ہمارے غازی وشہداء

دہشت گردی سے ایک شہری کی دلیرانہ جنگ

پاکستان دہشت گردی کے خلاف اور امن کے حصول کے لئے ٢٠٠١ء سے ٢٠١٨ء تک تقریباً٨٠ ہزار سے بھی زائد قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکا ہے۔ خارجی اور داخلی محاذ پر افواج پاکستان اور شہریوں کی شجاعت کی لازوال داستانیں ہیں۔ اس سانحاتی کہانی اور روح فرساروداد کا خوش آئندہ پہلو یہ ہے کہ ہر حادثے اور دہشت گردی کے واقعے سے قوم میں جینے کا ولولہ اور جذبہ اور بھی زیادہ نکھر کے سامنے آیا، اس سلسلے میں بہت سی مثالیں موجود ہیں جو نئی نسل کے لئے دلیری سے زندگی گزارنے اور بے چہرہ دشمن کے مذموم عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے دی جاسکتی ہیں ۔مگر اسلام آباد ضلع کچہری کا واقعہ عجیب کہانیاں چھوڑ گیا ہے۔ سیکٹر ایف۔٨ مرکز کی سول کورٹس جہاں ٣ مارچ ٢٠١٤ء بروز سوموار سوا آٹھ بجے صبح جب عدالتیں لگ چکی تھیں، اہلکار سائلین کو پکار رہے تھے۔ ہفتے کا آغاز تھا، پہلا دن، عوام کا جم غفیر، بھرپور چہل پہل۔  اچانک ماحول میں سراسیمگی پھیل گئی۔  فضا گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور دستی بموں کے دھماکوں سے خوفناک تر ہوگئی۔ قانون کے محافظوں کے اجلے لباس سرخ ہوگئے۔ انصاف کی سربلندی کے منصفوں کے جسم بے جان اور ماحول لہولہان ہوگیا۔ کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا کہ کیا ہوگیا ہے۔ لوگ جان بچانے کے لئے بھاگ رہے تھے۔ کیا بھاگتے رہنے کا نام ہی زندگی ہے؟ رائے اظہر حسین کو اس کا احساس اُس روز کچہری میں دہشت گردوں کی فائرنگ سے خوف زدہ ہو کر بھاگتے لوگوں کو دیکھ کر ہوا، کب تک بھاگتے رہیں گے؟ اگر اسی طرح بھاگتے رہے تو کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کو محفوظ مستقبل دے پائیں گے؟ نہیں!!! ' نہیں' کی اس غیبی آواز نے رائے اظہر حسین کو بھاگنے سے روک دیا، مقابلے میں دہشت گرد کے پاس کلاشنکوف تھی مگر ہمت، غیرت اور حوصلہ جو رائے اظہر کے پاس تھا، دہشت گرد اُس سے محروم تھا، وہ کمزور تھا، بزدل بھی تھا اگر دلیر ہوتا تو نہتے شہریوں پر کلاشنکوف لے کر نہ چڑھ دوڑتا۔ رائے اظہر نے  پتھر اٹھا لیا  اُسے اپنے رب کا وہ فرمان یاد آگیا کہ دشمن کے مقابلے میں اپنے گھوڑے تیار رکھو، دنیا کا پہلا اسلحہ پتھر!! ایک لمحے کے لئے دہشت گرد بھی دہشت زدہ ہوا کہ یہ کون سرفروش ہے جو کلاشنکوف کے سامنے پتھر لئے کھڑا ہے، وقت بڑی تیزی سے گزر رہا تھا ایک ایک لمحہ تاریخ بنتا جارہا تھا قوت فیصلہ ہی سے قوموں کا مستقبل بنتا بگڑتا ہے۔
رائے اظہر اقبال کا شاہین بن چکا تھا اُس کے قانون ساز ذہن پر وہ مصرع دستک دینے لگ گیا کہ 
ع لڑا دے ممولے کو شہباز سے
اس نے اپنی پوری ایمانی قوت سے وہ پتھر دہشت گرد کو دے مارا۔  پتھر نشانے پر لگا، دہشت گرد نشانے پر آیا، مگر وائے افسوس کہ پتھر نے دہشت گرد کے جسم پر نشان تو چھوڑا،زخمی توکیا مگر اس کے مکروہ عمل کو ختم نہ کرسکا۔ ایک نہتے شہری کے اس جرأت مندانہ وار نے دہشت گرد کو ایک عجیب غصے کی کیفیت  میں مبتلا کردیا۔  دہشت گرد پلٹا، ٹریگر سے اس کی انگلی اٹھ چکی تھی۔وہ رائے اظہر کی طرف لپکا، وہیں پر اِدھر اُدھر بھاگتے چند لوگ ایک کمرے میں پناہ کی تلاش میں چھپتے پھر رہے تھے۔ دہشت گرد کی خوفناک نگاہیں جب اُس کمرے کی طرف اٹھیں تو رائے اظہر نے غزال کی سی چوکڑی بھری اور کمرے کے دروازے کو اندر سے اپنے جسم کے زور پر بند کردیا۔ دروازے کی اندر والی کنڈی نہیں تھی اگر ہوتی بھی تو وہ وقت کنڈی لگانے والا نہیں تھا۔ کند ذہنوں کی کنڈیاں کھولنے کا وقت تھا۔ دہشت گرد نے دروازے کو دھکے دئیے، لاتیں ماریں، خرافات بکیں، دروازہ توڑنے کے جب سارے حربے آزما چکا تو اُس نے رائے اظہر کو مخاطب کرکے کہا ''تم کلمہ پڑھ لو'' یقینا وہ اُس وقت کلاشنکوف کے ٹریگر پر انگلی رکھ چکا تھا ایسے لمحے رائے اظہر اور دہشت گرد کے درمیان کچھ اس قسم کا چالیس سیکنڈ کا مکالمہ ہوا''تم کلمہ پڑھو'' رائے اظہر نے جواب دیا ''تم کون ہو جو کلمہ پڑھا کے مارتے ہو؟'' اُس نے کہا ''تم اور تمہارا پیشہ کافر ہے، اسلام میں اس کی جگہ نہیں'' رائے اظہر نے جواباً کہا '' اسلام اور پاکستان تم ظالموں کا نہیں بلکہ کروڑوں پُرامن پاکستانیوں کا ہے۔ اس پر تلملا کر دہشت گرد نے کلاشنکوف کا فائر کھول دیا۔ سات گولیاں انتہائی قریب سے رائے اظہر حسین کے جسم میں اتر گئیں۔ پھیپھڑے اور جگر کا بایاں حصہ چھلنی، ٹانگ، چہرہ زخمی۔۔۔ لہولہان اظہر محض گوشت پوست کا ہوتا تو ڈھیر ہوچکا ہوتا، وہ شجاعت کا پہاڑ بن چکا تھا۔ وہ اگر زمین پر گرا بھی تو جسم کو دروازے سے الگ نہ ہونے دیا۔ دہشت گرد کسی طور پر دروازہ کھول نہ سکا۔ باہر مسلسل گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور چیخ وپکار، آتی رہی۔ قریب قریب چالیس منٹ بعد پولیس نے میگا فون پر اعلانات شروع کئے، حالات پر قابو پانے کی خوشخبریاں سنائیں۔ جو جہاں چھپا بیٹھا ہے، امان میں ہے، باہر آجائیں۔ ایسے میں اظہر حسین کو جو بے ہوش ہوچکا تھا، کمرے میں موجود تین وکیل ساتھی کمرے سے اٹھا کر باہر لائے۔ آج جب ہم رائے اظہر حسین کے سینے پر صدر پاکستان کا دیا ہوا تمغۂ شجاعت دیکھتے ہیں تو بے اختیار پکار اٹھتے ہیں کہ
حق بہ حق دار رسید
٣ مارچ ٢٠١٤ء کے اس واقعے میں بلکہ دلخراش سانحے میں ایڈیشنل سیشن جج رفاقت احمد اعوان، ٤ وکیلوں سمیت جن میں رائو عبدالرشید، میاں محمد اسلم، تنویر احمد شاہ اور خاتون وکیل فضاء ملک شامل ہیں۔گیارہ انسانی جانوں نے شہادت پائی جن میں ایک پولیس کانسٹیبل بھی شامل تھا۔ زخمیوں کی تعداد ٢٩ تھی۔ دہشت گردوں کی تعداد ٦ تھی۔ ایک دوسری اطلاع کے مطابق وہ آٹھ تھے اور جدید اسلحے اور دستی بموں سے لیس تھے۔ اس دہشت گردی کی ذمہ داری ایک نئے گروہ احرارالہند نے قبول کی تھی۔جب کہ تحریک طالبان نے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا البتہ انہوں نے اس واقعہ کی مذمت بھی نہیں کی تھی۔
رائے اظہر حسین میرے سیکٹر میں بلکہ گھر کے قریب ہی قیام پذیر ہیں بعض اوقات مسجد یا مارکیٹ میں ملاقات ہوجاتی ہے۔ ایک بار میں نے پوچھا کہ جب سارے اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے ہر کسی کو اپنی پڑی ہوئی تھی تو ایسے میں آپ نے کلاشنکوف بردار کو پتھر مار کر اپنی طرف متوجہ کیوں کیا، بھاگ کر جان کیوں نہ بچائی؟ اس پر رائے اظہر نے کہا کہ زندگی اور موت کا اختیار اﷲ تعالیٰ کے پاس ہے۔ میں نے ایک پتھر سے درجن بھر جانیں بچائیں۔ وہ کیسے؟ وہ دہشت گرد سامنے والے تین چیمبرز پر کلاشنکوف تانے کھڑا تھا اور میرے وکلاء ساتھی جو اندر سے کنڈیاں لگائے کھڑے تھے وہ اس کے رحم و کرم پر تھے۔ میں نے کہا یہ ایسا کون آگیا ہے جو بآواز بلند کہہ رہا ہے کہ کلمہ پڑھو میں فائر کرنے لگا ہوں، ایسے میں، میں نے اُس کی پیٹھ پر پوری قوت سے پتھر مارا تو ٹریگر سے اس کی انگلی ہٹ گئی وہ میری طرف پلٹا تو میں قریب ہی اظہررشید کے چیمبرمیں چلا گیا جہاں چند دیگر وکیل بھی پناہ لے چکے تھے۔ اگر اﷲ پاک مجھے ہمت نہ دیتے، میں وہ ایک پتھر نہ مارتا تو وہ سارے ساتھی شہید کرنے میں کامیاب ہو جاتا۔
رائے اظہر حسین کا تعلق جھنگ سے ہے۔ وہ ٢٠ اپریل ١٩٦٨ء کو سیٹلائٹ ٹائون جھنگ میں منظور حسین رائے کے ہاں پیدا ہوئے۔ میٹرک ١٩٨٤ء میں اسلامیہ ہائی سکول جھنگ صدر سے، ایف ایس سی پری میڈیکل اور پھر بی اے پنجاب یونیورسٹی سے جب کہ ایل ایل بی لاہور کے قائداعظم لاء کالج سے ١٩٩٢ء میں کیا۔ وکالت کی ابتداء ١٩٩٦ء میں تحصیل گوجرہ سے کی۔ پھر لاہور ڈسٹرکٹ کورٹس میں کچھ عرصہ گزار کر ١٩٩٧ء میں اسلام آباد کی کچہری میں آگئے اور پھر ٢٠٠٠ء سے ہائی کورٹ اسلام آباد میں بھی سائلین کی وکالت کررہے ہیں۔ ان کی بیگم سحر مشیت جو اسلام آباد میں پاکستان نیوی کے بحریہ کالج کے گونگے بہرے بچوں کو پڑھاتی ہیں، وہ فیصل آباد کے معروف ماہر تعلیم، بصارت اور ہاتھوں سے محروم سوشل ورکر کیپٹن مشیت الرحمن مرحوم کی صاحبزادی ہیں۔ انسانی بھلائی کا جذبہ ان دونوں خاندانوں کی شناخت ہے۔ جس روز اسلام آباد کچہری میں دہشت گردی کا واقعہ ہوا اس روز رائے اظہر کی بیگم اور بچے  فیصل آباد گئے ہوئے تھے ۔ وہ تونو دس بجے والی بس سے جانا چاہتے تھے مگر رائے اظہر انہیں صبح سات بجے والی بس پر بٹھا آئے کہ آٹھ بجے اُن کا کچہری پہنچنا بہت ضروری ہے، یوں وہ کچہری پہنچے، جس عدالت میں پیشی تھی وہاں گئے تو پتہ چلا جج صاحب چھٹی پر ہیں۔ واپس اپنے چیمبر کی طرف آرہے تھے کہ راستے میں دہشت گرد سے پنجہ آزمائی ہوگئی۔
 اسلام آباد کی ضلعی اور پمز ہسپتال انتظامیہ دونوں نے رائے اظہر کا بچ جانا ایک زندہ معجزہ قرار دیا تھا جس کا اعتراف ٢٣ مارچ ٢٠١٦ء کو ایوان صدر میں تمغۂ شجاعت دینے سے پہلے پڑھے گئے سپاسنامے میں بھی کیا گیا تھا۔ رائے اظہر حسین دراصل ٣ مارچ ٢٠١٤ء کی شام تک شہادت پانے والوں میں شمار ہوتے رہے۔ اسی لئے مختلف ٹی وی چینلز پر ٹِکر چلتے رہے، شہید ہونے والوں کے نام بھی بتائے جاتے رہے۔ رائے اظہر کے دوست انہیں مردہ خانے میں ڈھونڈتے رہے ۔بہن مرنے والوں کی فہرست میں ڈھونڈتی رہی، جھنگ اُن کے آبائی گھر میں ٤ مارچ بعداز نمازِ عصر نماز جنازہ کا اہتمام کردیا گیا۔ ادھر اسلام آباد میں ہمارے سیکٹر کی مسجد ابوالقاسم میں بڑے دکھ اور رنج کے ساتھ اعلان کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہمارے ایک بہادر ساتھی رائے اظہر کچہری میں ملک دشمن عناصر سے دست بدست لڑائی میں شہید ہوگئے ہیں بعداز نماز عشاء کرکٹ گرائونڈ میں نماز جنازہ ادا کی جائے گی، لیکن جھنگ سے رائے اظہر کی والدہ مسلسل کہے جارہی تھیں کہ 'تلاش کرو' میرا دل نہیں مانتا کہ اظہر شہید ہواہو، وہ زندہ ہے، تسلی سے ڈھونڈو، ہوش مندی اور صبر سے دیکھو۔ اس روز اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں ہیڈ سرجن ڈاکٹر رخشندہ تھیں۔ ٢٩ زخمی تو مختلف کمروں اور وارڈز میں تھے مگر شہید ہونے والے  بارہ افراد پوسٹ مارٹم کے لئے ایک جگہ اکٹھے پڑے تھے لیکن جب انہیں پوسٹ مارٹم کے لئے لے جانے لگے تو ڈاکٹر رخشندہ نے دیکھا کہ رائے اظہر سانس لے رہے تھے۔ فوری طور پر انہیں آپریشن تھیٹر لے جایا گیا۔پھیپھڑے چونکہ پوری طرح کام نہیں کررہے تھے، اس لئے ونٹیلیٹر پر ڈال دئیے گئے۔ ایک مہینے سے بھی زیادہ وہ بے ہوشی کی حالت میں رہے۔ اس عرصے میںپمز اور سی ایم ایچ کے ڈاکٹرز کا ایک بورڈ بنا دیا گیا۔ سی ایم ایچ شفٹ کرنا چاہا تو ایئر ایمبولینس نہیں تھی سڑک کے راستے جان کا خطرہ تھا۔ پشاور میں جو ایئر ایمبولینس تھی اُس نے دو لاکھ روپے کرایہ طلب کیا گھر والوں کے پاس جو جمع پونجی تھی تین چار دنوں میں ختم ہوچکی تھی۔ پمز سے اسلام آباد کے ایک پرائیویٹ ہسپتال میں لے جانا چاہا تو اُن لوگوں نے ڈیڑھ کروڑ روپے ایڈوانس مانگے، صورت حال عجیب ہوتی جارہی تھی۔ اسلام آباد بار کے وکلاء  ہڑتال پر تھے۔ بار کے صدر نصیر کیانی نے چیف جسٹس صاحب کو وکلاء کے جذبات اور حالات کی سنگینی سے آگاہ کیا تو انہوں نے چیف کمشنر سے کہاکہ برطانیہ لے جائو یا امریکہ رائے اظہر کی زندگی چاہئے۔ پمز انتظامیہ نے یقین دہانی کرائی کہ علاج میں کوئی کوتاہی نہیں برتی جائے گی اور ہم کوشش ہی کرسکتے ہیں، زندگی دینا ڈاکٹر کاکام نہیں، اﷲ کا کام ہے، ڈاکٹر زندگی بچانے کی تگ و دو کرتے ہیں، سو ہم کریں گے۔ خیر جب مہینے سوا مہینے بعد رائے اظہر کو ہوش آیا تو ڈاکٹرز کے بورڈ نے کہا کہ رائے اظہر بول نہیں سکے گا۔ ایک رائے یہ بھی تھی کہ یادداشت ختم ہوجائے گی۔ لیکن جب مزید کچھ دنوں بعد رائے اظہر نے بولنا اور پہچاننا شروع کردیا تو ڈاکٹر رخشندہ نے رائے اظہر سے کہا کہ '' رائے صاحب نئی زندگی مبارک ہو، ہم اتنی ہی کوشش کرسکتے تھے، اب اس بیڈ سے اٹھنا اور چلنا آپ کا کام ہے اگر آپ ہمت کریں گے تو سارا کچھ ٹھیک ہوجائے گا وگرنہ ہماری محنت ضائع چلی جائے گی۔'' یہ سنتے ہی رائے اظہر مسکرائے اور اُٹھ کر بیٹھ گئے۔ پھر خود ہی بیڈ سے اترے اور جب پہلا قدم اٹھایا تو اﷲ اکبر کی صدائیں بلند ہوئیں۔ پمز انتظامیہ اور ڈاکٹرز کے اس خصوصی بورڈ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی سب نے رائے اظہر کا بچ جانا زندہ معجزہ کہا۔ 
رائے اظہر حسین شاعر بھی ہیں اُن کا پہلا شعری مجموعہ''حرف صلیب'' ٢٠٠٩ء میں شائع ہوا تھا۔ پتلی تماشہ زیرطبع ہے اور دہشت گردی کے واقعے پر خود نوشت ''وَتُعِزُّمَنْ تَشَآئُ'' بھی زیر طبع ہے۔
اسلام آباد بار کی سفارش پر رائے اظہر حسین کو صدارتی ایوارڈ، تمغۂ شجاعت ٢٣ مارچ ٢٠١٦ء کو اس وقت کے صدر پاکستان ممنون حسین  نے دیا تھا۔ تمغہ لینے کے بعد رائے اظہر حسین تقریب میں موجود اس وقت کے افواج پاکستان کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف سے ملنے گئے جن کے سینے پر بہادری اور شجاعت کے کئی تمغے آویزاںتھے۔ جنرل راحیل شریف نے انتہائی گرم جوشی سے اٹھ کے رائے اظہر کو سلیوٹ کیا اور ان کے جذبے اورشجاعت کی داد دی۔ یقینا رائے اظہر سے مل کر سپہ سالار پاک فوج کا ایمان پاکستان اور اس کے شہریوںکی بہادری،استقامت اور حب الوطنی پر مزید پختہ ہوچکا تھا۔ رائے اظہر کو آج بھی جنرل راحیل شریف سے یہ مختصر ملاقات یاد ہے اور وہ اس کا تذکرہ نہایت محبت سے کرتا ہے۔
رائے اظہر جیسے لوگ یقینا کسی معاشرے کے لئے اثاثہ ہوتے ہیں جو اپنے شہر، اپنے لوگوں اور اپنے ملک کے لئے کھڑا ہونے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ ان دنوں رائے اظہر بہرطور اس حوالے سے پشیماں ضرور ہیں کہ ان کی لگی لگائی جاب کچھ عرصہ قبل ختم ہوگئی ایسے لوگوں کے لئے تو خصوصی طور پر جابز کا کوئی بندوبست ہونا چاہئے کہ قوم اپنے دلیر سپوتوں کو اس طرح تنہا نہیں ہونے دیتی جس طرح رائے اظہر نے اپنے ساتھیوں کی جانیں بچانے کے لئے اپنا پورا جسم چھلنی کروا لیا اس طرح قوم پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ان کی ضرورتوں کا خیال کیا جائے۔
 

یہ تحریر 223مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP