یوم دفاع

عزمِ کامل کا روشن نشاں

قوموں کی تاریخ لازوال قربانیوں اور شجاعت سے بھرپور داستانوں سے مزین ہوتی ہے ۔ دنیا کی ہرقوم نے اپنی آزادی کے لئے مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ کوئی بھی بزدل، بے حوصلہ اور تفرقے میں پڑی ہوئی قوم اپنی سا  لمیت اور بقاء کی جنگ نہیں لڑسکتی، پاکستانی قوم نے اپنی جرأت وبہادری کے ساتھ ساتھ اتحاد وتنظیم سے اپنی الگ شناخت بنائی۔ 1947ء میں الگ وطن حاصل کرکے اس قوم نے تمام درپیش جارحیت اور مسائل وچیلنجز کا ڈٹ کر مقابلہ کیااورملک کو درپیش جنگوں میں کوئی بھی قربانی دینے سے گریز نہیں کیا۔
 پاکستانی قوم کا اپنی سرزمین سے عشق اور اس کے دفاع کے لئے حساسیت اُسی جذبۂ ستمبر کی عکاسی کرتی ہے جس سے اس غیور قوم نے اپنی افواج کے ہمراہ 1965 کی جنگ میں دشمن کو دندان شکن جواب دیا۔ اسی طرح کارگل اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قوم کا کامیابی کے پیچھے بھی ستمبر کا ہی جذبہ کارفرما تھا۔ ہماری فوج اور قوم 71 میں بھی دیوانہ وار لڑی لیکن بھارت جیسا چالاک وعیار دشمن شومئی قسمت سے اپنی سازش میں1971ء میں کامیاب ہوا۔ اس سازش کا اعتراف ڈھاکہ یونیورسٹی میں پروفیسرز اور دانشوروں سے خطاب کرتے ہوئے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کیا اور احساس تفاخر میں انتہائی تکبر اور رعونت کے ساتھ اعلان کیا کہ بھارت نے سب سے پہلے اپنی کمانڈو فورس مکتی باہنی کی شکل میں پاکستانی فوجیوں سے لڑنے کیلئے مشرقی پاکستان میں داخل کی تھی، بھارت کی اس گھنائونی سازش نے پاکستان کو دولخت کرکے بنگلہ دیش کو ایک آزاد ملک بنایا۔ ان کی کامیابی کا یہ دعویٰ دراصل عصرحاضر میں اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ مودی کا یہ اقبال جرم پاکستان کے خلاف مستقبل سے متعلق اپنے مذموم عزائم کی عکاسی ہے۔ دنیا بھر پر آشکار ہے کہ بھارت نے پاکستان کے آزاد اور خودمختار وجود کو قبول ہی نہیں کیا اور اس کے خلاف آغاز سے ہی سازشوں کی فصل بوئی ہے۔ جب بھی ہمیں  غازی یا شہید کے خاندان کا فرد ملتاہے جس نے پاکستان کے محافظ کے طور پر قربانی دی ہوتی ہے یا ان جنگی حالات میں بے خوف وخطر دشمن کے سامنے سینہ سپر ہوا ہوتاہے تو ہماری نگاہیں عزت واحترام سے جھک جاتی ہیں۔ اسی حوالے سے کرنل علی عباس(ر) سے ملاقات ہوئی تو جذبہ دفاعِ وطن سے مزین ان کی شخصیت نے بہت متاثر کیا۔
کرنل علی عباس(ر) 41پی ایم اے لانگ کورس کے ساتھ  اکتوبر1969 میں پاس آئوٹ ہوئے تھے۔ان کے دل میں ایئرفورس جوائن کرنے کا جذبہ شروع سے موجزن تھا۔ کرنل علی عباس(ر) کے والد ایک ماہرِ تعلیم تھے انہوں نے پاکستان سے محبت کے تمام رنگوں اور جذبوں کے ساتھ اپنے بچوں کی تربیت کی ۔ کرنل علی عباس(ر) کا ایڈمیشن پی اے ایف سکول سرگودھا میں ہوگیا۔ وہاں کی ٹریننگ اور تعلیم نے اُن  کے دل میں وردی سے لگائو اس حد تک بڑھادیا کہ جب ایئرفورس میں سلیکشن میں انہیں نظر کی کمزوری کی وجہ سےRejectکردیاگیا تو انہوں نے کہاکہ میرے لئے وردی کے بغیر زندہ رہنا یا زندگی کے کسی اور شعبے میں جانا ناممکن ہے۔ ان کی تربیت میں ان کے استادHuge Catchpoleکا بہت حصہ تھا۔ کرنل علی عباس(ر) کا کہنا ہے کہ ان کے استاد نے وطن، وردی، جہاد اور قربانی کا جذبہ ہم سب میں اس طرح بھردیا کہ ہم ان جذبوں کے علاوہ اورکچھ سوچا ہی نہیں کرتے تھے۔ کرنل علی عباس(ر) PMAکا کاکول میں تربیت کے دوران قاسم کمپنی میں تھے اور تربیت کی سختیوں پہ بات کرتے ہوئے مسکرانے لگے اورکہاکہ مجھے ہر مقام پر استاد کے طور پر انتہائی سخت گیر، اصول پسند، شخصیات ملیں مگر جب میں پاس آئوٹ ہوکر آرٹلری کی 47فیلڈ رجمنٹ میں آیا تو واقعی احساس ہوا کہ اس وقت کی سختی آج کی زندگی کی آسانی کیلئے بہت ضروری تھی۔
ان کے پاس آئوٹ ہونے کے بعد دوسرے سال ہی1971ء کی جنگ شروع ہوئی۔ اس وقت کرنل علی عباس(ر) ایجوٹینٹ کے طور پرواہگہ کے علاقے میں تعینات تھے۔6ستمبر کو آپریشن سٹارٹ ہونا تھا،3دسمبر کو آرڈر ملاکہHR پر Operationشروع کیاجائے، آرٹلری کے تین حملے اکٹھے ہونے تھے ان میں سے زیادہ ترPre HRبمبار منٹ تھے۔6:30 پرجنگ کا آغاز ہونا تھا5:30پر انہوں نےPre HR بمباری کا آغازکردیا۔  واہگہ کے پاس پُل کنجری (جس کا اب نام بدل کر پل موراں رکھ دیاگیاہے ۔)کا کچھ حصہ65اور71کی جنگ میں پاکستان کی فوج نے قبضہ میں کرلیا تھا جو بعد میں معاہدے کے تحت بھارت کو واپس کردیا گیا اور آج بھارتی پنجاب کا ایک سیاحتی وتاریخی مقام ہے۔ جنگ کے دوران کرنل علی عباس(ر) نے اپنے جوانوں کے ساتھ اس مقام پر کئی حملے کئے کیونکہ وہ جگہ نہ انڈیا چھوڑناچاہتا تھا نہ ہی پاکستان۔اسی حملے میں لانس نائیک محفوظ اپنی یونٹ15پنجاب کے ساتھ موجود تھے، واہگہ کی اٹاری سرحد پر بھارتی فوج کی شیلنگ سے ان کی مشین گن تباہ ہوئی اور دونوں ٹانگیں شدید زخمی ہوگئیں، وہ زخمی حالت میں بھی بھارتی فوج کے اس بنکر میں جاگھسے جہاں سے پاک فوج کو نشانہ بنایاجارہا تھا۔ لانس نائیک محمد محفوظ  نے دشمن فوجی کو گلے سے دبوچ لیا لیکن دوسرے ہندو فوجی نے ان کو شہید کردیا، کرنل علی عباس(ر) نے بتایا کہ ان کی بہادری کا اعتراف دشمن کی فوجوں نے بھی کیا ہے اس لیے ان کو سب سے بڑے فوجی اعزاز نشان حیدر سے 1972میںنوازا گیا۔جان کا نذرانہ پیش کرنے والے جرأت اور بہادری کی نئی داستانیں رقم کرتے رہے۔
کرنل علی عباس(ر) نے10دنوں میں دس ہزارآرٹلری Roundفائر کئے، 16دسمبر کو سیز فائر ہونے لگا تو انڈیا نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے شدید اٹیک کیا،دُو بدو لڑائی ہوئی۔ گائوں انہوں نےCaptureکرلیا اور پوسٹ ہمارے پاس رہی، اس جنگ کے دوران کرنل علی عباس(ر) نے بتایا کہSU/7انڈیا کے دو جہاز اٹیک کیلئے آئے، ایک گن پوزیشن کے پاسWater Pumpتھا اس کے ساتھ ہی بجلی کا کھمبہ لگا ہوا تھا۔ جہاز نے جب راکٹ فائر کیے تو تینوں فائر کھمبے کو جاکر لگے جس سے ہم بھاری نقصان سے بچ گئے۔71کی جنگ میں انہوں نے گائوں خالی کرالیے تھے صرف ایک دوافراد چوکیداری کیلئے رہاکرتے تھے، اس لیے جانی نقصان بھی زیادہ نہیں ہوا۔ کرنل علی عباس(ر) کا کہنا تھا کہ میری زندگی میں وطن کی حفاظت کرنے کے سوا کبھی کوئی احساس ہی نہیں رہا۔ان کا کہنا تھاکہ ہماری گاڑی کے پاس Reserve Roundپڑے ہوئے تھے ان میں آگ لگ گئی، ہماری Command Postکی گاڑی کھڑی تھی Shellآیا تو پورا سٹرکچر اڑا کے لے گیا، لیکن اللہ کی رحمت سے ہم سب محفوظ رہے۔
تیرے کاندھے پہ بارِگراں
تیرے ہونٹوں پہ رنگیں تبسم
عزمِ کامل کا روشن نشاں ہے
میرے پیارے وطن کے محاظ
ہرقدم پہ خدا تیرا حافظ
کرنل علی عباس(ر) کے بہت سے کورس میٹ اس جنگ میں شہید بھی ہوئے اور قیدی بھی بنالیے گئے، کرنل علی عباس(ر) کے ایک کورس میٹ جوایسٹ پاکستان سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے فوج میں کمیشن لیا اور جب ایسٹ پاکستان میں بھارتی فوجیں داخل ہوگئیں تو وہ بھارتی فوج کے خلاف بہت بے جگری سے لڑے۔ جب جنگ ختم ہوئی اور ایسٹ پاکستان بنگلہ دیش بن گیا توسیز فائر کے بعد ان کے والدین اور حکومت نے کہاکہ تم بنگلہ دیش میں رہواور اس کی فوج کو جوائن کرلو اس نے بڑی دلیری سے ان کی پیشکش ٹھکرادی ۔وہ پاکستان آگئے، یوں انہوں نے اپنی مکمل زندگی نظریہ پاکستان اور قائداعظم محمدعلی جناح کے افکار اور حضرت علامہ اقبال شاعر مشرق کے پیغام کیلئے وقف کردی۔ ||


مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم لکھتی ہیں اور متعدد کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔
[email protected]

یہ تحریر 165مرتبہ پڑھی گئی۔

TOP