور ہے لیکن 2001سے امریکہ پاکستان کا ہمسایہ ہے۔ نائن الیون کے بعد امریکہ افغانستان میں فوجیوں کی بڑی تعداد کی موجودگی کے باعث ہمارا پڑوسی ہے۔امریکہ کی ناکام افغان پالیسی کا خمیازہ پاکستان کو مسلسل بھگتنا پڑرہا ہے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم میں ہم امریکہ کے اتحادی ہیں۔ اس اتحاد کی وجہ سے پاکستان کو نقصانات زیادہ ہوئے ہیں۔ فوائد کم ملے ہیں۔ افغانستان سے دہشت گرد سرحد پارکرکے پاکستان میں کارروائیاں کرتے رہے۔ افغانستان کے لاکھوں پناہ گزینوں کی پاکستان 1979سے میزبانی کرنے کے باوجود افغان حکومت اور عوام پاکستان کے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان کی سرحد کے ساتھ ساتھ موجود بھارت کے کئی قونصل خانے بلوچستان اور کے پی کے میں در اندازی کرتے رہے ہیں۔ 2020میں امریکی صدارتی انتخابات کے اثرات افغانستان پر بھی پڑیں گے۔ کیونکہ امریکہ میں یہ موضوع زیر بحث رہے گا کہ امریکی فوجیوں کو واپس بلایا جائے۔ امریکہ بار بار کہہ چکا ہے کہ وہ افغانستان میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری حمایت کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتا۔ بھارت نے امریکہ اور پاکستان کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی بھی مسلسل کوششیں کی ہیں۔ اب صورت حال یہ ہے کہ وہاں طالبان کئی علاقوں میں دوبارہ غالب آگئے ہیں۔ اس حد تک کہ امریکہ کو ان سے مذاکرات پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ ان مذاکرات کو بھی پاکستان کی مدد کے بغیر نتیجہ خیز نہیں بنایا جاسکتا۔ اس لئے 2020میں پاکستان کی سیاسی اور فوجی دونوں قیادتوں کے لئے سنہری موقع ہوگا کہ وہ برابری کی سطح پر امریکہ سے معاملات طے کریں اور بھارت کی ریشہ دوانیوں کی طرف امریکہ کی توجہ مرکوز کروائیں۔ پاکستان کے تحقیقی اداروں ، یونیورسٹیوں اور میڈیا کو بھی چاہئے کہ 2020میں الرٹ رہیں اور پاکستان افغانستان۔ پاکستان امریکہ تعلقات پر تحقیق کرکے رپورٹیں منظر عام پر لائیں۔ بھارت کی سیاسی، عسکری اور اقتصادی سازشوں کو بے نقاب کریں۔ افغانستان سے چین کے مفادات بھی وابستہ ہیں۔ ایک پٹی، ایک شاہراہ کے تحت وہاں بھی کئی منصوبے زیر تکمیل ہیں۔ ان کے حوالے سے پاکستان اور چین کے درمیان بھرپور مفاہمت ہونی چاہئے۔ بھارت چین کے مفادات کے خلاف بھی سرگرم ہے اس لئے پاکستان اور چین کے درمیان اشتراک بھارت کے منصوبے ناکام بناسکتا ہے۔
یہ پہلو تو باعث صد اطمینان ہے کہ پاکستان دفاعی طور پر بہت مضبوط اور مستحکم ہے۔ روایتی ہتھیاروں کے حوالے سے بھی اور جدید ترین جنگی آلات اور جنگی طریقہ ہائے کار کے اعتبار سے بھی۔ 2020 میں بھی دفاعی صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہوگا۔ ہمیں 2020کو پاکستان کی سیاسی، سفارتی اور اقتصادی کامیابیوں کا سال بھی بنانا چاہئے۔ پاکستان کے عوام تو اس حوالے سے ہمیشہ متحد رہتے ہیں۔ اپوزیشن پارٹیوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔ آج کی دنیا میں بات اسی قوم کی سنی جاتی ہے جو اقتصادی طور پر مستحکم ہو۔ جس کے پاس زر مبادلہ کثیر تعداد میں ہو۔ جس کی برآمدات درآمدات سے زیادہ ہوں ۔ جس کے کارخانے دن رات پیداوار میں مصروف ہوں، جہاں ماحول صنعتی ہو، پیداوار زیادہ ہو، وہ دوسرے ملکوں کی مصنوعات کی منڈی بن کر نہ رہ جائے۔
2020 لیپ کا سال یقینا ہمارے لئے بہت سے امکانات اور امیدیں لے کر آرہا ہے۔ 
آئیے! اپنے آپ کو ذہنی، جسمانی اور اقتصادی طور پر ان امکانات کو اپنے دامن میں سمیٹنے کے لئے تیار کریں۔


مضمون نگارنامورصحافی' تجزیہ نگار' شاعر' ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 200مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP