متفرقات

روشن ہوا نام وطن کا

تاریخی شہرت کے حامل گولڈ میڈلسٹ اتھلیٹ آنریری کیپٹن مبارک شاہ کی خدمات سے متعلق طارق محمود کا مضمون 

 عالمی سطح پر کھیل کے میدان میں تاریخی شہر ت حاصل کر نے والے ایشین گولڈ میڈلسٹ اتھلیٹ آنریری کیپٹن اولمپیئن سید مبارک شاہ کا منفرد اعزاز یہ ہے کہ انہوں نے 4thایشین گیمز میں دو گولڈمیڈل پاکستان کے نام کیے ۔پاکستان کی تاریخ میں کوئی اور اتھلیٹ اب تک ایک ہی ایشین گیمز میں دوگولڈ میڈل جیتنے میں کامیابی حاصل نہیں کرسکا۔ مبارک شاہ نے ایشین گیمزمیں مجموعی طور پر تین گولڈاور ایک سلور میڈل جیت کر وطن عزیز کے نام کو عالمی سطح پر روشن کیا ۔یہ پاکستان کے واحد اتھلیٹ ہیں جنہوں نے ایشین گیمز میں اتنی تعداد میں میڈلز جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔مبارک شاہ کو3000 میٹر سٹیپل چیز اور5000 میٹر دوڑ کے ایونٹس میں دو نئے ایشین ریکارڈ بنانے کا اعزاز بھی حاصل ہے ۔



مبارک شاہ 24فروری 1931ء کو تحصیل و ضلع میانوالی کے گائوں پیر پہائی ڈھوک بھرتال میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا اسم گرامی سید کرم شاہ بخاری تھا ۔اُن کی خواہش تھی کہ مبارک شاہ کھیل کے میدان میں نام پیدا کریں۔ وُہ انہیں اس وقت کے مشہور و معروف علاقائی کھیل پڑ کوڈی کی تربیت دینے کے لیے گائوں کے قریب سے گزرنے و الے دریائے سندھ کے کنارے لے جاتے جہاں انہیں ریت پر خوب دوڑاتے اور ان کی کوچنگ کر تے تاکہ یہ جسمانی لحاظ سے مضبوط و توانا ہو ں مگر خالق کائنات کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔جب مبارک شاہ 14سال کے ہوئے تو ان کے شفیق والد کا سایہ ان کے سر سے اُٹھ گیا ۔گھر کی تمام ذمہ داریاں ان کے بڑے بھائی سید فضل حسین شاہ بخاری اور ان کے کاندھوں پر آن پڑیں۔وقت گزرتا گیا، انہوں نے گھریلو مسائل سے عہدہ برآ ہو نے کے لیے ملازمت کا آغاز 24فروری1949ء کو پاکستان آرمی سروس کور سے کیا ۔



ابتدائی تربیت کے دوران ان کی صلاحیتوں کو بھانپتے ہوئے لیفٹیننٹ محمد امیر (بعد میں بریگیڈیئر) نے ان کو بطور اتھلیٹ منتخب کرلیا۔ انہوں نے اس نوجوان کھلاڑی کی قدم قدم پر رہنمائی کی اور اس کی صلاحیتوں کو جلا بخشی۔ابتداء میں مبارک شاہ نے 800میٹر اور1500میٹر دوڑ کے ایونٹس سے کھیل کا آغاز کیا ۔ انہوں نے شروع میں ان ایونٹس میں آرمی چیمپئن شپ اور زونل مقابلوں میں کامیابیاں حاصل کیں ۔اسی دوران مبارک شاہ 5000میٹر دوڑ ، 10000میٹر دوڑ او ر3000میٹرسٹیپل چیزدوڑ کے ایونٹس میں مہارت حاصل کرنے لگے۔ انتھک محنت اور کو چ کی عمدہ تربیت کی بدولت یہ جلد ہی پاکستان آرمی کی ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو گئے ۔پاکستان آرمی کے تربیتی کیمپ میں انہیں کھیل سے بے پناہ محبت کرنے والے بریگیڈیئر رودھم کی زیر نگرانی تربیت حاصل کرنے کا موقع ملا ۔انٹر سروسز اتھلیٹکس چیمپئن شپ میں اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر مبارک شاہ کو قومی ٹیم میں شامل کر لیا گیا ۔ انہوں نے اپنیکیریئر کے دوران پاکستانی کوچز کے علاوہ امریکہ ، جرمنی اور انگلینڈ کے کوچز سے پاکستان میں ہی تربیت حاصل کی۔ مبارک شاہ نے اپنے سپورٹس کیریئر کے دوران قومی اور عالمی سطح پر متعدد کامیابیاں حاصل کیں جن میں سے بیشتر کی تفصیل پیش خدمت ہے ۔
 1954ء میں قومی اتھلیٹکس مقابلوں کا انعقاد ساہیوال میں ہوا ۔ جن میں پاکستان کے علاوہ ترکی،فن لینڈ اور بھارت کی ٹیموں نے حصہ لیا ۔ان مقابلوں میں مبارک شاہ نے 10000میٹر دوڑ کے ایونٹ میں گولڈمیڈل حاصل کیا یہ ان کی اتھلیٹکس کے میدان میں پہلی بڑی کامیابی تھی ۔ اس فتح سے ان میں جوش و جذبے کی نئی لہر دوڑ گئی انہوں نے اور زیادہ محنت شروع کر دی۔ 1955ء میں نیشنل چیمپئن شپ ڈھاکہ میں منعقد ہوئی جس میں مبارک شاہ نے 10000 میٹر دوڑ کے ایونٹ میں گولڈ میڈل اپنے نام کیا۔ 1956 میں ایران کے شہر تہران میں انٹرنیشنل اتھلیٹکس مقابلوں کا انعقاد ہوا جن میں مبارک شاہ نے 5000میٹر اور 3000میڑ سٹیپل چیز کے ایونٹس میں دو گولڈ میڈل جیتنے کا اعزاز حا صل کیا۔اسی سال بھارت کے شہرنیو دہلی میں پہلے پاک بھارت مقابلوں کا آغاز ہوا جن میں مبارک شاہ 5000میٹر دوڑ کے ایونٹ میں گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب رہے۔بھارت سے واپسی پر جنرل محمد موسیٰ خان نے خا ص طور پر انہیں مبارک باد دی ۔



 1956ء میں ہی نیشنل گیمز لاہور میں منعقد ہوئیں جن میں مبارک شاہ نے 5000 میٹر اور10000 میٹر دوڑ کے ایونٹس میں 2گولڈ میڈل حا صل کیے۔1958ء میں جاپان کے شہر ٹوکیو میںتیسری ایشین گیمز منعقد ہوئیں جن میں مبارک شاہ نے اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 3000 میٹر سٹیپل چیزکے ایونٹ میں گولڈ میڈل اور 10000میٹر دوڑ کے ایونٹ میں سلور میڈل جیت کر قومی پرچم کو عالمی سطح پر سربلند کیا۔ 1960ء میں ہی ٹرائی اینگل مقابلوں کا انعقاد لاہور میں ہوا جس میں پاکستان ، ایران اور بھارت کے کھلاڑیوں نے حصہ لیا۔ ان مقابلوں میں مبارک شاہ 5000میٹر دوڑ اور 3000میٹر سٹیپل چیز کے ایونٹس میں 2گولڈ میڈل اور 10000میٹر دوڑ کے ایونٹ میں سلور میڈل جیتنے میں کامیاب رہے۔اسی سال انٹر نیشنل اتھلیٹکس مقابلوں کا انعقاد مصر کے شہر قاہرہ میں ہوا جس میں مبارک شاہ نے 5000میٹر دوڑ اور 3000میٹر سٹیپل چیز کے ایونٹس میں 2گولڈ میڈل حاصل کیے۔ اسی سال نیشنل گیمز ڈھاکہ میں منعقد ہوئیں جن میں مبارک شاہ نے 3000میٹر دوڑ، 5000میٹر دوڑ اور 10,000میٹر دوڑ کے تینوں ایونٹس میں گولڈ میڈل اپنے نام کیے۔
 1960ء میں ہی انٹر نیشنل مقابلوں کا انعقاد انگلینڈ میں ہوا جس میں مبارک شاہ نے 3000میٹر سٹیپل چیز کے ایونٹ میں گولڈ میڈل جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔ 1962ء میں ملائشیا ء کے شہر ایپو میں اوپن مقابلوں کا انعقاد ہوا جن میں مبارک شاہ نے کامیابیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے 3000میٹر سٹیپل چیز ،5000میٹر دوڑ اور 10000میٹر دوڑ کے ایونٹس میں 3گولڈ میڈل حاصل کیے۔1962ء میں چوتھی ایشین گیمز انڈونیشیا کے شہر جکارتہ میں منعقد ہوئیں جن میں مبارک شاہ نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 3000 میٹر سٹیپل چیز اور 5000میٹر دوڑ کے ایونٹ میں 2گولڈ میڈل جیتنے کے ساتھ ساتھ دو قومی اوردونئے ایشین ریکارڈ بنانے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔
 1962ء میں ہی انٹر نیشنل اتھلیٹکس مقابلوں کا انعقاد یوگنڈا میں ہوا جس میں مبارک شاہ 3000میٹر سٹیپل چیز کے ایونٹ میں سلور میڈل حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ 1963ء میں نیشنل اتھلیٹکس چیمپئن شپ لاہور میں منعقد ہوئی جس میں مبارک شاہ نے 3000میٹر سٹیپل چیز اور 5000میٹر دوڑ کے ایونٹس میں 2گولڈ میڈل اپنے نام کیے۔ 1964ء میں نیشنل گیمز کا انعقاد ڈھاکہ میں ہوا جن میں مبارک شاہ 5000میٹر دوڑ اور 3000میٹر سٹیپل چیز دوڑ کے ایونٹس میں 2گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب رہے۔ 1965ء میں نیشنل اتھلیٹکس چیمپئن شپ لاہور میں منعقد ہوئی جس میں مبارک شاہ نے 3000میٹر سٹیپل چیز کے ایونٹ میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔ کھیل کے میدان میں ان کی یہ آخری بڑی کامیابی تھی۔
 مبارک شاہ نے 1970ء سے 1974ء تک پاکستان آرمی میں کوچنگ کے شعبہ میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں ۔ ان کی عمدہ کوچنگ کی بدولت انٹر نیشنل سطح پر آنریری کیپٹن عبدالکریم نے5000میٹر ، 3000میٹر، 10000میٹر دوڑ کے ایونٹس میں متعدد مرتبہ گولڈ میڈل ، سلور میڈل اور برونز میڈل حاصل کیے۔ ان کے علاوہ اعزازی نائب صوبیدار سنگر خان بھی 800میٹر دوڑ کے ایونٹ میں گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب رہے۔  قومی سطح پر ان سے تربیت حاصل کرنے والوں میں آنریری کیپٹن غلام فرید نے 10000میٹر، 5000میٹر ، آنریری کیپٹن لال خان 3000میٹر سٹیپل چیز، صوبیدار مظہر حسین 5000میٹر، 10000میٹر دوڑ کے ایونٹس میں گولڈ میڈل حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ 
مبارک شاہ نے 1965ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگوں میں عسکری خدمات سر انجام دیتے ہوئے وطن عزیز کے دفاع میں اپنا کردار ادا کیا۔ 1962ء میں انہیں گورنر ایوارڈ دیا گیا۔  1963ء میں مبارک شاہ کو قومی خدمات کے اعتراف میں اس وقت کے صدر پاکستان فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا۔ پاکستان آرمی کی طرف سے انہیں 14اگست 1974ء کو آنریری کیپٹن کے عہدہ پر ترقی دی گئی اور حکومت پاکستان کی طرف سے تمغہ خدمت ملٹری درجہ دوم سے نوازا گیا۔ پاکستان آرمی میں ان کی خدمات کے پیش نظر انہیں ایک مربع زمین صوبہ سندھ میں بطور انعام پیش کی گئی ۔ پاکستان سپورٹس بورڈ نے ان کی کھیل کے میدان میں خدمات کے اعتراف میں جناح سپورٹس سٹیڈیم اسلام آباد کے ایک انٹری گیٹ کا نام مبارک شاہ کے نام سے منسوب کیا۔
 1989ء میں سیف گیمز پاکستان کے دار الحکومت اسلام آباد میں منعقد ہوئیں۔ روایتی طور پر سیف گیمز کا آغاز مشعل روشن کر کے کیا گیا۔ مبارک شاہ مشعل روشن کرنے والی ٹیم میں شامل تھے۔ بلا شبہ اس تقریب میں شمولیت ان کے لیے اعزاز تھا۔ مبارک شاہ نے ان گیمز میں بطور ٹیکنیکل آفیشل خدمات بھی انجام دیں ۔ انہیں قومی سطح کے مقابلوں میں متعدد مرتبہ ٹیکنیکل آفیشل کی حیثیت سے خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔ کھیل کے میدان میں ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔
 مبارک شاہ تمام تر کامیابیوں کے بعد پاکستان آرمی سے 32سال سروس مکمل کرنے کے بعد 1980 میں ریٹائر ہو گئے۔ انہوں نے اتھلیٹکس کے ساتھ ساتھ علاقائی کھیل' پِڑ، کوڈی' کو بھی جاری رکھا اور اس کھیل میں بھی شہرت حاصل کی۔ سابق گورنر مغربی پاکستان نواب ملک امیر محمد خان مبارک شاہ کے مداح تھے۔ وہ انہیں اکثر کالا باغ اور گورنر ہائوس لاہور میں دعوت پر مدعو کرتے ۔ نواب صاحب خود بھی پڑ کوڈی کے دلدادہ تھے۔ وہ اکثر علاقائی مقابلوں کی سرپرستی بھی کرتے تھے۔
 انٹر نیشنل گولڈ میڈلسٹ اتھلیٹ اور قومی ٹیم کے سابق کوچ آنریری کیپٹن عبدالکریم نے ایک انٹر ویو کے دوران بتایا کہ مبارک شاہ ایک عظیم کھلاڑی تھے۔ مجھے ان سے کوچنگ حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔ ان کا شمار چند ایسے کھلاڑیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے پاکستان کو کھیل کے میدان میں قابل قدر مقام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔عبدالکریم نے مزید بتایا کہ مبارک شاہ ایبٹ آباد میں ہفتہ وار ٹریننگ کے دوران 4سے 5گھنٹے پہاڑوں پر چڑھ کر سخت پریکٹس کیا کرتے تھے۔ شاید ہی ایبٹ آباد کا کوئی ایسا پہاڑ ہو جس کی بلندیوں کو انہوں نے نہ چھوا ہو۔ اس تھکا دینے والی سخت ٹریننگ کا ہی ثمر تھا کہ مبارک شاہ نے اتھلیٹکس کے میدان میں عالمی سطح پر ریکارڈ قائم کیے۔ 
مبارک شاہ کے بیٹے سید صابر حسین شاہ بخاری نے ٹیلی فونک رابطہ کے دوران بتایا کہ مبارک شاہ نے اپنے والد کی خواہش کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے بے پناہ محنت کی ۔ یہ دوران سروس آرمی سٹیڈیم راولپنڈی سے چکری گائوں کے قریب واقع پہاڑی سلسلے تک دوڑکر جاتے اور واپس آتے تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے والد کو متعدد مرتبہ یورپی ممالک کی طرف سے کھیل کی بنیاد پر بمعہ فیملی رہائش اختیار کرنے کی پیشکش کی گئی مگر انہوں نے ان کی اس پیشکش کو یہ کہتے ہوئے ٹھکرا دیا کہ مجھے اپنے وطن نے شناخت دی اوریہ مقام اس مٹی نے بخشا۔ میں اس سے بے وفائی نہیں کر سکتا۔ 
مبارک شاہ نے آرمی سے ریٹائرمنٹ کے بعد سکونت راولپنڈی میں اختیار کی ۔ 1997ء میں ان کی طبیعت خراب رہنے لگی۔ ان کو ملٹری ہسپتال راولپنڈی لایا گیا جہاں انہیں اعلیٰ طبی سہولیات مہیا کی گئیں۔ ان کامکمل میڈیکل چیک اپ کرایا گیا ۔ میڈیکل ٹیسٹ رپورٹ کے مطابق Pancreas Cancer کا مرض تشخیص ہوا۔ ان کا فوری طور پر علاج معالجہ شروع کر دیا گیا۔ جب ان کی بیماری کی خبر حکومت کے ایوانوں تک پہنچی تو اس وقت کے وزیر اطلاعات و نشریات مشاہد حسین سید ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے اور ساتھ ہی حکومت پاکستان کی طرف سے انہیں کسی بھی بیرون ملک علاج کی پیشکش کی۔ مگر مبارک شاہ نے ملٹری ہسپتال راولپنڈی کی سہولیات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان کا اور حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ مبارک شاہ نے زندگی کے بقیہ ایام اپنی سرزمین پر گزارنے کو ترجیح دی۔ 
بلا شبہ وُہ ایک محب وطن انسان تھے۔ انہوں نے تقریباََ تین سال صبر و شکر اور حوصلہ مندی سے اس بیماری کامقابلہ کیا۔ بالآخر 19جنوری 2000ء کو اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ مبارک شاہ کی نماز جنازہ ان کی وصیت کے مطابق امام بارگاہ قصر شبیر ڈھوک سیداں راولپنڈی میں ادا کی گئی جس میں سینئر عسکری حکام، سول سوسائٹی کی اہم شخصیات ، نامور کھلاڑیوں، کوچز، کھیل کی تنظیموں کے اعلیٰ عہدے داروںکے علاوہ بڑی تعداد میں عوام الناس نے شرکت کی۔ مبارک شاہ کو پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ڈھوک سیداں سادات کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ مبارک شاہ ایک قومی ہیرو تھے۔ان کا نام کھیل کے میدان میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے (آمین)۔ ||

یہ تحریر 237مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP