قومی و بین الاقوامی ایشوز

دہشت گرد گروپوں کا تاریخی پس منظر اور ان کی کارروائیاں

ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں 70کے لگ بھگ جہادی یا طالبان گروپ پائے جاتے ہیں۔ ان میں 30 گروپ ایسے ہیں جو کہ ریاست اور معاشرے کے اندر اپنے نظریات بندوق یا تشدد کے ذریعے مسلط کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے وہ فکری یا سیاسی جدوجہد کی بجائے باقاعدہ جنگ کرتے آئے ہیں۔ اسی جنگ کے نتیجے میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران پاکستان میں 50ہزار سے زائد انسان لقمہ اجل بنائے گئے جبکہ اب بھی یہ لڑائی رکنے کا نام نہیں لے رہی اور فورسز کے علاوہ عام لوگ بھی روزانہ کی بنیاد پر اس جنگ کا نشانہ بن رہے ہیں۔ محققین کے مطابق جہادی تنظیموں یا گروپوں کی بنیادیں مختلف ادوار میں رکھی جاتی ہیں۔ 60کی دہائی میں کشمیر کی آزادی کے لئے بعض گروپ قائم ہوئے۔

ان کا مقصد بھارت پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے دباؤ ڈالنا تھا اور ان تنظیموں کو بعض مذہبی جماعتوں اور بااثر حلقوں کی آشیرباد حاصل تھی تاہم ان گروپوں کی سرگرمیاں بہت محدود تھیں اور ان کی سرگرمیوں یا جدوجہد کا مرکز کشمیر تھا۔ دوسرے مرحلے کے دوران 70کی دہائی میں متحدہ پاکستان کے اندر بنگلہ دیش کی تحریک کے دوران بعض تنظیموں کا وجود قائم ہوا تاہم ان کی تعداد اور سرگرمیاں بھی بہت محدود اور ٹارگیٹڈ تھیں۔ تیسرے مرحلے کے دوران 80کی دہائی میں افغانستان کے جہاد کے نام پر متعدد تنظیموں کا قیام عمل میں لایا گیا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جب پاکستان کے اندر وسیع پیمانے پر جہادی نیٹ ورک قائم ہونے لگے اور اس سلسلے نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کیا۔ ان تنظیموں کو بھی مذہبی قوتوں یا جماعتوں کی معاونت حاصل رہی۔ 80کی دہائی کے دوران ایک اندازے کے مطابق پاکستان کے اندر 15جہادی گروپ موجود تھے۔ جبکہ اتنی ہی تعداد میں افغان گروپ بھی پشاور اور کوئٹہ میں فعال تھے۔ اس عرصہ کے دوران پہلی دفعہ بعض اسلامی ممالک کے جہادی گروپ بھی منظر عام پر آئے اور انہوں نے بھی پشاور‘ کوئٹہ اور بعض دوسرے شہروں میں اپنے ٹھکانے اور دفاتر قائم کئے۔ ابتداء میں یہ غیر ملکی جہادی گروپ ویلفیئر کے کام کے لئے متعارف ہوئے اور ان کے آنے کا مقصد افغان مہاجرین کو تعلیمی‘ طبی اور دیگر سہولیات فراہم کرنا تھا۔ تاہم بعد میں انہوں نے بھی عملی جہاد میں حصہ لینا شروع کیا اور پشاور کا یونیورسٹی روڈ ان کا مرکز ہوا کرتا تھا۔ جن ممالک کے جہادی گروپ 80کی دہائی میں پاکستان کے اندر موجود اور متحرک رہے ان میں ایران‘ سعودی عرب‘ عراق‘ مصر‘ لیبیا‘ مراکش‘ سوڈان‘ یمن اور انڈونیشیا سرفہرست تھے۔ 15افغان گروپ ان کے علاوہ تھے۔

90کی دہائی کے دوران جب روس افغانستان سے نکل گیا تو ان غیر ملکی اور ملکی تنظیموں کی تعداد کم ہونا شروع ہو گئی۔ ان میں سے اکثر افغانستان جا کر شمالی اتحاد کے خلاف لڑنے لگے مگر پاکستان کے اندر اسی عرصے کے دوران سعودی عرب اور مصر کے بعض گروپ پھر بھی موجود رہے۔ ان گروپوں کے اتحاد سے ہی 90کی دہائی میں القاعدہ جیسی بڑی تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ڈاکٹر عبداﷲ عظام ‘ ایمن الظواہری اور اسامہ بن لادن نہ صرف پشاور اور افغانستان کا وقتاً فوقتاً دورے کرتے رہے بلکہ انہوں نے القاعدہ قائم کی جس کا اعلان اسامہ بن لادن نے خوست میں کیا۔ تاہم پشاور ہی القاعدہ کی محدود سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا۔ یہی وہ وقت تھا جب القاعدہ نے ایک پالیسی کے تحت پاکستان کے اندر بعض دوسرے گروپوں کی پھر سے عالمی اور نظریاتی معاونت کر کے ان کو فعال اور مضبوط بنایا اور بعد میں یہ گروپ پاکستانی ریاست اور سوسائٹی پر حملہ آور ہو گئے۔

ابتداء میں کچھ تنظیمیں القاعدہ کے نظریات سے متاثر ہوئیں تاہم بعد میں فاٹا اور خیبرپختونخوا کے مخصوص جغرافیائی اور معاشرتی حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں ایسے گروپوں کی آبیاری کی جانے لگی اور اسلام کے نفاذ کے نعرے کے ذریعے لوگوں کو متوجہ کیا جانے لگا۔ شمالی اتحاد چونکہ پاکستان کا مخالف تھا اس لئے بعض ایسے افغان اور پاکستانی گروپوں کی پشت پناہی شروع ہوئی جو کہ وہاں شمالی اتحاد کے خلاف لڑ رہے تھے۔ مگر یہ پالیسی بعد میں سب کو بہت مہنگی پڑ گئی اور بعض گروپ پاکستان کے خلاف بھی میدان میں نکل آئے۔ القاعدہ نے پاکستان کے اندر ان تنظیموں کی معاونت کی جو کہ شیعہ مسلک یا نظریات کے خلاف تھیں۔ یوں ایران اور سعودی عرب کی کشمکش اور فرقہ واریت پاکستان کے اندر لائی گئی اور فرقہ پرست تنظیموں کو دونوں جانب سے طاقتور بنانے کی کوششوں کا آغاز ہوا۔ القاعدہ چونکہ مسلکی اور نظریاتی طور پر ایران کے خلاف تھی اس لئے شیعہ گروپ نشانہ بننے لگے اور اینٹی شیعہ گروپ طاقت پکڑتے گئے۔ اس کشمکش میں سیکڑوں لوگ مارے گئے تاہم ریاست اور عمومی سوسائٹی اس کشمکش سے محفوظ رہی۔ اسی عرصہ کے دوران القاعدہ نے فاٹا کے اندر بعض گروپ قائم کروائے۔ جبکہ خوست‘ پکتیا اور ننگرہار کے افغان صوبوں میں بعض ٹریننگ کیمپ بھی قائم کئے۔ البدر‘ مجاہدین‘ حرکت الانصار‘ حزب المجاہدین‘ حقانی نیٹ ورک‘ لشکر طیبہ‘ سپاہ صحابہ اور ایسی ہی دوسری تنظیموں نے نہ صرف القاعدہ کے نظریات اور مالی وسائل سے فائدہ اٹھایا بلکہ ان سب کا ایک فعال نیٹ ورک بھی قائم ہوا۔ انہی کی کوششوں اور خواہش کے نتیجے میں 93-94کے دوران مالاکنڈ ڈویژن میں ایک پرتشدد تحریک کا آغاز ہوا جبکہ دوسری جانب افغانستان میں مجاہدین کی آپس کی لڑائیوں سے تنگ آ کر افغان حلقوں نے بھی طالبان کے نام سے ایک نئی جدوجہد یا تحریک کا آغاز کیا۔ یہی وہ دورتھا جب سعودی عرب‘ پاکستان اور عرب امارات کے علاوہ امریکہ نے بھی طالبان کی حمایت شروع کی کیونکہ افغانستان کے حالات روزبروز ابتر ہوتے جا رہے تھے۔ ادھر پاکستان کے اندر جیش محمد‘ لشکر طیبہ‘ جماعت الفرقان‘ حزب التحریر المہاجرون‘ لشکر جھنگوی‘ سپاہ صحابہ‘ حرکت المجاہدین العالمی‘ جمعیت المجاہدین‘ بریگیڈ213حرکت الجہاد اسلامی اور اول الذکر تنظیموں کے القاعدہ کے ساتھ رابطے نہ صرف یہ کہ مضبوط ہوئے بلکہ انہوں نے پاکستان کے اندر بھی کارروائیاں شروع کیں۔ عمر شیخ اور ایسے دوسرے رہنما بعض گروپوں کی کھل کر معاونت کر رہے تھے اور افغانستان کے حالات نے متعدد دوسرے گروپوں کو بھی ایک بار پھر اپنی طرف کھینچنا شروع کیا۔

یہاں پر یہ تمام تنظیمیں دو بڑے گروپوں میں تقسیم ہو گئیں۔ ایک گروپ وہ تھا جس نے نہ صرف افغانستان جا کر لڑنا تھا اور پاکستان ان کے لئے محض ریکروٹنگ کا ایک مرکز تھا۔ جبکہ دوسرا گروپ وہ تھا جو کہ افغانستان کے علاوہ پاکستان میں بھی حملوں کا حامی تھا اور ان لوگوں نے بتدریج اپنے حملے تیز کرنے شروع کئے۔ 1995-96 کے دوران جب طالبان افغانستان پر قابض ہو گئے تو اس کو سفارتی فتح کا نام دیا گیا اور اس عمل میں امریکہ اور عرب ممالک بھی طالبان کے ہمنوا اور حامی تھے۔ تاہم اس کا الٹا اثر یہ ہوا کہ پاکستان کے اندر یکدم تشدد پسند گروپوں کی سرگرمیاں نہ صرف بڑھ گئیں بلکہ گروپوں کی تعداد میں بھی بے حد اضافہ ہوااور اس کام نے نفاذ اسلام کے نام پر ایک باقاعدہ کاروبار کی شکل اختیار کر لی۔

کچھ عرصہ قبل چونکہ سوویت یونین ٹوٹ گیا تھا اور بعض سنٹرل ایشین ریاستوں میں تحاریک چلنی شروع ہو گئی تھیں۔ اس لئے طالبان کے ظہور اور قبضے نے ان تحاریک میں نئی قوت ڈال دی اور جہادی تنظیمیں نہ صرف پاکستان بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں میں بھی مضبوط ہونے لگیں ۔ یہی وہ وقت تھا جب فاٹا‘ پختونخواہ اور پنجاب ایسے گروپوں کا مرکز بننے لگے۔ دوسری طرف القاعدہ کے زیر سایہ آئی ایم یو (IMU) ای ٹی آئی ایم (ETIM) ایل آئی ایف جی (LIFG) اور آئی جے یو (IJU) جیسی وہ غیر ملکی عالمی تنظیمیں بھی فاٹا میں گھس آئیں جو کہ سنٹرل ایشیا اور بعض عرب ممالک میں تشدد کے ذریعے اسلامی نظام لانے کے لئے جدوجہد کر رہی تھیں۔ ابتدا میں ان کا کام تربیت دینا اور ریکروٹنگ کرنا تھا۔ آئی ایم یو (اسلامک موومنٹ آف ازبکستان) نے اپنے کمانڈر طاہر یلدیشیوف کی قیادت میں شمالی و جنوبی وزیرستان کو باقاعدہ اپنا ٹھکانہ بنایا۔ مقامی آبادی کو انہوں نے یرغمال بنایا کئی اہم لوگ بے دردی سے قتل کر دیئے اور فاٹا سے جوانوں کی بھرتیاں ہونے لگیں۔ انہی لوگوں نے فاٹا میں تحریک طالبان جیسی تنظیم کے قیام کا راستہ ہموار کیا نیک محمد‘ عبداﷲ محسود اور بیت اﷲ محسود جیسے لیڈر انہی سے متاثر ہو کر سرگرم عمل ہو گئے۔ حالت اتنی خراب ہو گئی کہ حافظ گل بہادر‘ مولوی نذیر اور دوسروں کے علاوہ پاک فوج نے بعد میں ان کے خلاف کارروائیاں کیں اور طاہر یلد یشوف کئی میتیں چھوڑ کر زخمی حالت میں بھاگنے پر مجبور ہو گیا۔

جب نائن الیون کے واقعے کے بعد فاٹا کے اندر القاعدہ‘ افغان طالبان‘ عرب اور سینٹرل ایشین گھس آئے تو عام تاثر یہ تھا کہ یہ لوگ پرامن طریقے سے رہتے ہوئے اپنی کارروائیاں روک دیں گے مگر ایسا نہیں ہوا اور غیرملکیوں کے علاوہ بعض ملکی گروپوں نے بھی فاٹا پر قبضہ کرنا شروع کیا۔ شمالی اور جنوبی وزیرستان عملاً ان کے قبضے میں چلے گئے۔ پاک فوج نے 2002-3 کے دوران کارروائیاں کیں تو یہ لوگ کمزور ہونے کے بعد دوسری ایجنسیوں کی طرف بھاگ نکلے اور مہمند ‘ کرم اور باجوڑ کی ایجنسیاں متاثر ہونا شروع ہو گئیں۔ بعض مذہبی جماعتوں کے کہنے پر آپریشن روک دیئے گئے تو ان کی سرگرمیاں اور بھی بڑھ گئیں۔ ایسا ماحول بنایا گیا جیسے یہ لوگ صرف امریکہ کے مخالف ہیں اور پاکستان کو ان سے کوئی خطرہ نہیں تاہم یہ ایک بڑی خوش فہمی تھی۔ غیرملکی گروپ بھی فعال رہے اور ان کی کوکھ سے مزید تنظیموں نے جنم لینا شروع کیا۔ اینٹی امریکن ازم کے فیکٹر کو بعض مذہبی قوتوں نے کچھ اس انداز سے استعمال کیا کہ پاکستانی ریاست وہ کارروائیاں کرنے سے باز رہی جو کہ اسے کرنی چاہئے تھی۔ اس مصلحت‘ نرمی اور دباؤ کا نتیجہ یہ نکلا کہ سال 2007کے دوران تحریک طالبان پاکستان جیسی پرتشدد تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جس نے اپنے قیام کے فوراً بعد پاکستانی ریاست‘ سیاست اور معاشرے کو بدترین حملوں کا نشانہ بنانا شروع کیا اور دوسری تنظیمیں بھی اس میں ضم ہو گئیں اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا خوفناک باب ہے۔

2007کے بعد 30کے قریب تشدد پسند گروپ ٹی ٹی پی اور القاعدہ کی قیادت میں پاکستان پر حملہ آور ہو گئے۔ ان میں چار سے چھہ غیرملکی گروپ بھی شامل ہیں۔ جنداﷲ‘ لشکر جھنگوی‘ سپاہ صحابہ‘ لشکر طیبہ‘ جیش محمد‘ آئی ایم یو‘ ای ٹی آئی ایم‘ حرکت الانصار‘ ایشین ٹائیگرز‘ جمعیت المجاہدین العالمی‘ جانباز فورس‘ تحریک جہاد اسلامی‘ متحدہ جہاد کونسل‘ البرق‘ لشکر اسلام‘ سپاہ محمد‘ اور متعدد دوسرے کسی نہ کسی شکل میں بھرپور قوت کے ساتھ نہ صرف پاکستان بلکہ بعض دوسرے ممالک پر بھی حملہ آور ہیں۔ حقانی نیٹ ورک بھی ایک طاقتور گروپ ہے مگر یہ بوجوہ پاکستان کے خلاف نہیں لڑ رہا مولوی نذیر‘ گل بہادر اور بیٹنی گروپ بھی اسی فلسفے پر قائم ہیں۔ مگر کئی مواقع پر یہ گروپ بھی حملے کرتے رہے ہیں۔ پاکستان نے ان میں سے تقریباً10 پر پابندیاں بھی لگا رکھی ہیں مگر ان کی سرگرمیاں پھر بھی جاری ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ان گروپوں نے 2001سے لے کر اب تک پاکستان پر 14000حملے کئے ہیں۔ اندازاً ان گروپوں‘ خصوصاً ٹی ٹی پی‘ نے سال 2002سے لے کر اب تک فورسز کے 10ہزار سے زائد اہلکاروں کے علاوہ 50ہزار کے لگ بھگ پاکستانیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ریاست نے ان کے ساتھ 12کے قریب معاہدے کئے مگر سبھی ناکام ہوئے۔ آٹھ آپریشن بھی عملاً ان کو مکمل طور پر ختم نہ کر سکے۔ اب تک انہوں نے 373خودکش حملے کئے ہیں جو کہ ایک عالمی ریکارڈ ہے۔ مخالف سیاسی قوتیں‘ فورسز‘ نظریاتی مخالفین‘ قبائلی عمائدین‘ این جی اوز‘ سفارت کار اور عام لوگ سبھی ان حملوں کا نشانہ بنتے آئے ہیں۔ ان لوگوں نے پاکستان کو کس حالت سے دوچار کیا اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ سال 2008کے دوران 2148 حملے کرائے گئے جن سے ڈھائی ہزار ہلاکتیں ہوئیں۔ ان میں 32خودکش حملے بھی شامل تھے۔ 2009میں بھی یہی شرح برقرار رہی جبکہ 2010کے دوران اس میں 30فیصد اضافہ ہوا۔

باقی کے دو سالوں کے دوران بھی کمی کے بجائے شرح بڑھتی گئی۔ سال 2013کے دوران ان گروپوں نے 1715حملے کئے جس سے 2400لوگ جان بحق ہو گئے۔ سال 2003 کے دوران یہ ہلاکتیں 175تھیں اس کا مطلب یہ ہے کہ دس سال کے دوران حملوں کی شرح اور ہلاکتوں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہوا اور حملہ آوروں کی قوت بڑھتی گئی۔ ممتاز صحافی حامد میر کی ایک رپورٹ کے مطابق 29جنوری کی وزیراعظم کی مذاکراتی پیشکش کے بعد کے 45روز کے دوران 48حملے کرائے گئے۔ حالانکہ سبھی سے ایک مذاکراتی عمل کا آغاز بھی ہو گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق ان 45ایام کے دوران کوئی ایک بھی ڈرون حملہ نہیں ہوا جو کہ طالبان اور ان کے بعض حامی مزاحمت کی ایک بڑی وجہ قرار دیتے آئے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان 48حملوں کے نتیجے میں 360افراد جان بحق جبکہ 400سے زائد زخمی ہوئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں سیکیورٹی فورسز کے 85افراد بھی شامل تھے۔ دہشت گردی پر کام کرنے والی آن لائن ویب ’’پشتون نیوز‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق سال رواں کے پہلے مہینے یعنی جنوری کے دوران پاکستان میں 8خودکش حملوں سمیت دہشت گردی کے 26واقعات ہوئے تھے جس کے باعث 300سے زائد لوگ مارے گئے۔ اسی سائٹ کی رپورٹ کے مطابق مذاکراتی پیشکش کے بعد کے ابتدائی 15روز کے دوران صرف صوبہ خیبرپختونخوا کو 19بار حملوں کا نشانہ بنایا گیا جن میں 10حملے صرف پشاور پر کرائے گئے اور ان میں 4خودکش حملے بھی شامل تھے۔

اگر ان اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو ثابت یہ ہوتا ہے کہ حالیہ وقتی فائربندی سے پہلے مذاکرات کے عمل کے دوران دہشت گرد حملوں کی تعداد اور ہلاکتوں میں کمی کے بجائے اور بھی اضافہ ہوا۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ حملہ آور تنظیموں کے لئے ریاست یا انسانی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور وہ بزور بندوق نہ صرف اپنے نظریات مسلط کرنا چاہتے ہیں بلکہ ان کے سامنے ریاست کی بھی کوئی اہمیت نہیں۔ ’’پشتون نیوز‘‘ کی ایک اور رپورٹ کے مطابق سال 2013 کے دوران پاکستان کے 55اضلاع میں کارروائیاں کی گئیں۔ اس لئے یہ تاثر دینا بھی غلط ہے کہ حملے صرف صوبہ خیبرپختونخوایا فاٹا میں کرائے جا رہے ہیں۔ ملک کا کوئی صوبہ یا حصہ ان کے حملوں سے نہیں بچا۔ انہی تنظیموں کی کارستانیاں ہیں کہ پاکستان کو عالمی قوتوں کے علاوہ بعض پڑوسی اور دوست ممالک سے بھی شکایات ہیں اور وہ الزام لگاتے آئے ہیں کہ پاکستان ان قوتوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرے جو کہ پاکستان میں ٹریننگ لے کر دوسرے ممالک میں کارروائیاں کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے شکایات کرنے والوں میں امریکہ اور افغانستان کے علاوہ ایران اور چین جیسے دوست ممالک بھی شامل ہیں۔

یہ بہت عجیب بات ہے کہ جب 20فروری کی رات شمالی وزیرستان پر پاک فضائیہ نے سرجیکل سٹرائیکس(Surgical Strikes) کیں اور اس میں 15غیرملکی بھی مارے گئے تو بعض مذہبی لیڈروں نے ان کی موت پر بھی احتجاج کر کے موقف اپنایا کہ فورسز نے بے گناہ شہری مار ڈالے ہیں حالانکہ ان 15میں عربوں‘ ازبکوں اور تاجکوں کے علاوہ دو جرمن طالبان بھی شامل تھے۔ یہی وہ رویے ہیں جن کے باعث پاکستان اپنی تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہا ہے اور اب عوامی سطح پر حکومت اور فورسز سے شدت کے ساتھ یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی یا تشدد کی کارروائیوں کے نہ رکنے کی صورت میں پاکستانی ریاست اور معاشرے کو ان قوتوں سے ہر صورت چھٹکارا دلایا جائے کیونکہ تشدد پاکستان کے معاشرے اور ترقی کے لئے ناسور بن چکا ہے۔

یہ تحریر 346مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP