یوم پاکستان

تیئس مارچ 1940والا جذبہ۔ آج بھی

آئیے میں آپ کو 80سال پہلے لئے چلتا ہوں۔
اتفاق دیکھئے یہ میری عمر کے ماہ و سال بھی ہیں۔
میں 5فروری 1940کی پیدائش اپنی ماں کی گود میں ہوں۔
23مارچ 1940۔ میری جغرافیائی ماں خود تاریخ کی گود میں ہے۔
قائد اعظم محمد علی جناح تاریخ سے خطاب کررہے ہیں۔
80سال پہلے کہے گئے ان الفاظ کو آج کے بھارت میں ہونے والے ہنگاموں،ریلیوں، کے تناظر میں دیکھئے گا اور ایک مدبر کی بصیرت اور ادراک کو خراجِ عقیدت پیش کیجئے گا۔
قائد اعظم کہہ رہے ہیں:
'' ہندو اور مسلمان دونوں کے مذہبی فکری نظام یکسر مختلف ہیں۔
دونوں کے سماجی ڈھانچے الگ ہیں۔ ہندو اور مسلمان آپس میں شادی کرسکتے ہیں نہ ایک دستر خوان پر کھانا کھاسکتے ہیں۔ ان کی رزمیہ نظمیں ۔ ان کے ہیرو، ان کے معرکے، ان کے کارنامے مختلف ہیں۔
میں واشگاف الفاظ میں کہتا ہوں کہ دونوں ایسی مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کی بنیاد ایسے تصورات اور حقائق پر رکھی گئی ہے جو ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ دونوں کی اُمنگوں اور تمنّائوں کے تاریخی سر چشمے قطعی مختلف بلکہ متضاد ہیں۔ اکثر اوقات ایک کا ہیرو دوسرے کا دشمن ہے۔ دونوں کی فتوحات اور شکستیں باہم متضاد ہیں۔ ایسی مختلف بنیادیں اور پس منظر رکھنے والی دونوں قوموں کو ایک واحد ریاست کے پرچم تلے ہانکنا کہ ایک عددی اقلیت میں ہو اور دوسری عددی اکثریت میں، ایسے اقدام سے بے چینی اور اضطراب کا مستقل تسلسل جنم لے گا۔ جس کے نتیجے میں بالآخر وہ تانا بانا تباہ اور ریزہ ریزہ ہوجائے گا جس کو ایسی ریاست کی حکومت کے لئے تشکیل دیا جارہا ہے۔''
غور کیجئے۔ 80سال پہلے کے ایک ایک حرف پر۔ داد دیجئے اس پیش بینی کو، بصیرت کو اور پھر اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوجائیے کہ اس نے ہمیں قائد اعظم جیسی مدبر قیادت عطا کی جس نے آنے والے بحرانوں کا قبل از وقت احساس کرلیا تھا اور بر صغیر کے مسلمانوں کو اجتماعی رُسوائی اور بربادی سے محفوظ کرلیا تھا۔ آج بھارت میں مسلمان جن اذیتوں کا سامنا کررہے ہیں، مشرقی پاکستان( اب بنگلہ دیش) اور مغربی پاکستان ( اب پاکستان) یعنی پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، اور بلوچستان میں بھی یہ قہر برپا ہوتا۔ ہم سب اپنی شناخت اور شہریت کی تجدید کے لئے سڑکوں پر ہوتے۔ ایک بے یقینی فضائوںپر مسلط ہوتی، نسلیں برباد ہوجاتیں۔
بھارت میں آج قائد اعظم کی بصیرت اور ادراک کا اعتراف کیا جارہا ہے اور وہ طبقات جو 1940۔ 1947کے دوران قائد اعظم کے نظریات کے شدید مخالف تھے، قیام پاکستان کی مخالفت میں پیش پیش تھے، اب اپنے آبائو اجداد کے فیصلوں پر زار و قطار رورہے ہیں۔
جامع مسجد دہلی کے مینار پھر مسلمانوں سے سوالات کررہے ہیں۔ کہ اگر آپ لوگ 72سال پہلے اجتماعی طور پر درست فیصلے کرتے تو آج ہندو توا کا سامنا نہ کرناپڑتا۔
اب جب ہم 2019اور 2020کے بھارت کے سبھی شہروں میں ہونے والے جلسوں اور ریلیوں کے تناظر میں 23مارچ 1940کی قرار داد لاہور کا جائزہ لینے بیٹھ رہے ہیں تو ایک بالکل ہی مختلف منظر نامہ ہمارے حوصلے بڑھانے کے لئے انگڑائیاں لے رہا ہے۔
جنوبی ایشیا کے دگرگوں حالات نے اہل پاکستان کو 23مارچ کا یوم جمہوریہ اور زیادہ جوش اور جذبے، فخر و انبساط کے ساتھ منانے کا جواز دے دیا ہے۔ میں ہمیشہ یہ کہتا اور لکھتا رہا ہوں کہ 23مارچ 1940کو ہم نے تاریخ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے تھے۔ اور یقینا ایک بڑا چیلنج قبول کیا تھا۔ ایک کئی ہزار برس پرانی ریاست کے مقابلے میں ایک نئی ریاست قائم کرنے کا، اپنے سے کئی گنا بڑے رقبے والے ہندوستان کے مقابلے میں کم رقبے والے پاکستان کے قیام اور دوام کا، اس پر مزید چیلنج یہ کہ ملک کے دو حصّے ایک دوسرے سے ایک ہزار میل کے فاصلے پر، کوئی زمینی رابطہ نہیں تھااور درمیان میں وہ ملک جو شروع سے ہی دشمنی پر اترا ہوا تھا۔ ہمیں یہ اعتماد تھا کہ ہم کئی پہلو رکھنے والے چیلنج کو حضرت قائد اعظم  کی قیادت میں قبول کررہے تھے۔ ہمیں اُمید ہی نہیں یقین تھا کہ ہم اس جرأت مند قیادت کی رہنمائی میں تمام مشکلات کو آسان کرتے جائیں گے۔ یہ چیلنج بظاہر سیاسی تھا، مگر اس سے کہیں زیادہ انتظامی اور اقتصادی تھا۔ سیاسی طور پر تو ہم اس وقت کامران ہوگئے جب ایک الگ مملکت قائم ہوگئی۔ لیکن اس کے بعد ہمیں اقتصادی اور انتظامی چیلنجوں کا مقابلہ کرنا تھا۔ ہمیں یہ تسلیم کرلینا چاہئے کہ ہم معاشی اور انتظامی مشکلات دور کرنے میں پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکے۔ 72سال گزرنے کے بعد بھی ہمیں بنیادی مسائل کا سامنا ہے۔سب سے خوش آئند امر یہ ہے کہ قوم میں احساس زیاں ہے۔ سقوط مشرقی پاکستان کے المیے پر ہماری ہر نسل سوگوار رہتی ہے۔ ہم دوسروں کی جارحیت، دشمن کی سازشوں کے ساتھ ساتھ اپنی کوتاہیوں اور غلط فیصلوں پر بھی نظر ڈالتے ہیں۔ اپنی غلطیاں تسلیم کرتے ہیں۔ ان کی اصلاح بھی کرتے ہیں۔ سب کویہ دُکھ ہے کہ ہم نے قائد اعظم  کے پاکستان کا ایک حصّہ گنوادیا۔ ہم تعداد میں کم ہوگئے۔
مگر آفریں ہے اس قوم کی جفاکشی، صبر اور استعداد پر کیسے کیسے المیوں کا سامنا نہیں کیا۔ آزادی کے ساتھ ساتھ ہی قربانیوں کا سلسلہ ۔ تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت۔ غلامی سے آزادی کی طرف سفر کرتے ہوئے کتنے لاکھ تو منزل تک پہنچ ہی نہیںسکے۔ راستے میںہی انتہا پسند بلوائیوں کی گولیوں، کرپانوں، تلواروں کا نشانہ بن گئے۔ میرے والدین بڑی مشکل سے پاکستان پہنچ سکے تھے۔ میں اپنی ماں کی گود میں۔ مال گاڑی کے کھلے ڈبّے میں اگست کی دھوپ ، بلوائیوں کی خوفناک آوازیں، میرے بڑے بھائی اور عظیم والد، صرف ہم آسکے۔ باقی تایا، چچا اور رشتے دار پٹیالے اور راجپورے میں خون میں نہلادیئے گئے۔ پہلا المیہ تو یہ تھا۔ پھر آزادی کے دوسرے سال کی ابتدا میں ہی ستمبر 1948میں بابائے قوم کا سایہ ہمارے سروں سے اُٹھ گیا۔1951میں پہلے وزیر اعظم شہید کردیئے گئے۔ بھارت نے پہلے دن سے ہمیں دل سے تسلیم نہیں کیا۔ ابتداء ہی سے سازشیں جاری رکھیں۔ اثاثوں کی تقسیم میں بہت نا انصافیاں کی گئیں۔ انگریز نے جاتے جاتے ملک کی حد بندی میں تبدیلی کی۔ گورداسپور کو پاکستان سے نکال کر دوبارہ انڈیا میں شامل کردیا ۔ یہاں سے بھارت کا کشمیر سے زمینی راستہ بحال کردیا۔ پاکستان کا رابطہ ختم کردیا۔ کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ اور کشمیریوں پر مسلسل مظالم ۔ حق تلفیاں بھی پاکستانی قوم کے لئے ایک مسلسل کرب کا باعث رہی ہیں۔
کہاں تک گنیں، شُمار کریں، سرحدی جھڑپیں تو ایک مستقل جارحیت ہے۔ اس کے بعد بھارت نے 1965۔ 1971میں باقاعدہ بین الاقوامی سرحدوں پر جارحیت کی۔ کوشش یہ رہی کہ پاکستان کو کسی طرح بھی اقتصادی طور پر مستحکم نہ ہونے دیا جائے۔
اقتصادی شعبے میں قائد اعظم کا ویژن بہت واضح تھا۔ یکم اپریل 1948 بہت ہی تاریخی دن تھا۔ جب پاکستان کے وزیر خزانہ نے قائد اعظم کو پاکستان کے نئے سکے اور کرنسی نوٹ پیش کئے۔ اس پر بانی ٔ پاکستان نے بے پایاں مسرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:
''جناب وزیر خزانہ! آج آپ نے پاکستان کے سب سے پہلے سکے اور نوٹ مجھے پیش کرکے جو عزت بخشی اس پر میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ نے اور آپ کی وزارت نے ہماری نوزائیدہ مملکت کے مالیاتی امور کو جس طریقے سے چلایا ہے اور انہیں جس انتھک انہماک کے ساتھ آپ نے محکم بنیاد پر استوار کیا ہے، اس کے لئے میں اس موقع پر پاکستان کی حکومت اور اس کے عوام کی جانب سے کھلے دل سے تعریف کرتا ہوں۔ جب ہم نے پہلی بار خود مختار اور آزاد مملکت پاکستان کا مطالبہ کیا تو ایسے جھوٹے پیغمبروں کی کوئی کمی نہ تھی جنہوں نے یہ کہہ کر کہ پاکستان اقتصادی اعتبار سے قابل عمل نہیں ہوگا ہمیں اپنی منزل مقصود سے بر گشتہ کردینے کی کوشش کی۔ انہوں نے ہماری مملکت کے مستقبل اور اس کے مالیاتی اور اقصادی استحکام کی انتہائی تاریک تصویر کھینچی۔ آپ کے پیش کردہ پہلے میزانیے سے ان جھوٹے پیغمبروں کو ضرور صدمہ پہنچا ہوگا۔ اس سے پہلے ہی پاکستان کے مالیاتی استحکام اور حکومت کی طرف سے اس کو مستحکم اور مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار ہوگیا ہے۔ اگر چہ اس کے نتیجے میں ہمیں کسی حد تک مزید بوجھ بھی اٹھانا پڑا۔''
مشکلات کا اندازہ بابائے قوم کو تھا لیکن اس کے ساتھ ہی انہیں اپنے عوام کی صلاحیتوں اور عزائم کا یقین بھی تھا۔ اس لئے انہوں نے اس وقت واضح طور پر مثبت اقدامات کی امید ظاہر کی اور کہا  :
'' تاہم مجھے یقین ہے کہ پاکستان کے عوام اپنی مملکت کو مستقبل قریب میں حقیقی معنوں میں ایک مضبوط اور مستحکم مملکت بنانے کے لئے قربانیوں سے دریغ نہیں کریں گے تاکہ ہم اپنے پروگرام بالخصوص عوام کی فلاح و بہبود کے کام کو زیادہ مؤثر بناسکیں اور سہولت سے چلا سکیں۔ مجھے اس امر میں کوئی شک نہیں کہ جب ہم اپنی انفرادی قوت اور خام مال کے وسیع ذرائع کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لائیں گے تو ایک درخشندہ مستقبل پاکستان کا منتظر ہوگا۔ وہ راہ جس پر ہمیں قدم رکھنا ہے ممکن ہے فی الوقت کچھ کٹھن محسوس ہو  لیکن حوصلے اور عزم صمیم کے ساتھ ہم اپنا مقصد حاصل کرکے رہیں گے، وہ مقصد جو مستحکم اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کا ضامن ہے۔''
قائد اعظم نے اپنے ان چندالفاظ میں مستقبل کے لیے اقتصادی سمت کا تعین بھی کردیا تھا۔ صنعتی اور تجارتی پالیسی بھی دے دی تھی۔ 


میری تو تمنّا یہ ہوتی ہے کہ ہر 23مارچ کو اسی پارک میں جو 1940میں منٹو پارک تھا، جہاں اب پُر شکوہ مینارپاکستان ہے، دور تک پھیلا ہوا سبزہ ہے اب بھی اس مینار کے سائے میں پاکستان کے تمام رہنما کسی پارٹی سے وابستگی کا اظہار کئے بغیر صرف پاکستان سے 23مارچ کے جذبے سے وابستگی ظاہر کرتے ہوئے، اسی طرح ایک صف میں کھڑے ہوں جیسے 23مارچ 1940کو بنگال، یوپی ، سی پی، پنجاب، سرحداور سندھ کے رہنما کھڑے ہوئے تھے۔


بر صغیر کے مسلمان انتہائی خوش قسمت رہے ہیں کہ انہیں قائد اعظم جیسی بے غرض، بے لوث، راست گفتار شخصیت کی رہبری میسر رہی۔ اس لئے 1940 میں ایک مملکت کے قیام کے عزم کو صرف سات سال میں تکمیل تک پہنچانے کا موقع مل گیا۔ بہت کم قومیں اتنے مختصر عرصے میں آزادی حاصل کرسکیں۔ ہم نے نہ صرف انگریز سے آزادی حاصل کی، بلکہ ہندو غلبے کو چیلنج کیا،ایک آزاد مملکت قائم کی اور انتہائی بے سرو سامانی کی حالت میں اس مملکت کو دنیا کی آگے بڑھتی قوموں میں شامل کیا۔ 1940سے 1947تک کے ہنگامہ خیز برسوں پر اب تو تحقیقی کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ دستاویزی فلمیں بھی موجود ہیں جن سے نئی نسلوں کو ان سات برسوں میں تحریک پاکستان کی ولولہ انگیز داستانیں مل سکتی ہیں۔ کس طرح پورے بر صغیر میں مسلمان پاکستان کا پرچم لے کر باہر نکل رہے تھے۔ ایک جنّت کی آرزو میں گلی کوچوں میں ریلیاں نکل رہی تھیں۔ یہ بھی تاریخ کی ایک خوشگوار حیرت ہے کہ تحریک پاکستان ان علاقوں میں زیادہ زور و شور سے چل رہی تھی جہاں مسلمانوں کی اکثریت نہیں تھی۔ اور جنہیں پاکستان میں شامل نہیں ہونا تھا۔ دہلی، سی پی، یو پی، جنوبی ہندوستان اورمغربی بنگال میں یہ تحریکی مناظر دیدنی تھے۔
قرار داد لاہور بعد میں قرار داد پاکستان کہلائی۔ یہ ہمارا ایم او یو۔ بعد میں ریاست اور شہریوں کے درمیان ایک باقاعدہ عمرانی معاہدے میں تبدیل ہوگیا۔ 1956میں بننے والا پہلا آئین بھی 23مارچ کو نافذ کیا گیا۔ یعنی ہم نے 23مارچ 1940کے جذبے کو برقرار رکھنے کے لئے 23مارچ کو ایک تاریخی اہمیت دی۔ 1956 سے 23مارچ یوم پاکستان کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اسلامیان بر صغیر نے آج سے 80سال پہلے جس خواب کو حقیقت کا لباس پہنایا تھا، جہاں آل انڈیا مسلم لیگ کے سبھی مرکزی رہنما موجود تھے۔ سب متحد، مستعد، پُر عزم۔ میری تو تمنّا یہ ہوتی ہے کہ ہر 23مارچ کو اسی پارک میں جو 1940میں منٹو پارک تھا، جہاں اب پُر شکوہ مینارپاکستان ہے، دور تک پھیلا ہوا سبزہ ہے اب بھی اس مینار کے سائے میں پاکستان کے تمام رہنما کسی پارٹی سے وابستگی کا اظہار کئے بغیر صرف پاکستان سے 23مارچ کے جذبے سے وابستگی ظاہر کرتے ہوئے، اسی طرح ایک صف میں کھڑے ہوں جیسے 23مارچ 1940کو بنگال، یوپی ، سی پی، پنجاب، سرحداور سندھ کے رہنما کھڑے ہوئے تھے۔ ان کے چہروں پر اس وقت جو تمتماہٹ تھی، پیشانیوں پر عزائم کی چمک تھی، اب بھی اس کا مظاہرہ کیا جائے۔ پاکستان اب بھی قائد اعظم کا پاکستان نہیں ہے۔ ہماری کوتاہیوں، غلط فیصلوں کے باعث بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ ہم ان ساری برائیوں میں مبتلا ہیں جن کی طرف قائد اعظم  اپنی تقاریر میں بار بار اشارے کرتے رہے۔ 
ذخیرہ اندوزی بھی ہورہی ہے، منافع خوری بھی ہے، بد عنوانی بھی اور اقرباء پروری بھی اور فرقہ واریت بھی ۔ ضرورت ہے کہ ایک بار پھر تحریک پاکستان کا اعادہ کیا جائے۔ اس وقت ہم نے قیام پاکستان کے ایم او یو پر دستخط کئے تھے۔ آئیے اب استحکام پاکستان کے ایم او یو پر دستخط کریں۔ اس وقت بھی ہندوستان کی قیادت سازشیں کررہی تھی آج بھی اس کی ریشہ دوانیاں جاری ہیں۔ اس کے ایجنٹ ہماری صفوں میں انتشار برپا کررہے ہیں۔ اس وقت جھوٹ کے پیغمبر پاکستان کو اقتصادی طور پر ناکام دیکھنا چاہتے تھے۔ اب بھی مودی اور دوسرے انتہا پسند رہنمائوں، آر ایس ایس کے کارندوں، کے بھیانک عزائم یہی ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے عوام اس وقت بھی ان خطرات اور سازشوں کے مقابلے کے لئے متحد اور مستعد تھے۔ اب بھی واہگہ سے گوادر تک پاکستان کے شہری بھارت کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے یک آواز ہیں۔
ایک واضح فرق یہ ہے کہ ہم دفاعی طور پر اللہ کے فضل سے بہت طاقت ور ہیں۔ ہمارے پاس ایٹمی اسلحہ بھی ہے، پاکستان واحد مسلم ایٹمی طاقت ہے۔ہماری مسلح افواج  جدید و قدیم اسلحے کا استعمال جانتی ہیں۔ دنیا کی چند مضبوط اور تربیت یافتہ افواج میں پاکستانی افواج کا شُمار ہوتا ہے۔ پاکستان ایک نوجوان ملک ہے۔ 60فیصد آبادی 15سے 35سال کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔
موسم اچھا، پانی وافر، مٹی بھی زرخیز
جس نے اپنا کھیت نہ سینچا، وہ کیسا دہقان
ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھی ہم ترقی یافتہ ملکوں سے کسی طرح پیچھے نہیں ہیں۔معاملہ ہے تو ترجیحات کے تعین کا، آئندہ دس برس کے لئے روڈ میپ بنانے کا،یہ اکیسویں صدی ہے۔ دنیا کے بیشتر ممالک کے تجربات ہمارے سامنے ہیں۔ یہ اطلاعات کی صدی ہے۔ تیز رفتار رابطے ایجاد ہوچکے ہیں۔ تعلیم صحت، صنعت، سائنس کے شعبوں میں بہت سے نئے آفاق تسخیر کئے جاچکے ہیں۔ ضرورت اس جذبے کی ہے، 1940والے عزائم کی، حوصلوںکی، ولولوں کی۔ قائد اعظم اور دوسرے اکابرین موجود نہیں ہیں، لیکن ان کے افکار، تعلیمات تو ہمارے سامنے ہیں۔ اسمارٹ فون میں سب ایک انگلی کی جنبش پر چمکنے لگتے ہیں۔ہمت کیجئے، جو دوسری قومیں کرسکتی ہیں ہم پاکستانی بھی کرسکتے ہیں۔ آئیے آج سے ہی تحریک استحکامِ پاکستان شروع کردیں۔
آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے انداز گلستاں پیدا


مضمون نگارنامورصحافی' تجزیہ نگار' شاعر' ادیب اور متعدد کتب کے مصنف ہیں۔
[email protected]
 

یہ تحریر 236مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP